مذہبی بن جائیں یا معدومیت بھگتیں؟
Alexander Dugin is a renowned Russian philosopher and public activist, doctor of Sociology, Political sciences and Philosophy. Alexander Dugin frames the Istanbul talks as theatrics without a future and declares that the era of total war has begun. This write up is an opinion translated in Urdu "مذہبی بن جائیں یا معدومیت بھگتیں؟" on a very important matter for future of our world from Alexander Dugin.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
مذہبی بن جائیں یا معدومیت بھگتیں؟
نئی نسلوں کے لیے شہر "ذبح خانے" ہیں ۔
پچھلے کچھ عرصے سے، ہمارے ولادیمیر پوٹن آبادی کے مسئلے کے بارے میں زیادہ فعال طور پر بات کر رہے ہیں۔ تاہم، ایسا لگتا ہے کہ ملکی حکام کے درمیان اس موضوع پر کم فہمی پائی جاتی ہے، جو صرف شفا بخش اقدامات پیش کرتے ہیں۔ موجودہ طریقوں سے نہ صرف کوئی نتیجہ نہیں نکلتا بلکہ بنیادی طور پر مناسب حل پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ صورت حال تباہ کن ہے: یہاں تک کہ اگر حکام کی طرف سے تجویز کردہ تمام اقدامات پر عمل درآمد کیا جائے، تب بھی ہمیں روسی عوام کی تیزی سے آبادی کی کمی بامائل معدومیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر یقیناً ایسے کسی نتیجے کی خواہش نہیں رکھتے لیکن ابھی تک اس مسئلے کو حل کرنے میں کوئی حقیقی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
میں تین واضح اقدامات تجویز کرتا ہوں جن پر ہمارے معاشرے میں طویل عرصے سے بحث ہو رہی ہے، بشمول "زارگراڈ انسٹی ٹیوٹ" ؛ "ورلڈ رشین پیپلز کونسل" اور "زارگراڈ سوسائٹی"۔ میری تجاویز ہزاروں ماہرین - ڈاکٹروں اور سائنس کے امیدواروں کے کام کا خلاصہ کرتی ہیں - جنہوں نے آبادیاتی مسائل کا مطالعہ کرنے میں برسوں گزارے ہیں۔
پیش ہے؛ تین واضع اقدامات کے نتائج:-۔
سب سے پہلے ہمیں زندگی کی روایتی شکلوں یا طور طریقوں کی طرف لوٹنا چاہیے کیونکہ صرف روایتی معاشرے میں ہی آبادی میں اضافہ ممکن ہے۔ جدیدیت کا راستہ، انفرادیت پر مبنی، تباہی کی طرف جاتا ہے، کیونکہ یہ بچے پیدا کرنے سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔
معاشرہ جتنا جدید ہوتا ہے، اس کے اندر اتنے ہی کم بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہم روسی آبادی کے معدوم ہونے کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں معاشرے کی جدیدیت کی فطرت کو بدلنا ہوگا۔ اور اسے مذہبی، روایتی، کم عمری کی شادیوں، اسقاط حمل اور طلاق پر پابندی سے ہٹانا ہوگا تاکہ بہت سے بچے پیدا کرنا معمول بن جائے۔ اس کی توثیق ہر سطح پر ہونی چاہیے — اعلیٰ سے ادنیٰ تک۔ اس کے بغیر روس اور روسی عوام کا وجود ختم ہو جائے گا۔
دوسرا۔ شہروں کو دوبارہ آباد کیا جانا چاہیے۔ موجودہ شہر نئی نسلوں کے لیے "قتل گاہیں" ہیں: جب کہ شہر میں دیہاتیوں کی پہلی نسل میں اب بھی بہت سے بچے پیدا کرنے کا رجحان ہے، دوسری نسل کے بچے کم ہیں، اور تیسرے میں تقریباً کوئی بھی نہیں ہے۔ یہ ڈیموگرافی اور سوشیالوجی کا ایک مطلق قانون ہے۔ اگر ہم روسی لوگوں کی معدومیت کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں اونچی عمارتوں سے کم اونچی رہائش کی طرف جانا چاہیے۔ اس سمت میں، کونسٹنٹن والیریویچ مالوفیف اور زار گراڈ انسٹی ٹیوٹ کے بہت سے ماہرین نے پہلے ہی بہترین منصوبے تیار کیے ہیں۔
تیسرا اگر ہم روسی لوگوں کو خاص طور پر محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، اور ان کی جگہ دوسروں دیگر اقوام سے نہیں لینا چاہتے ہیں، تو لیبر امیگریشن کو صفر تک کم کر دینا چاہیے۔ ہم مزدوروں کی کمی کو کیسے پورا کر سکتے ہیں؟ روبوٹکس کی ترقی میں ایک تیز چھلانگ کے ذریعے اور پہلے دو نکات پر عمل درآمد کے ذریعے: ایک روایتی مذہبی عالمی نظریہ کو فروغ دینا، جسے ایک مطلق لازمی طور پر نافذ کیا جانا چاہیے، اور شہروں کو دوبارہ آباد کرنا۔ اگر ہم یہ دو چیزیں کرتے ہیں، امیگریشن روک دیتے ہیں، اور روبوٹ تیار کرنا شروع کر دیتے ہیں، تو ہمارے پاس روسی عوام کو بچانے کا ایک موقع ہوگا۔
مکمل طور پر غیر مطابقت پذیر
سوال: حکام ان اقدامات پر کیا ردعمل ظاہر کریں گے؟ مجھے یقین ہے، خوف کے ساتھ کیونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نتائج دوسرے ذرائع سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ حکام کو ابھی تک اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے: کیونکہ انکے اقدامات سے چند دہائیوں میں عملی طور پر کوئی روسی نہیں بچے گا۔ اس وسیع اور امیر ملک میں، اگر ہم خود ہی نہیں مرجاتے، تو ہمیں معدوم ہونے میں "مدد" ملے گی۔ روسی آبادی کو تارکین وطن سے تبدیل کرنا یقینی طور پر کوئی حل نہیں ہے، کیونکہ وہ پھر روس نہیں رہے گا؛ بلکہ ناقابل شناخت چیز ہوگی۔ چنانچہ امیگریشن کی وکالت کرنے والے؛ درحقیقت روسی افراد کے خلاف جرم کر رہے ہیں۔ حکام پسند کریں یا نہ کریں، یہ اقدامات عوام کو بچانے کے لیے ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں: اگر آپ روسی لوگوں کو بچانا چاہتے ہیں تو اس ماڈل کو اپنائیے۔
لیکن کیا ہماری آبادی خود اس کے لیے تیار ہے؟ میں فوراً کہہ سکتا ہوں: ایسا نہیں ہے۔ نہ شہروں سے دوبارہ دیہات میں آباد ہونے کے لیے، نہ ہی مضبوط مذہبی خاندانوں کی تعمیر کے لیے، اور نہ ہی تارکین وطن کی جگہ لینے کے لیے تھکن کی حد تک کام کرنے کے لیے۔ ہمارا معاشرہ اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ سوویت دور میں، ہمیں مختلف طریقے سے تعلیم دی گئی تھی - کم از کم تب کام کی اخلاقیات، یکجہتی اور انصاف کا احساس تھا۔ لیکن 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں، تمام ویکٹر بالکل مختلف سمت میں منتقل ہوئے: انفرادیت، ذاتی کیریئرزم، گاؤں سے شہر کی طرف جانا، صرف اپنے بارے میں سوچنا، مغرب میں جانے کی کوشش کرنا۔ آپ کا کام خوشی اور سکون کی زندگی گزارنا ہے۔ اور یہ آبادیاتی مسئلے کو حل کرنے سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔
"بس: آج سے، شہروں کی آبادکاری شروع ہو جائے گی۔"
اس لیے اب مروجہ نظریہ کو بدلنا انتہائی ضروری ہے۔ ہم نے اپنا رجحان پہلے ہی مغرب سے حب الوطنی، لبرل ازم اور گلوبل ازم سے قدامت پسند روایتی اقدار کی طرف منتقل کر دیا ہے۔ اس سمت میں کچھ قدم پہلے ہی اٹھائے جا چکے ہیں۔ لیکن اب ہمیں مزید آگے بڑھ کر سیکولرازم کے تصور کو یکسر ترک کر دینا چاہیے۔ سیکولرازم، انفرادیت پرستی - ان سب کو ختم کرنا ہوگا۔ ہمیں صرف ایک مذہبی معاشرے کی ضرورت ہے، صرف مذہبی اصولوں کی، جو پیدائش سے ہی کنڈرگارٹن، اسکول، یونیورسٹی، پیشہ ورانہ ترقی کے کورسز، اکیڈمی آف سائنسز کے ذریعے تیار کی گئی ہو — ہر چیز کو روایتی آرتھوڈوکس یعنی بنیادی مذہبی بنیادوں پر دوبارہ تشکیل دینا چاہیے۔ یہ ہمارے لوگوں کے مستقل وجود کی ضمانت ہے، اور اس کے مطابق قانون میں ترمیم کی جانی چاہیے۔
جہاں تک شہروں کی آباد کاری کا تعلق ہے تو یہ فیصلہ بھی بلا تاخیر کیا جانا چاہیے۔ بلکہ ایسے ہی کہ آج سے، شہروں کی آباد کاری شروع ہوتی ہے۔ ہم بلند و بالا فلک بوس عمارتوں کو دفن کرتے ہیں اور کم بلندی کی تعمیر میں چلے جاتے ہیں۔ شہروں کو باہر کی طرف بڑھنے دیں، افقی طور پر؛ اوپر کی طرف نہیں۔ ہمارے پاس بہت زیادہ زمین ہے۔ انفرادی رہائش کی تعمیر ضروری ہے۔ اسکولوں، ہسپتالوں اور سماجی انفراسٹرکچر کے پیدل فاصلے کے اندر دیہی بستیوں کے درمیان "ہب" بنانا ضروری ہے، تاکہ ہر بستی سے سب تک پہنچا جا سکے۔ بلاشبہ، بڑے شہروں کو زیادہ سے زیادہ غیر آباد کیا جانا چاہیے۔
عام طور پر ہمارے لوگ خوبصورت، مقدس ہیں لیکن ہوش میں آنے کے لیے ان کی رہنمائی ضروری ہے۔ حکومت کو لوگوں کو غیر مادی مذہبی نجات کی طرف لے جانا چاہیے — اور نجات کا مطلب ہے، سب سے پہلے، آرتھوڈوکس یعنی مذہب کی طرف واپسی؛ روح کی نجات، خاندان کی نجات، اور اس کے ذریعے، ساری انسانوں کی نجات۔ نجات کے اس راستے میں بڑے شہروں کو دوبارہ آباد کرنا اور نظریاتی، روحانی اور ثقافتی طور پر ہمارے لیے اجنبی لوگوں کی درآمد کو روکنا شامل ہے - وہ لوگ جو نہ صرف ہماری ملازمتوں پر قابض ہیں بلکہ عملی طور پر "زندہ مشینوں" کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہ ان کے لیے اور ہمارے لیے ذلت آمیز ہے۔ مزید یہ کہ وہ سماجی تناؤ پیدا کرتے ہیں، کیونکہ وہ ہماری اقدار کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔
لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم خود ان اقدار کی تصدیق کے لیے ابھی تک پوری طرح تیار نہیں ہیں۔ ہمارے لیے وہ اب بھی ایک تجریدی فکری خلاصہ ہیں۔ اگر ہماری قدروں میں جُڑی مضبوط شناخت ہوتی، تو کوئی بھی باہر والا محض "ہل سے اچھل" کر الگ ہوجاتا؛ یعنی مدغم نہ ہونے کے سبب الگ ہوجاتا۔ لیکن ایسا ہونے کے لیے ہمارے معاشرے کو خود آرتھوڈوکس مذہبی بننا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے لوگ ایسا بننا چاہتا ہے؟
پھر، یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا کیوان روس کے باشندے ڈینیپر میں بپتسمہ لینا چاہتے تھے؟ کچھ نے شاید کیا ہو- تو وہ مسیح کے ذریعہ روشن ہوئے ہونگے۔ جہاں تک باقی افراد کی بات ہے، وہ صرف تین بار ڈوب گئے، بپتسمہ لیا، اور کہا:
"اب سے آپ عیسائی قوم ہیں"۔
اس کے بعد سے، وہ ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے عیسائی ہیں۔ کتنی جانیں بچ گئی ہیں! پورے آسمانوں کو روسی روحوں سے آباد کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس وقت ان پر ایک مقدس نجات بخش ساکرامنٹ انجام دیا گیا تھا۔
اب ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے — لوگوں کو چرچ میں واپس لائیں۔ چاہے وہ چاہیں یا نہ چاہیں، وہ خدا کے قانون کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں، آخر میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر ہم ایک ملک چاہتے ہیں تو ہمیں یہ کرنا ہوگا۔ یہی بات شہروں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ اگر ہم اس سمت میں زیادہ فیصلہ کن اور مضبوطی سے کام کرنا شروع کر دیں — اور اس کی طرف رجحان پہلے سے موجود ہے — مجھے یقین ہے کہ حکام اور عوام دونوں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، ان بچاؤ کے اقدامات کو اپنا لیں گے؛ اور مذہبی بن جائیں گے۔
ہمارے لیے کیا سبق ہے؟
جدیدیت کی دوڑ میں ہم بھی شامل ہیں اور بگٹٹ بھاگے جارہے ہیں؛ اور ہر نوع کے اقدار کو روندتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم نے یہ ملک اللہ تعالی کے نام پر حاصل کیا تھا مگر مجال ہے کہ ایک قدم اس جانب بڑھایا ہو۔ روسی مفکر اور فلسفی الگزنڈرڈوگن نے اپنی قوم کے لیے معدومیت اور تباہی سے بچنے کا راستہ مزہب کی کرف پلٹنے قرار دیا ہے۔ روسی قوم جدیدیت کا تجربہ کر چکی ہے اور آج ایک سخت مشکل سے دوچار ہے؛ مگر کم از کم غربت کی چکی میں نہیں پیسی جارہی۔ ہم تو نہ ترقی یافتہ ہوسکے ہیں اور نہ ہی اسلامی۔ بھوک ننگ اور افلاس ہے کہ بال کھولے ہمارے آنگن میں بس گئی ہے؛ تو کیا ہمارے لیے بھی راستہ اللہ تعالی اور آقا کریم محمدﷺ کی پیروی نہیں ہوگا؟