موسمِ گل میں مضطرب روحِ
Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Religion is a force multiplier for any believer of a religion. This story in Urdu " موسمِ گل میں مضطرب روحِ ؟" is about the explanation of the Iqbal's poem (تاتاری کا خواب" ) in his book "بالِ جبریل" with the help of other verses, keeping the main theme in focus along with the relevant time frame.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
موسمِ گل میں مضطرب روحِ ؟
سنہ ۱۸۵۷ء کی گرمیوں میں جب دہلی سے بہادر شاہ ظفر نے فرنگی غاصبوں کے خلاف جنگِ آزادی کا بگل بجایا، تو خان گڑھ کے مدرسے میں ایک ۲۴ سالہ نوجوان عالم، مولوی فضل حق، کے خون نے جوش مارا۔ علمائے کرام نے برصغیر کو 'دار الحرب' قرار دے کر جہاد کا فتویٰ جاری کیا، تو فضل حق نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر ظالم کے خلاف تلوار اٹھانے کی قسم کھائی۔
فضل حق کی شادی کو ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے۔ ان کی بستی کی پگڈنڈیوں پر ابھی ان کی دلہن کے مہندی لگے پاؤں کے نشان تازہ تھے اور وہ امید سے تھی۔ فضل حق نے روتی ہوئی اہلیہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، "اگر میں مٹ بھی گیا، تو میری مٹی سے حق کی گواہی دینے والا ہی پیدا ہوگا۔" جنگ کا انجام تلخ رہا۔ دیسی ریاستوں کی غداری اور فرنگی کی مہم جوئی نے مغل سلطنت کا چراغ گل کر دیا۔ مولوی فضل حق کو گرفتار کر لیا گیا اور تاجِ برطانیہ کی عدالت نے انہیں عبرت کا نشانہ بنانے کے لیے توپ کے آگے رکھ کر اڑا دیا۔ خان گڑھ کی فضا فضل حق کے گوشت اور خون سے سرخ ہو گئی، لیکن ان کی غیرت کا پیغام ہواؤں میں بکھر گیا۔
جب مولوی فضل حق کی شہادت ہوئی، تو ان کا بیٹا 'خدا بخش' چند ماہ کا تھا۔ اس نے اپنے باپ کا چہرہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ انگریزوں کے غیظ و غضب سے بچنے کے لیے اس کی بیوہ ماں نے ایک دور دراز گاؤں میں پناہ لی۔ خدا بخش نے انتہائی غربت، یتیمی اور چادر کی تنگی میں آنکھ کھولی۔ ماں نے دیسی چرخہ کات کر اسے بڑا کیا، لیکن لوریوں میں ہمیشہ باپ کی غیرت اور خان گڑھ کی مٹی کا قرض یاد دلایا۔
خدا بخش کے خون میں سچائی کی تلاش اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا مادہ وراثت میں شامل تھا۔ اس نے وقت کے ممتاز مدرسوں سے روایتی تعلیم حاصل کی، لیکن وہ روایتی، جمود کا شکار مولوی نہیں بنا۔ وہ جانتا تھا کہ مسلمانوں کا زوال معاشی کمزوری کی وجہ سے بھی ہے۔ اس نے مختلف شہروں کے بازاروں میں چھوٹے موٹے کاروبار کیے، محنت کی اور حلال رزق کمایا۔ جب بیسویں صدی کے آغاز میں ترکی پر زوال آیا اور خلافتِ عثمانیہ خطرے میں پڑی، تو خدا بخش کا سویا ہوا خون جاگ اٹھا۔ وہ 'تحریکِ خلافت' کا سرگرم کارکُن بن گیا، کیونکہ اقبال کی طرح اس کا دل بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے دھڑکتا تھا۔ ایک دن انگریز سرکار کے کٹھ پتلی نوابوں نے شہر میں ایک مصنوعی بلوا (فساد) کروایا۔ خدا بخش مسلمانوں کی دکانیں بچاتے ہوئے فرنگی پولیس کی گولی کا نشانہ بن گیا اور اپنے باپ کی طرح مٹی کا قرض چکا گیا۔
خدا بخش کی شہادت کے بعد، ان کا جوان بیٹا 'کرم علی' سرسید احمد خان کے قائم کردہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھا۔ یہ بیسویں صدی کا وہ نازک دور تھا جب برصغیر کے مسلمانوں کا کوئی مستقبل ظاہری طور پر نظر نہیں آتا تھا۔ مایوسی کی اس گھٹا ٹوپ رات میں، کرم علی کے ہاسٹل کے کمرے میں روشنی کا صرف ایک ہی منبع تھا—علامہ اقبال کا کلام۔
کرم علی کے سر پر ایک جنون سوار تھا، ایک ایسی تڑپ جو اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی۔ وہ راتوں کو جاگ کر برصغیر اور عالمِ اسلام کی زبوں حالی پر خون کے آنسو روتا۔ ایک رات، جب پورا ہاسٹل سو رہا تھا، کرم علی نے شمع کی دھیمی روشنی میں اقبال کی وہ رباعی پڑھی جس نے اس کے اندر صدیوں سے سوئے ہوئے تاتاری فاتح کو جگا دیا:۔
یکایک ہِل گئی خاکِ سمرقند
اُٹھا تیمور کی تُربت سے اک نور
شفَق آمیز تھی اُس کی سفیدی
صدا آئی کہ ’’مَیں ہوں رُوحِ تیمور‘‘
ان الفاظ کا پڑھنا تھا کہ کرم علی کے کمرے کی دیواریں جیسے غائب ہو گئیں اور اسے لگا کہ سمرقند کی خاک نہیں، بلکہ اس کے دادا مولوی فضل حق کی امانت اور اس کے باپ خدا بخش کی مٹی ہِل رہی ہے۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے فرنگی کی جیل میں توپ کے آگے اڑائے جانے والے دادا اور بازاروں میں تحریکِ خلافت کے لیے گولی کھانے والے باپ کی ارواح اس کے سامنے مجسم کھڑی کہہ رہی ہیں کہ "ہم مٹی ہو گئے، مگر تم اب بھی محصور ہو؟"
جب وہ اگلے مصرعوں پر پہنچا:۔
اگر محصُور ہیں مردانِ تاتار
نہیں اللہ کی تقدیر محصور
تو کرم علی کی آنکھوں سے مایوسی کے سارے آنسو خشک ہو گئے۔ اسے سمجھ آ گئی کہ فرنگی کی توپیں، برطانوی راج کی مادی طاقت اور نوآبادیاتی زنجیریں مسلمانوں کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ مادی اسباب مسلمانوں کے خلاف ہو سکتے ہیں، مگر کائنات کے مالک کی تقدیر کسی زنجیر کی محتاج نہیں۔ اس کا دل پکار اٹھا کہ اگر تاتاریوں کے صنم خانے سے کعبے کو پاسباں مل سکتے ہیں، تو ہم ہندوستان کے غلام مسلمان بھی مٹی سے اٹھ کر تقدیرِ جہاں بدل سکتے ہیں۔
لیکن اسے اپنے اردگرد موجود مسلمانوں کی آپسی نااتفاقی اور فرقہ واریت پر شدید دکھ ہوتا تھا، تبھی تو رباعی کا اگلا مصرعہ اس کے دل میں خنجر کی طرح پیوست ہو گیا:۔
تقاضا زندگی کا کیا یہی ہے
کہ تُورانی ہو تُورانی سے مَہجور؟
کرم علی نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کے زوال کی اصل وجہ یہ نسلی اور جغرافیائی عصبیتیں ہیں۔ اس نے قسم کھائی کہ وہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے اس لسانی اور نسلی تفریق کو مٹانے کے لیے اپنا تن من دھن قربان کر دے گا۔ اس کا رشتہ اب کسی زمین سے نہیں، بلکہ صرف کلمۂ توحید سے تھا۔
منزل کا پتا: ١٩٤٣ء کا جلسہ اور نعرہِ مستانہ
١٩٤٠ء کی قراردادِ لاہور نے جس کاروان کو راستہ دکھایا تھا، اب ١٩٤٣ء کے مسلم لیگ کے جلسوں تک وہ کاروان ایک بپھرے ہوئے طوفان کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ کرم علی پنڈال میں موجود تھا، جہاں لاکھوں مسلمان مادی اسباب سے بے نیاز، ایک غیر مرئی مقناطیسی طاقت کے زیرِ اثر اپنے قائد کے گرد جمع تھے۔ فرنگی نوآبادیاتی راج اپنی آخری ہچکیاں لے رہا تھا اور ہندو اکثریت کا تسلط سامنے کھڑا تھا۔
اسی دوران، جلسے کی تپتی ہوئی فضا میں، پنڈال کے ایک دور افتادہ کونے سے ایک نوجوان نے پوری قوت سے، اپنی روح کا سارا نچوڑ نکال کر نعرہ لگایا:۔
"پاکستان کا مطلب کیا؟"
یہ آواز جب کرم علی کے کانوں سے ہوتی ہوئی اس کے دل میں اتری، تو اسے لگا کہ یہ کوئی عام سیاسی نعرہ نہیں ہے، بلکہ یہ علامہ اقبال کے اس شعر کا الہامی ترجمہ ہے جو وہ راتوں کو جاگ کر پڑھا کرتا تھا۔ اس کے اندر کا خون مستانہ وار ابلا اور وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے، مجمعے کے سامنے دیوانہ وار بے اختیار چیخ پڑا:
"لا الٰہ الا اللہ، محمد رسول اللہ!"۔
بس پھر کیا تھا! دیکھتے ہی دیکھتے ١٩٤٣ء کے اس پنڈال کی زمین لرز اٹھی۔ کرم علی کے دادا مولوی فضل حق کی امانت، اور اس کے باپ خدا بخش کی مٹی کا قرض مٹنے کا وقت آ گیا تھا۔ اب ہر گلی, ہر کوچے، اور ہر جلسے کا ایک ہی نعرہ تھا اور کرم علی کا تو اوڑھنا بچھونا ہی یہی بن گیا: "بٹ کے رہے گا ہندوستان! بن کے رہے گا پاکستان!"
اس کے بعد کرم علی کا اٹھنا بیٹھنا 'پاکستان' بن گیا۔ جنون تو ایسا ہی ہوتا ہے! جب انسان اپنی خودی کو اللہ کی تقدیر سے جوڑ دیتا ہے، تو وہ زنجیروں کو نہیں دیکھتا، وہ صرف منزل کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ رات کے آخری پہر، جب وہ نماز کے لیے کھڑا ہوا، تو اس کی زبان پر اقبال کے وہ فارسی مصرعے ایک دعا بن کر جاری تھے جن میں اس کی روح کا پورا جنون سمٹ آیا تھا:۔
’’خودی را سوز و تابے دیگرے دہ
جہاں را انقلابے دیگرے دہ‘‘۔
وقت کا پہیہ گھوما، قربانیاں رنگ لائیں اور دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا جنم ہوا۔ کرم علی نے اپنی زندگی کے سارے سال، سارے دن اس ریاست کو دیے۔ ان کا ایک فلاحی ریاست بننے کا خواب تھا—دنیا اور مال و دولت بنانے کا نہیں۔ لیکن قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے اپنی ہی آنکھوں سے دیکھا؛ زمین پر قبضوں کا کھیل، اقربا پروری کا تماشہ اور رشوت ستانی کا بازار گرم تھا۔ کرم علی کے پاس تو رہنے کو اپنی جھونپڑی تک نہ تھی، انہوں نے پوری زندگی کرائے کے مکان میں گزر بسر کر دی، لیکن اپنی اولاد کو تعلیم دلانے کی جستجو میں ہمیشہ مگن رہے۔ ان کے دو بیٹے آگے چل کر سرکاری نوکری میں لگ گئے اور آسودہ حال ہو گئے۔ کرم علی نے اپنی زندگی کے آخری دن اس دھرتی کو "ریاستِ مدینہ ثانی" بنتے دیکھنے کی تمنا میں گزار دیے اور اسی نظریاتی دکھ کو دل سے لگائے ایک دن آنکھیں بند کر لیں۔
لیکن آج، اسی کرم علی کا پوتا 'احمد'، ۲۱ویں صدی کے پاکستان کی ایک عالی شان سڑک پر کھڑا ہے۔ وہ چوتھی نسل کا نمائندہ ہے جس نے نہ دادا کی توپ دیکھا، نہ باپ کی گولی، اور نہ ہی منٹو پارک اور ۱۹٤۳ء کے جلسوں کا وہ لازوال جنون۔ اس کے باپ دادا نے مادی ترقی تو کر لی تھی اور احمد ایک امیر گھرانے کا چشم و چراغ تھا، لیکن اس مادی آسودگی کے باوجود اس کے اندر ایک عجیب بے چینی تھی اور اقبال کی نشاندہی کا وہ تاتاری خون احمد کی رگوں میں ابلنے لگا تھا۔
ایک شام، احمد نے اپنے دادا کرم علی کی پرانی، دیمک زدہ ڈائری کھولی۔ اس میں پیلے پڑ چکے کاغذ پر علامہ اقبال کی وہی رباعی لکھی تھی اور نیچے کرم علی کے ہاتھ سے درج تھا: "ہم نے جغرافیائی آزادی پا لی، مگر اخلاقی اور ذہنی آزادی اب بھی باقی ہے..."۔۔
احمد نے جب ڈائری کے اگلے صفحے پر لکھا ہوا علامہ اقبال کا یہ مصرعہ پڑھا:۔
وقتِ فرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے!۔
تو اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے سمرقند کی خاک سے اٹھنے والی روحِ تیمور آج اس کے سامنے کھڑی اس کے وجود پر کوڑے برسا رہی ہو۔ اسے اپنے دادا کرم علی کا وہ نعرہِ مستانہ، ان کی مفلسی مگر نظریاتی غیرت یاد آئی، اور پھر اپنے اردگرد پھیلا ہوا زوال، اقربا پروری اور فکری جمود نظر آیا تو اس کا دل خون کے آنسو رو دیا۔
احمد کو سمجھ آ گئی کہ سفر تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا تھا۔ اس کے خاندان نے دنیا تو بنا لی تھی، مگر وہ خواب کھو دیا تھا جس کے لیے فضل حق توپ کے آگے بندھے تھے۔ آخر کب تک ہم اس غفلت میں رہیں گے؟ کیا ہمیں قبر میں جواب دہی کا خوف نہیں ہے؟ رات کے آخری پہر، احمد نے ڈائری بند کی، اس کی آنکھوں میں ندامت کے آنسو تھے مگر دل میں ایک نیا عزم تھا۔ اس نے اپنے دادا کرم علی کی طرح ہاتھ اٹھائے اور گڑگڑا کر وہی دعا مانگی جو اس پورے سفر کا نچوڑ تھی:
’’خودی را سوز و تابے دیگرے دہ
جہاں را انقلابے دیگرے دہ‘‘۔