ہو زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

Running a marathon is a profound demonstration of human excellence and running a marathon for a cause is a noteworthy feat because it merges a monumental physical feat with a selfless contribution to society. Running a marathon for a cause turns a 26.2-mile physical challenge into a meaningful fundraising mission, allowing runners to support charities, boost awareness and create a meaningful impact. This write up in Urdu "ہو زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا" is about "Marathon" and causes and beauty of Running by humans.

May 07, 2026 - Muhammad Asif Raza

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


ہو زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا


بصیرت اور بصارت کی آنکھوں سے تمام دیکھے جانے والی اور اندیکھی کائنات اور عالمین کے خالق و مالک اللہ سبحان تعالی ہیں۔ اللہ باری تعالی نے جیسا چاہا اور جس طرح چایا تخلیقات کی ہیں اور کرتا جارہا ہے۔ اس کی خلقت کی شان " زندگی " کا روپ ہے اور زندہ رود کا عروج تخلیق آدم اور ابن آدم کے سیلِ عجب کا مسلسل روانی سے بہنا ہے۔ اور اس مسلسل بہتے انسانی سلسلے کا مرکب "میں" روح اور جسم سے موسوم ہے۔ "روح" کا راز تو صرف خالقِ کُل ہی کے پاس ہے اور اس پر کوئی گفتگو کرنا محال ہے؛ مگر "جسم"، یہ بھی حیرت کدہ ہی ہے۔ جدید دور میں انسان نے اس حیرت کدہ کے بہت سے راز معلوم کرلیے ہیں۔ انسانی جسم کی خصوصیات کا اظہار عقل اور نفسیات کے تعامل سے ہوتا ہے۔

اس کرہ زمین پر سب سے حیرت انگیز کھیل "زندگی" ہے۔ رینگتی گھسیٹتی، چلتی پھرتی، بھاگتی دوڑتی، اچھل کود کرتی زندگی۔ جس طرف دیکھو، اس کا کیسا انوکھا روپ ہے؟ اور کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ بقا کی جدوجہد ہے۔ اور بقا کی جدوجہد میں زندگی کا انوکھا پن دیکھیے کہ تمام کیفیات اکثر ایک ہی وقت میں، مختلف ادوار کے ساتھ، ایک ساتھ چل رہی ہوتی ہیں۔ کہیں سكون ہے تو کہیں ہلچل، کہیں ٹھہراؤ ہے تو کہیں طوفان۔ یہ "تضادات کا مجموعہ" ہی زندگی کا حسن ہے۔ حقیقت میں، زندگی ان ہی رنگوں کا حسین امتزاج ہے۔ زندگی کے انگنت روپ ہیں اور یہاں ہر ذی روح ایک کردار ہے؛ مگر حضرت انسان ہر معنی میں ایک منفرد اور انوکھا کردار ہے۔ ایک روپ جو نکھرتا ہے تو تمام خلائق کو گہنا دیتا ہے اور شرمندہ کردیتا یے۔

انسان کا ایسا ہی ایک روپ ایثار اور قربانی کے جزبہ کا ہے۔ ایثار اور قربانی انسان کے اخلاقی اور روحانی اوصاف میں سب سے بلند ترین مقام رکھتے ہیں۔ یہ وہ جذبہ ہے جس میں انسان اپنی خواہشات، ضروریات، اور بعض اوقات اپنی جان تک دوسروں کی خاطر نذر کردیتا ہے۔ ایثار کا مطلب ہے اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا۔ ایثار کا جذبہ انسان کے دل کو تکبر اور لالچ سے پاک کرکے اللہ کے قریب کرتا ہے۔ قربانی کا جذبہ معاشرے سے نفرت اور حسد کا خاتمہ کرکے محبت، بھائی چارہ اور امن قائم کرتا ہے۔ والدین کا بچوں کے لیے، سپاہی کا وطن کے لیے، اور ایک انسان کا دوسرے انسانوں کےلیے اپنی آرام و آسائش کو قربان کر دینا اس کی عملی مثالیں ہیں۔ مختصراً، ایثار اور قربانی ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو حقیقی معنوں میں "اشرف المخلوقات" بناتا ہے۔

یہ کہنا کہ "ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا" محض ایک مصرع ہےمگر انسانیت کی خدمت، ہمدردی اور بے غرضی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کا مفہوم وہی ہے جو اوپر ایثار اور قربانی کے ضمن میں ہم نے پڑھا ہے کہ حقیقی کامیابی اور زندگی کا اصل لطف اپنے لیے جینے کے بجائے دوسروں کی مشکلات کم کرنے اور ان کے کام آنے میں ہے۔ انسانیت کی خدمت دراصل دوسروں کی مدد کرنا اور ان کے دکھ سکھ میں کام آنا، اور زندگی کو بامقصد بناتا ہے۔ اس میں سبق ہے کہ اپنے مفاد سے بالاتر ہو کر معاشرے کے لیے کچھ کرنا۔ یہ فلسفہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان وہی بہترین ہے جو دوسروں کے کام آئے۔

ایثار و قربانی کے جزبےوالی قوم ہی اصل زندہ رود ہے

علامہ اقبال کی خودی کے فلسفے میں "زندہ رود" (جو اقبال کا خود دیا ہوا نام بھی ہے) کا عروج دو تصورات کے گرد گھومتا ہے:-۔

۱. تخلیقِ آدم (عروجِ انسانیت)؛ اقبال کے نزدیک انسان صرف مٹی کا پتلا نہیں، بلکہ اللہ کا نائب ہے۔"تخلیقِ آدم" سے مراد انسان کی اپنی خودی کو پہچاننا اور کائنات میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔ جب انسان اپنی حقیقت (خودی) کو پہچان لیتا ہے، تو وہ ستاروں پر کمند ڈالتا ہے اور زمان و مکان کا مالک بن جاتا ہے۔

۲. ابنِ آدم کا سیلِ عجب (خودی کا عروج):"سیلِ عجب" (حیرت یا خود اعتمادی کا طوفان) سے مراد انسان کا وہ جذبۂ بے خودی اور جنون ہے جس سے وہ کائنات کو مسخر کرتا ہے۔

یہ وہ خودی ہے جو عشقِ الہیٰ اور خود شناسی سے پیدا ہوتی ہے۔ جب انسان اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کر کے بلند پروازی کرتا ہے، تو وہ "ابنِ آدم" کا سیلِ عجب بن کر سامنے آتا ہے، جو تقدیر کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے ۔ زندہ رود (اقبال) کا پیغام یہ ہے کہ انسان تخلیقِ آدم کی حقیقت کو سمجھ کر، "سیلِ عجب" (خودی) کے ذریعے ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، کی تلاش کرے ۔

زندہ رود (زندہ قوم) سے کیا مراد ہے؟ زندہ قوم کا مطلب صرف سانس لینا نہیں، بلکہ عزت، وقار، اور خودداری کے ساتھ جینا ہے۔ ایسی قومیں جو اپنے ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں، جو مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنتی ہیں، اور جن کے افراد اپنا آرام، مال اور جان ملک و ملت پر قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں، وہی تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔

ایثار (دوسروں کو اپنے پر ترجیح دینا) اور قربانی ہی وہ جذبے ہیں جو افراد کو ایک قوم میں پروتے ہیں۔ جب لوگ "میں" سے نکل کر "ہم" کے لیے سوچتے ہیں، تو قومیں ناقابل تسخیر ہو جاتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے قربانی نہیں دی، وہ غلام بن گئیں یا صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ جب قومیں آزمائش (جنگ، قدرتی آفات، معاشی بحران) میں اپنے وسائل اور جانیں پیش کرتی ہیں، تو وہ دوبارہ ابھرتی ہیں۔ قربانی دینے والی قومیں اپنی آزادی اور خود مختاری کا سودا نہیں کرتیں۔ وہ بھوکی رہ سکتی ہیں، لیکن اپنی عزتِ نفس پر آنچ نہیں آنے دیتیں۔

پاکستان کا قیام، تحریکِ آزادی، اور دفاعِ وطن کے لیے دی جانے والی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب قومیں ایثار کا مظاہرہ کرتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی مدد فرماتا ہے۔ ایک زندہ قوم اپنے محسنوں (شہیدوں، غازیوں) اور ایثار کرنے والوں کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ ایثار اور قربانی کے جذبے سے خالی قومیں زندہ لاشوں کی مانند ہوتی ہیں۔ واقعی، زندہ رہنے اور نام روشن کرنے کا واحد راستہ ایثار و قربانی ہی ہے۔

دور جدید میں زندہ رود کے کمالات

میراتھن دوڑ 26.2 میل (42.195 کلومیٹر) کی ایک لمبی دوری کا پیدل بھاگنا ہے۔ یہ نام یونانی اساطیری واقعےسے اخذ کیا گیا ہے؛ جو ایک یونانی قاصد لیجنڈ فیڈیپائڈس کی یاد میں منعقد کی گئی؛ جو 490 قبل مسیح میں ایک لڑائی کےمقام "میراتھن" کے میدان جنگ سے شہر ایتھنز تک بھاگا تھا کہ اپنی قوم کو فتح کا اعلان پہنچا سکے؛ لیکن وہ وہاں پہنچ کر تھکن سے مرگیا تھا؛ لیکن خوشخبری سنا دی تھی۔ جدید دور میں سنہ 1896 کے اولمپکس کھیلوں میں اس دوڑ کی ابتدا اس یونانی لیجنڈ فیڈیپائڈس کی یاد میں باقاعدہ شکل دی گئی۔

ایک "میراتھن ریس" کسی انسان کے لیے ایک اعلیٰ جسمانی عقلی اور نفسیاتی برداشت کے مظاہرے کا ایونٹ ہے، جو عام طور پر شہر کی سڑکوں پر منایا جاتا ہے، جس میں اکثر ہزاروں شرکاء شامل ہوتے ہیں۔ میراتھن میں حصہ لینے والے پیشہ ورانہ اور تفریحی دوڑنے والے خود ارادیت، برداشت، جسمانی اور ذہنی حدود کو چیلنج کرتے ہیں۔ میراتھن ریس انسانی فضیلت کا ایک شاندار مظاہرہ ہوتا ہے، جس میں جسمانی برداشت، ذہنی استقامت، اور سرشاری سے کی گئی تیاری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جہاں ہزاروں لوگ گزرے کل میں خود کی قائم کردہ حد سے آگے بڑھنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، اور یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ "کوئی انسان محدود نہیں ہے"۔

کسی مقصد کے لیے "میراتھن" بھاگنا جسمانی جدوجہد کو ایک بامعنی انسان دوست اور معاشرے کی بہبود کی کوشش میں بدل دیتا ہے۔ اس سے لوگ اکثر اسپانسرشپ یا مخصوص چیریٹی کے لیے چندہ جمع کرتے ہیں یا خیراتی اداروں کے لیے فنڈز اکٹھا کرتے ہیں۔ شرکاء کو انفرادی طور پر اور تنظیموں کے ذریعے انسان کی بھلائی، کینسر کی تحقیق، تعلیم، یا ماحولیات جیسے دیگراسباب میں تبدیلی لانے کا موقع ملتا ہے۔ اگر آپ کسی مقصد کے لیے "میراتھن" میں حصہ لے رہے ہیں، تو آپ کی دوڑ بھاگ ایک اہم ذاتی سنگ میل کو پورا کرتے ہوئے ایک بہتر معاشرتی اور قومی مستقبل میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ اور اگر آپ کسی بھی مرحلے پر مشکل محسوس کررہے ہیں تو بس یاد رکھیں کہ انسانوں کا سمندر آپ کی کامیابی کا منتظر ہے۔

دنیا بھر میں منعقد ہونے والی میراتھن ریس اور لندن میراتھن کو خاص طور پر نہ صرف ایک دوڑ کے طور پر بلکہ انسانی تعلق کے گہرے مظاہرے کے طور پر پہچانا جاتا ہے، جو محبت اور تعریف کی"بائنڈنگ / جوڑ دینے والی قوت" سے چلتی ہے۔ میراتھن کے شرکاء، تماشائی، اور رضاکار اسے کمیونٹی / معاشرے کے جشن کے طور پر بیان کرتے ہیں، جہاں گہری توانائی اور مشترکہ مقصد دسیوں ہزار لوگوں کو متحد کرتا ہے۔ اگر آپ انسانیت پر اعتماد کھو رہے ہیں، تو اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار لندن میراتھن کا ضرور حصہ بنیں۔ وہاں لوگ جن مقاصد کی حمایت اور اسباب کے لیے میراتھن بھاگتے ہیں وہ حیرت انگیز ہوتا ہے۔

تماشائی 26.2 میل کو ایک لمبی دوڑ کو جذباتی تجربے میں تبدیل کرکے، اکثر ناموں کا نعرہ لگاتے ہوئے، حوصلہ افزائی فراہم کرتے ہیں؛ اور مفادِ عامہ میں ایک بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں جو دوڑنے والوں کو مشکل لمحات میں حوصلہ دے جاتا ہے۔ ماحول کو ایک اجتماعی "مجھےچٹکی کاٹو" لمحے کے طور پر بیان کیا گیا ہے؛ جہاں اجنبی ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور دوستی کا احساس محسوس کرتے ہیں، بھاگنے والے کی ذاتی دوڑ کو مشترکہ فتح میں بدل دیتے ہیں۔ وہاں وسیع پیمانے پر باہمی احترام پایا جاتا ہے، شائقین شرکاء کی ہمت کو سراہتے ہیں—کچھ زخمی یا ملبوسات میں دوڑتے ہیں—جب کہ دوڑنے والے گھنٹوں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عوام کی لگن کی تعریف کرتے ہیں۔

بہت سے شرکاء اپنے پیاروں کے اعزاز میں یا خیراتی کاموں کے لیے دوڑتے ہیں، اپنے ذاتی سفر میں تعریف اور محبت کی ایک گہری، جذباتی تہہ شامل کرتے ہیں۔ یہ واقعہ شہر کا ایک "خفیہ ورژن" بناتا ہے، جو زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک مشترکہ، اکثر زندگی بدلنے والے، مقصد کے لیے اکٹھا کرتا ہے۔ "یہ انسانیت کے بارے میں ہے۔ یہ تعلق کے بارے میں ہے،" ایک رنر نے وضاحت کی، اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ کس طرح مشترکہ تجربہ اکثر تیز رفتار وقت حاصل کرنے سے بڑا اور زیادہ معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔

اختتامی کلمات

آج کے جدید دور میں میراتھن دوڑ ایک ذاتی کاوش سے بڑھ کر ایک معاشرتی اور قومی بہبود کا مظہر بن گیا ہے۔ آج میراتھن محض 42.195 کلومیٹر (26.2 میل) کی دوڑ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک کثیر الجہتی معاشرتی، سماجی اور قومی بہبود کی تحریک بن چکی ہے۔ آج میراتھن دوڑ سماجی یکجہتی اور بھائی چارہ کا مظہر ہے؛ جس میں مختلف مذاہب، ثقافتوں، عمروں اور پس منظر کے لوگ ایک ساتھ حصہ لیتے ہیں۔ ایسی تقاریب معاشرے میں اتحاد، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں، جہاں سب کا مقصد ایک ہی فنش لائن تک پہنچنا ہوتا ہے۔ جدید میراتھن میں ماحول کی حفاظت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، جس سے شہریوں میں "گرین" اقدامات اور پائیدار ترقی کے بارے میں آگاہی پیدا ہوتی ہے۔ میراتھن (جیسے لندن، نیویارک، یا لاہور/ اسلام آباد میراتھن) شہر اور ملک کے لیے سیاحت کے فروغ کا باعث بنتی ہے۔ اس سے مقامی ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور سیاحت کی صنعت کو فروغ ملتا ہے، جو قومی معیشت کے لیے مثبت ہوتا ہے۔


جدید دور میں، جہاں طرز زندگی کی بیماریاں عام ہیں، میراتھن لوگوں کو ورزش اور صحت مند طرز زندگی کی طرف راغب کرتی ہے۔ یہ جسمانی فٹنس کے ساتھ ساتھ ذہنی مضبوطی ور نفسیاتی سکون کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ میراتھن دوڑ انسان کے جسمانی حیرت انگیز کارنامے کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ لندن میراتھن دوڑ 2026 میں اس کا شاندار مظاہرہ ہوا؛ جب دو ایٹلیٹس نے دو گھنٹے سے کم وقت میں اس کو ختم کیا۔ یہ وہی جزبہ ہے جسے اوپر علامہ محمد اقبال کے زندہ رود کی بابت بیان کیا گیا ہے۔ اس دوڑ میں "ابنِ آدم" کا سیلِ عجب تقدیر کو بدلنے کی طاقت دکھاتا ہے؛ اور ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں کی تشریح کرتا ہے۔ میراتھن دوڑ ہر خاص و عام انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اپنی جسمانی ساخت کو معمولی مت جانو اور اس پر محنت کرو اور تن درست رہو۔


ایک منظم اور کامیاب میراتھن بین الاقوامی سطح پر ملک کا ایک مثبت، پرامن اور متحرک تشخص پیش کرتی ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ قوم صحت مند اور ترقی پسند ہے۔ دنیا بھر میں میراتھن کا ایک بڑا حصہ چیریٹی / خیراتی کاموں کے فروغ کے لیے مخصوص ہوتا جارہا ہے۔ لاکھوں لوگ کینسر، تعلیم، ماحولیات اور دیگر سماجی مسائل کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کی خاطر دوڑتے ہیں۔ یہ مقصد میراتھن دوڑ کی ذاتی کاوش کو معاشرتی خدمت میں بدل دیتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ، میراتھن اب محض ایک کھیل نہیں، بلکہ ذاتی نظم و ضبطکو قومی اتحاد اور خیر سگالی میں بدلنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ آج میراتھن دوڑ انسان کی فضیلت کا اعلان ہے جہاں ہزاروں افراد اپنی جسمانی حدوں سے بڑھکر زندگی کی خوبصورتی کو ظاہر کرتے ہیں اور " ہو زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا" کی عملی تفسیر بن جاتے ہیں۔ اور خالق و مالک کُل کی نوازش اشرف المخلوقات کو جائز ثابت کرتے ہیں۔


More Posts