Muhammad Asif Raza 1 month ago
Muhammad Asif Raza #education

"میں کتاب نہیں پڑھتا۔"

The colonial educational system left behind by the British Raj was never meant to breed thinkers or researchers; its sole intent was to manufacture loyal clerks and mental slaves. True Education is Rare. We have spent decades forcing our youth into a blind race for grades, turning books into burdens rather than pathways to consciousness. If we want to save the generations to come (Gen Alpha and beyond), we must dismantle our obsolete educational frameworks today. This write up in Urdu"میں کتاب نہیں پڑھتا۔" is a fictional story about the results of educational system enforced for decades.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


"میں کتاب نہیں پڑھتا۔"

یہ جملہ کسی سڑک چھاپ یا ان پڑھ شخص کا نہیں بلکہ چار دہائیوں تک سرکار کی غلام گردشوں میں چلنے والے ایک چالو پرزے کی زبان سے ادا ہوا تھا، جو آج ایک اعلیٰ عہدے پر بیٹھ کر ملک کی قسمت کے فیصلے کرتا رہا تھا۔

احمر کو اس کی بات سن کر ذرا بھی حیرت نہیں ہوئی تھی۔ کیوں کہ اس کو اچھی طرح یاد تھا کہ خود اس کے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے دنوں میں سب سے آباد جگہ کینٹین اور سب سے اجاڑ جگہ لائبریری ہوا کرتی تھی۔ احمر خود ایک اعلیٰ اسکول اور کالج سے فارغ التحصیل ہوا تھا، اور چالیس سالوں میں اس کے سامنے اس کے ساتھی کن کن منزلوں سے گزر کر کن کن عہدوں پہ فائز ہوئے—وہ سب اچھی طرح جانتا تھا۔

اسے یاد تھا کہ لائبریری کی الماریوں پر جمی مٹی اور وہاں کی خاموشی گواہ تھی کہ اس نظام سے جڑنے والے طالب علموں کا مقصد کبھی عقل کی پرورش تھا ہی نہیں۔ اس باکمال افسر شاہی کے پرزے نے بھی ساڑھے چار دہائیاں قبل اسی اجاڑ لائبریری کے سامنے سے منہ موڑ کر خراماں خراماں کینٹین کا رخ کیا تھا، جہاں ڈگری نامی "کاغذ کے ٹکڑے" کو حاصل کرنے کی ترکیبیں لڑائی جاتی تھیں۔ وہ نظامِ تعلیم، جو انگریز سرکار نے برصغیر کے انسانوں کو ذہنی غلام اور وفادار کلرک بنانے کے لیے چھوڑا تھا، اس نے اپنی ڈیوٹی پوری ایمانداری سے نبھائی۔ اس نظام نے ہمیں ایسے گدھے فراہم کیے جنہوں نے فیسوں اور اسائنمنٹس کا بوجھ تو اٹھایا، مگر علم کے فہم سے ہمیشہ دور رہے۔

وہ جہان دیدہ لڑکے کم عمر ہی سے زندگی کی "حقیقت" سے آشنا تھے۔ وہ صرف اتنا پڑھتے تھے جو امتحان کے درجے کے قابل ہوتا تھا۔ کچھ ساتھیوں کی مدد، کچھ استاد کی مہربانی اور پھر ابا کا نام اور مقام کامیابی کی کنجی رہی تھی۔۔۔ سو سب اچھا رہا۔ کتاب میں یہ علم کب دیا جاتا ہے؟ یہ تو عملی زندگی کا راستہ ہوتا ہے، جو گھر کے عالی شان ڈرائنگ روم سے شروع ہو کر، جمخانہ کلب اور دفتروں کی پوشیدہ گردشوں میں سکھائی جاتی تھی۔۔۔ جو ان سب نے وقت سے پہلے ہی سیکھ لی تھی۔ کتاب بھلا یہ سب کب سکھاتی؟ اب عقل و خرد اور فہم و ادراک کی پرورش سے ان کو کیا حاصل ہوتا؟

لیکن ان سب چالو پرزوں کو دیکھ کر احمر کے دل میں ایک گہری حیرت جاگتی ہے کہ یہ کیسے انسان ہیں؟ کیا یہ واقعی وہی ’ابنِ آدم‘ ہے جس کی عظمت اور رفعت کا نقشہ کھینچتے ہوئے حکیم الامت علامہ اقبال یوں گویا ہوئے تھے:

کوئی سمجھا میرے شکوے کو تو رضوان سمجھا

مجھے جنت سے نکالا ہوا انسان سمجھا


کس قدر مضحکہ خیز تضاد تھا! جس انسان کا درد اور شکوہ فرشتوں کا سردار سمجھتا تھا، آج اس کی کُل معراج سرکار کی فائلوں پر سرخ روشنائی پھیرنا، پلاٹوں کی فائلیں اکٹھی کرنا اور ڈیسک کے نیچے سے رزق بٹورنا رہ گئی ہے۔ جس نے کائنات کو مسخر کرنا تھا، اس نے اپنی روح کا سودا صرف اندھی دولت کمانے کے عوض کر دیا، جبکہ دولت کمانا کبھی انسان کا حقیقی مقصدِ حیات ہو ہی نہیں سکتا۔

اس دن احمر اپنے اسی پرانے ساتھی کی دعوت پہ اس کے پاس گیا تھا۔ اس نے اسے خاص طور پر بلایا تھا کیونکہ ایک انتہائی حساس معاملے پہ اس کی رائے لینی تھی۔ کرسی پر نیم دراز ہوتے ہوئے موصوف نے بڑے رازداری سے احمر کو بتایا کہ انہیں اوپر سے ایک بڑا اہم ٹاسک ملا ہے؛ انہیں ایک جامع منصوبہ تیار کرنا ہے کہ کیسے اس ملک کے پورے نظامِ تعلیم کو بہتر اور جدید بنایا جائے۔

اس سنجیدہ گفتگو کے دوران، احمر نے معاملے کی گہرائی کو سمجھتے ہوئے تعلیمی اصلاحات پر لکھی گئی ایک عالمی معیار کی کتاب کا ذکر چھیڑ دیا۔

احمر کی بات ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ سامنے بیٹھے افسرِ اعلیٰ نے قہقہہ لگایا، کرسی پر پوزیشن بدلی اور بڑے مان سے بولا:۔

"یار احمر! تجھے تو پتہ ہے کہ 'میں کتاب نہیں پڑھتا'۔۔۔ ساری زندگی کسی نہ کسی کے تیار کردہ شارٹ نوٹس پڑھ کر ہی تو یہاں تک پہنچا ہوں!"۔

احمر نے گھومنے والی کرسی پر بیٹھے اس "افسرِ اعلیٰ" کو دیکھا، جس کی فائل کے پیچھے چھپی نظریں صرف نئے نوٹوں کی چمک پہچانتی تھیں، اور دل ہی دل میں سوچا کہ جب تک یہ ڈرائنگ رومز اور کلبوں کے پالے ہوئے، تیار نوٹس پر پلنے والے چالو پرزے ہمارے تعلیمی نظام کے مسیحا اور فیصلہ ساز بنے رہیں گے، تب تک یہ ملک علم کی پیاس رکھنے والی جنریشن زی کا درد کبھی نہیں سمجھ پائے گا۔ جو خود کتاب کے نور سے عاری ہے، وہ بھلا اگلی نسل کی عقل کی پرورش کیسے کرے گا؟

احمر نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے اور گفتگو کا بھرم رکھنے کے لیے بڑے احتیاط سے کہا: "چلو یار، ایسا کرتے ہیں کہ ایک کمیٹی بنا لیتے ہیں۔ اس میں کچھ سمجھدار لوگوں کو شامل کر لیتے ہیں، اور اجتماعی ذہانت سے، باہمی مشورے کے ساتھ اس حساس موضوع پہ غور کر لیتے ہیں۔"۔


اس تجویز پر موصوف نے ایک اور زوردار قہقہہ لگایا اور بولے:۔

مائی ڈیر احمر؛ آج کہنے کو سینکڑوں افسران کارِ سرکار میں مصروف ہیں؛ سب ہی اپنے تئیں موتی ہیں؛ نگینے کی طرح ہیں؛ مگر قحط الرجال کا وہ عالم ہے کہ ڈھونڈنے سے بھی گدڑی کا لعل نہیں ملتا؛ علم و دانش کی حد یہ ہے کہ ایک کنسلٹنٹ ہائر کرلینگے اور وہ شعبدہ باز کہیں سے کیس اسٹدی اٹھاکر نوک پلک ٹھیک کرکے پیش کردینگے۔۔۔ آپ دیکھ رہے ہو کہ غیر ترقیاتی اخراجات انہی اللے تللوں میں خرچ ہوتے ہیں"۔۔۔

اب یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس حالات کے جبر تلے دبی اس نئی اور تیز رفتار نسل کے دکھ کو سمجھنے کی نہ تو فکری توفیق ہے اور نہ ہی عقل۔ یہ بیوروکریسی اس جنریشن زی کا درد کیسے سمجھے گی جو ڈگریوں کے سراب سے نکل کر ڈیجیٹل دنیا میں اپنی بقا کی جنگ خود لڑ رہی ہے؟ ہم نے بحیثیت قوم اس نسل کو کچھ نہیں دیا، مگر کمال یہ ہے کہ اس نئی دنیا میں رزق کمانے کے لیے ان کے روایتی روکھے دماغ کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اگر یہ نااہل فیصلہ ساز اس نسل کو کچھ دے نہیں سکتے، تو کم از کم ان کا راستہ تو نہ روکیں! انہیں ہائی سپیڈ انٹرنیٹ اور آزادی سے سوچنے کا موقع دیں، یہ دنیا سے جڑ کر اپنا رزق خود ڈھونڈ لیں گے۔

لیکن اصل فکر جنریشن الفا کی ہے، جس کے لیے ہمیں بغیر ایک لمحہ ضائع کیے اس پورے تعلیمی ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ کتاب کو رٹے اور بوجھ کے بجائے علم کا راستہ بنانا ہوگا۔ معلومات انٹرنیٹ پر مفت ملتی ہے، اسے پڑھانے کی ضرورت نہیں؛ ضرورت بچوں کو گریڈز کی جنگ سے نکال کر ان میں ادراک، فہم اور عقل کو بیدار کرنے کی ہے تاکہ وہ دوبارہ "جنت سے نکلے ہوئے انسان" بن سکیں، نہ کہ سرکاری مشینوں کے پرزے۔

جب تک ہم کتاب کو بوجھ سے نکال کر عقل کا نور نہیں بنائیں گے، سرکار کی غلام گردشوں میں ایسے ہی "کتاب نہ پڑھنے والے" پرزے چھائےرہیں گے؛ جو پوری قوم کو اندھیرے کی طرف ہی دھکیلتے جائیں گے۔ اپنے تعلیمی نظام کو کتاب پڑھنے اور علم سے فہم و ادراک کی تخلیق کو معیار سے معطر کرنے کے لیے اب بہت محنت کرنی پڑے گی۔


0
145

Guida al Benessere e alla Salute: Trattamenti per il Peso, la Caduta d...

defaultuser.png
rxitalia
21 minutes ago

Litigation Melbourne

defaultuser.png
Pera Lawyers
32 minutes ago

Innovations in Cannulated Bone Screw Systems for Percutaneous Fixation

The evolution of minimally invasive orthopedic surgery has driven remarkable advances in c...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocLZhtrIAuxboAiBi7v0m2T4bz1moia-8SGyZmsOAQRpmp6HZ_U=s96-c
johnmin ren
3 hours ago

Advanced Cortical Bone Screw Technology in Modern Orthopedic Surgery

Orthopedic surgery continues to evolve with innovative fixation technologies that improve...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocLZhtrIAuxboAiBi7v0m2T4bz1moia-8SGyZmsOAQRpmp6HZ_U=s96-c
johnmin ren
3 hours ago

CrownX.com.pk: Exploring Android Games, Mobile Apps, and Digital Enter...

CrownX.com.pk: Exploring Android Games, Mobile Apps, and Digital Entertainment in Pakistan

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocL4RBl0Kl5Snp6FjS2lL_-xxwmJr_AAiEoRRcUteUwxXC-ZbA=s96-c
Seo Agency
5 hours ago