نہ میں اعجمی، نہ ہندی، نہ عراقی و حجازی
Allama Dr Muhammad Iqbal was the great mystic Poet of the Sub Continent India-Pakistan. Iqbal is also the philosopher of East and national poet of Pakistan. Allama Muhammad Iqbal has given a comprehensive message in the poem "Wataniyat" from his book Bang-e-Dara; in which he has taught Muslims to transcend geographical boundaries and connect with the concept of "Millat-e-Islamiya". This write up in Urdu "نہ میں اعجمی، نہ ہندی، نہ عراقی و حجازی" is an explanation of the Iqbal's verse with the help of various verses of Iqbal, keeping the main theme in focus.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
نہ میںاعجمی، نہ ہندی،نہ عراقی و حجازی
مندرجہ بالا مصرع علامہ محمد اقبالؒ کی کتب ضربِ کلیم کی ایک غزل کا مطلع کا ہے۔ اس میں اقبال یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ جغرافیائی حدود، نسل یا وطن پرستی (عجمی، ہندی، عراقی، حجازی) سے بالاتر ہیں اور اپنی خودی (ذاتی معرفت) کی بدولت دونوں جہانوں سے بے نیاز (بے پروا) ہو چکے ہیں۔
نہ میںاعجمی، نہ ہندی،نہ عراقی و حجازی
کہ خودی سے میں نے سیکھی دو جہاں سے بےنیازی
شاعر مشرق حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے ایک مسلمان کے لیے زندگی کے معاملات میں گروہ بندی کا راز سکھایا ہے۔ اور سمجھایا ہے کہ مسلم قوم کسی طور پر دنیا کے گروہ بندی کے تعلق سے نہیںنبھا سکتی؛ کیونکہ امت مسلم کا ہر فرد صرف مصطفوی ہوتا ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے اوپر کے شعر میں اسے اس طرح بیان کیا ہے کہ ٭ میرا تعلق کسی وطن سے نہیں ہے۔ نہ میں ایرانی، نہ ہندوستانی، نہ عراقی اور نہ حجازی ہوں۔ میں صرف بندہ خدا کہلاتا ہوں، خود کو مسلمان کہلاتا ہوں۔ کیونکہ میں نے خودی کو پا لیا ہے اور اس خودی نے مجھے دو جہانوں سے بےنیاز کر دیا ہے۔ اس نے میری نظر کو وسعت عطا کر دی ہے۔ جو بھی خودی کا راز پا لیتا ہے تو وہ سارے امتازات مٹا کر صرف اللہ کےلئے جیتا اور مرتا ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی کتاب بانگِ درا کی نظم "وطنیت" میں ایک جامع پیغام دیا ہوا ہے؛ جس میں انہوں نے مسلمانوں کو جغرافیائی حدود سے بالا تر ہو کر "ملتِ اسلامیہ" کے تصور سے جڑنے کا درس دیا ہے۔ ان کے نزدیک مسلمان کی اصل پہچان وطن نہیں بلکہ اس کا اصل نظریہ حیات "توحید" ہے، اور مصطفوی (ﷺ) ہونے کی وجہ سے اسلام ہی اس کا حقیقی دیس ہے۔
بازو ترا توحيد کي قوت سے قوي ہے
اسلام ترا ديس ہے ، تو مصطفوي ہے
علامہ محمد اقبالؒ نے ساف ساف کہہ دیا ہے کہ مومن کی اصل طاقت اللہ پر ایمان اور توحید میں ہے۔ "اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے"۔ اے قوم مسلم؛ تیرا کوئی مخصوص جغرافیائی وطن نہیں، بلکہ پورا عالمِ اسلام ہی تیرا گھر ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے وطنیت کے مغربی تصور (جو مسلمانوں کو تقسیم کرتا ہے اور اس کے لیے مغربی اقوام نے خلافت عثمانیہ کو توڑ ڈالا تھا) کے مقابلے میں آفاقی بھائی چارے کا تصور پیش کیا۔ یہ پیغام مسلمانوں کو اپنی منفرد نظریاتی پہچان یاد دلانے اور اتحادِ امت کی طرف بلانے کے لیے ایک دعوتِ عام تھی۔ لیکن مسلم امت نے گروہی صف بندی اور علاقائی تقسیم کو حرز جاں بنانا پسند کیا اور اغیار کی دی ہوئی تعلیم اور نظریات کو سینے سے لگایا۔ ذیل میں علامہ محمد اقبالؒ کی اوپر بیان کردہ مطلع والی غزل کے کچھ اور اشعار پر نظر ڈالتے ہیں؛ تکہ پیغام اور بھی واضع کیا جاسکے۔
تو میری نظر میں کافر، میں تیری نظر میں کافر
تیرا دیںنفس شماری، مرا دیں نفسگدازی
٭ تیرے نزدیک زندگی کا یہ مقصد ہے کہ اپنے سانس گن کر زندگی کے ماہ و سال گزرنے کا اندازہ لگاتا رہ ۔ میرے نزدیک اصل مقصد یہ ہے کہ انسان سانس کو اللہ کے عشق سے پگھلاتا رہے اور اس کی رضا و خوشنودی کے امور انجام دیتا رہے۔ اس شعر میں اقبال مذہبی میدان کے دو طبقوں کا ذکر کر رہے ہیں ایک وہ جو دین کو پیشہ بنائے ہوئے ہے اور دین بیچ کا دنیا کماتا ہے اور دوسرا طبقہ روحانیت کا مالک ہے۔ غلط لوگ دوسرے طبقے میں بھی موجود ہوتے ہیں مگر شاعر یہاں حقیقی روحانی افراد کا ذکر کر کے "میں" اور "تو" کی علامات کے ذریعے دونوں طبقات کو ظاہر کرتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ تمہارا علم صرف ہوس پر مبنی ہے جبکہ میرے عشق کی بنیاد اخلاص پر ہے۔ اب صورت یہ ہو گئی ہے کہ میری نظر میں تو دین سے بیگانہ ہو گیا ہے اور تیری نظر میں، میں بےدین ہوں۔ اس طرح ملت کفر سازی کے فتووں کی وجہ سے تقسیم ہو رہی ہے اور مختلف طبقات میں نفرت بڑھ رہی ہے۔۔
تو بدل گیا توبہتر کہ بدلگئی شریعت
کہ موافقتدرواں نہیں دینِ شاہبازی
٭ تدرواں چکور کو کہتے ہیں۔ "تو" کی علامت فریب کار دین دار علماء اور پیروں کو کہہ رہے ہیں۔ اسلام شہبازی کا دین تھا اس سے انسان کے اندر ہمت اور جانبازی کے جوہر پیدا ہوتے تھے۔ چونکہ تجھ میں شہبازی کا کوئی وصف باقی نہیں رہا ہے اس لئے اب تو تدرو بن گیا ہے۔ اب جبکہ تو خود بھی بدل گیا ہے اس لئے اچھا ہوا کہ تو نے شریعت بھی بدل ڈالی ہے۔ اب بھلا اسلامی شریعت تمہیں راس کہاں آ سکتی ہے؟ اسلامی شریعت شہبازوں کے لئے تھی اور چونکہ اب تو چکور بن چکا ہے لہٰذا تو اسی بدلی ہوئی شریعت کے قابل ہے۔
ترے دشت و در میں مجھ کو وہ جنوں نظر نہ آیا
کہ سکھاسکے خرد کورہ و رسمکار سازی
٭ اے دنیادار عالم اور حق گریز صوفی! تیرے بیابانوں اور جنگلوں میں مجھے وہ جذبہ عشق کہیں دکھائی نہیں دے رہا جو عقل کو بگڑے کام بنا لینے اور مقصد پورے کرنے کے طریقے سکھا دے۔
نہ جدارہے نواگر تبو تاب زندگیسے
کہ ہلاکیامم ہے یہطریق نے نوازی
٭ نغمے گانے والے کو زندگی کی بےقراریوں سے الگ نہیں ہونا چاہیئے۔ وہ نواگر "گانے والا" جبکہ طریقِ نےنوازی "بانسری بجانے کا طریقہ" مراد ہے۔ شاعر کے مطابق جو سازندہ یا موسیقار زندگی کے سوز و ساز سے بےگانہ ہوتا ہے وہ اقوام کےلئے ہلاکت ہوتا ہے۔ ہر شاعر، ادیب، موسیقار، فنکار اور ہر ہنرمند کو چاہیئے جی وہ اپنے فن، ہنر، ادب، شعر اور سر میں ساز پیدا کرنے کےلئے اپنے اندر عشق پیدا کرے ورنہ اس کے نغمے قوموں کوہلاکت کے غار میں گرا دیتے ہیں۔
علامہ محمد اقبالؒ کی فارسی مثنوی "پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق" (اے اقوامِ مشرق! اب کیا کیا جائے) مشرق، بالخصوص اسلامی دنیا کے لیے مغرب کے شیطانی نظام، غلامی اور فکری انحطاط سے نجات کی راہنما کتاب ہے۔ 1936 میں شائع ہونے والی یہ فارسی مثنوی، حجم میں مختصر لیکن پیغام کے لحاظ سے انتہائی گہری ہے، جو امتِ مسلمہ کو خودی، تعلیم، اور قرآن کی طرف واپسی کا درس دیتی ہے۔ آئیے ذیل میں کچھ اشعار کے ذریعے اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
دانش افرنگیان تیغی بدوش
در هلاک نوع انسان سخت کوش
اہل مغرب کی دانش کندھے پر تلوار رکھے — بنی نوع انسان کی ہلاکت کے درپے ہے۔
یورپ از شمشیر خود بسمل فتاد
زیر گردون رسم لادینی نهاد
یورپ تو اپنی تلوار ہی سے گھائل ہو چکا ہے — اس نے دنیا میں لادینی کی رسم کی بنیاد رکھ دی ہے۔
با خسان اندر جهان خیر و شر
در نسازد مستی علم و هنر
گھٹیا لوگوں کیلئے اس نیکی اور بدی کی دنیا میں — علم و ہنر کی مستی سازگار نہیں۔
مشکلات حضرت انسان ازوست
آدمیت را غم پنهان ازوست
انسانیت کی تمام مشکلات اس کی وجہ سے ہیں — اسی کی وجہ سے انسانیت غمِ پنہاں میں مبتلا ہے۔
در جنیوا چیست غیر از مکر و فن؟
صید تو این میش و آن نخچیر من
جنیوا میں مکر و فریب کے سوا اور کیا ہے؟ — یہی کہ اس کو تو شکار کر لے اور اسے میں کر لوں۔
نکته ها کو می نگنجد در سخن
یک جهان آشوب و یک گیتی فتن
(وہاں) ایسے ایسے نکتے (سوچے جاتے) ہیں جو الفاظ میں نہیں سما سکتے — بس دنیا بھر کے فساد اور جہان بھر کے فتنے ہیں۔
در نگاهش آدمی آب و گل است
کاروان زندگی بی منزل است
اس کی نگاہ میں آدمی محض مٹی کا پتلا ہے — اور زندگی کا قافلہ بس یونہی اور بے مقصد رواں ہے۔
نقش نو اندر جهان باید نهاد
از کفن دزدان چه امید گشاد
دنیا میں نیا قانون جاری کرنا چاہیے — کیونکہ ان کفن چوروں سے بہتری کی کوئی امید نہیں۔
علامہ محمد اقبالؒ نے فارسی مثنوی "پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق" کے ذریعے امت مسلمہ کے لیے ایک انقلابی پیغام " فقر" کا دیا ہے، جو نوآبادیاتی دور میں غلامی کے خاتمے اور مغربی تہذیب کے غلبے سے بچنے کے لیے فقر، خودی، اور قرآنی اصولوں کو اپنانے کی تلقین کرتی ہے۔ اس میں جدید فکری و عملی مسائل کا حل خودی کی بیداری اور روحانی فقر میں بتایا گیا ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا ہے کہ
پست فکر و دون نهاد و کور ذوق
مکتب و ملای او محروم شوق
مسلمان پست فکر ، کم ہمت اور کور ذوق ہو چکا ہے، اس کے تعلیمی ادارے اور علما سب شوق سے محروم ہیں۔
چیست فقر ای بندگان آب و گل
یک نگاه راه بین یک زنده دل
اے دنیا کے غلامو! جانتے ہو فقر کیا ہے؟ ایک نگاہ جو صحیح راستہ دیکھ لے، ایک دل جو اللہ کی محبت سے زندہ ہو۔
فقر قرآن احتساب هست و بود
نی رباب و مستی و رقص و سرود
قرآن پاک کا فقر تو یہ ہے کہ اس دنیا کا احتساب کیا جائے؛ یہ فقر چنگ و رباب ، مستی و رقص و سرور نہیں ہے۔
عصر ما ما را ز ما بیگانه کرد
از جمال مصطفی بیگانه کرد
اس دور نے ہمیں اپنے آپ سے بیگانہ کردیا ہے؛ اس نے ہمیں جمال مصطفی ﷺ سے بیگانہ کردیا ہے۔
سوز او تا از میان سینه رفت
جوهر آئینه از آئینه رفت
جب حضورﷺ کے عشق کا سوز سینے سےنکل گیا؛ تو گویا آئینے کے اندر سے اس کا جوہر جاتا رہا۔
علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی کتاب "بانگِ درا" کی شہرہ آفاق نظم "جوابِ شکوہ" میں کیا خوب کہا ہے کہ " قُوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے؛ دہر میں اسمِ محمّدؐ سے اُجالا کر دے"؛ یعنی اس شعر میں علامہ محمد اقبالؒ مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تم عشقِ رسول ﷺ (قوتِ عشق) کے ذریعے ہر گری ہوئی اور پست حالت کو بلندی عطا کر سکتے ہو۔ دنیا (دہر) میں محمد مصطفیٰ ﷺ کے نام کی تعلیمات اور سیرت کو پھیلا کر، یعنی اسمِ محمد ﷺ سے جہالت کے اندھیروں کو دور کر کے امن و ہدایت کا اجالا پھیلا دو۔
علامہ محمد اقبالؒ کے نزدیک راستہ مغربی تہذیب کا لذات دنیا کا حسول نہین بلکہ فقر اپنانے سے ہے اور اس "فقر" سے اقبالؒ کا مطلب غریبی نہیں، بلکہ مال و زر کی بے نیازی، اللہ پر کامل بھروسہ، اور نفس پر قابو پانا ہے۔ یہ فقرِ محمدی ﷺ ہے جو فقیر کو بادشاہ بنا دیتا ہے۔ انہوں نے مشرق کے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ مغرب کی مادہ پرستانہ تہذیب سے مرعوب نہ ہوں اور اپنی الگ پہچان قائم کریں۔ مثنوی میں انگریزوں اور مغربی استعمار کے خلاف بیداری کا پیغام دیا گیا ہے، انہیں "کفن دزد" (کفن چور) کہہ کر ان سے خیر کی امید نہ رکھنے کو کہا گیا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے تعلیم، علم، اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک نیا عالمی نظام (نقش نو) وضع کرنے پر زور دیا ہے۔ اور بتایا کہ مشرق یعنی قوم مسلم کی بقا قرآن حکیم کے احکامات پر عمل پیرا ہونے اور خودی کی تربیت میں مضمر ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی کتاب بالِ جبریل کی ایک غزل میں یوں فرمایا ہے کہ " دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب؛ آنکھ کا نور دل کا نور نہیں"؛ یعنی لازم ہے کہ حق تعالیٰ سے وہ بصیرت بھی طلب کی جائے جس سے دل روشن ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ صرف بصارت چشم ہی دل کے لیے بصارت نہیں بن سکتی ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دل ہی روشن نہ ہو تو محض آنکھ کی روشنی کافی نہیں ۔ عملاً بصارت اور بصیرت کے بغیر انسان کی تکمیل نہیں ہو سکتی ۔ آج امتِ محمدﷺ نے دنیا کو اپنے دل میں بسا لیا ہے؛ اور یہ دنیا ابلیس کی ذریعت کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی ہے۔ اور قوم مسلم انکے دئیے ہوئے جھنجھنے سے دل بہلا کر خوش ہے۔
اسلامی جمھوریہ ایران میں آیت اللہ موسوی خمینی کی قیادت میں سنہ 1979 عیسوی کے اسلامی انقلاب نے ایران کو مکمل طور پر بدل دیا، جس کے نتیجے میں شاہی نظام (پہلوی خاندان) کا خاتمہ ہوا؛ اس سے سیاسی و نظریاتی تبدیلی آئی؛ جس نے خارجہ پالیسی کو "نہ مشرق، نہ مغرب" کے اصول پر منتقل کیا، جبکہ معاشرے میں ثقافتی اور سماجی اثرات سے اسلامی اقدار، لازمی حجاب اور مغرب مخالف نظریات کو فروغ ملا۔ پچھلے چند عرصے میں سائنسی و دفاعی ترقی کا واضع اظہار ہوا ہے؛ جب انہوں نے دنیا کی طاقتور صیہونی یہودی ظالموں سے ٹکرا کر باقی مسلم دنیا کوعلامہ محمد اقبالؒ کے پیغام کو عملی جامہ پہنانے کا راستہ دکھایا ہے۔ بلاشبہ، اس انقلاب نے ایران کو ایک مغرب نواز ریاست سے ایک نظریاتی اسلامی ریاست میں بدل دیا ہے، جس کے اثرات آج دنیا بھر میں اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی سیاست پر گہرے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان اپنی خودی کو بیدار کریں تاکہ وہ دنیا میں ایک بار پھر عروج حاصل کر سکیں؛ اور اسلام کی نشاظ ثانیہ کے لیے اپنا کردار ادا کرسکیں۔