A fire broke out on the third floor of the mother and child unit at PIMS, one of the main state-run hospitals in capital city Islamabad. At least 14 newborn babies died Wednesday morning in one of Pakistan's deadliest hospital fires in recent decades. This write up in Urdu "مَیں نے دیکھا تو نہیں ہے تیرا اُجلا چہرہ !۔" is a fictional reflection on the said incident based on a poetic expression from Noshi Gillani.
مَیں نے دیکھا تو نہیں ہے تیرا اُجلا چہرہ !۔
پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ کی دیواریں آگ سے جلنے کے بعد نجانے کب تک سیاہ رہیں، لیکن ان آنکھوں اور ذہنوں میں یہ اب ہمیشہ تاریک ہی رہیں گی؛ جن کی نومولود بچے ایک رات کو اس آگ میں بھسم گئے تھے۔ کسی قصور اور غلطی کے بنا ہی۔ انکے اجلے چہروں پہ ہسپتال انتظامیہ کا تاریک دل اور ذہنوں کا مکروہ پن چھاگیا تھا۔
چند دن پہلے؛ آزادی کے مہینے اگست میں زندگی کی پہلی سانس لینے والے معصوم پھول راکھ ہو گئے تھے۔ زلیخا وارڈ کے باہر لوہے کے بنچ پر ساکت بیٹھی تھی۔ اس کی گود خالی تھی، لیکن اس کے ہاتھ اب بھی اس طرح بندھے تھے جیسے اس نے کسی نادیدہ وجود کو سینے سے لگا رکھا ہو۔ اس کی آنکھیں پتھرا چکی تھیں، جن میں اب آنسو بھی خشک ہو چکے تھے۔ہسپتال کی بے رحم بو اور مشینوں کی سائیں سائیں کے درمیان، اس کے اندر ایک لامتناہی خاموشی تھی، جس کو نوشی گیلانی نے ان الفاظ میں ایک نوحے کی طرح گونج دی ہے:
مَیں نے دیکھا تو نہیں ہے تِرا اُجلا چہرہپھر بھی آنکھوں میں تصور تیرااس طرح ٹھہرا ہوا رہتا ہے...
زلیخا کی شادی کو پانچ سال ہو گئے تھے۔ وہ اور اس کا شوہر ہی جانتے تھے کہ وہ کس کرب سے گزرے تھے۔ یہ بچہ خاندان اور جاننے والوں کے زہریلے سوالوں کا وہ جواب تھا جو رب نے انہیں عطا کیا تھا۔ اس کی کوکھ بنجر نہیں تھی، مگر اب اس کی گود اجاڑ دی گئی تھی۔
اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا، جہاں نو ماہ تک ایک ننھی دھڑکن نے اسے جینے کا حوصلہ دیا تھا۔ وہ بچہ جو اپنی ماں کو ایک نظر بھی نہیں دیکھ سکا تھا، بے حس انتظامیہ کے چنے ہوئے نااہل ارکان اور بے ضمیر افسران کی نذر ہو گیا۔ اس کی ساکت آنکھوں کے سامنے اب رات کی سیاہی نہیں تھی، بلکہ ظلم اور لوٹ کھسوٹ کا وہ عذاب تھا جو صرف اس کی طرح بے بس مجبور غریب خانداںوں پر اترا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ یہ عذاب ان ظالموں پر کب نازل ہوگا؟
اسے وہ تکلیف دہ منظر چکراتا ہے جب ہر طرف دھواں تھا اور وہ ہانپتے ہوئے اپنے بچے کو پکار رہی تھی۔ وہ بے اختیار بڑبڑائی:۔
:مَیں تِری پیاسی، تِری منتظر ماں تجھ کو آواز کہاں سے دوں گی؟
تُو کہ اب تک کسی نادیدہ فضا کا ہے مکیں اور مَیں درد کے اس پار کھڑی تجھ کو چھونے کی تمنا میں جلی جاتی ہوں!۔
اس کے خشک ہونٹ ہلے اور بند آنکھوں کے پلوٹھے تپنے لگے۔ راکھ کے اس ڈھیر میں بھی اس کی ممتا اپنے بچے کے لمس کو ڈھونڈ رہی تھی:۔
تجھ کو سوچوں تو مہکتی ہے وفا کی خوشبو
اور ہونٹوں پہ سُلگتا ہے دعا کاجادو
تیرے ہر قطرۂ خوں کے صدقے
حرف و معنی کے صنم خانے میں
ایک تنویرِ فسوں زندہ ہے
ایک تصویرِ جنوں زندہ ہے
ایک تحریرِ سکوں زندہ ہے
ہسپتال کی راہداریوں میں آہ و بکاہ مچی ہوئی تھی؛ زلیخا کی طرح دوسری مائیں بھی شاید اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھیں۔ اپنے لختِ جگروں کے لیے آگ سے جل کر مرنے والی یہ ہولناک موت۔۔۔ آخر کیوں؟ حقیقت میں وہ سب درد کے اس پار کھڑی پیاسی مائیں تھیں، جن کے خواب راکھ کے ڈھیر میں گم ہو چکے تھے اور جن کی جھولیاں اجڑ چکی تھیں۔ ان معصوموں کا جرم کیا تھا؟ غربت؟ یا ان بے حس ظالم حکمران اور افسران کی ان مٹ حرص، بھوک اور لوٹ مار؟
سیاہ دھوئیں اور جھلسی ہوئی دیواروں کے سائے میں، ان ماؤں کی چیخیں اب ہسپتال کے ستونوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ وہ بجھی ہوئی نرسری، جو کبھی نئی زندگی کی کلکاریوں سے گونجتی تھی، اب ایک اجتماعی قبرستان کا منظر پیش کر رہی تھی جہاں سستے اور ناقص آلاتِ آتش زدگی کے نام پر بجٹ ہضم کرنے والوں کی داستان لکھی تھی۔ وہ افسران جو ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر فائلوں پر دستخط کرتے تھے، انہوں نے چائے کے ایک کپ کی قیمت پر ان بچوں کے سانسوں کا سودا کر دیا تھا۔
اچانک راہداری کے دوسرے کونے سے بھاری بوٹوں اور کیمروں کے فلیش کی چمکدار روشنی نے زلیخا کی آنکھوں کو چندھیا دیا۔ کوئی بڑا صاحب، کوئی وزیرِ صحت یا شاید کوئی انکوائری کمیٹی کا سربراہ، چہرے پر جھوٹی ہمدردی کا نقاب چڑھائے، درجنوں سیکیورٹی گارڈز کے حصار میں میڈیا کے سامنے پوز دے رہا تھا۔ وہ مائیکروفون پر بڑے خلوص سے "کمیٹی تشکیل دینے" اور "مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے" کا اعلان کر رہا تھا۔
زلیخا نے بنچ کی لوہے کی چادر کو اتنی سختی سے جکڑا کہ اس کے ناخن سفید پڑ گئے۔ اس کا جی چاہا کہ وہ اٹھے، اس سفید پوش بھیڑیے کے گریبان تک پہنچے اور اس کے چہرے پر اپنے بچے کی راکھ مل دے۔ لیکن اس کے پیروں میں سکت نہیں تھی۔ وہ صرف اپنی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اس تماشے کو دیکھتی رہی، جہاں انصاف بھی ایک بکاؤ مال کی طرح ٹی وی اسکرینوں پر نیلام ہو رہا تھا۔
زلیخا نے ہسپتال کی کھڑکی سے باہر پھیلے نیلے آسمان کی جانب دیکھا اور خدا کو دل ہی دل میں پکارا:۔
”اے خدا! تو کہاں ہے؟ ہم مائیں بے بس ہیں، تو تو نہیں! اے خالق و مالکِ کُل، ہم پہ رحم کر دے۔ ہمیں سکینت عطا کر اور ان ظالموں سے تو ہی نبٹ سکتا ہے؛ ان کو معافی کی توفیق مت دینا"۔۔۔
اس کی روح سے نکلنے والی یہ دعا کسی تیر کی طرح فضا کو چیرتی ہوئی اوپر چلی گئی۔ اسی لمحے ایک مانوس، لرزتا ہوا ہاتھ اس کے نڈھال کندھے پر آ کر ٹک گیا۔ یہ اس کا شوہر تھا، جس کی آنکھیں سرخ تھیں اور چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا سفید کپڑا تھا—یہ اس کے بچے کا کفن نہیں، بلکہ اس راکھ کا ایک حصہ تھا جو انتظامیہ نے "بچے کی باقیات" کہہ کر اس کے حوالے کی تھی۔
"زلیخا۔۔۔ چلو،" اس کے شوہر کی آواز جیسے کسی گہری غار سے آ رہی تھی، "یہاں اب ہمارا کچھ نہیں رہا۔"
زلیخا نے زمیں سے اٹھنے کو کوشش کی؛ لیکن اس کے قدم زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ اس نے راکھ کی اس ننھی پوٹلی کو اپنے سینے سے اس طرح بھینچ لیا جیسے نو ماہ تک اسے اپنی کوکھ میں چھپا کر رکھا تھا۔ ہسپتال کے دروازے سے باہر نکلتے ہوئے، جب تیز دھوپ اس کے چہرے پر پڑی، تو اس کی سوچوں کو شاید نوشی گیلانی نے پڑھ لیا؛ جن کی نظم کی آخری سطریں کسی ابدی حقیقت کی طرح گونجیں:"۔
مَیں تِری پیاسی، تِری منتظر ماں تجھ کو آواز کہاں سے دوں گی؟ تُو کہ اب تک کسی نادیدہ فضا کا ہے مکیں؛ اور مَیں درد کے اس پار کھڑی تجھ کو چھونے کی تمنا میں جلی جاتی ہوں!"۔
وہ درد کے اس پار کھڑی تھی، لیکن اب اس کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں آنسوؤں کی جگہ ایک ابدی سکون اور انصاف کا وہ انتظار تھا، جو زمین کے خداؤں سے نہیں، بلکہ عرشِ بریں کے مالک سے ہونا تھا۔ ہسپتال کے پیچھے سورج ڈھل رہا تھا، مگر ان ماؤں کے دلوں میں لگی آگ کبھی بجھنے والی نہیں تھی۔
یہ الفاظ ”نو مولود اجسام- اُجڑی مائیں۔ فرعون مزاج حاکم “ محض کچھ الفاظ نہیں ہیں"—یہ پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ کا وہ سفاکانہ منظر ہے جہاں معصوم زندگیاں انتظامیہ کے تاریک دل اور مکروہ غفلت کی لگی آگ میں بھسم ہو گئیں۔ یہ کیسا ظلم ہے کہ انسانی زبان گنگ اور عقل حیران رہ گئی ہے؛ کسی قصور اور غلطی کے بنا ہی ان اجلے چہروں پر ہسپتال کے نظام کا سیاہ پن چھا گیا۔ ہسپتال کی جلتی دیواریں تو شاید وقت کے ساتھ دوبارہ رنگ دی جائیں، لیکن متاثرہ ماؤں کی آنکھوں اور ذہنوں میں یہ منظر اب ہمیشہ کے لیے تاریک رہے گا۔ اس بدترین بے حسی اور لاچاری کے عالم میں انسان تڑپ کر پکار اٹھتا ہے کہ
زمین و عرش کے مالک خطا معاف مگر
یہ خطہ تیرے تصرف میں اب نہیں لگتا
( کاظم خان)
نوشی گیلانی "پیاسی ماں کی نظم"۔ 💔
مَیں نے دیکھا تو نہیں ہے تِرا اُجلا چہرہ
پھر بھی آنکھوں میں تصور تیرا
اس طرح ٹھہرا ہوا رہتا ہے
جس طرح کویٔ شبِ ظلمت میں
چاند کے خواب دِکھاۓ خود کو
سچ کے آداب سِکھاۓ خود کو
تجھ کو سوچوں تو مہکتی ہے وفا کی خوشبو
اور ہونٹوں پہ سُلگتا ہے دعا کاجادو
تیرے ہر قطرۂ خوں کے صدقے
حرف و معنی کے صنم خانے میں
ایک تنویرِ فسوں زندہ ہے
ایک تصویرِ جنوں زندہ ہے
ایک تحریرِ سکوں زندہ ہے
مَیں نے دیکھا تو نہیں ہے تیرا اُجلا چہرہ !۔
نی مائے
اسیں جیون تو پہلے موئے
جھنڈ لتھی نہ چھلا نہایا
تیرے دودھ دا مزہ نہ پایا
ستیاں سڑ گئے نویں نروئے
نی مائے
اسین جیون تو پہلے موئے
نوں مہینے مینوں سانبھدی رہی
پولے ہولے پل پل پالدی رہی
رج کے چیکے نہ اسیں روئے
نی مائے
اسیں جیون تو پہلے موئے
جمنوں پہلے مار دیندی تے چنگا سی
لمبواں آگے نہ سٹدی تے چنگا سی
اسی لوں لوں سئر کے کوئلہ ہوئے
نی مائے
اسیں جیون توں پہلے موئے
خالد محمود رسول
Count Geonor is one of the first major challenges in Path of Exile 2, and for good reason....
all protect security solutions in maryland