This story "ناریل کا شرف اور پروانے کا رقصِ مستانہ" captures the transformative ideological journey of Generation Z from older generation, as they confront the historic mindset of mental and colonial servitude inherited from previous generations. Drawing upon Allama Iqbal’s epic poems Shikwa and Jawab-e-Shikwa, it contrasts past complacency and western infatuation with today's digital and geopolitical equalizer. Ultimately, the story "ناریل کا شرف اور پروانے کا رقصِ مستانہ" serves as a clarion call for contemporary Muslim youth to break free from the shackles of material dependency, awaken their Khudi (selfhood), and pioneer a modern intellectual revolution that reaches far beyond the stars.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
ناریل کا شرف اور پروانے کا رقصِ مستانہ
(ایک فکری و تمثیلی مکالمہ)
رات کے آخری پہر کی خاموشی ہر طرف طاری تھی۔ دسویں منزل کے اپارٹمنٹ کے ایک کمرے میں ٹیبل لیمپ کی مدہم روشنی پھیل رہی تھی۔ زید، جو جنریشن زی (جن زی) کا ایک پُرعزم نوجوان تھا، اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا تھا، جس پر علامہ اقبال کے فلسفے پر ایک طویل مضمون کا ادھورا مسودہ کھلا ہوا تھا۔ رات کافی بیت چکی تھی، اور مضمون کو مربوط کرنے میں زید کو سخت محنت اور مشکل کا سامنا تھا۔ اقبال کہنے کو تو پاکستان کے قومی شاعر اور مصورِ پاکستان ہیں مگر اب ان کو تعلیمی اداروں میں زیادہ پڑھایا نہیں جاتا؛ چنانچہ آج کے نوجوانوں کے لیے اقبال کے گہرے افکار کو سمجھنا بے حد مشکل ہو گیا ہے۔
وہ کبھی سکرین کو دیکھتا، کبھی کتابوں کے صفحات پلٹتا اور کبھی کمرے کی بالکونی سے باہر آسمان پر چمکتے ہوئے ثریا (ستاروں کا جھرمٹ) ستاروں کے جھرمٹ کو تکنے لگتا؛ کہ شاید یہ ستارے اس سے کچھ مکالمہ کر لیں اور اس کا مخمصہ ختم ہو جائے۔
اسی تگ و دو میں گھر کے کلاک نے صبح کے چار بجنے کا اعلان کیا۔ تہجد کا وقت ہو گیا تھا کہ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا۔ زید کے دادا، میر زمان، جو عشاء پڑھ کر سو جایا کرتے تھے، اب اپنے معمول کے مطابق تہجد اور فجر کے لیے بیدار ہو چکے تھے۔ سفید ململ کے کرتے میں ملبوس، نورانی چہرے والے دادا جان نے جب اپنے پوتے کو اس وقت پریشان بیٹھا دیکھا، تو مسکرا کر قریب آ گئے۔
زید کے لیے یہ ایک غنیمت کا لمحہ تھا۔ اس نے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا، دادا جان کا ہاتھ تھام کر انہیں اپنے ساتھ صوفے پر بٹھایا اور اپنی ذہنی الجھنوں کے سوالات ایک ساتھ داغ دیے:۔۔۔۔
"دادا جان! میں اقبال کے اس شعر پر کام کر رہا ہوں اور میں اب ایک مقام پر آ کر بالکل اٹک سا گیا ہوں؛ پہلے آپ یہ شعر سن لیں:۔۔۔
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا!۔۔
میں مضمون میں اس کڑی پہ اٹکا ہوا ہوں کہ آخر ہمارے اسلاف کے پاس وہ کون سی میراث تھی جسے گنواتے ہی ہم ثریا کی بلندیوں سے سیدھے زمین کی پستیوں میں آ گرے؟ اور اقبال کی دوسری نظم 'اذان' کے مطابق، ان ستاروں کو مسلمانوں پر یوں ہنسنے اور طعنے دینے کی جرات کیسے ہوئی؟"
یہاں زید لیپ ٹاپ کی سکرین سے نظم "اذان" کے وہ اشعار پڑھتا ہے جن پر مریخ اور زہرہ انسان کا مذاق اڑاتے ہیں:۔۔۔
اک رات ستاروں سے کہا نجمِ سحَر نے
آدم کو بھی دیکھا ہے کسی نے کبھی بیدار؟
کہنے لگا مرّیخ، ادا فہم ہے تقدیر
ہے نیند ہی اس چھوٹے سے فتنے کو سزاوار
زُہرہ نے کہا، اور کوئی بات نہیں کیا؟
اس کرمکِ شب کور سے کیا ہم کو سروکار!۔۔
دادا جان نے ایک گہرا سانس لیا، زید کو اپنے مقابل کیا اور بولے، "بیٹا! اقبال کی یہ نظم ہندوستان کے دورِ غلامی کا بیان ہے اور اقبال بزبانِ ستارے اس دور کے مسلمان کی حالت پر ہنس رہے تھے، کیونکہ وہ میراث جو ہم نے گنوائی تھی، وہ علم، عمل، اخوت اور 'خودی' کی میراث تھی۔ وہ میراث سرکارِ کائنات آقا محمد ﷺ کا قائم کردہ ریاستِ مدینہ تھا اور وہ زریں اصول تھے جن پہ ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عمل کر کے دکھایا تھا اور دنیا نے خلفائے راشدین کے دور میں اس کا نظارہ کیا تھا۔۔
"حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت کے بعد ملوکیت در آئی مگر دین ایک مضبوط ستون کی مانند عقل و خرد والوں کی رہنمائی کرتا رہا اور دارالحکمہ بغداد اور غرناطہ اسپین میں علم و فن کا معراج دیکھا۔ آج کی دنیا میں مسلسل تحقیق سے عرب ملوکیت کے دوران کی جانے والی ترقی اور انسانی بہبود کے کارہائے نمایاں کتب کی حالت میں لکھے جا رہے ہیں۔ اب چاہے فلسفہ ہو، سائنس اور طبیعیات ہو، ادب ہو یا عمرانیات، کیسا کیسا معرکۃ الآراء کام کیا ہے مسلم حکمرانی کے سنہرے دور میں!"۔۔
"لیکن پھر ملوکیت نے تباہی پھیر دی؛ اور ہلاکو خان نے بغداد تباہ کر دیا، کتابیں جلا دیں یا دریا برد کر دیں، اور اسپین فرڈیننڈ اور ازابیلا کے ہاتھوں نیست و نابود ہو گیا۔ لیکن ان ہی جگہوں سے یورپ کو روشنی ملی اور انہوں نے خوب ترقی کی، مگر یورپ نے جو نہیں سیکھا وہ انسانیت تھی، اور کچھ طاقتور ممالک ایشیاء اور افریقہ پہ چڑھ دوڑے۔"۔۔۔۔
"نوآبادیاتی غلامی کی کہانی آج سے تقریباً ڈھائی تین سو سال پہلے شروع ہوئی تھی۔ یورپی اقوام نے کسی اچانک حادثے کی وجہ سے ایشیاء اور افریقہ پر یلغار نہیں کی تھی، بلکہ یہ ایک خوب سوچا سمجھا اور منظم منصوبہ تھا۔ اب ملک چاہے برطانیہ تھا یا فرانس، دونوں نے اپنے مفتوحہ علاقوں میں خوب لوٹ مار مچائی۔ اب تو عالمی سطح پر کئی ایسی کتابیں گہری تحقیق کے ساتھ لکھی جا چکی ہیں جو اس نوآبادیاتی لوٹ مار کو کوئی اتفاقی واقعہ نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ، سوچا سمجھا اور معاشی منصوبہ ثابت کرتی ہیں۔ ان کے پاس بندوق اور بارود کی مادی طاقت تھی، اور ان کے ہاتھوں میں ریل، گاڑیاں اور بجلی کے بلب جیسے تازہ سائنسی معجزات تھے۔ ہمارے آباء، جو کبھی دنیا کے امام تھے، عرب ملوکیت کے سائے تلے تن آسانی اور دنیا پرستی کے عادی ہو چکے تھے۔ وہ ان مادی معجزات کی شعبدہ بازی سے ایسے مرعوب ہوئے کہ اپنی آفاقی روحانی اور فکری اساس ہی بھول بیٹھتے۔ فرنگی نے ان کو طعنہ دیا کہ تمہارا نظامِ زندگی دقیانوسی ہے، اور وہ اس طعنے کے رعب تلے دب کر ثریا سے زمین پر آ گرے"۔۔۔
زید نے حیرت سے پوچھا، "لیکن دادا جان! اسلام کے پاس تو دنیا کا سب سے روشن نظامِ زندگی تھا۔ پھر وہ اس فرنگی جادو کے سامنے ذہنی طور پر کیسے ڈھیر ہو گئے؟"
"بیٹا اقبال نے کہا ہے کہ:۔۔۔
فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف!۔۔
ہم مسلمان بحیثیت قوم عیاش ہو گئے، تن آسان ہو گئے۔ ہمیں دنیاوی لذتیں اچھی لگنے لگیں اور وہ بھی بغیر کسی محنت کے ملنے کی تڑپ کے ساتھ دو آتشہ تھی۔ تقریباً ساری اسلامی دنیا دورِ غلامی میں ڈوب گئی"۔۔۔
میر زمان نے سمجھاتے ہوئے کہا، "یہی تو اصل ظلم تھا، جس کا ذکر امل چترجی نے اپنی کتاب "پریزنرز آف ایمپائر" میں کیا ہے ۔ فرنگی نے ہمیں صرف مادی طور پر غلام نہیں بنایا، بلکہ عام مسلمان کو حقیقی علم سے دور کر کے اس پر انگریزی زبان جبراً نافذ کر دی تاکہ وہ اپنی فکری اساس ہی بھول جائے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم اپنی جڑوں سے کٹ گئے۔ ذہنی محکومیت کا یہ کمال دیکھو کہ جب ۱۸۵۷ء میں ہمارے لوگوں نے اپنی ہی زمین پر غاصب کے خلاف جنگ لڑی، تو سرسید احمد خان جیسے جید نابغہ روزگار کو اپنی کتاب کا عنوان 'اسبابِ بغاوتِ ہند' رکھنا پڑا۔ یعنی اپنیزمیں پہ خود اپنی آزادی کی لڑائی کو بھی ہم نے اپنے آقا کی زبان میں 'بغاوت' تسلیم کر لیا۔ ہم نے رگوں میں غلامی اتار لی تھی"۔۔۔
اس گہری ذلت میں گھری قوم کی حالت زار دیکھ کر اقبال نے تڑپ کر شکوہ لکھا تھا!" زید کی آنکھوں میں چمک ابھری، "انہوں نے خدا کے سامنے مسلمانوں کے شاندار ماضی کا مقدمہ لڑا کہ 'دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں'، مگر جواب میں اللہ نے انہیں وہی طعنہ دیا کہ 'تھے تو آباء وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو؟'"۔۔۔
"بالکل بیٹا!" دادا جان نے اثبات میں سر ہلایا، "اقبال نے اپنی نظموں کے ذریعے اس ذہنی غلامی سے نجات دلانے کی انقلابی کوشش کی اور اس خوابیدہ قوم کو جھنجھوڑ کر بیدار کیا [شکوہ، جواب شکوہ]۔ اسی فکری تحریک کے نتیجے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت ملی اور برصغیر کے مسلمانوں نے مادی و ذہنی زنجیروں کو توڑ کر دنیا کے نقشے پر 'پاکستان' کا حصول ممکن بنا لیا۔ لیکن المیہ دیکھو! آزادی کے بعد یہ ملک ان حکمرانوں کے ہاتھ آ گیا جو ناریل پھل کی طرح تھے۔"۔۔۔
"ناریل پھل؟" زید نے ماتھا سکیڑتے ہوئے پوچھا۔
"ہاں بیٹا! امل چترجی کے اسی فلسفے کے مطابق، وہ ناریل کی طرح باہر سے تو دیسی اور علاقائی رنگ کے تھے، لیکن ان کے اندر سے اپنے پرانے مغربی آقاؤں کی ذہنی غلامی کا سفید رنگ نکلتا تھا۔ ان 'براؤن صاحبوں' نے آزاد ریاست کو نوآبادیاتی غلامی کی ریت پر چلایا ۔ جس قوم کا تخیل اوجِ ثریا اور ستاروں کی گزرگاہوں سے بھی آگے جانا تھا، اسے ان گدھوں نے 'روٹی، کپڑا، مکان' اور وقتی 'شارٹ سپورٹ پروگرامز' کے فرسودہ سیاسی نعروں کے تحت محض سانس لینے پر مجبور کر دیا اور ان کی خودی کو معاشی محتاجی کی زنجیروں میں جکڑ دیا"۔۔۔
"اور یاد رکھو بیٹا، یہ غداری اور غلامی کا معاملہ صرف ہندوستان میں نہیں ہوا؛ تقریباً سارا عالمِ اسلام ہی اسی نوآبادیاتی غلامی میں جکڑا گیا تھا۔ کہیں نام نہاد اور کھوکھلی جمہوریت لائی گئی اور کہیں بادشاہتیں فرنگی کے اشاروں پر غلام بنا کر رکھی گئیں۔ ہر مفتوحہ مسلم خطے میں ایک خاص کٹھ پتلی 'حکمران اشرافیہ' کو ترتیب دیا گیا، اور یہ ایلیٹ طبقہ مادی فائدوں کے عوض فرنگیوں کا وفادار غلام بن گیا اور اپنے ہی دیسی انسانوں پر ظالم حاکم بن کر مسلط ہو گیا۔ یہ ظلم اور بربریت کا ایک ایسا نیا نظام تھا جو محکوم قوم کو مستقل فرنگی کی غلامی پر آمادہ رکھتا، اور غلامی سے نجات کا واحد راستہ ان کے آقا اپنے ہی رنگ اور تہذیب میں رنگنا قرار دیتے تھے"۔۔۔
میر زمان صاحب نے ایک لمبی سرد آہ بھری، ان کے چہرے پر جھریوں کی لکیریں گہری ہو گئیں اور وہ بولے، "بیٹا! میری تو ساری عمر ان 'براؤن صاحب ناریلوں' کے فرسودہ نظام اور فکری غلامی سے لڑتے لڑتے گزر گئی ہے"۔۔۔۔۔
زید نے صوفے پر پہلو بدلا اور اپنے بزرگ دادا کا ہاتھ مضبوطی سے تھامتے ہوئے کہا، "دادا جان! آپ کی باتیں سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ 'روٹی، کپڑا، مکان' کے مادی نعروں اور ان 'براؤن صاحبوں' کی غلامانہ ذہنی روش نے ہماری نسلوں کو پسماندگی کی دلدل سے نکلنے ہی نہ دیا۔ جن زی (جن زی) جب تاریخ کی ان تہوں کو الٹتی ہے، تو وہ یہ جان کر حیران ہوتی ہے کہ ہمارے آباء کیسے اسلام کے زریں اصولوں کی موجودگی میں انگریزی شعبدہ بازی سے گمراہ ہو گئے۔ کیا انہوں نے مکھی اور پروانے کی تمثیلی کہانی نہیں پڑھی تھی؟ آج یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے ہمارے آباء دراصل اپنے نفس کی غلامی میں گرفتار تھے۔ انہوں نے پروانے کے عشق کے اس اعلٰی مقام اور باطل کو جلا دینے والی تڑپ کو اپنانے کے بجائے، ایک مکھی کی طرح مادی دنیا کے حصول اور عیش و عشرت والی گندگی کے ڈھیر پر بیٹھنے کو ترجیح دی۔ وہ نورِ الٰہی کے گرد طواف کرنے والے پروانے نہ بن سکے، بلکہ فرنگی نظام کی باطل رعنائیوں کے اسیر ہو گئے"۔۔۔
زید نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "دادا جان خوش قسمتی سے، اس دورِ حاضر میں اب مغرب اور مشرقی اقوام کے درمیان وہ مادی اور سائنسی فرق نہیں رہا جو دو تین سو سال پہلے پایا جاتا تھا، اور مغربی قوموں کا مادی تسلط اب واضح طور پر کمزور پڑ گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ اب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دور ہے اور اس جدید ٹیکنالوجی کی بدولت پچھلے زمانے کے پسماندہ سمجھے جانے والے "تیسری دنیا کے ممالک" بھی اب بہت آگے نکل گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان اس ذہنی غلامی کا شکار نہیں رہا ہے جس کا شکار اس کے آباء تھے؛ آج کا نوجوان دنیا کے سامنے بالکل برابری کی سطح پر مقابلہ کر سکتا ہے اور اب انگریزی زبان قابلیت کا معیار نہیں رہا ہے؛ مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے ان کی زبان دانی کی سب قلعیاں بہا دی ہیں۔ اب تیسری دنیا کا نوجوان بھی اپنی علمی اور تکنیکی صلاحیتوں کے بل بوتے پر برابری کی سطح پر دنیا کا مقابلہ کر رہا ہے۔ ہمیں اب کوئی احساسِ کمتری میں مبتلا کر کے ہماری انگریزی فہم میں کمی اور تیسری دنیا کا طعنہ نہیں دے سکتا!۔۔
دادا جان نے فخر سے اپنے پوتے کی طرف دیکھا، جس کی آنکھوں میں علامہ اقبال کی نظم 'اذان' کے اس چاند (مہِ کامل) جیسی روشنی تھی جو ستاروں کے سامنے انسان کی عظمت اور باطنی تجلی کا دفاع کرتا ہے۔ دادا جان کا چہرہ ایک پُرعزم مسکراہٹ سے جگمگا اٹھا، انہوں نے زید کے ماتھے کو چوما اور انتہائی رقت آمیز جذباتی لہجے میں کہا:۔۔۔
"بیٹا! اقبال نے تو وہ فکری خواب دیکھ کر ہمیں جگایا تھا جسے ہم براؤن صاحبوں کی سازشوں کی وجہ سے پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا پائے، مگر آج تمہاری آنکھوں کا عزم دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جو کام ہم نہ کر سکے، وہ آپ بچے یعنی گندگی کے جن زی کر لو گے!"۔۔۔
میر زمان صاحب نے فجر کی روشنی کے سائے میں نم آلود آنکھوں کے ساتھ ہاتھ اٹھائے اور علامہ اقبال کی یہ لازوال مناجات پڑھنے لگے:۔۔۔
جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے!۔۔
زید نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے، اپنے لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کیا اور عزمِ نو سے لبریز لہجے میں اپنے مضمون کی آخری اور حتمی سطریں پڑھیں: "دادا جان! ہمیں اپنے رب سے کوئی شکوہ نہیں، کیونکہ اس نے اپنی کتاب میں لکھ دیا تھا کہ وہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود کو نہ بدلے۔ آج کا مسلم نوجوان اس تاریخی حقیقت کو پا چکا ہے کہ کائنات کا نظام سائنسی چمک دمک سے مرعوب ہونے یا پر شکوہ ماضی کے شکوے کرنے سے نہیں، بلکہ عمل اور خودی کو بیدار کرنے سے بدلتا ہے۔ جو فکری، سیاسی اور ذہنی مغلوبیت ہمارے بزرگ اپنے دور میں مکمل طور پر ختم نہ کر پائے، وہ طوق اب یہ نئی نسل اتار پھینک چکی ہے۔ یہ نسل جان چکی ہے کہ ماضی کی داستانوں پر فخر کر کے وقت ضائع کرنے کے بجائے، اپنی آنکھوں پر عیاں ہو کر، خودی کے راز داں بنیں گے اور اس زمین پر ایسا علمی اور فکری انقلاب لائیں گے جہاں انسان کا سر صرف اپنے رب کے سامنے جھکے گا، کسی فرنگی نظام یا مادی طاقت کے سامنے نہیں۔ عروجِ آدمِ خاکی کا اصل سفر تو ان ستاروں کی گزرگاہوں اور اوجِ ثریا سے بھی کہیں آگے بلند اور لامتناہی ہے، اور جو آباء نہ کر پائے، وہ اب ہم کریں گے!" ۔۔۔
پھر دادا جان نے اپنے پوتے کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کہا کہ "میرے بیٹے؛ یہ بات ذرا غور سے سنو اور اپنے ذہن و دل میں راسخ کرلو۔۔ اور اس بات کو بہت خوبصورتی سے افتخار عارف نے قلم زد کیا ہے۔۔ انہوں نے ایک غزل میں کہا ہے کہ:۔۔۔
میانِ عرصۂ موت و حیات رقص میں ہے
اکیلا میں نہیں، کْل کائنات رقص میں ہے
ہر ایک ذرہ، ہر اِک پارۂ زمین و زمان
کِسی کے حکم پہ، دن ہو کہ رات، رقص میں ہے
اتاقِ کنگرۂ عرش کے چراغ کی لَو
کِسی گلی کے فقیروں کے ساتھ رقص میں ہے
سَنائیؔ ہوں کہ وہ عطارؔ ہوں کہ رومیؔ ہوں
ہر اِک مقام پہ اِک خوش صفات رقص میں ہے
یہ جذب و شوق، یہ وارفتگی، یہ وجد و وفور
میں رقص میں ہوں کہ کل کائنات رقص میں ہے
کِسے مجال کہ جنبش کرے رضا کے بغیر
جو رقص میں ہے، اجازت کے ساتھ رقص میں ہے
میں اپنے شمس کی آمد کا منتظر تھا، سو اب
مرے وجود میں رومیؔ کی ذات رقص میں ہے
وہ قونیہ ہو کہ بغداد ہو کہ سیہون ہو
زمین اپنے سِتاروں کے ساتھ رقص میں ہے
اس غزل کا فلسفیانہ نچوڑ یہ ہے کہ جب انسان کائناتی سچائی اور اپنے حقیقی مرکز (خودی) کو پا لیتا ہے، تو کائنات کی کوئی بھی مادی طاقت یا فرسودہ نظام اس کا راستہ نہیں روک سکتا۔ کائنات کا ذرہ ذرہ، چاند ستاروں سے لے کر عرش کے چراغ کی لو تک، اور بغداد سے لے کر قونیہ کی زمین تک، سب اس الٰہی نظام اور اذنِ ربانی کے تحت ایک ابدی وجودی رقص میں مصروف ہیں۔ یہ رقص دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ جب ایک مومن انسان عشقِ الٰہی اور جذب و شوق کی وارفتگی میں آ کر اپنے حقیقی منصب (خلافت) کو پہچانتا ہے، تو مابعد الطبیعیات سے لے کر مادی دنیا تک، ساری کائنات اس کے اس پاکیزہ سفر کی تائید میں رقص کناں ہو جاتی ہے۔
یکایک فضا مسجد سے اٹھنے والی فجر کی اذاں سے لبریز ہو گئی—وہی پرجوش صدا جس سے پہاڑوں کے دل بھی دہل جاتے ہیں—اور کمرے میں کھڑا نوجوان اب مٹی کا خاکی پتلا نہیں، بلکہ افلاک کو تسخیر کرنے والا ایک منور خلیفہ دکھائی دے رہا تھا، جس کا مضمون اب مکمل ہو چکا تھا۔
اب کمرے کی فضا ایک طاقتور روحانی لہر کی گرفت میں تھی؛ دادا جی اٹھ گئے کہ نماز ادا کر لیں اور زید افتخار عارف کے کلام سے ایک پروانے کی طرح وجد میں تھا۔۔۔ اس کا ذہن ایک جادوئی تاثیر سے گھائل ہو چکا تھا؛ اور اس کی روح ایک پروانے کی طرح ایک تابناک مستقبل کے طواف میں سرشار تھی۔ اور سب جانتے ہیں کہ پروانہ اپنی منزل پہ پہنچنے کی مستی میں گم ہوتا ہے تو شہادت تک پہنچ جاتا ہے۔ انسان کا وجود، اس کی روح اور فطرتِ سلیم ایک مرکز پہ محور بنا کر اپنے مقصد کی طرف گامزن ہو جائے تو کیا دنیا اور کیا مابعد الطبیعیات، ساری کائنات اسے کامیاب کرانے کے لیے رقص کناں ہوتی ہے۔
Learn how to connect ChatGPT to business apps, databases, and workflows using connected ap...
10 Karat Gold offers a beautiful collection of stylish and elegant diamond gold rings for...