ناٹک: فسونی باب کا قصہ
Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Fiction is defined as any creative literary or narrative work that portrays imaginary characters, settings, and events. The play masterfully blends biting satire—such as absurd technological overreaches—with deep existential reflections on human dignity, authority, and the historical struggle against oppression. By weaving together iconic verses from classical and modern poets, it laments the forced silence of humanity while celebrating the resilient, echoing voice of creation. This write up in Urdu "ناٹک: فسونی باب کا قصہ" is a fictional critique of puppet-like compliance into a powerful anthem of public awakening and enduring cosmic hope.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
ناٹک: فسونی باب کا قصہ
کردار:
1. شہریار: فلسفے کا طالبعلم (سنجیدہ، گہری آواز، فکری انداز)
2. زریاب: کمپیوٹر سائنس کا طالبعلم (طنزیہ، جدید ٹیکنالوجی اور منطق کا حامی)
3. ماہم: اردو ادب کی طالبہ (حساس، ادبی اور ماورائی اندازِ گفتگو)
4. زارا: سیاسیات کی طالبہ (پرجوش، انقلابی اور عوامی شعور کی داعی)
منظر:
جامعہ کے کیفیٹریہ کا لان۔ اسٹیج پر شام کے دھندلکے کا تاثر دینے کے لیے مدہم لائٹس ہیں۔ مرکز میں لکڑی کی ایک پرانی میز اور چار کرسیاں رکھی ہیں۔ میز پر چائے کی پیالیاں اور کافی کے مگ بکھرے ہیں۔ پسِ منظر میں پتے گرنے اور ہوا کی دھیمی سراہٹ کی آواز ہے۔
(پردہ اٹھتا ہے تو شہریار اور زریاب میز کے گرد بیٹھے ہیں، ماہم ایک ڈائری پر قلم سے کچھ لکھ رہی ہے اور زارا گہری سوچ میں ڈوبی لان کی طرف دیکھ رہی ہے)
ماہم: (ڈائری پر قلم رکھتے ہوئے، دھیمی اور سحر انگیز آواز میں گنگناتی ہے)
سبھی کردار چپ ہیں اور چیزیں بولتی ہیں ۔۔۔
!فسانے میں فسونی کوئی باب آیا ہوا ہے
شہریار: (کافی کا مگ میز پر رکھتا ہے اور لمبا سانس لے کر ماہم کی طرف دیکھتا ہے)
ماہم جی! یہ کیا بات کر دی ہے؟ یہ تو آج کے دور کا نوحہ ہے۔۔۔ اس شعر کی گہرائی میں اتریں تو ایک بالکل الگ دنیا کہیں سسکتی سی محسوس ہوتی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تخلیق کار نے صرف ایک متبادل منظرنامہ پیش نہیں کیا، بلکہ کائنات اور انسانی مصلحتوں کی بساط الٹ کر رکھ دی ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں منطق دم توڑ چکی ہے اور "ایجادِ مجرد کا معجزہ" اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ جلوہ گر ہے۔
زریاب: (طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنی عینک درست کرتا ہے اور کرسی پر آگے کو جھکتا ہے)
ایجادِ مجرد کا معجزہ؟ شہریار، تم نے بالکل درست لفظ استعمال کیا۔ ہمارے ملک میں بھی تو یہی ہو رہا ہے۔ انڈوں کی کمی پورا کرنے کے لیے ایک ایسی مشین ایجاد کی جا رہی ہے جس کے بعد اب مرغے بھی انڈے دیں گے! (ہنستا ہے اور پھر ہنستا ہی چلا جاتا ہے)
مشین ایجاد کریں گے کہ مرغے انڈے دیں۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔
(پھر ایک دم چپ ہو جاتا ہے اور کچھ لمحات کے توقف کے بعد گہرائی سے کہتا ہے)
جب فطرت کو مسخ کرنے والی ایسی مضحکہ خیز ایجادات ہی نجات دہندہ بن کر سامنے آئیں، تو پھر جلیل عالی کے فسانے میں کرداروں کی خاموشی اور چیزوں کا بولنا کوئی حیرت انگیز بات نہیں رہتی۔
ماہم: (تڑپ کر کھڑی ہو جاتی ہے اور اسٹیج کے پیش منظر کی طرف آتی ہے)
یہ تو ولیم شیکسپیئر کے بقول اس دنیا کے اسٹیج کے کرداروں یعنی ہم انسانوں کی توہین کا معاملہ ہوا! یا الہی! کیا ہم مصنوعی ذہانت کے معجزے اور تیرے حساب کے دن سے قبل ہی ایک المیہ کا شکار ہو گئے ہیں؟ یہ کیسے دور اور کس زمانے کی تصویر ہے کہ کردار خاموش ہو گئے اور اشیاء بول پڑی ہیں؟ اظہار کی یہ فطری ترتیب بالکل معکوس ہو چکی ہے۔ کسی بھی داستان کی ترتیب یہ ہوتی ہے کہ جاندار کردار بولیں اور کہانی آگے بڑھے، مگر یہاں سب الٹ ہے۔
زارا: (جو اب تک خاموش تھی، اچانک اپنی کرسی سے اٹھتی ہے، اس کا لہجہ گہرا اور جاندار ہے، وہ اسٹیج کے بالکل سامنے آ کر براہِ راست حاضرینِ محفل/عوام سے مخاطب ہوتی ہے)
اے لوگو! یہ اظہار کا فطری نظام درہم برہم ہو جانا ہے۔ کیا آپ کے ذہن میں فوراً یہ سوال جنم نہیں لیتا کہ آخر وہ کون سا جبر، کون سی مصلحت یا کون سا مہیب سانحہ ہے جس نے ہم زندہ متحرک کرداروں کی زبان بندی کر دی ہے؟ یہ کیا فسانہ ہے کہ جب لب سل جاتے ہیں، تو خاموش چہروں پر تحریریں چیخنے لگتی ہیں۔ آوازیں صلب ہوتی ہیں، تو سسکیاں بلند ہونے لگتی ہیں؛ مگر منہ سے نہیں بلکہ آنکھوں سے، اور روح بلکنے لگتی ہے۔ اس پراسرار فضا میں بے زبان اشیاء ہی ان کرداروں کے رنج و الم اور پوشیدہ سچائیوں کا اصل اظہاریہ بن کر سامنے آتی ہیں۔ اس مہیب سناٹے کی وجہ شاید وہ نظام ہے جس کا نقشہ امداد آکاش کھینچتے ہیں:۔
بزرگ آبِ بقا پی چکے تھے اور بچے ۔۔۔
وجود ہی میں نہ لائے گئے زمیں کم تھی!
شہریار: (میز سے زارا کی طرف بڑھتا ہے)
بالکل زارا! یعنی جو پرانے لوگ تھے، وہ اپنی جگہ چھوڑنے پر تیار ہی نہیں ہیں۔ وہ زمین کے اختیار اور طاقت سے چمٹے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں نئی نسل، نئے بچوں اور نئی سوچ کے لیے گنجائش ہی نہیں بچی۔ یہ جمود کی انتہا ہے۔
زریاب: (اپنی کرسی پر ٹیک لگاتے ہوئے)
اور اگر دوسرے مصرعے میں لفظ 'فسونی' کو دیکھیں، تو یہ دنیا کی زندگی کیا محض ایک فسانہ ہی ہے؛ قرآن نے جسے 'متاع الغرور' یعنی دھوکا کہا ہے۔ یہ لفظ 'فسونی' پورے بیانیے پر ایک سحر انگیز چھتری تان دیتا ہے۔ اس تناظر میں اشیاء کے بولنے پر 'زبان درازی' کی تعبیر لانا بالکل محلِ نظر ٹھہرتا ہے۔ 'زبان درازی' کا لفظ اپنے اندر ایک منفی گستاخی یا حد سے تجاوز کا تاثر رکھتا ہے، جبکہ جلیل عالی کا ممدوح منظرنامہ کسی سرکشی کا مرہونِ منت نہیں، بلکہ ایک سحر کے زیرِ اثر ہے۔
ماہم: (اداس لہجے میں، دوبارہ اسٹیج کے سامنے آتی ہے)
یہاں چیزوں کا بولنا ان کی اپنی مرضی نہیں، بلکہ اس طلسماتی کیفیت کا نتیجہ ہے جس نے پورے ماحول کو جکڑ رکھا ہے۔ جن انسانوں کے اظہار پہ پابندی لگاؤ گے تو ہو سکتا ہے کہ جاندار تو مصلحتوں یا خوف کے باعث منجمد ہو چکے ہوں؛ مگر جامد اشیاء کو کیسے روکا جائے گا؟ یا الہی! یہ دستورِ زبان بندی تو تو نے روزِ قیامت کے لیے بیان کر رکھی تھی، تو کیا ہم قیامت سے گزر رہے ہیں؟ لیکن نہیں؛ ابھی قیامت نہیں آئی، تو اس دنیا میں قیامت کا منظر کس اختیار نے قائم کیا ہوا ہے؟ کیا آج بھی فرعون موجود ہیں کہ خدا بنے بیٹھے ہیں؟ مجھے تو خوف آتا ہے، تو مجبوراً کومل جوئیہ کے اس مشورے پر عمل پیرا ہونا پڑتا ہے:۔۔۔
!صبر کے گھونٹ بہت ترش سہی، پی لیجے ۔۔۔ چیخ اٹھنے میں جو اندیشہ ء رسوائی ہے
شہریار: (ماہم کے قریب آ کر، دلاسا دیتے ہوئے)
گردشِ ایام اور حالات کی تلخی اتنی کڑوی اور ناگوار ہے کہ انسان کو لگتا ہے چیخ پکار کرے، لیکن خاموشی کا سلیقہ اور صبر کہیں زیادہ بہتر اور باعزت راستہ ہے۔ انسان کو سیکھنا ہے کہ زندگی کے کٹھن ترین لمحات اور جذباتی صدمات میں بھی اپنی خود داری اور وقار کو برقرار رکھنا چاہیے۔ چیخ پکار کر کے اپنے درد کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنے سے خاموشی کا سلیقہ اور صبر کہیں زیادہ بہتر اور باعزت راستہ ہے۔ مگر ماہم، کیا فطرت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے بے جان چیزوں کو گواہی کا منصب سونپ دیا گیا ہے؟ کیا آج اس زمیں پہ ہم انسانوں پہ کوئی آفت یا آسیب مسلط ہو گئی ہے؟ کیا ہم ابنِ آدم اپنے جد کی طرح خلافتِ ارضی کے مقام پہ نہیں رہے؟ یہ کون سی طاقت ہے جو ہم نائبِ خدا کو محدود کرتی ہے؟ یہ کیا ظلم ہے کہ جہاں ضرب لگنے پر انسان نہیں، بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ راہی معصوم رضا کے اس فلسفے کے تحت گنگنانے لگتا ہے:۔
زخم جب بھی کوئی ذہن و دل پر لگا، زندگی کی طرف ایک دریچہ کھلا
ہم بھی گویا کسی ساز کے تار ہیں، چوٹ کھاتے رہے, گنگناتے رہے!.
ماہم: (اس کے چہرے پر ایک فکری چمک آتی ہے)
خوبصورت! راہی کا یہ شعر بتاتا ہے کہ ہم انسانوں کو جب بھی زندگی میں کوئی حادثہ پیش آیا یا دل و دماغ پر کوئی گہرا زخم لگا، تو اس نے ہمیں مایوس نہیں کیا۔ بلکہ ہر زخم نے اس کی سوچ کو ایک نئی وسعت دی، شعور کا ایک نیا دروازہ (دریچہ) کھولا اور زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا حوصلہ دیا۔ دکھ انسان کو توڑتے نہیں، بلکہ اس کی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔ یہاں شاعر نے انسانی وجود کو موسیقی کے کسی ساز کے تاروں سے تشبیہ دی ہے، جس طرح ساز کے تاروں پر جب تک چوٹ نہ لگائی جائے، ان سے خوبصورت دھن یا موسیقی پیدا نہیں ہوتی، بالکل اسی طرح انسان پر بھی جب حالات کی چوٹ پڑتی ہے، تو اس کے اندر سے تخلیق، نغمگی اور جینے کی خوبصورت تڑپ جنم لیتی ہے۔ ہم نے تکلیفوں پر رونے کے بجائے انہیں نغموں میں ڈھال لیا۔ یہ انسان کو کٹھن حالات میں بھی حوصلہ، جرات اور زندہ دلی کے ساتھ جینے کا سبق دیتا ہے۔
زارا: (اب پورے رعب اور انقلابی جوش کے ساتھ اسٹیج کے مرکز میں آتی ہے، لائٹس اس پر فوکس ہوتی ہیں، وہ پورے ہال کی طرف ہاتھ اٹھا کر بلند اور گرجدار آواز میں پکارتی ہے)
ذرا دیکھیے تو صحیح کہ کیسے ہم انسانوں کی داستان میں کسی 'فسونی باب' کا دور آیا ہوا ہے۔ ہم متاعِ الغرور کی دنیا میں آج شاید کسی فکری طوفانی دجالی زمانے میں پہنچ گئے ہیں جہاں طلسماتی کیفیت پورے منظرنامے کی بساط الٹ دیتی ہے۔ مگر یہ 'ایجادِ مجرد کا معجزہ' اور یہ کٹھ پتلی تماشا مستقل نہیں! خدا نے یہ زمین کسی دجال کے لیے نہیں بلکہ ابنِ آدم کے لیے دارالامتحان بنایا ہے اور انسان کو اپنی خدائی بصیرت سے اس تماشے کو ختم کرنا ہے۔ مجھے تو آقا کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد آ رہی ہے کہ آخری وقت میں روبیضہ بولیں گے۔۔ کیا یہ فسونی باب روبیضہ ہے؟
(پھر ماہم آگے بڑھ کے حاضرین سے مخاطب ہوتی ہے اور افتخار عارف کے اشعار پورے ادبی جلال کے ساتھ پڑھتی ہے)
ماہم:
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات
سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہوگا
تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے
کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہوگا
دلِ نا مطمئن ایسا بھی کیا مایوس رہنا
جو خلق اٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہوگا
(اس پہ شہریار آگے بڑھتا ہے اور لوگوں سے نہایت سنجیدگی سے مخاطب ہو کر کہتا ہے)
شہریار:
اے لوگو! مایوسی کے اندھیروں میں امید کی ایک کرن ہمیشہ رہتی ہے، اور اس دنیا میں سیاسی و سماجی ناانصافیوں کے خلاف افتخار عارف کے پیغام کو ایک استعارے کے طور پر سمجھنا ہوگا۔ اپنے بے چین، پریشان اور غیر مطمئن دل کو تسلی دیں کہ حالات کی خرابی، ظلم اور ناانصافی کو دیکھ کر اس حد تک مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمت ہی ہار بیٹھی جائے۔
(پھر زریاب آگے بڑھ کر جوش کے ساتھ مجمعے کو مخاطب کرتا ہے)
زریاب:
میرے پیارے لوگو! 'خلق' سے مراد عوام یا ہم عام لوگ ہیں۔ جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو۔۔۔ یہاں 'کرتب تماشا' سے مراد اقتدار کے بھوکے حکمرانوں، ظالموں اور پسِ پردہ ڈوریاں ہلانے والوں کی عیاریاں اور چالاکیاں ہیں۔ یہاں پیغام یہ ہے کہ یہ ظلم کا کھیل اور کٹھ پتلیوں کا رقص صرف اس وقت تک ہے جب تک ہم عوام خاموش ہیں؛ جس دن آپ عوام بیدار ہو گئے، اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور متحد ہو گئے، اس دن اقتدار کے پجاریوں کی تمام عیاریاں، مکاریاں اور یہ سارا تماشا ایک پل میں ختم ہو جائے گا۔۔ یاد رکھو دنیا کا ہر جابر عوام کی طاقت کا اعتراف کرنے پہ مجبور ہوتا ہے۔ ہر جابر جانتا ہے کہ حقیقی طاقت ہمیشہ عوام کے پاس ہوتی ہے، اور ظالم کا تماشا تبھی تک چلتا ہے جب تک مظلوم خاموش رہتا ہے۔ اسی لیے تو قتیل شفائی نے پکارا تھا:۔۔
دنیا میں قتیلؔ اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
(کچھ لمحوں کا مہیب سکوت۔ پسِ منظر میں رات کے گہرے ہونے کا تاثر دینے کے لیے لائٹس مزید مدہم ہوتی ہیں اور کیفیٹریہ کی ایک پیلی لائٹ جلتی ہے)
شہریار: (سب کو دیکھتے ہوئے، دھیمے اور پرامید لہجے میں گفتگو سمیٹتا ہے)
کسی بھی زندہ قوم میں ہر نوع کے 'فسونی باب' کے طلسم اور سحر کے ٹوٹنے کی امید ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ صولت بانو کے لفظوں میں اس اندھیرے کے اندر ہی روشنی کا سفر جاری ہے:۔
بس چشمِ شب گزیدہ کی ویرانیاں نہ دیکھ
مضمر ہے اس میں مخزنِ امیدِ لالہ زار
ماہم: (اپنی کتابیں سمیٹ کر آخری مسکراہٹ کے ساتھ الوداعی مکالمہ حاضرین کے نام کرتی ہے)
چنانچہ، جب تک یہ جادوئی غبار اور مصنوعی بندشیں چھٹ نہیں جاتیں اور کرداروں کو ان کی چھینی ہوئی زبانیں واپس نہیں مل جاتیں، تب تک امید کے دامن کو تھامے رکھنا اور شاخِ تمنا کو ہرا رکھنا ہی زندگی کا اصل حاصل ہے۔ بقول شاعر:۔
آتے جاتے ہوئے موسم کو دعا دیتے رہو
کم سے کم شاخِ تمنا تو ثمر دار رہے
(چاروں کردار ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، سر ہلاتے ہیں اور آہستہ آہستہ اسٹیج کے ایک طرف واک وے کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ اسٹیج پر صرف میز، خالی پیالیاں اور ڈائری رہ جاتی ہے جن پر آخری لائٹ فوکس رہتی ہے)
(پردہ آہستہ آہستہ گرتا ہے)