مطمئن زندگی کیا ہے؟
The human beings are a special creation and humans have shown that specialty in many ways and means. The life in this world is temporary and human life is a struggle through phases and success is defined in life hereafter. The human being are full of potential and whomsoever draws strength to live a life of contentment lives happily. This write up "مطمئن زندگی کیا ہے؟" is an opinion about the same.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
مطمئن زندگی کیا ہے؟
زندگی کیا ہے، اور کسی انسان کے لیے مطمئن زندگی کا حصول کیسے ممکن ہے؟ یہ ایک موضوع ہے جس پر فلسفہ کی کتابیں لکھی گئی ہیں؛ اورعقل والوں نے علم ودانش کی موتی بکھیر رکھے ہیں۔ مگر زندگی صرف کتابوں میں دی گئی نصیحتوں سےاچھی نہیں گذرتی۔ اور تجربہ بتاتا ہے کہ ایک گروہِ انسان ایسا چلتا پھرتا جیوت ملتا ہے جو ایک کسی علم و دانش کے خزانے سے مستفید ہوئے بغیر ہی مطمئن زندگی گذارتا ہے۔ واقفان حال کہتے ہیں ایسے لوگ سادہ زندگی گزارتے ہیں اور قناعت پسند ہوتے ہیں۔
کسی مفکر نے فرمایا ہے کہ "مطمئن زندگی کامیاب زندگی سے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ کیونکہ ہماری کامیابی کا تعین دوسرے لوگ کرتے ہیں جبکہ اطمینان کا تعین ہماری اپنی روح، دل اور دماغ کرتے ہیں"۔ یہاں مطمئن زندگی اور کامیاب زندگی کا فرق سمجھنا ضروری ہے۔ کامیاب زندگی انسان خواہشوں؛ ارادوں اور خوابوں کی تعبیر سے حاصل ہوتی ہے۔ مگر بہت سے انسان یہ جان کر حیران رہ جاتے ہیں کہ ان کی ساری کامیابی انکی تقدیر تھی اور انہوں نے جو بہت کچھ حاصل کیا؛ وہ تقدیر کا لکھا ہوا تھا۔
اللہ سبحان تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ
قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ.۔۔۔
کہہ دو؛ ہمیں تو صرف وہی چیزیں پہنچیں گی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ رکھی ہیں۔ وہی ہمارا مددگار ہے، اور مومنوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے.(سورۃ التوبہ (9:51))
حضرت جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) کی روایت کردہ حدیث کے مطابق، آقا کریم رسول اللہ محمد (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ہے کہ " رزق کی تلاش میں عاجز نہ بنو، کیونکہ جب تک بندہ اپنی روزی کو مکمل نہ کر لے، اسے موت نہیں آے گی۔ اس لیے حلال طریقے سے رزق طلب کرو اور حرام سے بچو"۔ (مستدرک حاکم)
سادہ طرز ِزندگی اسلامی معاشرت اور نظام ِ حیات کا امتیازی پہلو ہے۔ تعلیماتِ نبویؐ اور اُسوۂ رسولﷺ اس حوالے سے ہمارے لیے مثالی اورلائقِ تقلید نمونہ ہے۔ اور زندگی میں سادگی قناعت پسندی کے بغیر ممکن نہیں؛ تو پھر قناعت کیا ہے؟ قناعت کا مطلب ہے جو کچھ بھی میسر ہو اس پر راضی رہنا اور اس پر شکر ادا کرنا۔ اسے انگریزی میں "کنٹنمنٹ" کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی خوبی ہے جس کی وجہ سے انسان مشکل حالات میں بھی خوش رہ سکتا ہے اور اللہ کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔ قناعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کوشش کرنا چھوڑ دے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ انسان جو کچھ حاصل کر چکا ہے اس پر خوش رہے اور مزید کی خواہش میں بے سکون نہ ہو۔
قناعت کی صفت سے متصف ہونے والا قانع کہلاتا ہے۔ ایسا شخص صابر، شاکر اور تھوڑے پر صبر و شکر کرنے والا اور ﷲ کی عطا میں راضی رہنے والا ہوتا ہے وہ بلا وجہ مفروضی رنگینیوں میں نہیں پھنستا بلکہ موجود اشیاء سے مطمئن رہتا ہے۔ شکر اور قناعت کا بہت ہی گہرا تعلق ہے۔ شکر یہ کہنے اور سننے میں نہایت ہی چھوٹا سا لفظ ہے لیکن اپنے معنی و مفہوم کے لحاظ سے بہت وسیع ہے۔ ہم پر ﷲ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی ہر چھوٹی بڑی نعمت پر شکر کرنا لازم و واجب ہے۔
قرآن میں ارشاد باری تعالٰی ہے کہ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ (سورہ ابراھیم: ۷)
اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گااور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے ۔‘‘
جو شخص زندگی میں اطمینان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے؛ وہ ضرورت کے مطابق خرچ کرتا ہے اور جو حاصل ہوتا ہے؛ اس پر خوش رہتا ہے۔ یہ صفت تب حاصل ہوتا ہے جب انسان بلاوجہ کی خواہشات نہیں پالتا؛ جتنی چادر ہوتی ہے، اتنے پاوں پھیلاتا ہے؛ اپنے سے پیچھے اور کم تر کو دیکھ کر سبق لیتا ہے، ﷲ کے کسی نعمت کو کمتر اور حقیر نہیں جانتا اور ہر نعمت پر ﷲ کا شکر ادا کرتا ہے۔ ایک باعمل مسلمان مطمئن ہوتا ہے کیونکہ اسے اپنے آقا رسول اللہ محمدﷺ کا فرمان یاد رہتا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ہے کہ "اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہو، اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہو، اس طرح امید ہے کہ تم ﷲ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو گے۔” (سنن ابن ماجه : 4142)
جدید طرزِ حیات کا ستم
آج سے چار دہائی قبل جب بندہ اسکول میں پڑھتا تھا تو گھر کے راستے میں واپسی پر ایک برکت ہوٹل پڑتا تھا؛ جہاں مزدور پیشہ افراد دوپہر کا کھانا کھاتے ہوئے دیکھے۔ وہ تندور کی روٹی، دال کے ساتھ کھاتے تھے اور ڈھیر سارا پیاز بھی ساتھ ہوتا تھا۔ المونیم کے جگ میں کنواں کا پانی پیا کرتے تھے۔ وہیں ٹرانسسٹر ریڈیو پر فلمی نغمے بھی نشر ہورہے ہوتے تھے۔ مجھے اس جگہ کھانا کھاتا ہوا ہر فرد خوش اور مطمئین دکھتا تھا۔ عجب سادگی اور خوشحالی تھی کہ سب ہی بلند آہنگ میں گنگناتے تھے اور اونچی آواز میں گفتگو کرتے ہوئے ایک دوسرے کو چھیڑتے رہتے تھے۔
انہی سالوں میں بندہ گرمیوں کی چھٹیوں پر ننھیال گاوں جاتا کرتا تھا۔ اس وقت ہمارے گاوں کی زندگی خوب سادہ اور خوشحال تھی۔ لوگ کھیتوں میں فصل اگاتے تھے؛ باغوں میں پھل اگاتے تھے؛ نہر کے کنارے کسی گھںے درخت؛ جو برگد؛ پیپل یا نیم ہوتا تھا؛ کے نیچے چارپائی رکھ لیتے تھے اور باہم گپ شپ لگاتے تھے۔ ریڈیو بھی ساتھ ساتھ چلتا ہوتا تھا۔ پھر گاوں کی زندگی کو شہر کی ہوا لگ گئی اور کفران نعمت نے گھیر لیا۔ کفرانِ نعمت؛ اللہ تعالی سے بغاوت ہے اور باعثِ زوال ہوتا ہے(آدمی کا اصل زوال حیاتِ اخروی کی ناکامی ہے)۔
جدید طرزِ زندگی میں معیارِ زندگی کے نام پر آسانی اور فراوانی کے نام پر انسانیت کو نفس کا غلام بنادیا گیا ہے۔ روٹی کپڑا مکان نے ہوس کا لبادہ اوڑھ لیا ہے اور میرا گھر؛ میری گاڑی اور میرا سوشل نیٹورک کا عذاب ہم پر نافذ ہوگیا ہے۔ "ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں" کی دوڑ ہے اورانسانوں کا ایک جم غفیر بگٹٹ بھاگا جارہا ہے۔ اور آقا کریم محمدﷺ کی ایک حدیث کے مطابق خوفناک انجام کی جانب رواں دواں ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’اگر ابنِ آدم (آدمی) کے پاس مال و جائیداد سے بَھرے ہُوئے دو میدان اور دو جنگل ہوں، تو وہ تیسرا اور چاہے گا، اور آدمی کا پیٹ تو بس (قبر کی) مٹّی سے بَھرے گا، اور اللہ توبہ کرنے والے پر توجّہ اور عنایت فرماتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری و مسلم)- سرورِکائنات ﷺ کا یہ ارشادِ گرامی ایک ایسی صداقت اور ابدی حقیقت ہے، جو روزِ حشر تک فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔
مطمئن زندگی کا راز
لیفٹنٹ جنرل محمد ہارون اسلم نے "میری ڈائری" سے ایک اقتباس ٹویٹ کیا ہے؛ وہ لکھتے ہیں کہ "سالوں پہلے میں ایک ذیر تعمیر پروجیکٹ کا دورہ کر رہا تھا۔ دوپہر کے کھانے کے وقفے کے دوران ایک مزدور ، جو لگ بگ پچپن سال کا ہو گا، فرش پر لیٹا ، ٹانگ پر ٹانگ رکھے سگرٹ کے کش لگا رہا تھا۔ مجھے اس شخص کے انداز سے لگا جیسے وہ دنیا کا مطمئن ترین فرد ہو۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور جا کر حال چال پوچھا۔ میں نے کہا کہ “کھینچ کے سوٹا لگا رہے ہو - لگتا ہے بڑا سرور آ رہا ہے “۔ وہ ہنسا اور اس نے پنڈیوال زبان میں جواب دیا؛ "صاحب جی سرور کیوں نہ آئے۔ دو روٹیاں پیاز کے ساتھ کھائی ہیں؛ ٹھنڈا پانی پیا ہے اور پھر سگریٹ لگایا ہے۔ اور اللّٰہ سے کیا چاہیئے"۔
یہ تھی رزق حلال کی طاقت اور قناعت پسندی"۔
عزیزان گرامی قدر؛ مطمئن زندگی اشیاء میں نہیں ہے؛ بلکہ رزقِ حلال، قناعت اور صبر و شکرگزاری میں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہم نے ایک زندگی بغاوت میں گذاری ہو مگر اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ چنانچہ استغفار کا سفر شروع کریں یہی عروج کا آغاز ہے۔ یاد رکھیے کہ مسلسل استغفراللہ ہی نجات کا راستہ ہوتا ہے اور الحمدللہ انعام یافتہ بندوں کا ورد ہے۔ حیاتِ ارضی تو محض متاع الغرور ہے اور عمرِ مستعار میں متاعِ دنیا کی کھوج یا لذات دنیا کی چاہ، صرف جدوجہدِ فضول ہے۔ شہوات کی چاہ ایک ایسا بھنور ہے کہ جو اس میں پھنسا، اس کا بچنا مشکل ہوجاتا ہے۔
مطمئن زندگی کا مطلب ہے خوشی، اطمینان اور مقصدِ حیات کا تعین؛ یہ ایک ایسی زندگی ہے جس میں فرد اپنی زندگی کو بامعنی سمجھتا ہے۔ خوشی عارضی جذبہ ہوتا ہے؛ اور اطمینان ایک گہرا احساس ہے جو زندگی کے بارے میں مجموعی طور پر ہوتا ہے۔ مطمئن انسان اپنی زندگی سے خوش ہوتا ہے اور اپنی زندگی کے بارے میں مجموعی طور پر اچھا محسوس کرتا ہے۔ اور اپنے خالقِ حقیقی کی حاکمیت اعلی کے تحت زندگی کو بسر کرنے کے احساس کے ساتھ گذارتا کرتا ہے۔ یہی رازِ زندگی ہے جو پاگیا وہ کامیاب ہوا۔
کسی بجھکڑ نی کہا ہے کہ ’’جب آپ کی اپنی ذات میں سکون ہوتا ہے تو آپ باہر کی دُنیا میں بھی سکون پھیلاتے ہیں، آپ دُنیا کو وہی دیتے ہیں جو آپ کے اپنے اندر ہوتا ہے۔ جب آپ اپنی روح اوراپنے نفس کو پہچان لیتے ہیں تو آپ ہر کسی کے نفس اور روح کو پہچان سکتے ہیں۔ تب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ سب کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش آنا دراصل ایک قدرتی عمل ہے‘‘۔