ہمت مرداں مدد خدا
We humans are special creation and there is a lot of science about our own physical, mental and psychological being. The history of the world is full of humans successes and failures. The great human beings like leaders, scholars, intellectuals and poets have always advocated for persistence, resilience, and optimism in the face of adversity. This write up in Urdu "ہمت مرداں مدد خدا" is about "Don't Quit" message and has been arranged for educational purposes.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
ہمت مرداں مدد خدا
یہ کہاوت "ہمت مرداں، مدد خدا" ایک نہایت حوصلہ افزا ضرب المثل ہے؛ جس کا مطلب ہے کہ جو انسان محنت اور جدوجہد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسی کی مدد فرماتا ہے۔ مشکلات میں عزم اور مستقل مزاجی سے قدم بڑھانے والوں کے لیے یہ ایک بہترین اور آزمودہ اصول ہے۔ اس ضرب المثل کا خلاصہ یہ ہے کہ "عمل شرط ہے"؛ یعنی کامیابی کا دارومدار انسان کی اپنی کوشش پر ہے۔ اور پھر "خدائی تائید" کی امید حق ہے کہ جب انسان اپنی مدد آپ کرتا ہے تو قدرت بھی اس کے راستے ہموار کر دیتی ہے۔ اللہ تعالی نے قران الحکیم کے ذریعے ہر بشر یعنی انسان کو یقین دلایا ہے کہ کسی ہمت کا علم تھامے انسان کی سعی لاحاصل نہیں ہوگی۔اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ
وأن ليس للإنسان إلا ما سعى
یہ سورۃ النجم (آیت 39) کا حصہ ہے، جس کا مکمل ترجمہ یوں ہے کہ "اور یہ کہ انسان کے لیے نہیں ہے مگر وہی کچھ جس کی اس نے کوشش کی (عمل کیا)۔"
سورۃ النجم ہی کی آیت 24 میں ایک سوال کیا گیا ہے کہ ”کیا انسان کو وہی کچھ مل جائے گا جس کی وہ تمنا کرے گا ؟“۔ اور آیت 39 کا یہ جواب ہے کہ "اور یہ کہ انسان کے لیے نہیں ہے مگر وہی کچھ جس کی اس نے سعی کی ہوگی۔“ انسان کو محنت اور کوشش کا رویہ اپنانا ہوگا کیونکہ محض خواہشوں اور تمنائوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا؛ اور کامیابی صرف اور صرف سعی مسلسل سے حاصل ہوگی۔ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہانسان کو اپنی کامیابی کے لیے پورے یقین سے مسلسل جدوجہد کرتے رہنا چاہیے اور اگر ایسا کیا تو حقیقی کامیابی ہمیشہ اس کے قدم چومے گی۔ یہ قرآن کا وعدہ ہے۔
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
مندرجہ بالا قرآنی اصول کے مطابق ہر شخص کو صرف اپنے ہی نیک اعمال، محنت اور جدوجہد کا پھل اور اجر ملے گا۔ [ اعمال بد سے صرف لذات دنیا حاصل ہوسکتے ہیں جو اُخروی سفر کا زادِ راہ نہیں ہوگا]۔ یہ آیت انسان کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور کامیابی کے لیے مسلسل محنت کرنے کا درس دیتی ہے۔علامہ محمد اقبال کے اوپر کے شعر کا مفہوم اور پیغام انتہائی جامع ہے، جو زندگی کی مشکلات اور کامیابیوں کا راز بیان کرتا ہے۔
یقینِ محکم: اپنے مقصد، نظریہ اور ذات پر پختہ ایمان و یقین جو کبھی متزلزل نہ ہو۔
عملِ پیہم: بغیر رکے، مستقل اور لگاتار محنت اور جدوجہد۔
محبت فاتحِ عالم: ایسی خالص محبت جو انسانوں کے دل جیت لے اور دنیا مسخر کر لے۔
علامہ اقبال کے نزدیک، زندگی ایک مسلسل جنگ یا امتحان ہے۔ اس "جہادِ زندگانی" میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے تلوار یا ہتھیاروں کی اتنی ضرورت نہیں، جتنی ان تین روحانی و عملی ہتھیاروں کی ہے۔ یہ صفات ہی دراصل انسان کی وہ اصل قوت (شمشیریں) ہیں جن سے وہ ہر کٹھن مرحلہ سر کر سکتا ہے۔
اردو زبان کا ضرب المثل " ہمت مرداں مدد خدا" ایک جامع پیغام ہے اور اردو ہی کے ایک شاعر جناب خالد رحیم نے ایک بہت خوبصورت اور حوصلہ افزا شعر کہہ رکھا ہے؛ جو کچھ یوں ہے کہ
ہمت نہ کبھی ہار نہ مایوس ہو خالدؔ
کوشش کی بدولت ہی سنورتے ہیں مسافر
واہ! کیا خوب فرمایا ہے؛ خالدؔ صاحب کا یہ شعر واقعی مایوسی کے اندھیروں میں امید کی ایک شاندار کرن ہے۔ کوشش، محنت اور مسلسل جدوجہد ہی وہ واحد راستہ ہے جو کسی بھی مسافر کی منزل کو آسان اور اس کے سفر کو شاندار بناتا ہے۔ کامیابی انہی کے قدم چومتی ہے جو مشکلات کے سامنے ہمت نہیں ہارتے۔ اردو ادب کے مشہور شاعر خواجہ حیدر علی آتش نے بھی زندگی کے سفر کے لیےایک خوبصورت شعر کہہ رکھا ہے۔ جس کا پیغام یہ ہے کہ اگر انسان عزم اور حوصلے کے ساتھ نکل کھڑا ہو، تو راستے میں مشکلیں پیش نہیں آتیں، بلکہ منزل کی جانب بڑھنے کے لیے بے شمار سہولیات اور ہمدرد مل جاتے ہیں۔
سفر ہے شرط، مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے
خواجہ حیدر علی آتش نے اسی غزل کے مقطع میں تو بات ہی عجب کہدی جب کہاکہ
تھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل، نہ ٹھہر آتشؔ
گل مراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے
اس شعر میں عزم و استقلال کا درس دیا گیا ہے۔ شاعر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سفر کی مشکلات اور تھکن کے باوجود رکنا نہیں چاہیے۔ اگر چلتے چلتے پاؤں تھک جائیں تو منزل تک پہنچنے کے لیے سر کے بل چلنا پڑے تو بھی گریز نہ کرو، کیونکہ کامیابی اور مقصد کا حصول (گُلِ مُراد) آگے منزل میں ہی موجود ہے، جبکہ راستے کی رکاوٹیں عارضی ہیں؛ خواہ خار ہی کیوں نہ ہوں؛ بلکہ ہونگی۔ اور آتش نے استاد ہونے کا حق ادا کا کہ اسی غزل کے ایک اور شعر میں ہو کہا کہ
عدم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں
نہ کوئی شہر نہ کوئی دیار راہ میں ہے
اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو اس دنیا کی زندگی میں ہی اپنی آخرت یا موت (کوچِ عدم) کی تیاری کر لینی چاہیے۔ دنیا سے عالمِ آخرت کے سفر میں کوئی پڑاؤ، شہر یا منزل نہیں آتی، اس لیے انسان کے پاس جو بھی وقت اور زادِ راہ ہے، وہ یہی دنیاوی زندگی ہے۔ اور جو انسان شوقِ زندگی میں راستے کی مشکلوں سے گھبرا رہا ہو مگر چلتا رہے اور کبھی ہمت نہ ہارے تو اپنی منزل تک پہنچ جائے گا۔
ترے شوق میں جو چلا جا رہا ہے جو رستے کی مشکل سے گھبرا رہا ہے
کبھی اپنی منزل پہ جا ہی رہے گا مگر شرط یہ ہے کہ ہمت نہ ہارے
جوشؔ ملسیانی
دو چار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا
اس مضمون کا قاری یہ نہ سمجھ لے کہ کہ زندگی کی راہ میں مشکلات اور ناکامیاں نہیں ملیں گی۔ زندگی کا سفر میں راستے گل و گلزار کا سفر ہی نہیں رہتا بلکہ متعدد ناکامیاں بھی ہوسکتی ہیں۔
انسان کی بدقسمتی سے کبھی کبھار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ جہد مسلسل میں مگن انسان اپنی منزل (لبِ بام یا چھت کے کنارے) کے بالکل قریب پہنچ کر ناکامی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ساری محنت اور کوشش کے باوجود، منزل صرف چند قدم کی دوری پر رہ جاتی ہے، جس پر انسان اپنی قسمت کا ماتم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایک شاعر جناب قائم چاند پوری کا شعر اس کی عکاس کرتا ہے۔
قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا
قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند
کچھ دُور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا
زندگی کے سفر میں ناکامیاں اگر دامن پکڑ لیں تو اوپر کا قرآنی اصول یاد رکھیں اور اپنے رب تعالی سے جڑجائیں۔ اور جب انسان کو اپنے رب پر بھروسہ ہو؛عزم پختہ ہو، لگن سچی ہو اور منزل تک پہنچنے کا شوق پیدا ہو جائے، تو راستہ خود بخود ہموار ہو جاتا ہے اور کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔ پھر چاہے فرد ہو یا کارواں، اپنی منزل تک ضرور پہنچتے ہیں۔ کیونکہ بلند حوصلے اور جذبے کے ساتھ سفر کرنے والوں کو مشکلات راستہ نہیں دکھاتیں، بلکہ ان کا اپنا عزم ہی منزل کی نشاندہی کرتا ہے۔ جناب عرشی بھوپالی نے اس بات کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ
خود آگے بڑھ کے قدم چومتی ہے منزل شوق
یہ کس نے راہ دکھائی ہے کاروانوں کو
بے شک خدائے پاک بڑا مہربان ہے
جناب تشنہ اعظمی بھی اردو زبان کے ایک شاعر ہیں اور اپنے ایک شعر میں اس طرح کا پیغام دیا ہے کہ ہر انسان کو زندگی میں یقیناً مشکلات کا سامنا ہوگا؛ لیکن اللہ سبحان تعالی کی رحمت پر بھروسہ اور صبر ہر کٹھن گھڑی کو آسان بنا دیتا ہے۔ چانچہ ہر بشر کو چاہیے کہ ہمت اور امید کا دامن تھامے رکھے۔ اللہ سبحان تعالی رحمن و رحیم ہے اور اس کی رحمت جہد مسلسل میں مشغول انسان کو کامیابی سے ہمکنار کراتا ہے۔
تشنہؔ تو مشکلات سے ہمت نہ ہارنا
بے شک خدائے پاک بڑا مہربان ہے
اس دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جوکاروان حیات میں عشق اور جنون کی کیفیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ رخت سفر باندھے منزل کےعشق میں مست اور دیوانے ہوتے ہیں، انہیں دنیاوی تیاریوں یا ساز و سامان (رختِ سفر) کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کائنات اور غیب کی مدد (نصرتیں) ہمیشہ ان کے قدم چومتی ہیں اور کامیابی ان کے راستے خود ہموار کرتی ہے۔ یہ دیکھیے کہ جناب صابر کمال نے اسے یوں بیان کیا ہے کہ
نصرتیں ان کے قدم چومتی رہتی ہیں سدا
ہے جو دیوانے کہاں رخت سفر رکھتے ہیں
بے شک! اللہ تعالی کی ذاتِ بابرکت کی رحمت اور مہربانی لامحدود ہے۔ وہ اپنے بندوں پر بے حد رحم کرنے والا اور انہیں مشکلات سے نکالنے والا ہے۔ ایک شعر ہے کہ "وہ کونسا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا؛ ہمت کرےانسان تو کیا ہو نہیں سکتا"۔ اس شعر کا پیغام ایک بہت ہی خوبصورت، حوصلہ افزا اور تاریخی حقیقت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان پختہ ارادہ کرلے اور مستقل مزاجی اختیار کرے، تو دنیا میں کوئی بھی ناممکن کام ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انسان ہمت اور حوصلے کی طاقت سے حوصلہ کرلے اور عزم مصمم باندھ لے؛ توتاریخ گواہ ہے کہ جب انسان نے کسی مشکل ہدف کو حاصل کرنے کی ٹھانی، تو راستے خود بخود بنتے گئے۔ محنت کش مٹی سے سونا نکال لیتے ہیں۔ کیونکہ مستقل محنت سے بنجر زمینوں کو سرسبز اور اندھیروں کو اجالوں میں بدلا جا سکتا ہے۔ اورمثبت سوچ سے کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہوتا، بس اسے کرنے کے لیے جذبے اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر کوشش کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
وہ بے ہمت ہیں جو ہر کام کو مشکل سمجھتے ہیں
آغا شاعر قزلباش
اللہ سبحان تعالی نے قرآن کی سورۃ الرعد میں فرمایا ہے کہ (’’اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَومٍ حَتّٰی یُغَیِّرُ مَا بِاَنْفُسِہِمْ‘‘ آیت 11) جس کا مفہوم ہے: "بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی اس حالت کو نہ بدل دیں جو ان کے اپنے دلوں (اور اعمال) میں ہے"۔ یہ آیت دراصل انسان کو عمل، تبدیلی اور ذمہ داری کا بنیادی اصول سکھاتی ہے۔ اور اِس آیتِ کریمہ کا ترجمہ علّامہ اقبال رحمہ اللہ علیہ نے یوں فرمایا:۔
؎خدا نے آج تک اْس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور ارادہ دیا ہے۔ کامیابی یا بہتری کے لیے پہل انسان کو خود کرنی پڑتی ہے۔ اگر کوئی معاشرہ یا فرد اپنی حالت (غربت، پسماندگی، یا اخلاقی زوال) بدلنا چاہتا ہے، تو اسے اپنی سوچ، نیت اور اعمال میں خود مثبت تبدیلی لانی ہوگی۔ یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اللہ کی مدد اور رحمت اسی قوم کا مقدر بنتی ہے جو خود جدوجہد اور محنت کے لیے تیار ہوتی ہے۔ ایک خوبصورت اور حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ انسان اپنےاندر ایک عزم اور توکل پیدا کرلے تو اسے چاہیے کہ پوری لگن اور محنت کے ساتھ میدان میں اترے، اور پر فرد کو حالات سے ڈرنے کے بجائے اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ جب انسان اپنی ہمت اور کوشش پوری کر لیتا ہے، تو مشکلات خود بخود حل ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اور یہی پیغام ہے "ہمت مرداں مدد خدا" کا۔ بے شک! اللہ تعالی پہ کامل یقین اور بھروسہ انسان کو حوصلہ اور جذبہ عطا کرتا ہے اور انسان کو مشکلات کے سامنے ڈٹ جانے اور آگے بڑھتے جانے کا درس دیتا ہے۔
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
میر انیس
ایڈگر البرٹ گیسٹ کی نظم "ہمت مت ہارو"۔
اب آخر میں انگریزی زبان کے شاعر جناب ایڈگر البرٹ گیسٹ کی نظم "ڈونٹ کویٹ" کا ترجمہ "ہمت مت ہارو" پیشِ خدمت ہے۔یہ مشہور نظم ہے جس میں انسان کو ثابت قدمی، لچک، اور زندگی کے ناگزیر چیلنجوں کے ذریعے مثبت ذہنیت کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ یہ زندگی کی ناگزیر مشکلات میں آگے بڑھتے رہنے کی ترغیب دیتا ہے، انہیں یقین دلاتا ہے کہ جب آپ ہار ماننے والے ہوتےہیں تو کامیابی اور فتح اکثر قریب ہی ہوتی ہے۔ زندگی میں ناگزیر "موڑ" آجاتے ہیں، لیکن ٹھہرنا، پھر لڑنا، اور مسلسل آگے بڑھنا انسانی کردار کی وضاحت کرتا ہے؛ جو اسے فتح دلاتا ہے۔
ایڈگر البرٹ گیسٹ کی نظم "ہمت مت ہارو"۔
جب معاملہ بگڑ جائے، جیسا کہ وہ کبھی کبھی بگڑ جاتا ہے؛
جب آپ کا راستہ، جس پر چل رہے ہوں، عمودی ہوجاتا ہے؛
جب جیب خالی ہو، اور قرض بھی بھاری ہوں؛
اور آپ مسکرانا چاہتے ہیں؛ لیکن آہ نکل جائے؛
جب تھکن آپ پر غالب آرہی ہو؛ اور آپ آرام کرنا چاہیں تو کیجیے؛ مگر ہار مت مانیں۔
[مقابلے سےدست بردار نہ ہوجانا؛ دل مت چھوڑنا]
زندگی میں کٹھن مرحلے اور موڑ کے عجائب تو آتے ہی ہیں؛
جس سے ہم میں سے ہر کوئی کبھی نہ کبھی سیکھتا ہے۔
اور بہت سے ساتھی اس وقت پھر جاتے ہیں، حالانکہ اس لمحے وہ جیت سکتے تھے؛ اگر وہ سفر میں جڑے رہتے۔
اگرچہ رفتار سست ہو؛ مگرہمت نہ ہاریں - آپکا ایک اور دھکہ کامیابی دلا دے گا۔
اکثر مقصد اس سے وقت قریب ہوتا ہے؛ جب ایک نیم بیہوش اور لڑکھڑاتا آدمی ہمت ہار جاتا ہے۔
اکثر جدوجہد کرنے والے نے اس وقت ہمت ہاری تھی؛ جب فاتح کا کپ پکڑ ایک ہاتھ کی دوری پر تھا۔
اوروہ بہت دیر سے سیکھا کہ رات پڑ گئی؛
جبکہ وہ سونے کے تاج کے کتنا قریب تھا۔
کامیابی ناکامی کے بطن سے برآمد ہوتی ہے؛ شک کے بادلوں کی چاندی کی جھلک ابھرتی ہے؛
اور جب آپ کبھی نہیں بتا سکتے کہ آپ کتنے قریب ہیں؛
یہ قریب ہو سکتا ہے جب یہ دور لگتا ہے؛
اس لیے جنگ جاری رکھو؛ خاص طور جب خوب مار پڑرہی ہو- یہ وہ وقت ہوتا ہے جب معاملہ بدترین لگتا ہے، تب آپ کو دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔
[مقابلے سےبھاگ نہیں جانا؛ ہمت مت ہارنا؛ جیت تمھاری ہوگی]