Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Fiction is defined as any creative literary or narrative work that portrays imaginary characters, settings, and events. The human history is all about people who struggle in their lives and make the very stage of life meaningful and colourful. This write up "وہ نٹ کھٹ سادہ لوح" is a story based upon the few real life happenings.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
وہ نٹ کھٹ سادہ لوح
وہ سائنسی طور پر ذہین ہے، ذہنی طور پر فطین ہے، اور کچھ حاسدوں کی نظر میں حد درجے کا شاید چالاک ہے۔ مگر میں، جو اس کا ہوسٹل کا روم میٹ تھا، اسے صرف ایک "سادہ لوح مہم جو" کہتا ہوں؛ جس کی زندگی کا واحد مقصد وقتِ موجود سے تیز بھاگنا تھا اور جو پھر اس کی زندگی کا لاحقہ بن گیا۔ وہ زندگی کی دوڑ میں اس رفتار سے دوڑنا چاہتا تھا کہ بعض اوقات خود وقت بھی پیچھے رہ جاتا اور یہ کسی گڑھے میں جا گرتا۔ جہاں جگہ نہ بھی ہو، وہاں اپنی جگہ بنانا اس کا ہنر تھا، مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ ہر محفل اور ہر جگہ گھسنے کا ایک ٹیکس ہوتا ہے، جو اکثر اسے اپنے وقت یا سکون کی صورت میں ادا کرنا پڑتا تھا۔
انہی دنوں کی بات ہے جب کالج میں ایک بہت بڑی تقریب تھی۔ ہمارے ہیرو نے وہاں بھی اپنی "ذہانت" کے جھنڈے گاڑے۔ تقریب ختم ہوئی تو تمام مہمان، اساتذہ اور طلبہ کانفرنس ہال سے ملحقہ کیفے ٹیریا کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ہجوم کافی تھا۔ ہمارا دوست اپنے اسی تیز بھاگنے کے شوق میں سب کو کہنیوں سے راستہ بناتا ہوا آگے نکل گیا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ اس کے دائیں بائیں اس کے لنگوٹیے یار (ہم لوگ) چل رہے ہیں۔ اسی دھن میں، اس نے اپنے برابر میں چلتے ہوئے ایک سوٹڈ بوٹڈ شخص کے بازو میں بڑے تپاک سے اپنا ہاتھ ڈالا، جیسے کوئی پرانا جگری یار ہو، اور نہایت بے تکلفی سے بولا: "اوئے، ٹائم کیا ہوا ہے؟"
دوسری طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ اس نے سر اٹھا کر چہرہ دیکھا تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ کوئی ہوسٹل کا لونڈا نہیں، بلکہ تقریب کے مہمانِ خاص—ایک بہت بڑے سرکاری افسر تھے! افسر صاحب نے عینک کے اوپر سے غصے اور حیرت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اس "سادہ روح" کو دیکھا۔ اس کے بعد اگلے کئی دن ہمارے دوست نے وقت کی الٹی سوئیاں گنتے ہوئے گزارے، کیونکہ وارڈن سے لے کر پرنسپل تک، سبھی اسے "وقت کی اہمیت" اور "تمیز" سکھانے میں مصروف تھے۔ اس سادہ لوح پہ متعدد اساتذہ اور مخلصین نے اپنی جولانی میں اپنی چاہت کی تحریر لکھنے کی کوشش کی؛ مگر ایک بات ہے؛ تھا وہ اپنی ہٹ کا پکا۔ کسی کی کیا مجال جو اس کے لوگ طبیعت یا مزاج پہ کچھ اثر ڈالے۔ کرتا اپنی مرضی تھا۔
جب اس سارے ہنگامے کے بعد ہم ہوسٹل کے کمرے میں واپس پہنچتے، تو وہ بیڈ پر سر پکڑ کر بیٹھ جاتا۔ چہرے پر دنیا بھر کی معصومیت سجا کر مجھ سے پوچھتا: "یار، اس میں میرا کیا قصور تھا؟"
میں اس کی شکل دیکھتا, اپنی ہنسی دباتا اور سنجیدگی سے کہتا: "بھائی، قصور تمہارا نہیں ہے۔ یہ سب تمہارے ہم ذات کا چلایا ہوا چکر ہے! کوئی چلہ کٹواتے ہیں تمہارا، ورنہ یہ ہم ذات تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔" وہ میری بات سن کر سر ہلا دیتا، جیسے اسے واقعی یقین ہو گیا ہو کہ اس کی تیز رفتاری اور آسمان سے اس پر پڑنے والی افتاد کے پیچھے کسی غیبی مخلوق کا ہاتھ ہے۔
ابھی اس واقعے کی راکھ ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی کہ موصوف ایک اور افتاد میں مبتلا ہو گئے؛ ان دنوں شاید اس کے ستارے گردش میں آئے ہوئے تھے۔ موصوف خوب ستارہ شناس تھے؛ کسی بھی محفل کی رونق ستارہ اور مہرالنساء کو پہچان جاتے تھے۔ پہلے واقعے کے چند دنوں کے بعد کالج کے سب سے سینیئر اور غصیلو استاد کے سامنے کسی علمی نکتے پر اڑ گئے۔ اب استاد تو استاد تھے، مگر ہمارے دوست کی "فطانت" جاگ اٹھی۔ اس نے ایسی ضدی اور کج بحثی کی کہ استاد محترم نے کلاس سے باہر کا راستہ دکھا دیا۔ پھر کیا تھا؟ اگلے کئی ہفتے اس سادہ لوح نے استاد کے دفتری چکر کاٹتے، چائے کے کپ پیش کرتے اور ہاتھ جوڑ کر انہیں منانے میں گزارے۔ اس بار بھی جب کمرے میں آ کر اس نے پوچھا کہ "یار میرا کیا قصور تھا؟" تو میں نے بس اتنا ہی کہا: "ارے ظالم؟ تیرا ہم ذات تجھ سے زیادہ ایکٹیو ہے! ایک ورد صبح شام کیجیے: جل تو جلال تو؛ آئی بلا کو ٹال تو، مولا کرم ہو"۔ اس شام دیکھا کہ موصوف نے اگربتیاں جلائی ہوئی تھیں اور دھوم دھام سے ورد ہو رہا تھا۔ کچھ ہی عرصے کے بعد ہم وہاں سے گریجویٹ ہو کے اگلی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔
اس کے متعلق کہانیاں عام ہوتی رہیں۔ وہ عام زندگی میں ایک کامیاب انسان رہا۔
بہت عرصے بعد، اب کل ہی کی بات ہے کہ اس سے متعلق ایک خبر موصول ہوئی ہے۔ برسوں بعد خبر آئی کہ موصوف اپنی اسی تیز رفتاری اور لگن کی بدولت سات سمندر پار، کسی بین الاقوامی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔ میں نے سوچا چلو اب تو دوست بڑا آدمی بن گیا ہے، اب وہ پختہ ہو چکا ہوگا اور اس کا وہ "ہم ذات" بھی پاکستان ہی چھوٹ گیا ہوگا۔ مگر جیسے ہی وہ ایئرپورٹ سے باہر نکلا، نہ جانے کس جلدی میں تھا کہ پاؤں مڑ گیا اور شدید موچ آ گئی۔ دنیا بدل گئی، ملک بدل گیا، مگر ہمارے دوست کی معصومانہ بدقسمتی نہیں بدلی! وہ تقریب میں شرکت کے بجائے ہوٹل کے کمرے میں پٹی باندھے بیٹھا اپنی قسمت کو رو رہا ہوگا۔
یہاں یہ بتانا بھی بہت ضروری ہے کہ وہ ہمارا انجینئرنگ کالج تھا، جہاں ہم شب و روز میکینیکل انجینئرنگ کے پیچیدہ رموز اور پرزوں کو جوڑنے کے طریقے سیکھ رہے تھے۔ اب ظاہر ہے، جہاں میکینیکل کے لونڈے ہوں اور ہوسٹل کی زندگی ہو، وہاں سادگی اور شرارت کا جوڑ بھی ہائیڈرولک پریشر کی طرح تیز ہوتا ہے۔ اب اس کی یہ دور پار کی خبر سنانے والا بھی ہمارا ایک پرانا سنگی ساتھی ہے اور بھلا ایک کٹر راجپوت یار کو اور کیا نام دیا جائے! اس راجپوت سنگھی نے بڑے فخر سے مجھے فون پر بتایا کہ "ظالم اسی مضروب حالت میں، زخمی پاؤں پر پلاسٹر باندھے کانفرنس میں اپنا ریسرچ پیپر بھی پڑھ آیا ہے!"
میں نے حیرت سے پوچھا، "وہ کیسے؟ پاؤں تو موچ سے سوجا ہوا تھا؟"
تو وہ کھلکھلا کر کہنے لگا، "او یار! اپنی میکینیکل انجینئرنگ کس دن کام آئے گی؟ اسٹینڈ بائی تیسری ٹانگ کس دن کام آنی تھی!"
اب آپ کو یہ تیسری 'اسٹینڈ بائی ٹانگ' کیسے سمجھاؤں؟ ایک میکینیکل انجینئر ہی سمجھ سکتا ہے کہ مصیبت کے وقت بیساکھی کو کتنا شاندار اور تکنیکی نام دیا گیا ہے۔ خیر، اس کل کے حادثے کا علم ہونے پر ہمارے ایک اور مخلص دوست نے سر پکڑ کر بڑا حکیمانہ مشورہ دیا، کہنے لگا: "بھائی صاحب! اس کا ہم ذات کوئی عام مخلوق نہیں ہے۔ اسے اگلی بار کسی بھی سفر پر روانہ کرنے سے پہلے پورے ہوسٹل کی طرف سے کچھ تگڑا سا صدقہ دیا کرو، ورنہ یہ اگلی بار کسی اور ملک کی سرحد پر اپنی دوسری ٹانگ بھی پھنسا آئے گا!"
اب جبکہ ہماری اس ہوسٹل کی زندگی اور اس ہم ذات کے قصے کو تقریباً چار دہائیاں گزرنے والی ہیں، تو مجھے انگریزی ادب کا مشہور انشائیہ نگار چارلس لیمب یاد آتا ہے۔ لیمب نے اپنے لازوال مضامین میں پرانے دوستوں کی معصوم حماقتوں اور ماضی کی خوبصورت یادوں کو جس شگفتگی اور دردمندانہ لمس کے ساتھ امر کیا ہے، میرا یہ دوست بھی اسی عہد کا کوئی کردار لگتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ لیمب کے کردار کتابوں میں رہ گئے اور میرا یہ دوست آج بھی دنیا کے کسی کونے میں اپنی ٹانگ پھنسائے کھڑا ہے۔
میں اب اسے فون کروں گا تو یہ شعر ضرور سناؤں گا:-.
تھا مدوجزر اب تو اتر جانا چاہیۓ
اس عمر میں تو یار سدھر جانا چاہیۓ
پھر ہنستے ہوئے کہوں گا: "یار، بس اب تھوڑا صبر کرلے۔ دو تین سال کی اور بات ہے۔ جیسے ہی اس بات کو پورے چالیس سال ہو جائیں گے، یہ ہم ذات کا مسئلہ خود ہی حل ہو جائے گا، کیونکہ ہم ذات بھی اب بوڑھا ہو چکا ہوگا اور شاید اب اسے بھی سدھر جانا چاہیے!"
مگر سچی بات یہ ہے کہ لیمب کے برعکس مجھے اب ایک اور ماورائی ڈر بھی ہے... اگر یہ معاملہ کسی ہم ذات کا نہ ہوا، بلکہ کسی پکی بدروح یا ڈائن کا نکلا، تو پھر ہم کیا کریں گے؟ وہ تو بوڑھی ہو کر اور خطرناک ہو جائے گی! سچ تو یہ ہے، وہ چالاک نہیں، ایک سچا اور سادہ روح ہے، جس کے ستارے اکثر اس کے اپنے جوش اور اس کے اسی "ہم ذات" کی وجہ سے گردش میں رہتے ہیں۔
معزز قارئین! اب آپ ہی کوئی حل بتائیے کہ ہم کیا کریں کہ ہمارے اس پیارے اور سادہ لوح دوست کی ٹانگ دوبارہ زندگی میں کبھی، کہیں غلطی سے بھی نہ پھنسے؟