موسم بہار کے تہوار اور سنگھار

The nature has bestowed us with four seasons; spring, summer, Autumn, Winter, and all of them have its own colours, sounds and vibes. The spring is considered as the season of rebirth, regrowth, and renewal. This write up in Urdu "موسم بہار کے تہوار اور سنگھار" is about celebrations of the nature and humans during the season of spring.

May 05, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

موسم بہار کے تہوار اور سنگھار

 

ہم جس زمین پر رہتے ہیں یہ کرہ ارض نظامِ شمسی کا واحد سیارہ ہے جس پر زندگی ہنس کھیل رہی ہے اور زندگی کا سب سے بڑا مظہر اولادِ آدم اس زمین پر نیرنگی کو بڑھا رہی ہے۔ ہماری زمین اپنے ستارے سورج دیوتا کا سیارہ ہے اور اس کے گرد رقص میں ہے اور ساتھ ساتھ خود اپنے محور میں بھی گھوم رہی ہے اور جھومتے ہوئے کبھی آگے کو جھکتی ہے اور کبھی پیچھے کو۔ ہماری زمین کا خود اپنے محور پر رقص سے دن بنتا ہے اور اپنے سورج کے گرد ایک طویل دائرے میں دیوانہ وار رقص سے سال وجود پذیر ہوتے ہیں۔ زمین کا اپنے محور پر رقص ایک دن کا ہوتا ہے اور سورج دیوتا کے گرد ایک چکر ایک سال میں پورا ہوتا ہے۔ اور یہ ایک سال 365-1/4 دن کے ہوتے ہیں۔ یہ سال آسمان پر زمین کے گرد گھومتے چاند اور آسمان پر نمودار ہونے والے ستاروں کی تقسیم سے 12 مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

 

 یہ زمین جب رقص کرتے ہوئے فضائے بسیط کے ایک ایسے حصے میں پہنچتی ہے جو بلند آسمانوں سے اترنے والے زندگی بخش رازوں کا حامل ہوتی ہیں تو زمین سیدھی ہوجاتی ہے [ اسے بہاریہ ایکوینوکس یا موسم بہار کا سماوی کہتے ہیں اور یہ 21 مارچ کو ہوتا ہے] اور ان رازوں کو وصول کرکے جھک کر شکر ادا کنے لگتی ہے تو شمالی کرہ ارض پر گرمیوں کو موسم آجاتا ہے اور جںوبی کرہ پر سردیاں۔ زمین ایک جانب تین ماہ جھکی رہتی ہے۔ سمر سولسٹیس 21 جون کو ہوتا ہے۔ اس دن کے بعد زمین پھر سے سیدھا ہونے لگتی ہے۔ چھ ماہ بعد یہی عمل پھر الٹایا جاتا ہے اور زمین خزاں کے موسم میں داخل ہوجاتی ہے۔ [ یہ خزاں ایکوینوکس یا موسم خزاں کا سماوی کہتے ہیں اور یہ 22 ستمبر کو ہوتا ہے]۔ موسم خزاں کا سماوی جھکاو اپنی انتہاء کو 21 دسمبر کو ہوتا ہے؛ جسے ونٹر سولسٹیس کہا جاتا ہے۔

 

ہماری زمین یا کرہ ارض پر زندگی ہنس کھیل رہی ہے خوب نیرنگی دکھا رہی ہے۔ مگر وقت کا گھوڑا کسی کے قابو میں نہیں اور وہ سرپٹ بھاگا جارہا ہے۔ وقت کبھی نہیں رکتا، اور اس وقت سے بندھا موسم بھی جو اس زمین کا زیور ہے اور اس کے حسن کو نکھارتا ہے۔ کبھی موسم بہار بن کر، پھر موسم گرما ہوکر یا برسات کی میگھا برس کر ہر طرف جل تھل کردیتا ہے اور سب طرف ہرا ہی ہرا ہوجاتا ہے۔اور پھر خزان کا موسم آن وارد ہوتا ہے تو عالم اشجار سب روپ سنگھار اتار کر برف کی چادر پہن لیتے ہیں اور خاموشی سے سرد موسم میں نئے مولود پنکھڑیوں کی آمد کا انتظار کرتے ہیں۔

 

کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ فطرت ہر سال ایک مستند منصوبےکے تحت ہمیں کیسے آتے جاتے موسموں سے نوازتی ہے؟ یہ قدرت کی فیاضی اس کرہ ارض پر ایک بے بہا نعمت ہے۔ اور یہ سارا معاملہ قدرت کی صناعی کا شاہکار ہے۔ عزیزانِ گرامی؛ موسم تو سارے خالق و مالک کُل کے بنائے ہیں اور اس نے کچھ بھی بے مقصد نہیں بنایا۔ جہاں بہت سے افراد موسم سرما کو پسند نہیں کرتے؛ وہیں ایک دنیا ہے جسے یہ موسم انتہائی حسین لگتا ہے اور وہ اسے خوب سراہتے ہیں۔ سورج کا طلوع اور غروب ہرموسم میں خوبصورت ہوتا ہے۔ سورج کی روشنی انسانوں کو نئے دن میں ایک نئی دنیا کی تلاش میں سرکرداں کرتی ہے۔ لوگ اپنی خوبصورت آنکھوں میں خواب بنتے ہیں اور موسم کوئی بھی ہو انکی تعبیر میں لگ جاتے ہیں۔ خواب کئی طرح کے ہوسکتے ہیں اور ایک خواہش اور تکمیل آرزو کسی بھی موسم میں کسی اپنے کے سنگ چہل قدمی بھی ہوسکتی ہے۔

 

موسم بہار یا تابستان منطقہ معتدلہ کے چار موسموں میں سے ایک ہے۔ [ جغرافیہ میں معتدل آب و ہوا زمین کے درمیانی عرض بلد پر وقوع پزیر ہے۔ اسے منطقہ معتدلہ بھی کہتے ہیں۔ منطقہ معتدلہ ، منطقہ حارہ اور منطقہ باردہ کا درمیانی منطقہ ہے]۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، موسم زیادہ تر زمین کے جھکے ہوئے محور کے ارد گرد کے عوامل کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ خاص آب و ہوا کے حالات سے ممتاز چار موسم ہیں۔ چار موسم؛ بہار، گرما، خزاں اور سردی؛ جو ایک دوسرے کی باقاعدگی سے پیروی کرتے ہیں۔

 

موسم بہار کے اوائل کی صبحیں خنک اور تازگی بخش بادِ صبا کے سنگ ہوتی ہیں؛ دوپہر کی دھوپ چمکدار ہوتی ہے لیکن اس میں ابھی چبھن نہیں ہوتی؛ شامیں سہانی ہوتی ہیں، جو انسانوں کو چہل قدمی پر اکساتی ہیں؛ اور راتیں خواب ناک ہوتی ہیں کہ جیسے جیسے رات ڈھلتی ہے خنکی بڑھتی جاتی ہے اور نیند گرم چادر سے لپٹ کر بےخود ہوجاتی ہے۔

موسم بہار کا سنگھار

  موسم بہار سے قبل ایک طویل سخت جاڑے کا موسم گذرا ہوتا ہے۔ موسم بہار جب شاندار طور پر متحرک ہوتا ہے تو بنجر درخت ایک ملین چھوٹے پھولوں سے اٹ جاتے ہیں۔ لہٰذا بہار کی آمد ہوتے ہی ہر طرف ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گویا زندگی واپس لوٹ آئی ہو۔ پہاڑوں نے جو سفید چادر اوڑھی ہوتی ہے وہ بھی پگھل کر بکھر جاتے ہیں، اور ہر طرف سبزہ پھیل جاتا ہے۔ سارے میدان، کھیت اور کھلیان سرسبز ہوجاتے ہیں؛ اور موسم ربیع کی فصلیں (گندم، چنا، دال مسور، سرسوں، تارا میرا، توریا، رائی، جئی اور دیگر) سردیوں کی سختی برداشت کرکے جوان ہوجاتی ہیں؛ اور ترنگ میں ہوتی ہے۔ ساری زمین کی فضا سہانی ہوجاتی ہے؛ جس میں پرندوں کی چہچہاہٹ، باغات کے دلفریب مناظر، درختوں پر اودے اودے؛ نیلے نیلے؛ پیلے پیلے؛ سرخ، اناری، نارنجی، کاسنی، سفید، گلابی الغرض رنگا رنگ پھول کھل اٹھتے ہیں؛ اور خوشگوار زندگی بخش ماحول بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ موسم بہار میں چاند سے اترتی چاندنی بھی نورانی اور ٹھنڈی ہوتی ہے۔ موسم بہار کا ظہور اپنے ساتھ نئی امنگ اور توانا امیدیں ساتھ لاتا ہے اور جسے دنیا بھر میں بھرپور طریقے سے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔

 

 موسم بہار میں فطرت دلہن کی طرح سنگھار کرلیتی ہے؛ ہر طرف، ہر سو، ہر جگہ قدرت کی فیاضیوں کا مظہر عیاں ہوتا ہے اور ماحول خوبصورت، سندر سپن سلونا ہوجاتا ہے۔ موسمِ بہار میں باغوں گلستانوں اور میدانوں میں زمین پر گھاس کا مخملی قالین بچھ جاتا ہے؛ اور صبح کو گھاس پر اوس کے قطرے موتی کے مانند چمک رہے ہوتے ہیں۔ کیاریوں میں رنگ برنگے پھولوں کی قطاریں دور تک سج جاتی ہیں؛ جن کی خوشبو فضا میں پھیل جاتی ہے۔ سارا دن خاص طور پر شام کے بعد سبک خرام ہوا کے سنگ پھولوں کی مہک بھی دور دور تک محو خرام ہوتی ہے۔ فضا پھولوں کی خوشبو سے نشہ آور ہوجاتی ہے؛ اور پھولوں سے مہکی ہوا انسان کو دیوانہ بنا دیتی ہے۔ فطرت پسند افراد اس وارفتگی میں گیت گاتے ہیں؛ گنگناتے ہیں۔ سیٹیاں بجاتے ہیں؛ اور کچھ اصحاب فرزانگی میں شعر کہتے ہیں۔

 

 سردیوں کے اختتام پر موسم بہار کے آغاز سے زمین خود کو پیلے رنگ میں ڈھال لیتی ہے؛ جسے ابٹن لگالیتی ہو۔ جہاں جہاں گھاس اگتی ہے؛ وہاں اس پر سال کے واحد پھول، جو پیلے رنگ کے ہوتے ہیں، اگ جاتےہیں۔ دور دور تک ہرے اور پیلے رنگ کی بسنت سج جاتی ہے۔ موسم بہار میں زمین کے سنگھار میں دو واضع زیور سرسوں اور گندم بن جاتے ہیں۔ دونوں ربیع کی فصلیں ہیں اور سردیوں کے شروع میں بوئی جاتی ہیں؛ مگر ان پر روپ موسم بہار کے آنے سے اترتا ہے۔ جیسے جیسے سردیوں کا موسم ختم ہوتا ہے؛ سرسوں کے کھیت نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ پنجاب کے کسان خوشی سے سرسوں کی بوائی کرتے ہیں۔ سرسوں کے ساگ اور مکئی کی روٹی کے ساتھ لسی کا ایک بڑا گلاس پنجاب کا مقبول پکوان ہے۔ ہری بھری سرسوں پھولوں سے بھر جاتی ہے جو پیلے ہی رنگ کے ہوتے ہیں۔ یہ پھول بہت خوبصورت ہوتے ہیں۔ یوں زمین میں جگہ جگہ پیلا رنگ چھا جاتا ہے۔ سرسوں کے پھولوں کی پیلی رنگت ماحول میں ایک عجیب کیف و سرور کی سی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔

 

موسم بہار کے شروع ہوتے ہی ربیع کی فصلیں اپنے جوبن پر ہوتی ہے۔ گندم اس دنیا میں کاشت کی جانی والی اہم غذائی فصل ہے جو وسیع علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں بھی جا بہ جا گندم کاشت کی جاتی ہے اور موسم بہار کے آتے ہی زمین گندم کی فصل سے سبز چادر اوڑھ لیتی ہے۔ سرد موسم میں اس کی جڑیں مستحکم ہوتی ہیں اور آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں؛ اور موسم بہار کے آغاز سے بڑھتے دنوں کے گرم سورج سے اس کی بڑھوتری میں تیزی آجاتی ہے اور سٹے لگ جاتے ہیں۔ اور جیسے ہی سورج خوب روشن ہوکر پختہ کرنیں پھیلاتا ہے تو سورج کی کرنیں گندم میں سما جاتی ہیں اور فصلِ گندم سورج کی کرنوں کو پوری طرح اوڑھ لیتی ہے اور جس کے سبب اس کا روپ سنھرا ہوجاتا ہے۔ سنہری گندم دور دور تک میل ہا میل اپنی چھب دکھاتی ہے تو ہوا اس سے چھیڑ چھاڑ کرتی ہے تو یہ لہلہاتی ہوئی سرگوشیاں کرتی ہیں؛ تو یوں لگتا ہے جیسے زمین پر سنہری موجوں کی لہریں تہ بہ تہ بہہ رہی ہوں۔ ایسے میں کسان کی بیٹی اس کو اپنے لیے شگن جانتی ہے؛ اور جوان لڑکے ترنگ میں ناچتے گاتے ہیں۔ تو آپ ہی کہیے کہ زمین کو اس سے اچھا سنگھار اور کیا مل سکتا ہے؟

موسم بہار کے تہوار

موسم بہار کے شروع ہوتے ہی ایک نئی زندگی کا آغاز ہوجاتا ہے؛ جس میں مرجھا جانے اور مر جانے والے درخت اور پودے پھر سے زندہ ہوجاتے ہیں۔ نیند ہمارے تھکن زدہ جسم کو آرام دیتی ہےاور ہمیں دوبارہ سے نئے ترنگ سے توجہ مرکوز کرنے کا موقع دیتی ہے۔ اور شاید سردیاں فطرت کی نیند کی مدت ہیں اور یہ بہار میں جاگ جاتی ہے۔ دنیا بھر میں موسم بہار کا بانہیں کھول کر استقبال کیا جاتا ہے۔ اس موسم کو خوشی کا باعث سمجھ کر تہواروں کے ذریعے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔


موسم بہار کو خوش آمدید کہنے کے لئے دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی اپنی ثقافت کے مطابق تہوراوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ آئیے دنیا کے مختلف مذاہب یا ثقافتوں میں موسم بہار میں منائے جانے والےتہواروں کے بارے میں کچھ معلومات جانتے ہیں۔ ذیل میں ہم پوری دنیا کے مختلف قوموں میں موسم بہار کا میلہ منانا پڑھیں گے مگر ایک بات جو سب میں مماثل ہے وہ ہے بدلتے موسم کو خوش امدید کہنا جو خوشیوں اور زندگی کی نئی توانائی کا احساس دلاتی ہے؛اور خوشی میں ملبوسات کا استعمال؛ کھانوں کا اہتمام؛ موسیقی؛ ناچ گانا اور میل ملاقات کے مواقع؛ یعنی خوب جشن منانا ہے۔ اور سب میں کہیں ایک مذہبی پہلو ضرور ہے۔


بسنت

بسنت کا تہوار برصغیر ہندوستان کا اپنا نہایت رنگوں بھرا تہوار ہے۔ قدیم روایات کے مطابق سرما میں سفید اور بے رنگی سے اکتائی آنکھوں کو بسنت میں مختلف رنگوں سے تقویت بخشی جاتی ہے۔ گو کہ بسنت کی روایات اور بنیاد ہندو مت سے ماخوذ ہے تاہم قیام پاکستان سے قبل مسلمان بھی یہ تہوار منایا کرتے تھے جس کا سلسلہ قیام پاکستان کے بعد زندہ دلان لاہور میں اب تک جاری ہے۔ کیونکہ یہ دراصل موسم بہار اور فطرت کی دین فصلوں کا تہوار ہے۔ اس تہوار کی خاص بات پتنگ بازی ہے۔ ہر رنگ اور ہر سائز کی پتنگوں سے آسمان سج جاتا ہے اور فضا بو کاٹا کے نعروں سے گونجنے لگتی ہے۔ اس تہوار میں ڈھول تاشوں، بھنگڑوں اور موسیقی کا اہتمام بھی ہوتا ہے جبکہ پورا خاندان کسی ایک چھت پر جمع ہو کر پتنگیں اڑاتا ہے جس کے بعد ان کی تواضع لذیذ پکوانوں سے کی جاتی ہے۔


ہولی کا تہوار

ہولی کا تہوار موسم سرما کے خاتمے اور گرم موسم کی ابتدا کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس کی ایک سماجی علامتی حیثیت نیکی کی بدی پر فتح کی بھی ہے۔ شمالی بھارت میں یہی تہوار ہندو دیوتا کرشنا کے رادھا سے پیار کی علامت کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ ہندو مت کے اس مشہور تہوار میں لوگ سفید لباس پہن کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور ایک دوسرے پر رنگ پھینک کر محفوظ ہوتے ہیں۔ ہولی کے تہوار کے موقع پر تمام خوشیاں خاص طرح کے کھانوں سے بھی جڑی ہوتی ہیں، اور گھروں میں روایتی طور پر مختلف خشک میوہ جات کے ساتھ سویٹ ڈش 'گجیا‘ تیار کی جاتی ہے۔ اس دن رقص و موسیقی کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جو ہندو مت کا ایک لازمی جز ہے۔ دنیا بھر میں ہندو اور دیگر دوست افراد بھرپور انداز میں ہولی مناتے ہیں۔


بیساکھی کا میلہ

بہار کا میلہ جو یکم بیساکھ یعنی 13 اپریل کو منایا جاتا ہے۔ بیساکھی میلے کا اہتمام تقسیم پاک و ہند سے قبل گندم کی کٹائی کا آغاز پر کیا جاتا تھا، جسے ماضی میں سب کسان مل کر مناتے تھے۔ اور آج بھی اس دن پنجاب ہند و پاک کے کسان فصل کاٹنے کے بعد نیے سال کی خوشیاں مناتے ہیں۔ تاہم اب یہ میلہ سکھوں سے منسوب ہے، جسے وہ نئے سال کے آغاز پر خالصہ جنم دن کے موقع پر اپنے گورو کے استھان، گردوارہ پنجہ صاحب میں خاص مذہبی رسومات کی ادائیگی کرکے مناتے ہیں۔


چترال کا چلم جوش تہوار

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں واقع ضلع چترال میں موسم بہار کی آمد پر چلم جوش کا تہوار منایا جاتا ہے جسے چلم جوشت بھی کہا جاتا ہے۔ چلم جوش کو وادی میں مذہبی تقریب کا درجہ حاصل ہے۔ تہوار کے پہلے روز آپس میں بکری کا دودھ بانٹا جاتا ہے۔ اس دن خاص اہتمام کے ساتھ کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔ تہوار کے تینوں دن وادی کے لوگ رقص و موسیقی سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ تقریب کے آخری دن ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لڑکا اور لڑکی سب کے سامنے اپنی محبت کا اقرار کرتے ہوئے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہیں اور شادی کا اعلان کرتے ہیں۔

جشنِ نوروز

لفظ نوروز فارسی زبان کا لفظ ہے اوراس کے لغوی معنی ہیں نیا دن۔ ایرانی کلینڈر کے مطابق نو روز سال نو اور بہار کا ایک ساتھ استقبال کرنے کا دن ہے اور یہ دن مغربی چین سے ترکی تک کروڑوں لوگ 20 مارچ کو مناتے ہیں۔ یہ دن ایران، افغانستان، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان، بھارت کے کچھ حصوں اور شمالی عراق اور ترکی کے کچھ علاقوں میں کیلنڈر سال کے نقطہ آغاز کا بھی دن ہے۔ اس دن خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جاتا ہے، گھروں میں پھولوں کی سجاوٹ کی جاتی ہے اور خصوصی پکوانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔


بلغاریہ کا سرخ و سفید پھندنوں کا تہوار

ہر سال یکم مارچ کو، بحیرہ اسود کے کنارے واقع ملک بلغاریہ کے بلغاری باشندے بابا مارتا (دادی مارچ) کا بے تابی سے استقبال کرتے ہیں، جو ایک خوشنما بوڑھی عورت ہے جو موسم بہار کے وعدے کے ساتھ جھاڑو دیتی ہے۔ یہ ایک تصوراتی کردار ہے جو کرسمس کے سانتا کلاز کی طرح سردیاں ختم ہونے کی خوشی میں سرخ و سفید دھاگوں سے بنے پھندنے یا گڑیائیں چھوڑ جاتا ہے۔ بابا مارٹا کی یاد میں لوگ ایک دوسرے کو یہی سرخ و سفید دھاگوں سے بنی اشیا بطور تحفہ دیتے ہیں۔ درختوں پر بھی یہ دھاگے لٹکائے جاتے ہیں۔ یہ رنگ اور دھاگے دراصل بقیہ پورے سال کے لیے خوشی اور صحت مندی کی خواہش ہے۔

 

چیری بلاسم فیسٹیول

جاپان میں چیری بلاسم کا تہوار صدیوں پرانی ثقافتی روایت ہیں۔ قدیم زمانے میں، کسان چیری بلاسم کے درختوں کے نیچے دعا کرتے تھے، نذرانہ پیش کرتے تھے، اور دعوت تیار کرتے تھے، یہ خیال کرتے ہوئے کہ اس سے بھرپور فصل حاصل ہوگی۔ چیری کے پھول بہت سے تصورات کی علامت ہیں جن میں تجدید، عدم استحکام، اور زندگی کی خوبصورتی شامل ہیں۔ پورے جاپان میں ہونے والے یہ تہوار پکنک، پارٹیوں، میل ملاقات اور مناظر فطرت دیکھنے والی پارٹیوں کے ساتھ منائے جاتے ہیں، جنہیں حنامی بھی کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے "پھول دیکھنا"۔ چیری بلسم کو دیکھنے کا بہترین وقت مارچ کے شروع سے اپریل کے آخر تک ہے۔ جاپان نے ایک سو سال قبل امریکیوں کو بھی چیری بلاسم تحفے میں دیے تھے جس کی وجہ سے اب واشنگٹن بھی بہار کے موسم میں چیری بلاسم سے بھر جاتا ہے۔ اب جاپان اور امریکا دونوں ملکوں میں موسم بہار کے آغاز پر چیری بلاسم فیسٹیول منایا جاتا ہے؛ جب چیری کے درخت پھولوں سے ایسے لد جاتے ہیں کہ ان کی ٹہنیاں ان کے بوجھ سے جھکی جاتی ہیں۔ ان درختوں کے بے تحاشہ حسن کو آنکھوں میں سمونا مشکل ہوجاتا ہے۔


تھائی لینڈ کا آبی میلہ

ہرسال ماہِ اپریل میں، تھائی لینڈ کے لوگ "سونگ کران" نامی نئے سال کا روایتی تھائی تہوار مناتے ہیں۔ ہفتے بھر تک چلنے والے واٹر فیسٹیول کے دوران، سیاح اور مقامی لوگ پانی کی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے سڑکوں پر جمع ہوتے ہیں۔ یہ دراصل موسم بہار کے آغاز پر ایک دوسرے پر پانی پھیکنے کا تہوار کہا جاسکتا ہے۔ پانی سے سڑکوں اور لوگوں کو دھو ڈالنا دراصل اس بات کی علامت ہے کہ لوگ اب پاک صاف ہوکر نئے سال کا آغاز کریں گے۔ مگر پانی کی اس جنگ میں احترام اور احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچائے بغیر ایک دوسرے پر پانی پھینکتے ہیں۔ اس دوران بدھا کے مجسموں کو بھی احترام سے غسل دیا جاتا ہے۔


میکسیکو کا اسپرنگ ایکونوکس

میکسیکو میں موسم بہار کے آغاز میں ایک تہوار اسپرنگ ایکونوکس منایا جاتا ہے؛ جس کی تاریخ قدیم مایا دور سے ملتی ہے۔ مایا عقیدے کے مطابق اس روز دن اور رات کا دورانیہ یکساں ہوتا ہے۔ اس دن کو سورج کی واپسی سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے یعنی سردیوں کے طویل موسم کے بعد سورج کی واپسی۔ اس موقع پر میکسیکن افراد میکسیکو کے مشہور اہرام چیچن عتزا پر جمع ہوتے ہیں۔ بہار کے پہلے دن سورج کی روشنی اس اہرام پر اس زاویے سے پڑتی ہے جس سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اہرام پر کوئی طویل القامت سانپ رینگ رہا ہو۔ مایا عقیدے کے مطابق یہ ایک مذہبی مظہر ہے اور اسے دیکھ کر لوگ مذہبی کلمات دہرانا شروع کر دیتے ہیں۔


اسکاٹ لینڈ کا امبولک تہوار

امبولک، ایک روایتی سیلٹک تہوار، یکم فروری کو سکاٹ لینڈ اور دیگر سیلٹک ممالک میں منایا جاتا ہے۔ لفظ "امبولک" کا مطلب ہے "ماں کے پیٹ میں،" کیونکہ بہار کے بیج ماں دھرتی کے پیٹ میں ہلنے لگے ہیں۔ یہ موسم سرما کے سولسٹ / محلول اور موسم بہار کے ایکیوناکس کے درمیان درمیانی نقطہ کو نشان زد کرتا ہے، جو سورج کی روشنی کی واپسی اور بہار کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسے سینٹ بریگیڈ ڈے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اس کا تعلق بریگیڈ دیوی سے ہے، جسے اس دوران عزت دی جاتی ہے۔ اس دن آگ اور روشنیاں جلا کر، اور رقص کر کے نئے سال کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔


وینس کارنیول

وینس کارنیول، یا کارنیوال دی وینزیا، وینس، اٹلی میں منعقد ہونے والا ایک سالانہ تہوار ہے، جو اپنے وسیع ملبوسات، ماسک اور پریڈ کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک متحرک جشن ہے جو ہر سال لاکھوں زائرین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ دنیا کے اس مشہور کارنیول آف وینس کی تاریخ 900 سال پرانی ہے۔ پانی پر فیسٹا وینزیانا وینس میں کارنیول سے باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ اس کا آغاز شام کے وقت نہروں پر ایک شاندار لائٹ پریڈ کے ساتھ ہوتا ہے، اس کے بعد کیناریگیو کے پانی پر دن کے وقت کی تقریب ہوتی ہے۔

موسم بہار کے شروع میں منعقد کیے جانے والے اس میلے کی خاص بات اس میں شریک افراد کے پہنے جانے والے ماسک ہیں جو اس میلے کا اہم حصہ ہیں۔ دراصل یہ ماسک لوگوں کی شناخت چھپانے کے لیے پہنے جاتے ہیں۔ اطالویوں کا عقیدہ ہے کہ اس میلے میں آپ وہ تمام کام سر انجام دے سکتے ہیں جو سارا سال دنیا کے خوف سے نہیں کر سکتے۔ چونکہ ماسک کے پیچھے آپ کی شناخت پوشیدہ ہوگی لہٰذا کوئی نہیں جان سکے گا کہ آپ نے کیا کیا۔ 18 روزہ طویل اس میلے میں رنگ، خوشبو، رقص، موسیقی اور خوشیاں سب ہی ہوتے ہیں۔

اب ذیل میں کچھ شاعرانہ کاوش پر نظر ڈال لیتے ہیں۔

نظیر اکبرآبادی کی نظم "ہولی کی بہاریں"۔

 

جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

اور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

پریوں کے رنگ دمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

خم، شیشے، جام، جھلکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

 

محبوب نشے میں چھکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

 

ہو ناچ رنگیلی پریوں کا بیٹھے ہوں گل رو رنگ بھرے

کچھ بھیگی تانیں ہولی کی کچھ ناز و ادا کے ڈھنگ بھرے

دل بھولے دیکھ بہاروں کو اور کانوں میں آہنگ بھرے

کچھ طبلے کھڑکیں رنگ بھرے کچھ عیش کے دم منہ چنگ بھرے

 

کچھ گھنگھرو تال چھنکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

 

سامان جہاں تک ہوتا ہے اس عشرت کے مطلوبوں کا

وہ سب سامان مہیا ہو اور باغ کھلا ہو خوابوں کا

ہر آن شرابیں ڈھلتی ہوں اور ٹھٹھ ہو رنگ کے ڈوبوں کا

اس عیش مزے کے عالم میں ایک غول کھڑا محبوبوں کا

 

کپڑوں پر رنگ چھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

 

گل زار کھلے ہوں پریوں کے اور مجلس کی تیاری ہو

کپڑوں پر رنگ کے چھینٹوں سے خوش رنگ عجب گل کاری ہو

منہ لال، گلابی آنکھیں ہوں، اور ہاتھوں میں پچکاری ہو

اس رنگ بھری پچکاری کو انگیا پر تک کر ماری ہو

 

سینوں سے رنگ ڈھلکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

 

اس رنگ رنگیلی مجلس میں وہ رنڈی ناچنے والی ہو

منہ جس کا چاند کا ٹکڑا ہو اور آنکھ بھی مے کے پیالی ہو

بد مست بڑی متوالی ہو ہر آن بجاتی تالی ہو

مے نوشی ہو بے ہوشی ہو ''بھڑوے'' کی منہ میں گالی ہو

 

بھڑوے بھی، بھڑوا بکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

 

اور ایک طرف دل لینے کو محبوب بھویوں کے لڑکے

ہر آن گھڑی گت بھرتے ہوں کچھ گھٹ گھٹ کے کچھ بڑھ بڑھ کے

کچھ ناز جتاویں لڑ لڑ کے کچھ ہولی گاویں اڑ اڑ کے

کچھ لچکے شوخ کمر پتلی کچھ ہاتھ چلے کچھ تن بھڑکے

 

کچھ کافر نین مٹکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

 

یہ دھوم مچی ہو ہولی کی اور عیش مزے کا جھکڑ ہو

اس کھینچا کھینچ گھسیٹی پر بھڑوے رنڈی کا پھکڑ ہو

معجون، شرابیں، ناچ، مزہ، اور ٹکیا سلفا ککڑ ہو

لڑ بھڑ کے نظیرؔ بھی نکلا ہو، کیچڑ میں لتھڑ پتھڑ ہو

 

جب ایسے عیش مہکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

عرش ملسیانی کی نظم " ہولی"۔

سحر موسیقی ہوا پھر گونج اٹھے گوکل کے بن

رقص فرمانے لگی پھر وادیٔ گنگ و جمن

پھر شباب مست نکلا مل کے چہرے پر گلال

پھر نکھر آیا بہار لالہ سے حسن چمن

پھر ہوائے تند لے کر آئی ہولی کی بہار

ہاتھ میں پچکاریاں لے کر چلے پھر مرد و زن

پھر جنون زندگی کو مل گیا نام سرور

پھر نظر آنے لگا ہر سادگی میں بانکپن

ڈھولکیں باجے مجیرے اور کھڑتالیں بجیں

پھر فضائیں ہو گئیں بنسی کی لے سے نغمہ زن

رنگ میں ڈوبی ہوئی ہیں گوپیاں سر تا قدم

اودے اودے پیلے پیلے نیلے نیلے پیرہن

حفیظ جالندھری کی نظم "بسنتی ترانہ"۔

 لو پھر بسنت آئی

پھولوں پہ رنگ لائی

چلو بے درنگ

لب آب گنگ

بجے جل ترنگ

من پر امنگ چھائی

پھولوں پہ رنگ لائی

لو پھر بسنت آئی

 

آفت گئی خزاں کی

قسمت پھری جہاں کی

چلے مے گسار

سوئے لالہ زار

مئے پردہ دار

شیشے کے در سے جھانکی

قسمت پھری جہاں کی

آفت گئی خزاں کی

 

کھیتوں کا ہر چرندہ

باغوں کا ہر پرندہ

کوئی گرم خیز

کوئی نغمہ ریز

سبک اور تیز

پھر ہو گیا ہے زندہ

باغوں کا ہر پرندہ

کھیتوں کا ہر چرندہ

 

دھرتی کے بیل بوٹے

انداز نو سے پھوٹے

ہوا بخت سبز

ملا رخت سبز

ہیں درخت سبز

بن بن کے سبز نکلے

انداز نو سے پھوٹے

دھرتی کے بیل بوٹے

 

پھولی ہوئی ہے سرسوں

بھولی ہوئی ہے سرسوں

نہیں کچھ بھی یاد

یونہی بامراد

یونہی شاد شاد

گویا رہے گی برسوں

بھولی ہوئی ہے سرسوں

پھولی ہوئی ہے سرسوں

 

لڑکوں کی جنگ دیکھو

ڈور اور پتنگ دیکھو

کوئی مار کھائے

کوئی کھلکھلائے

کوئی منہ چڑھائے

طفلی کے رنگ دیکھو

ڈور اور پتنگ دیکھو

لڑکوں کی جنگ دیکھو

 

ہے عشق بھی جنوں بھی

مستی بھی جوش خوں بھی

کہیں دل میں درد

کہیں آہ سرد

کہیں رنگ زرد

ہے یوں بھی اور یوں بھی

مستی بھی جوش خوں بھی

ہے عشق بھی جنوں بھی

 

اک نازنیں نے پہنے

پھولوں کے زرد گہنے

ہے مگر اداس

نہیں پی کے پاس

غم و رنج و یاس

دل کو پڑے ہیں سہنے

اک نازنیں نے پہنے

پھولوں کے زرد گہنے

افق لکھنوی کی نظم "بسنت اور ہولی کی بہار

ساقی کچھ آج تجھ کو خبر ہے بسنت کی

ہر سو بہار پیش نظر ہے بسنت کی

 

سرسوں جو پھول اٹھی ہے چشم قیاس میں

پھولے پھلے شامل ہیں بسنتی لباس میں

 

پتے جو زرد زرد ہیں سونے کے پات ہیں

صدبرگ سے طلائی کرن پھول مات ہیں

 

ہیں چوڑیوں کی جوڑ بسنتی کلائی میں

بن کے بہار آئی ہے دست حنائی میں

 

مستی بھرے دلوں کی امنگیں نہ پوچھیے

کیا منطقیں ہیں کیا ہیں ترنگیں نہ پوچھئے

 

ماتھے پہ حسن خیز ہے جلوہ گلال کا

بندی سے اوج پر ہے ستارہ جمال کا

 

گیندوں سے مائل گل بازی حسین ہیں

سر کے ابھار پر سے دوپٹے مہین ہیں

 

عکس نقاب زینت رخسار ہو گیا

زیور جو سیم کا تھا طلا کار ہو گیا

 

سرسوں کے لہلہاتے ہیں کھیت اس بہار میں

نرگس کے پھول پھول اٹھے لالہ زار میں

 

آواز ہے پپیہوں کی مستی بھری ہوئی

طوطی کے بول سن کے طبیعت ہری ہوئی

 

کوئل کے جوڑے کرتے ہیں چہلیں سرور سے

آتے ہیں تان اڑاتے ہوئے دور دور سے

 

بور آم کے ہیں یوں چمن کائنات میں

موتی کے جیسے گچھے ہوں زر کار پات میں

 

بھیروں کی گونج مست ہے ہر کشت زار میں

بنسی بجاتے کشن ہے گویا بہار میں

 

کیسر کسوم کی خوب دل افزا بہار ہے

گیندوں کی ہر چمن میں دو رویہ قطار ہے

 

اک آگ سی لگائی ہے ٹیسو نے پھول کے

کیا زرد زرد پھول کھلے ہیں ببول کے

 

ہے اسٹ دیوتاؤ کے مندر سجے ہوئے

ہیں زرد زرد پھولوں سے کل در سجے ہوئے

 

بس دیو جی کے لال کی جھانکی عجیب ہے

آنند بے حساب دلوں کو نصیب ہے

 

بنسی جڑاؤ سونے کی لب سے ملی ہوئی

دل کی کلی کلی ہے نظر میں کھلی ہوئی

 

پیتامبر نفیس کمر میں کسا ہوا

خوشبو سے ہار پھول کی مندر بسا ہوا

 

شانوں پہ بل پڑے ہوئے زلف سیاہ کے

رادھا سے بار بار اشارے نگاہ کے

 

بانکی ادائیں دیکھ کے دل لوٹ پوٹ ہے

رتکام استری کے کلیجے پہ چوٹ ہے

 

کانوں میں کنڈلوں کی چمک ہے جڑاؤ سے

رادھا لجائی جاتی ہے چنچل سبھاؤ سے

 

پیاری کا ہاتھ اپنی بغل میں لیے ہوئے

آنکھیں شراب حسن جوانی پیے ہوئے

 

دل رادھکا کا بادۂ الفت سے چور ہے



کہنی سے ٹھیلنے کی ادا کا ظہور ہے

 

چپکی کھڑی ہے کشن کے رخ پر نگاہ ہے

ہے پہلوئے جگر میں جگہ دل میں راہ ہے

 

الفت بھری جو بنسی کی جانب نظر گئی

گویا بسنت کی راگ کی دھن مست کر گئی

 

اس چھب پہ اس سنگار پہ دل سے نثار افقؔ

قربان ایک بار نہیں لاکھ بار افقؔ

 

اے کشن ناظریں کو مبارک بسنت ہو

کھیلا جو اپنے وہ ابد تک بسنت ہو

More Posts