Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. The Throne of Jamshid symbolizes worldly power, grandeur, and material empire—things that fade away with time. In contrast, the legacy of the pen represents knowledge, wisdom, ideas, and indelible marks that endure for centuries. This story in Urdu "'مٹی کا پتلا: تخت جمشید یا وراثتِ قلم " is about the the power of pen and struggle of men of letters.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
تخت جمشید اور قلم کا وارث ؛ مٹی کا پتلا
برطانوی راج کا دور تھا، جب پورا برصغیر غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس تاریک دور میں کچھ ایسے دیوانے بھی تھے جن کے پاس نہ توپیں تھیں نہ تلواریں، لیکن ان کے پاس ایک ایسا ہتھیار تھا جس سے وقت کے جابر حکمران بھی کانپ اٹھتے تھے—اور وہ تھا "قلم"۔
انہیں سرپھروں میں ایک نام بابو کرم بخش مِنا کا بھی تھا۔ وہ ایک ایسے سچے صحافی اور شاعر تھے جن کی رگوں میں آزادی کا لہو دوڑ رہا تھا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ گورے حکمران عوامی حقوق کو پامال کر رہے ہیں، تو انہوں نے مولانا ظفر علی خان کے ساتھ مل کر روزنامہ 'زمیندار' کو اپنا مورچہ بنا لیا۔ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے قلم سے گوروں کو آئینہ دکھاتے تھے اور وہ سوال کرتے تھے جن کا جواب دینے سے سلطنتِ برطانیہ کتراتی تھی۔
وقت کے ڈکٹیٹروں کو یہ سوال چبھے، تو انہوں نے بابو کرم بخش کو مولانا ظفر علی خان کے ساتھ جیل کی اندھیری کوٹھڑیوں میں بند کر دیا۔ انہوں نے جیل کی سختیاں کاٹیں مگر کبھی ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے قید میں رہ کر بھی اپنے جذبات کو پنجابی شاعری کا روپ دیا، اور ان کی کتاب "اُڈیکاں" (انتظار) آزادی کے متوالوں کے لیے ایک مشعلِ راہ بن گئی۔
پھر وہ وقت بھی آیا جب قائداعظم محمد علی جناح نے تحریکِ پاکستان چلا کر انگریزوں سے آزادی اور ہندوؤں سے بٹوارا حاصل کیا۔ لاکھوں جانوں کے نذرانے دیے گئے تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں عوام کا راج ہو۔ لیکن افسوس، پاکستان تو آزاد ہو گیا، مگر یہاں کی حکمران اشرافیہ کے ذہن غلام ہی رہے۔ انگریز چلے گئے، لیکن اپنی جگہ ایک ایسا نظام اور ایسے جانشین چھوڑ گئے جنہوں نے اس پاک دھرتی پر اپنا ناجائز قبضہ جما لیا۔ ملک کبھی حقیقی معنوں میں عوامی راج کے تحت آ ہی نہ سکا۔ یہاں جمہوریت کے نام پر ظلم، جبر اور ڈنڈے کا راج قائم رہا۔۔
چند سال پہلے جب ملک میں "چارٹر آف ڈیموکریسی" (میثاقِ جمہوریت) کا چاند چمک رہا تھا، تو عوام کی آنکھوں میں امید کی ایک نئی کرن جاگی تھی۔ لگا تھا کہ اب ڈنڈا راج ختم ہوگا، آئین کی بالادستی ہوگی، اور شہریوں کو ان کے حقوق ملیں گے۔ لیکن وہ چاند بھی جلد ہی مصلحتوں کے بادلوں میں چھپ گیا۔ اشرافیہ نے صرف اپنے چہرے بدلے، اپنے مفادات نہیں بدلے؛ اورغریب عوام کے لیے ڈنڈے اور جبر کا وہی پرانا نظام برقرار رکھا۔ جو بھی اس اشرافیہ کے سامنے سر اٹھاتا یا اس چمکتے چاند کے پیچھے چھپے اندھیروں پر سوال اٹھاتا، اسے اسی طرح کچلنے کی کوشش کی جاتی جیسے کبھی انگریز کیا کرتے تھے۔
بابو کرم بخش کے بعد اس وراثت کو ان کے بیٹے نے سنبھالا۔ انہوں نے اس بدلی ہوئی شکل کے ظلم کے خلاف بھی مصلحت کے آگے سر جھکانے کے بجائے اصولوں کی جنگ لڑی۔ مزاحمت، جرات اور حق گوئی—یہ سب کچھ رحمت چوہدری کو اپنے خون اور ورثے میں ملا تھا، جو دادا سے باپ اور پھر باپ سے بیٹے تک ایک مقدس امانت کی طرح منتقل ہوا تھا۔
برسوں گزر گئے۔ وہ قید کرنے والے گورے اور پرانے ڈکٹیٹر تاریخ کے قبرستان میں ایسے دفن ہوئے کہ آج ان کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔آج کے اس بدلے ہوئے دور میں بھی، تاریخ نے خود کو ایک بار پھر دہرایا۔ بابو کرم بخش مِنا کا پوتا، رحمت چوہدری، جو پیشے کے اعتبار سے ایک صحافی تھے، اسی اشرافیہ اور ڈنڈے کے راج کے سامنے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا تھا۔ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کی کوشش کرتے رہتے تھے اور عملی طور پر لوگوں میں ادراک و شعور جگاتے تھے۔ ان کا قصور بھی وہی پرانا تھا—وہ اپنے دادا اور باپ کی طرح سچ بولتے تھے، اشرافیہ کی غلامی سے انکار کرتے تھے اور سوال کرتے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فخر سے کہا: "آگہی کو فروغ دیتا ہوں، یہی میری انتہا پسندی ہے!" وقت کے منصفوں نے انہیں دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
جب رحمت چوہدری کو عدالت سے باہر لایا گیا، تو اس کے چہرے پر نہ کوئی خوف تھا اور نہ ہی کوئی پشیمانی۔ اس کے چہرے پر ایک پروقار مسکراہٹ تھی اور حوصلہ آسمان جتنا بلند تھا۔ اس نے اپنے اردگرد موجود پریشان چہروں کو دیکھا اور جیسے اس کی آنکھوں نے خاموشی سے کہا: "یہ مشکل وقت ہے، گزر جائے گا"۔
وہاں کھڑے لوگوں کو اچانک یاد آیا کہ تاریخ کا ایک قانونِ فطرت ہے جو کبھی ٹل نہیں سکتا۔ ظلم، جبر اور ڈنڈے کا راج جتنا بھی مضبوط دکھائی دے، اسے ایک دن مٹنا ہی ہوتا ہے۔ جابر اور ڈکٹیٹر آتے ہیں، اپنی طاقت کا فرعونی مظاہرہ کرتے ہیں اور مٹی میں مل جاتے ہیں، لیکن جو لوگ حق، سچ اور مظلوموں کے لیے جیل کی سختیاں جھیلتے ہیں، تاریخ ان کے نام کو سنہرے حروف سے لکھ کر ہمیشہ کے لیے امر کر دیتی ہے۔ رحمت چوہدری کا بلند حوصلہ اس بات کا ثبوت تھا کہ دادا کا قلم آج بھی زندہ ہے اور اس کی وراثت کبھی نہیں مر سکتی۔
تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے سرمایہ دار، جابر حکمران اور فرعون صفت نظام (ساغرِ جم) جب ٹوٹتے ہیں تو تاریخ کے قبرستان کا حصہ بن جاتے ہیں۔ لیکن زمین سے جڑے عام لوگ (جامِ سفال / عوام) ہمیشہ حق و سچ کا ساتھ دیتے ہوئے ہر دور میں قائم رہتے ہیں۔ اس لیے عام آدمی کو خود کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے؛ اصل طاقت مٹی (عوام) کے پاس ہے۔
"رب تینوں قلم دیتا؛ اینے ظلم نہ لکھ ماہیا"
تختِ جمشید دنیاوی طاقت، جاہ و جلال، اور مادی سلطنت کی علامت ہے، جو وقت کے ساتھ مٹ جاتی ہے۔ دوسری طرف وراثتِ قلم علم، حکمت، نظریات، اور انمٹ نقوش کی علامت ہے، جو صدیوں تک زندہ رہتی ہے۔
تاریخ کا سبق بالکل واضح ہے۔ تختِ جمشید جیسے عظیم الشان محلات آج صرف کھنڈرات ہیں۔ اور اس سے جڑے وہ شان و شوکت والے شاہان آج عبرت کی کہانیاں ہیں۔ مادی طاقت انسان کو ہمیشہ کی زندگی نہیں دے سکتی۔ دوسری جانب جن لوگوں نے علم، انسانیت، اور قلم کو اپنی وراثت بنایا، ان کے افکار آج بھی دنیا کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ مٹی کے پتلے حضرت آدم کی اولاد کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ عارضی چمک دمک کا انتخاب کرتا ہے یا مستقل اثرات [صدقہ جاریہ] پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے۔
قدرت اور تاریخ کے قوانین سے لاپروائی برتنے والی قومیں اور افراد ماضی کا حصہ بن کر عبرت کا نشان بن جاتے ہیں۔ فیصلہ ہمیشہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے کہ وہ مٹی کا ایک فانی پتلا بن کر رہنا چاہتا ہے یا اپنے نیک اعمال اور علم کے ذریعے امر ہونا چاہتا ہے۔
رحمت چوہدری قلم کا وارث تھا؛ قلم سے جڑا رہا تھا؛ اور قلم کی روایات کو تابندہ کرتا رہا، جیسا اس کے دادا نے کیا تھا۔ خدا جب کسی کو لکھنے کی طاقت دیتا ہے، تو یہ ایک بہت بڑی آزمائش اور ذمہ داری ہوتی ہے۔ قلم کا کام ظلم کی حمایت کرنا یا اس پر خاموش رہنا نہیں، بلکہ حق اور سچائی کو عام کرنا ہے۔ قلم سے لکھا ہوا ایک ایک لفظ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے، اس لیے قلم کار رحمت چوہدری نے قلم کی حرمت کا پرچم بلند رکھا اور انصاف اور انسانیت کا ساتھ دیا تھا۔
ہر دور کا جابر اور ظالم نہیں جانتا کہ تاریخ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گی، کیونکہ یہ طاقت کے نشے میں تاریخ کا سبق کبھی نہیں سیکھتے۔ قلم والا جو خرد اور ادراک کو جگاتا ہے، وہ صدیوں زندہ رہتا ہے؛ جیسے سقراط زہر کا پیالہ پی کر بھی آج تک پکارا جاتا ہے اور تاریخ اسے ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔