ڈھونگی ریاست کے شہر آشوب
A "Utopia" is an imagined place or state of things in which everything is perfect and free from human evils such as corruption, hate, and greed. However, "Dystopia" the dark aspects emerge: strict control over individuals' lives, emotional suppression, lack of personal choice and erasure of memories and agency. This write up in Urdu "ڈھونگی ریاست کے شہر آشوب" is an attempt about the same discussion of dystopia in this world.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
ڈھونگی ریاست کے شہر آشوب
آج کی دنیا ڈیجیٹل دور میں جی رہی ہے اور آج ہماری زمین ایک عالمی گاؤں بن گیا ہے؛ جس میں تمام انسان تیز رفتار مواصلاتی رابطوں سے پہلے کے مقابلے زیادہ قریب آگئے ہیں۔ یہ دور تیزی سے مضبوط ہوتی مواصلاتی جڑاو سے قریب آرہی ہے؛ یعنی انٹر نیٹ اور موبائل فون سے ممکنات کی ایک نئی تکنیکی دنیا جنم لے رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ساتھ خود مختار قوت انسانی اقدار سے ماورا ایک مافوق الفطرت ٹول زیر تعمیر ہے؛ جس میں تمام انسانوں کے آفاقی اقدار اور اخلاقی ضابطوں سے ہم آہنگ یا ماوراء ایک "نئی عالمی ریاست" وجود پذیر ہورہی ہے۔
لیکن اس تیز رفتار ارتقاء پذیر عالمی ریاست سے انسانیت کو خطرہ موجود ہے؛ خاص طور پر ان خفیہ کوششوں سے جو اس دنیا کو آمریت کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔
کیا یہ دنیا ڈسٹوپیا یا ڈھونگی ریاست ( ایک ایسی ریاست جو اپنی رعایا کو دھوکا دیتی ہو) کی جانب بڑھ رہی ہے؟ لیکن کیا کوئی ریاست اس سے الگ بھی ہوتی ہے؟ جی ہاں؛ ایک خیالی ریاست "یوٹوپیا کی ریاست" کا تصور پہلی بار تھامس مور نے اپنے ناول میں پیش کیا تھا۔ یوٹوپیا کی ریاست ایک مثالی معاشرہ یا ریاست ہوتی ہے جہاں ہر شخص کو خوشی، امن، انصاف اور تمام بنیادی سہولیات (جیسے تعلیم، صحت، روزگار، رہائش وغیرہ) مساوی طور پر حاصل ہوتی ہیں؛ یہ ایک مکمل طور پر مثالی جگہ شمار کی جاتی ہے جہاں کوئی برائی، ناانصافی یا کمی نہیں ہوتی۔ ہم انسان اس زمین پر ایسا کوئی معاشرہ یا ریاست بنانے کے قابل نہیں ہوئے ہیں؛ یا اس کی کوشش ہی نہیں کی ہے۔
انسان یوٹوپیا معاشرہ یا ریاست تو بنا نہیں سکے؛ مگر گاہے گاہے اس سے متضاد " ڈسٹوپیا" ریاست اور معاشرے ابھرتے رہے ہیں۔ ڈسٹوپیا ایک ایسا ناپسندیدہ ریاست یا معاشرہ ہوتا ہے؛ جس کی خصوصیت مصائب، جبر، یا خوف سے گندھی ہوئی ہوتی ہے، اکثر مطلق العنان حکومت، ماحولیاتی انحطاط، یا زبردست ٹیکنالوجی کے نتیجے میں وقوع پذر ہونے والی آمریت ہوتی ہے۔ یہ یوٹوپیا [ ایک الہامی ریاست؛ جس کی جستجو انسان کرتا رہتا ہے یا کم از کم حکمران اپنی ریاعا کو اس کا خواب دکھاتے رہتے ہیں] کے برعکس ہے اور جس کا ادب، فلم اور دیگر ذرائع ابلاغ میں ایک احتیاط زدہ کہانی کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے؛ اور ان کہانیوں میں انفرادیت کو دبانے، شخصی آزادی کے خلاف، اور سماجی "ترقی" کے تاریک پہلو جیسے موضوعات کو بیان کیا جاتا ہے۔
ڈسٹوپیئن / ڈھونگی معاشرے کی خصوصیات
مطلق العنان کنٹرول: اکثر ایک واحد، جابرانہ شخصیت یا بے عقل بیوروکریسی کی حکمرانی ہوتی ہے جو طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے دہشت گردی، نگرانی اور پروپیگنڈے کا استعمال کرتی ہے۔
انفرادیت کا نقصان: شہری اکثر غیر انسانی ہوتے ہیں، ذاتی شناخت کو جینیاتی انجینئرنگ، کنڈیشنگ، یا سخت سماجی سطح بندی کے ذریعے دبا دیا جاتا ہے۔
پروپیگنڈا: حکومت یا حکمران ادارہ آبادی کو کنٹرول کرنے اور انہیں یہ باور کرانے کے لیے غلط معلومات کا استعمال کرتا ہے کہ ان کا نظام کامل یا ضروری ہے۔
محدود معلومات اور آزادی: معلومات تک رسائی کو بہت زیادہ کنٹرول کیا جاتا ہے، اور ذاتی آزادی سختی سے محدود ہے۔
ماحولیاتی یا تکنیکی تباہی: معاشرہ ماحولیاتی تباہی کی حالت میں موجود ہو سکتا ہے یا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے جس کے معیار زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ادبی افسانوں سے مثالیں۔
از جارج آرویل کی کتاب 1984: ایک مطلق العنان ریاست کو مسلسل نگرانی رکھتے دکھایا گیا ہے۔
آلڈیوس ہگسلے کی طرف سے " بریو نیو ورلڈ / بہادر نئی دنیا": ٹیکنالوجی اور کنڈیشنگ کے ذریعے کنٹرول شدہ معاشرے کی خصوصیات بیان کی گئی ہے، جس سے انفرادی شناخت ختم ہو جاتی ہے۔
دی ہنگر گیمز از سوزین کولنز: ایک جابرانہ ماحول میں بغاوت کی نوجوان بالغ مثال۔
کچھ ماضی سے سیکھتے ہیں
آئیے ذرا ماضی سے کچھ ریاستوں جو سلطنت کے درجے پر فائز ہوچکی تھیں؛ اور وہ سلطنت کے خاتمے کا نمونہ کیسے بنے پر غور کرلیتے ہیں؟ مثال کے طور پر روم، سپین، برطانیہ، سوویت، اور اب تیزی سے اس طرف بڑھتا امریکہ۔
ہر سلطنت کا خیال تھا کہ وہ مختلف ہے۔ اس کی فوج بہت مضبوط ہے؛ اس کی معیشت بہت ترقی یافتہ ہے اور اس کی طاقت بہت محفوظ ہے۔ روم نے دیناریس کو ابدی سمجھا۔ سپین نے سوچا تھا کہ چاندی نے اسے ناقابل تسخیر بنا دیا تھا۔ برطانیہ کا خیال تھا کہ پاؤنڈ ہمیشہ کے لیے راج کرے گا۔ سب غلط تھے۔ انتباہی علامات کی دہائیوں کے اندر سبھی منہدم ہو گئے۔ اور ہر وہ اشارہ جو ان کے زوال سے پہلے آیا تھا — حد سے زیادہ فوجیں، ناقابل ادائیگی قرض، نہ ختم ہونے والی پرنٹنگ، بڑھتی ہوئی قیمتیں، اور ریزرو کی گرتی ہوئی حیثیت — اور آج یہ سب اشارے راست ہائے امریکہ میں بھی نظر آ رہی ہے۔
جنگی عظیم دوم کے بعد جنگی جرائم پر قائم مقدمات؛ نیورمبرگ ٹرائلز کے بعد، سب سے زیادہ پریشان کن نتائج میں سے ایک کمرہ عدالت سے نہیں بلکہ سائیکاٹرسٹ سے آیا؛جسے مدعا علیہان کا جائزہ لینے کا کام سونپا گیا تھا۔
ڈاکٹر ڈگلس کیلی، امریکی فوج کے ماہر نفسیات جنہیں کئی سینئر نازی حکام کا جائزہ لینے کے لیے تفویض کیا گیا ہے، جس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ لوگوں میں چھپے راکشسوں کو تلاش کریں گے، جو دیکھنے میں تو عام ہی لگتے ہیں؛ مگر انسانیت سے بنیادی طور پر مختلف ہوتے ہیں۔
جس چیز نے اسے سب سے زیادہ پریشان کیا وہ یہ تھا کہ وہ کتنے عام تھے؛ مگر زیادہ تعداد میں تھے۔
وہ دیوانگی زدہ نہیں لگتے تھے۔ وہ واضح سماجی پیتھک نہیں تھے۔ وہ ذہین، تعلیم یافتہ، اور اکثر اس بات پر قائل تھے کہ وہ محض اپنا فرض ادا کر رہے ہیں، احکامات کی پیروی کر رہے ہیں، یا کسی اعلیٰ مقصد کی خدمت کر رہے ہیں۔ کیلی نے خبردار کیا کہ اصل خطرہ یہی ہے: برائی ہمیشہ غیر معمولی نظر نہیں آتی۔ اور برے لوگ / طاقت کے نشے میں دھت لوگ اکثر خود کو قابلیت، فرمانبرداری اور ادارہ جاتی وفاداری کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ڈگلس کیلی کی تحقیق کا مرکزی تنبیہ گہری بے چینی تھی کہ اس دور میں نازی جرمنی کی ہر جگہ اخلاقی طور پر خالی یا تباہ کن رجحانات والے لوگ موجود تھے۔ مگر ظلم و ستم یہ ہےکہ ہر معاشرے میں؛ ہر دور میں؛ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ مگر کسی قوم کی تقدیر کا نتیجہ یہ طے کرتا ہے کہ آیا اس کا نظام ایسے افراد اور لوگوں کو بلند مقام عطا کرتا ہے، اور کیا انہیں جوابدہ کرتا ہے یا جوابدہی سے بچاتا ہے، اور کیا ایسے افراد کے رویے کو معمول پر لاتا ہے، اور کیا عام شہری حکومتی اتھارٹی پر سوال کرنے کو تیار ہیں کہ نہیں اور جدید قومی نظام زندگی میں یہ سب سے اہم ہوتا ہے؛ عام افراد کا اپنے حق کے لیے حکومت ہر سوال کرنے کی ہمت اور جرات۔
آج کے جدید دور میں جدید بیوروکریسی اور سرکاری ادارے خاص طور پر طاقتور ہیں کیونکہ وہ سرکاری ذمہ داری کو بہت دور تک پھیلا دیتے ہیں۔ فیصلوں کو پالیسیوں، پروٹوکولز، کمیٹیوں اور "بہترین طریقوں" میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
نقصان کو شاذ و نادر ہی نقصان قرار دیا جاتا ہے۔ اسے ضرورت، رسک مینجمنٹ، یا تعمیل کے طور پر دوبارہ ترتیب دیا جاتا ہے۔ افراد کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اخلاقی طور پر نہیں بلکہ طریقہ کار سے سوچیں۔
اس طرح عام لوگ اپنے ضمیر کی آواز کو اداروں کو آوٹ سورس کر کے غیر معمولی غلط کام کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں اور خود کو یہ باور کراتے ہیں کہ احتساب کہیں اور ہے؛ کوئی اور کرے گا۔
نیورمبرگ کا سبق یہ نہیں ہے کہ "وہ ظلم کرنے والے [نازی] لوگ مختلف تھے۔" بلکہ یہ ہے کہ وہ عام انسانوں سے مختلف نہیں تھے۔ اس لیے چوکسی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی لیے اتھارٹی پر اندھا اعتماد خطرناک ہے۔ اور اسی لیے ایک صحت مند معاشرے کو اختلاف رائے، جوابدہی اور اخلاقی جرأت کی حفاظت کرنی چاہیے خاص طور پر جب یہ تکلیف دہ ہو۔ تاریخ اپنے آپ کو نہیں دہراتی کیونکہ لوگ حقائق کو بھول جاتے ہیں۔ یہ خود کو دہراتا ہے جب لوگ خود کو قائل کرتے ہیں، "یہ یہاں کبھی نہیں ہو سکتا"؛ محض ایک تقریری جملہ ہے اگر عام لوگ اسے ایسا نہین ہونے دینے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ شعور کے حامل باخبر اور جاگتے لوگ جمھوریتوں کو پروان چڑھاتے ہیں۔ باشعور، باخبر اور جاگتے افراد زندہ معاشرے کی پہچان ہوتے ہیں وگرنہ ڈھونگی ریاست کے "شہر آشوب" کے شہری بن جاتے ہیں؛ اور معاشرتی چلتے پرزے بن کر لعن طعن کی زندگی جیتے ہیں؛ یا پھر سسکتے، غمزدہ اور کڑھتے ہوئے مرجاتے ہیں؛ جن کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔
آئیے ذیل میں کچھ شعری ذوق سے سمجھتے ہیں۔ شہر آشوب اردو شاعری کی ایک اصطلاح ہے جس میں شاعر کسی شہر کی بدحالی، تباہی، ظلم و ستم، فتنہ فساد اور گردشِ زمانہ کا بیان کرتے ہیں. اس کا لغوی مطلب "برباد شدہ شہر" ہے، اور اس میں معاشرتی خرابی، بے امنی، مہنگائی، اور سیاسی حالات کی عکاسی ہوتی ہے، جو کسی نہ کسی طور پر مختلف صورتوں میں موجود ہوتی ہے۔
میرزا محمد رفیع سوداؔ کے ’’مخمس شہر آشوب‘‘ کا یہ پہلا بند ملاحظہ کیجیے:-۔
کہا میں آج یہ سودا سے کیوں تُو ڈانواں ڈول
پھرے ہے جا کہیں نوکر ہو، لے کے گھوڑا مول
لگا وہ کہنے یہ اس کے جواب میں دو بول
جو میں کہوں گا تو سمجھے گا تُو کہ ہے یہ ٹھٹھول
بتا کہ نوکری بکتی ہے ڈھیریوں یا تول
نظیر اکبر آبادی کی نظم "شہر آشوب"۔
بے روزگاری نے دکھائی ہے مفلسی
کوٹھے کی چھت نہیں ہے پرچھائی ہے مفلسی
دیوار ودر کے بیچ سمائی ہے مفلسی
ہرگھر میں اسی طرح سے بھر آئی ہے مفلسی
جیسے کہ چور بیٹھے ہوں قیدی قطار بند۔
صراف، بنیے، جوہری اور سیٹھ ساہوکار
دیتے تھے سب کو نقد، سوکھاتے ہیں سب
بازار میں اڑے ہے پڑی خاک بے شمار
بیٹھے ہیں یوں دکانوں میں اپنے دکان دار
جیسے کہ چور بیٹھے ہوں قیدی قطار بند
محنت سے ہاتھ پاؤں کی کوڑی نہ ہاتھ آئے
بے کار کب تلک کوئی قرض اور ادھار کھا
دیکھوں جیسے وہ کرتا ہے رو رو کے ہائے ہائے
آتا ہے ایسے حال پہ رونا ہمیں تو ہائے
دشمن کا بھی خدا نہ کرے کاروبار بند
مرزا داغ دہلوی کے شہر آشوب (دہلی) کے متعلق اشعار اس مضمون کی عکاسی ہیں۔
اب دل ہے مقام بے کسی کا
یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا
رونا ہے اب ہنسی خوشی کا
ماتم ہے بہار زندگی کا
اردو زبان و ادب کے ممتاز دانشور اور شاعر جناب افتخار عارف کی نظم "شہر آشوب" پیشِ خدمت ہے۔
اے شہر رسن بستہ
کیا یہ تری منزل ہے
کیا یہ ترا حاصل ہے
یہ کون سا منظر ہے
کچھ بھی تو نہیں کھلتا
کیا تیرا مقدر ہے
تقدیر فصیل شہر کتبہ ہے کہ گلدستہ
اے شہر رسن بستہ
اب کوئی بھی خوابوں پر ایمان نہیں رکھتا
کس راہ پہ جانا ہے کس راہ نہیں جانا پہچان نہیں رکھتا
شاعر ہو کہ صورت گر باغوں کی چراغوں کی بستی کے سجانے کا سامان نہیں رکھتا
جس سمت نظر کیجے آنکھوں میں در آتے ہیں اور خون رلاتے ہیں
یادوں سے بھرے دامن لاشوں سے بھرا رستہ
اے شہر رسن بستہ
مدت ہوئی لوگوں کو چپ مار گئی جیسے
ٹھکرائی ہوئی خلقت جینے کی کشاکش میں جی ہار گئی جیسے
ہر سانس خجل ٹھہری بے کار گئی جیسے
اب غم کی حکایت ہو یا لطف کی باتیں ہوں کوئی بھی نہیں روتا کوئی بھی نہیں ہنستا
اے شہر رسن بستہ
صولت بانو کی نظم " شہر آشوب "
اب آخر میں جدید دور کی شاعرہ صولت بانو کی نظم " شہر آشوب " پیش کی جاتی ہے؛ جو سوائے غم اور ماتم کے علاوہ کیا تصویر پیش کرتی ہے۔ شہر آشوب کسی قوم کے روشن مستقبل کی تصویر نہیں ہوتا اور وہاں سوائے بھوک، افلاس، ننگ، غم، دکھ اور کسمہ پرسی کے کچھ نہیں پروان چڑھتا۔ ایسے معاشرے ڈھونگی ریاست کا حصہ بن کر دنیا میں مذاق بنتے ہیں؛ فخر نہیں ہوتے۔
اٹھاؤ نقدِ دل و جاں، اٹھاؤ سازِ ہنر
کہ اس دیار میں اب کوئی قدرداں نہ رہا
یہاں پہ حرفِ صداقت گناہِ کبریٰ ہے
یہاں پہ شیشہ و آہن میں امتحاں نہ رہا
چلو کہ جشنِ بہاراں کے سب فسانے گئے
صبا کی راہ میں اب کوئی گلستاں نہ رہا
نظر اُٹھے تو در و بام اجنبی سے لگیں
یہ شہرِ یار تو ہے، شہرِ مہرباں نہ رہا
یہ قافلے جو سرِ شام کوچ کرتے ہیں
یہ بھاگتے نہیں، روٹھے ہوئے مسافر ہیں
جو روشنی کے پیمبر تھے تیرے شہروں میں
یہ روشنی کے قبیلے بھی اب مہاجر ہیں
اے میرے شہرِ نگاراں! تجھے خبر ہی نہیں؟
کہ تیرے حسن کی رعنائیاں وہ لے جائیں
وہ جن کے دم سے ترے بام و در چمکتے تھے
وہ تیری آنکھ سے بینائیاں بھی لے جائیں
پھر اس کے بعد، ترے پاس کیا بچے گا بتا؟
بجز خموشیِ زنداں، بجز غبارِ الم؟
نہ کوئی چھیڑے گا نغمہ، نہ کوئی رقص کرے
رہے گی بس یہی زنجیر، اور ہم اور تم
ستم تو یہ ہے کہ مقتل سجے گا پھر بھی یہاں
مگر وہ نذرِ سر و جاں کوئی نہ لائے گا
رہے گا شور عدالت میں کوتوالوں کا
مگر ضمیر کا قیدی نظر نہ آئے گا