"وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے"
George Gordon Byron, 6th Baron Byron (22 January 1788 – 19 April 1824), was an English poet. He is one of the major figures of the Romantic movement, and is regarded as being among the greatest British poets. "She Walks in Beauty" is one of his famous work- a short lyrical poem, written in 1814. This write up in Urdu, "وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے" describes personality traits of elegance, grace and dignity as reflections of inner beauty, the eloquence of spiritual being.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے" لارڈ بائرن کی نظم"
جارج گورڈن بائرن، نواب بائرن خاندان کی چھٹا پیڑھی سے تھا؛ اور ایک انگریز شاعر تھے۔ وہ رومانوی تحریک کی بڑی شخصیات میں سے ایک ہیں، اور ان کا شمار برطانیہ کے عظیم شاعروں میں ہوتا ہے۔ "وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے" ان کی مشہور نظموں میں سے ایک ہے۔ "وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے" ایک مختصر گیت کی نظم ہے، جسے لارڈ بائرن نے 1814 میں لکھا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نظم بائرن کی زندگی کے ایک واقعہ سے متاثر کن ہونے کا نتیجہ تھا۔ 11 جون 1814 کو بائرن نے لندن میں ایک پارٹی میں شرکت کی۔ مہمانوں میں بائرن کے فرسٹ کزن سر رابرٹ ولموٹ کی اہلیہ مسز این بیٹرکس ولموٹ بھی تھیں۔ بائرن اس موقع پر اس خاتون کی غیر معمولی خوبصورتی سے متاثر ہوا، اور اگلی صبح نظم لکھی گئی۔
وہ کیسے ہی چلیں تھم تھم قیامت آ ہی جاتی ہے
بچے کوئی کسی ڈھب سے پہ شامت آ ہی جاتی ہے
قلق میرٹھی
لارڈ بائرن کی نظم، "وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے"؛ ایک عورت کی خوبصورتی کے جوہر کو جذباتی انداز میں ایک الفاظ کی مالا میں عکس کھینچتی ہے۔ تین چھ سطری بندوں پر مشتمل یہ نظم عورت کے جسمانی خدوخال کے مخصوص تفصیلات کے بغیر بیان کرنےکی وجہ سے نمایاں ہے۔ بائرن نے پوری نظم میں صرف اس عنصر کا ذکر کیا کہ اس کے بال کالے ہیں۔ (یہ اس بات کا مظہر ہے کہ اس زمانے میں کسی تعزیتی محفل میں خاتون مناسب لباس میں آتی تھیں)۔ چنانچہ عورت کی جسمانی خد و خال کے بجائے، وہ اس کی خوبصورتی اور ایک پر سکون، ستاروں سے بھری رات کے درمیان موازنہ کرتا ہے۔ بائرن یہ اخز کرتا ہے کہ اس کا شخصی تمکنت یا شان روشنی اور اندھیرے کا ہم آہنگ امتزاج ہے۔ شاعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کی باطنی خوبصورتی، جو پر سکون خیالات اور نیک اعمال کی خصوصیت ہوتی ہے، اس کی ظاہری دلکشی میں نمایاں ہوکر اُبھرتا ہے۔
مجھے راحلؔ، تعجب کیوں ہو اس کی وضع داری پر
"خدا جب حسن دیتا ہے، نزاکت آ ہی جاتی ہے"
محمد احسن سمیع راحلؔ
بائرن کی نظم میں ایک عورت کی تصویر کشی متحرک ہے۔ اس نے یہاں مثالی خوبصورتی کو جامد فطرت کے برعکس چلنے، نقل و حرکت اور تبدیلی کا چلن اختیار کرتے ہوئے دکھایا ہے۔ مجموعی طور پر، "وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے" اندرونی اور بیرونی خوبصورتی کے درمیان تعامل کا جشن مناتے ہوئے تمکنت و شان اور کردار کی خوبی کے نظریات پر مراقبہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ بائرن کی طرف سے بیان کردہ خوبصورتی بھی ایک فرد کی ظاہری خوبصورتی سے متعلق ہے؛ کہ جیسے وہ 'مجسم حسن کو' چلتے ہوئے دیکھتا ہے، اور 'خالص'، 'تاریکی میں'، 'معصوم'، 'چمکدار روشن' اور 'سکون' جیسی صفتوں میں لپٹا ہوا پاتا ہے۔
اگرچہ بائرن کی نظم "وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے" بنیادی طور پرجسمانی خوبصورتی؛ (جوصرف کھلا چہرہ ہی تھا) پر توجہ مرکوز کرتا ہے؛ مگر یہ اندرونی خوبصورتی اور بیرونی خوبصورتی کے درمیان تعلق کو بھی تلاش کرتی ہے۔ یہ حسن وعشق کے تصورات کو قریب سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ درحقیقت، عورت کی ظاہری شکل کو اس کے اندرونی سکون، اطمینان اور معصومیت کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ عورت کی خوبصورتی جو شاعر نے بیان کی ہے وہ اس کی ظاہری صورت اور باطنی خوبی دونوں مدغم ہیں۔ اگرچہ اس نظم کو عام طور پر محبت کی نظم کی درجہ بندی میں شامل کیا جا سکتا ہے، لیکن شاعر حقیقت میں کبھی بھی اس محبت کا اعلان نہیں کرتا۔ وہ نظم کے موضوع اپنے ممدوح کی دلکش کشش اور پاکیزگی پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ نظم کہتی ہے کہ وہ "خوبصورتی میں" چلتی ہے، یعنی ایک سندر سپلتا اسے گھیرے رکھتی ہے؛ اسے شاندار ہیولہ عطا کرتی ہے؛ جیسے وہ مجسم حسن ہے۔ اس نظم میں، شاعر کا بنیادی موضوع حسن ہے، جہاں وہ ایک ایسی عورت کی تعریف کرتا ہے، کہ جیسے وہ بے عیب ہے؛ ایک مکمل سندرتا۔
خدا بھی زندگی دیتا ہے بس اک رات کی ہم کو
اسی اک رات میں لیکن خدا کیا کیا دکھاتا ہے
تیمور حسن
نظم "وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے" ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خوبصورتی ہمارے اردگرد ہر چیز میں موجود ہے، فطرت سے لے کر انسانی اعمال تک، اور اسے نظر، آواز اور احساسات کے ذریعے محسوس کیا جاتا ہے۔یہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ خوبصورتی صرف بیرونی نہیں بلکہ اندرونی بھی ہے ( یعنی ظاہر اور باطن)؛ جو اچھے اعمال اور خوش کن خیالات میں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح نظم "وہ خوبصورتی میں چلتی ہے" ایک پیغام دے رہی ہے کہ تمام انسانوں کو باطنی اور ظاہری خوبصورتی کو ساتھ لےکر جانا چاہیے، جو زندگی میں بامعنی مصروفیات کے لیے ضروری ہے۔ بائرن اندرونی خوبصورتی کو پاکیزگی اور معصومیت سے بھی منسوب کرتا ہے۔ اس لیے صحت مند پُرمحبت رشتوں کے لیے (جو ازدواجی زندگی کا اصل مطلوبہ مقصد ہونا چاہیے) ہر انسان کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے میں باطنی خوبصورتی تلاش کرے، جو انسان کی ظاہری جسمانی شکل سے ظاہر ہو۔ ظاہری شکل صرف جسم اور چہرہ ہی نہیں بلکہ ذاتی کردار اور خصلتوں، خوبیوں اور اخلاقیات سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
لارڈ بائرن کی لکھی ہوئی نظم "شی واکس ان بیوٹی" / "وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے" کا موضوع وہ خاتون ہیں جن کے لیے یہ نظم لکھی گئی تھی۔ لارڈ برائن نے یہ نظم یقینا" ایک ایسی عورت کے لیے لکھا جس کے ساتھ اسے محبت تھی؛ اور اس کی خوبصورتی نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی بھی تھی۔ تاہم، شاعر نے اپنے خیالات کو نظم کی صورت میں شائع بھی کیا؛ چنانچہ نطم "وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے" آنے والے وقتوں کے تمام انسانوں کے لیے ایک پیغام بھی رکھتی ہے۔ جو خوبصورتی، تمکنت و شان ؛ عزت و وقار؛ الغرض حسن کی شخصیت کی خصوصیات اور اندرونی خوبی معہ روحانی وجود کی فصاحت سے عکاسی کرتی ہے۔
وہ میری فکر تغزل میں ڈھال دیتا ہے
مرا خدا مجھے نازک خیال دیتا ہے
نلنی وبھا نازلی
"شی واکس ان بیوٹی" / "وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے"
حسب ذیل نظم قارئین کے لیے شئیر کی جا رہی ہے تاکہ وہ اس خوبصورت نظم کی شاعرانہ حسن سے لطف اندوز ہوں۔
لارڈ بائرن کی نظم "شی واکس ان بیوٹی" / "وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے"۔
وہ حسنِ مجسم چلتی ہوئی وارد ہوئی؛ جیسے رات؛
بادلوں کے بغیر، تاروں سے بھرے آسمانوں میں داخل ہوتی ہے؛
اور اس طرح کہ سب تاریکیوں میں ایک تنہا روشنی؛
اس کے جلو میں، اس کی آنکھوں کی چمک؛
اس طرح جیسے کومل روشنی سے آنکھ جھپک جائے۔
جس سے روشن دن بھی ماند پڑجائے۔
ایک سایہ زیادہ نہیں، ایک کرن کم نہیں؛
ملبوس میں لپٹےادھورے پن سے حسن ماند نہ ہوا؛
اس کے کالے بال اس کے وجود کا طواف کریں؛
یا نرمی سے اس کے چہرے پر لہرائیں؛
وہ چہرہ، جہاں خیالات کا میٹھا پن جھلکتا ہے۔
کتنا پاکیزہ؛ کتنا حسن آور مسکن ہے۔
اور اس گال پر، اور اس پیشانی پر؛
اتنا نرم، اتنا پرسکون، پھر بھی کتنا فصیح پرور؛
وہ مسکراہٹیں جو جیت جاتی ہیں، وہ چتون جو روشن ہے؛
نیکی میں بسر کئے دنوں کا اظہار ہیں؛
ایک پرسکون ذہن؛ جو تابع ہے؛
اس دل کا؛ جس میں معصوم پریم بستا ہے۔