وقتِ فُرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے
The Holy Prophet Muhammad (PBUHﷺ) is the last of prophets sent by God / ALLAH Al-Mighty as messenger for spreading Truth and submission to His guidance and directions by human beings as special creations. The human beings however are lost in their own created dogmas and philosophies. This write up "وقتِ فُرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے" in Urdu is about the importance of knowing the real purpose of life on this blessed birthday anniversary of the Prophet Muhammad (PBUHﷺ).
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
وقتِ فُرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے
ہماری بصارت میں جو یہ کائنات ہے، زمین وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی بسی ہوئی ہے۔ زندگی کی نیرنگی حیران کن ہے اور اس حیرت کدہ میں ہم انسان بطور اشرف المخلوقات آباد ہیں۔ علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی کتاب بالِ جبریل میں کیا خوب تصویر کشی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے آدم (اور ابن آدم ) " ہیں تیرے تصرّف میں یہ بادل، یہ گھٹائیں؛؛؛ یہ گُنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیں؛؛؛ یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں؛؛؛ تھیں پیشِ نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں؛؛؛ آئینۂ ایّام میں آج اپنی ادا دیکھ!"۔
اس زمین پر آج آٹھ ارب انسان بستے ہیں؛ اور اس انبوہِ کثیر میں کتنے ہیں؛ جو آئینۂ ایّام میں اپنے مقام و مرتبہ کے حوالے سے اپنی اداوں پر نظر کناں ہیں؟ اللہ سبحان تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ "اور میں(اللہ) نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے"۔ (سورۃ الذاریات، 56) لیکن اس زندہ رود زمین پر صرف ڈیڑھ ارب انسان مسلمان ہیں یعنی اللہ تعالی اور خاتم النبیین محمدﷺ کے ماننے والے ہیں۔ یہ ڈیڑھ ارب کہنے کو امتِ محمدﷺ کا حصہ ہیں مگر کتنے ہیں جو اپنی قدر سے واقف ہیں؟ سرورِ کائناتؐ آقا محمدﷺ کا فرمان ہے کہ "جس آدمی نے اپنی قدر پہچان لی وہ کبھی برباد نہ ہوگا"۔ آج کا مسلمان کسی تعریف سے خوشحال اور عزتمآب نہیں ہے بلکہ ذلیل و خوار ہوئی زندگی بسر کررہی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کا مسلمان اپنی قدر ہی سے واقف نہیں ہے۔
یہ ماہِ ربیع الاول ہے اور سنہ ۵۷۰ عیسوی میں اس ماہ کی ۱۲ تاریخ کو آقا کریم محمدﷺ اس دنیا میں جلوہ آفرین ہوئے تھے۔ اس دن کو دنیا بھر کے مسلمان جشنِ آمد رسول ﷺ اور عید میلاد النبی کے طور پر مناتے ہیں۔ ملک خداداد پاکستان کو لوگ بھی اس جشن میں حصہ لیتے ہیں۔ اور منانا بھی چاہیے کہ کوئی بھی باشعور مسلمان اپنا آقا کریم محمدﷺ کے جنم دن کو جوش و خروش سے منائےگا۔ لیکن کیا ہم پاکستانی امتِ محمدﷺ ہونے کا حق رکھتے ہیں اور کیا ہم کل روزِ قیامت اپنے آقا محمدﷺ کا سامنا کرنے کے قابل ہونگے؟
ہم سب جانتے ہیں کہ مملکتِ خداداد پاکستان کا حصول ایک نظریہ کے تحت ہوئی تھی۔؛ جسے عرفِ عام میں دو قومی نظریہ کہا جاتا ہے۔ مگر زیادہ آسان طریقہ بیان یہ ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ یہ ایک خواب تھا کہ ہندوستان کی زمین پرمسلمانوں کا ایک آزاد وطن قائم ہو؛ جہاں مملکتِ اولِ اسلام ریاست مدینۃ الرسول کے اصولوں پر ایک مدینہ ثانی قائم ہو؛ جو قرآن و اصول کی بنیادوں پر جدید اسلامی فلاحی ریاست کا مظہر ہو۔ ایسی ریاست میں، تمام انسان، اللہ تعالی کی حاکمیتِ اعلی کے تحت، اعلی احکاماتِ الہی کی اطاعت کے لیے سرگرم ہوتے ہیں۔
حاکمیت اعلی کا تصور سادہ بریقے سے یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ہر نوع کی اطاعت صرف اللہ کیلئے ہے؛ اور اس بات کے پیش نظر ضروری ہے کہ مسلمام قوم اپنی صفوں میں سے کسی کو امام یا لیڈر متعین کرلے؛ مگر اس امام یا لیڈر کی اطاعت، صرف اللہ کی اطاعت کے تحت قائم ہو۔ اللہ سبحانہ کی حاکمیت اعلی کے تحت اطاعت و بندگی کا ایک نظام قائم ہو جس کا منتہا و مقصود اللہ کی مرضی و منشاء کے مطابق امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام انجام دیا جائے؛ جو فلاحِ انسانیت اور دیگر اقسام زندگی حیوان؛ طیور، نباتات وغیرہ کے لیے متحرک رہے ۔ اسلام کا جمھوری نظام خلافت کا نظام تھا اور آج قیادت کا چناو جمھور کی رائے سے ہونا چاہیے؛ جیسے خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم کا ہوا تھا۔
پاکستان کا قیام ایک اسلامی فلاحی ریاست کے حصول کے لیے ہوا تھا۔ مگر ہم نے 78 سال آزدی کے گذار دیے ہیں مگر نظامِ مصطفی محمدﷺ کا نفاذ دور دور تک نہیں ہے۔ جب ہم آزاد ہوئے تھے تو ہمارے پاس ایک زمین تھی؛ جہاں ہم بسے ہوئے تھے؛ ہمارے پاس ایک نظریہ تھا اور ہمارے بزرگ اس کے باسی تھے؛ جو ایک حسین خواب بمعنی مدینہ ثانی کے حصول کے لیے حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے پیچھے کھڑے ہوگئے تھے۔ مگر آج ایک زمین ہے اور ہم بسے ہوئے ہیں؛ جن کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہے؛ کہ دو وقت کی روٹی کا حصول تک مشکل بنا ہوا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ کتنے لوگ، خاص طور پر نوجوان، ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔
نُورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے
اے میرے ساکنانِ وطن؛ ہمارے پاس زندگی کا وقت ہی کتنا ہوتا ہے جو ہماری ایک کے بعد ایک نسل گذر رہی ہے اور اپنی منزل کی جانب ایک قدم بھی بڑھا نہیں پا رہی ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے تو خوب سمجھا دیا تھا جب انہوں نے اپنی کتاب بانگِ درا کی نظم جوابِ شکوہ میں کہا تھا کہ
وقتِ فُرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے
نُورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے
اے مسلمان! اٹھ سرگرم عمل ہو کہ فرصت کا وقت نہیں رب ذوالجلال نے تجھے جو ذمہ داری سونپی ہے اس کی تکمیل تیرا فرض ہے خدا کی وحدانیت کو عام کرنے کا کام بھی باقی ہے ۔ [پروفیسر حمید اللہ ہاشمی]۔ اور اس کا آسان بیان یہ ہوگا کہ مسلمان اس دنیا میں لذاتِ دنیا کا حض اٹھانے نہیں آتا بلکہ حاکمیتِ اعلی کو قائم کرنے آتا ہے؛ اللہ کا نور عدل و انصاف پر مبنی پر امن معاشرہ ہے۔
اے لوگو! نورِ توحید کا اِتمام کون کرے گا؟ کیا یہ مادی ترقی کی دوڑ ہمیں اس جانب لے جائے گی؟ کیا ہم نے آزادی کے بعد اپنی قوم کو آزادی کا مطلب بھی سمجھایا ہے؟ مسمان کلمہ طیبہ کے سبب اپنی شرست میں ہی آزاد ہوتا ہے۔ کیونکہ مردِ حق سے جس بصیرت کی توقع کی جاتی ہے وہ آزاد روی کے بغیر کیسے حاصل ہوسکتی ہے؟ اقبالؒ نے تو اپنی کتاب جاوید نامہ کی نظم محکمات عالم قرآنی میں کہا ہے کہ
بر تر از گردوں مقام آدم است
اصل تہذیب احترام آدم است
ترجمہ و تشریح یہ ہے کہ آدم کا مقام آسمان سے بھی بلند تر ہے۔ تہذیب کی اصل آدم کا احترام ہے۔ بقول اقبال
آدمیت احترام آدمی
با خبر شو از مقام آدمی
عجَب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو
تری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام
آج وطن عزیز میں عام کیا خاص انسان بھی آزاد نہیں ہیں؛ ایک نوع کی غلامی انہیں جکڑے ہوئے ہے۔ اور دنیا کی ضرورتوں کا غلام آقا کریم محمدﷺ کا غلام کیسے ہوسکتا ہے؟ اور جو مسلمان آقا کریم محمدﷺ کا غلام نہیں؛ اس کا جشن میلا النبی چہ معنی دارد؟ اے لوگو اگر دعوی ہے کہ مسلمان ہو اور آقا کریم محمدﷺ کے ماننے والے ہو تو اپنے آقا کریم محمدﷺ کا مقام جانو؛ انکی سیرت پڑھو۔ علامہ اقبالؒ نے تو خوب رہنمائی کی جب بالِ جبریل کی نظم ذوق و شوق میں کہا کہ
آیۂ کائنات کا معنیِ دیر یاب تُو
نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بُو
قافلہ ہائے رنگ و بو: رنگ اور خوشبو کے قافلے، مراد مردان حق۔ لفظی معنی رنگ و بو کے قافلے۔ رنگ سے بظاہر اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو دینی شان و شکوہ پر مائل ہوں اور بو سے اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے، جن کا ذوق روحانی ہوتا ہے یعنی مردانِ حق۔
اگر کائنات کو ایک آیت سمجھ لیا جائے تو اے عشق محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس کا مشکل سے سمجھ میں آنے والا مطلب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اربابِ ظاہر اور اربابِ باطن کے قافلوں کو آپکی تلاش ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بغیر کوئی بھی اپنے مقصد و مدعا کو نہیں پہنچ سکتا۔ (شرح غلام رسول مہر)
ابلیسی مغرب کی غلامی
کتنا عجب ہے کہ آج باقی دنیا کے مسلمانوں کی طرح ساکنان پاکستان بھی ابلیسی مغربی نظام کے پھیلائے ہوئے جال کا شکار ہیں اور لذاتِ دنیا کی طلب میں کمزور اور ناکارہ بنے ہوئے ہیں۔ آج ہم نے خود کو اللہ تعالی کی عطا کردہ حلال رزق سے دور کرلیا ہے؛ اور ابلیس کا دجالی مغرب، ہماری محنت کی کمائی چھین کر اس سے ہتھیار بناتا رھا ہے اور اسی کے زور پر ہمیں آپس میں لڑا رہا ہے۔ ( قرآن پاک میں اللہ تعالٰی کا حکم ھے مسلمان کے لئے کہ اپنے جہادی گھوڑے تیار رکھو۔ تمہاری تلواریں کبھی نیام میں نہ جائیں۔ خود کو سامان حرب سے لیس رکھو)۔ کمال تو یہ ہے کہ مغرب تو اس پہ عمل پیرا ہو رھا اور مسلمان کو عیش و نشاط کی زندگی میں مدہوش کرتا رھا ہے ۔ اور آج مسلمان کےلئے زمین بھی اتنی ہی نا موافق بنی ھوئی ھے؛ جتنا کہ آسمان۔ آج کے مسلمان کا نہ پوچھئے کہ اس کا حال کیا ھےاس کے لئے آج صحرا میں یا کوہ و دمن میں بھی اور دشت و دریا میں بھی خود اپنا دانہ تلاش کرنا مشکل اور ناگوار ھے۔
اقبالؒ نے کتاب ارمغانِ حجاز کی نعت میں کیا ہے کہ
پرس از من کہ احوالش چسان است
زمینش بد گہر چوں آسمان است
بر آں مرغے کہ پروردی بہ انجیر
تلاش دانہ در صحرا گران است
مجھ سے اس پرندے کا کچھ نہ پوچھیے کہ اس کی صورتِ حال کیا ہے، اس کے لیے زمین بھی اتنی ہی ناموافق بنی ہوئی ہے جتنا آسمان، آپ نے جس پرندے کو انجیر کھلا کر پالا پوسا، اب اس کے لیے صحرا میں خود دانہ تلاش کرنا بہت مشکل اور ناگوار ہے۔ (ترجمہ: معین نظامی)
آغوشِ غلامی کے اثرات
اے وطنِ عزیز کا لوگو؛ عالمہ محمد اقبالؒ نے ایک صدی قبل غلام ہندوستان کے مسلمان کے لیے "مثنوی پس چه باید" کی نظم " فقر، " میں کہا تھا کہ "اس ملک کا مسلمان اپنے آپ سے نا امید ہے — عمر گذر گئی اس نے کوئی با خدا مرد نہیں دیکھا"۔ مزید کہا ہے کہ " لا محالہ وہ دین کی قوت سے بدظن ہے— وہ خود ہی اپنے کاروان کے لیے رہزن بنا ہوا ہے"۔ حکیم نے بیماری کا سبب بیان کیا کہ " تین سو سال [اب چار سو سال ہوگئے] سے یہ امت زبوں حال ہے — اور بغیر اندرونی سوز و سرور کے دن بسر کر رہی ہے"۔ اور پھر وجہ بھی بتا دی کہ " مسلمان پست فکر ، کم ہمت اور کور ذوق ہو چکا ہے — اس کے تعلیمی ادارے اور علما سب شوق سے محروم ہیں"۔ مزید کہا کہ " اس کی فکر کی خرابی نے اسے ذلیل کر دیا ہے — باہمی اختلافات نے اسے بیزار کر دیا ہے"۔ علامہ اقبالؒ نے یہ بات تو غلام ہندوستان کے لیے کہی تھی مگر ہم آج تقریبا" اسی سال کے بعد بھی اسی حالت غلامی میں مگن مسرور اورمست ہیں۔ کیا کوئی فرق پڑا ہے؟
مسلم این کشور از خود ناامید
عمر ها شد با خدا مردی ندید
لاجرم از قوت دین بدظن است
کاروان خویش را خود رهزن است
از سه قرن این امت خوار و زبون
زنده بی سوز و سرور اندرون
پست فکر و دون نهاد و کور ذوق
مکتب و ملای او محروم شوق
زشتی اندیشه او را خوار کرد
افتراق او را ز خود بیزار کرد
علاج طوقِ غلامی کیا ہے؟
اے برادران اسلام و ساکنان وطن پاکستان؛ علامہ محمد اقبالؒ صرف شاعرِ مشرق ہی نہیں تھے بلکہ حکیم الامت بھی تھے؛ تبھی انہوں نے ہندوستان کے مسلمان کے نبض پر ہاتھ رکھا اور بیماری کے تشخیص کی اور پھر علاج بھی بتایا۔ اقبالؒ نے پیامِ مشرق میں راستہ دکھاتے ہوئے کہا ہے مسلمان کی نمو؛ بقاء اور ترقی کا راستہ عشقِ محمدﷺ ہے اور اس کے سوا اور کوئی سبیل نہیں ہے۔ چنانچہ ہمیں آقا محمدﷺ کے پلو سے بندھنا پڑے گا۔
ہرکہ عشقِ مصطفیﷺ سامانِ اوست
بحر و بر در گوشۂ دامانِ اوست
جس کی پونجی (سامان) عشق رسول اللہ ﷺ ہے۔ خشکی اور تری (بحر و بر) اس کے دامن کے کونے (پلو) میں بندھے ہوئے ہیں۔ (پروفیسر حمید ﷲ شاہ ہاشمی)
قُوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمّدؐ سے اُجالا کر دے
کی محمّدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
نعمتِ خداوندی کی عظمت
اللہ تعالی کی رحمت کی شان کا اندازہ لگائیے کہ اس نے اس زمین پر ہمیں آباد کیا اور اپنی نعمت کی تکمیل اس طرح کی ہےکہ اپنا خاص حبیبِ کبریا آقا محمدﷺ کو رحمت العالمین بنا کر ہمارے درمیان مبعوث کیا۔ اور آقا کریم محمدﷺ کے سینئہ اطہر پر اپنی کامل کتابِ ہدایت القرآن مجید نازل فرمائی۔ اور پھر اس پر کمال یہ کیا کہ اپنے حبیب کو اس کا مجسم مظہر بنایا۔ اور کہا اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ اور پھر تاریخِ انسانیت کی گواہی ہے کہ اپنے حبیب کبریاﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کے ذریعے اطاعت کرکے دکھائی۔ یہ اللہ کا احسان ہے کہ انہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کے ذریعے؛ آج ہم تک؛ آقا کریم محمدﷺ کی سیرت اور سنت حرف بحرف چودہ سو سال کی دوری تک پہنچا ہے۔ تو عرض صرف اتنا ہے کہ ہمارے پاس ان روشن مثالوں سے دامن جھٹکنا کیسے ممکن ہے اور ہم کیسے اس کے لیے کل روزِ قیامت اللہ تعالی کے سامنے جوابدہ نہیں ہونگے؟
آج کا دن جشن عید میلاد النبیﷺ منانے کے ساتھ ساتھ اپنا محاسبہ کرنے کا دن بھی ہے۔
یہ اللہ سبحان تعالی کا احسان ہے کہ ہمیں آقائے دوجہاں، شافع محشر، امام المرسلین، رحمت اللعالمین محمدﷺ کا امتی بنایا، اور یہ احسان بھی کیا کہ ہمیں آزادی کی نعمت کے ساتھ ریاست اسلام کا شہری پیدا کیا۔ کیونکہ رسولِ کریم محمدﷺ نے فرمایا ہے کہ " تم میں سے جس نے صبح کی، اس حال میں کہ وہ اپنے گھر یا قوم میں امن سے ہو اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست ہو اور دن بھر کی روزی اس کے پاس موجود ہو، تو گویا اسے پوری دنیا جمع کرکے دے دی گئی".[ ترمذی 2346]
اللہ رب کریم ہمیں آقا محمدﷺ کی کامل غلامی عطا فرمائے۔ اور اس قابل فرمائے کہ کل روز قیامت اللہ تعالی کےحضور آپنے آقا محمدﷺ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین ثم آمین
"بلغ العلےٰ بکمالہٖ "وه پہنچے بلندیوں پر اپنے کمال کے ساتھ
."کشفَ الدُجیٰ بجمالہٖ " آپکے جمال سےتمام اندھیرے دور ھو گۓ
."حسُنت جمیعُ خِصالہٖ " آپکی تمام عادتیں ھی بہت اچھی ھیں .
" صلو عليه وآله" آپ پر اورآپ کی آل پر لاكهوں درود اور سلام
میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا
خاک ناچیز تھا میں، سو مجھے انسان کیا
اس پہ احسان، آقا ﷺ کا مجھے غلام کیا
اور پھر رہنے کو وطن پاکستان دیا
جشنِ آمدِ رسول آخرالانبیاء؛ خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۱۴۴۶ ہجری مبارک