Muhammad Asif Raza 1 hour ago
Muhammad Asif Raza #entertainment

ملوکا کے بارہ سنگے

Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Fiction is defined as any creative literary or narrative work that portrays imaginary characters, settings, and events. "ملوکا کے بارہ سنگے" (The Stags of Maluka) is a searing political critique of a Banana Republic's governance and its obsession with ad-hoc committees. Drawing on the central themes of Amal Chatterjee’s "Prisoners of Empires" and social metaphors, it argues that national liberation requires dismantling unwanted legacy by enforcing local languages, adopting divine democratic principles, and establishing an open government driven by native expertise. This write up in Urdu "ملوکا کے بارہ سنگے" is a fictional critique for public awakening and enduring cosmic hope.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


ملوکا کے بارہ سنگے


بنانا ریپبلک آف ملوکا میں قدرت کا ایک سخت قانون نافذ تھا؛ دنیا بھر کی طرح یہاں کے گدھے بھی پیدائشی طور پر سینگوں سے محروم تھے۔ صدیوں سے ملوکا کے عام شہری کسی ناممکن کام یا بات کو بیان کرنے کے لیے ایک ہی محاورہ استعمال کرتے تھے کہ "اب گدھے کے سر پر سینگ نکلنے کا ہی انتظار کرو۔" لیکن پھر اس زمین پر فرنگی قابض ہو گئے اور انہوں نے ایک انوکھا قانون بنایا کہ ان کے تاجِ فرنگ کی ریاست میں گدھے قابلِ احترام ہوں گے اور صرف وہی گدھے حکمرانی کا حق رکھیں گے جو بارہ سنگے ہوں گے۔

اس قابض حکمرانی کے دوران ملوکا ایک عجیب و غریب ملک بن گیا تھا۔ اس زمین کے سارے لوگوں کو جاہل اور گنوار قرار دیا گیا اور تاجِ فرنگ کی زبان کو الہامی ٹھہرایا گیا۔ یہاں کے باسیوں کو ایک مصنوعی طرزِ زندگی کا لبھاؤ دکھایا گیا، حالانکہ خود ملکِ فرنگ کے عام لوگ اس طرح نہیں رہتے تھے۔ یہاں کا لباس بدلا گیا اور جو لباس زبردستی پہنایا گیا، وہ اکثر مقامی موسم اور ماحول کے بالکل خلاف تھا۔ پھر ان کا گنوار پن ترک کرنے کے نام پر انہیں ہاتھوں سے کھانا کھانے سے منع کیا گیا اور سب سے بڑا ظلم یہ کیا گیا کہ آپسی اختلافات کو ہوا دے کر قوم کو نت نئی اختراعات والےحصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اپنوں میں ہی دشمنیاں پیدا کی گئیں۔

پھر آسمان نے تاجِ فرنگ کی حکمرانی میں اور ما بعد اس زمین پہ ایک عجیب گورکھ دھندہ ہوتے دیکھا؛ زمین کا اشرف المخلوقات بنانا ریپبلک آف ملوکا میں گدھا بننے کی دوڑ میں لگ گئے؛ اور ان میں سے ایسے بھی ابھرے جو حکمران اشرافیہ بننے کے لیے بارہ سنگے بن گئے۔۔ ان میں ایسے ایسے لطیفے پیدا ہوئے کہ خانہ فرنگ کے مالشیئہ ہنستے تھے اور پیدا گیر انکو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے؛ اور وہ مقصد ملوکا کے وسائل اور خزانوں پہ قبضہ رہا تھا۔

مگر کچھ عرصے کی حکمرانی کے بعد ملوکا پر راج کرنے والے 'عالی جاہ گورے آقا' ملک تو چھوڑ گئے، لیکن اپنے جہازوں پر سوار ہونے سے پہلے وہ یہاں ایک جادوئی پنجرا اور اپنے وفاداروں کی ایک فوجِ ظفر موج، یعنی ایک خاص نسل چھوڑ گئے۔ یہ وفادار چوکیدارِ تہذیبِ فرنگ—جیسا کہ ایک قدیم دانشور امل چتورجی کی معرکۃ الآرا کتاب "پریزنرز آف ایمپائرز" کے خفیہ صفحات میں درج ہے—مغربی طرز کے قیمتی سوٹ پہنتے تھے، ایک ایسی عجیب و غریب غیر ملکی زبان میں بات کرتے تھے جو سننے میں کسی دیسی گدھے کی "ڈھینچوں ڈھینچوں" جیسی ہی معلوم ہوتی تھی، اور کھلم کھلا خود کو ملوکا کی باقی تمام مظلوم قوم سے افضل و برتر گردانتے تھے۔

اپنی اس خود ساختہ برتری اور شاہی شان و شوکت کو ثابت کرنے کے لیے، ان حکمرانوں نے ایک انوکھا تماشہ رچایا: انہوں نے کاغذ کی لگدی (کاغذ کے گودے) سے بنے ہوئے بھاری اور مصنوعی سینگ تیار کیے اور انہیں رسیوں سے اپنے سروں پر کس کر باندھ لیا۔ پھر انہوں نے سرکاری سیکرٹریٹ کے چمکتے ہوئے سنگِ مرمر کے شیشوں میں اپنے چہروں کو دیکھا اور فخر سے اعلان کیا: "ہم ملوکا کے 'سپریم کونسل آف اسٹگز' (بارہ سنگوں کی اعلیٰ قیادت) ہیں۔" مسئلہ صرف اتنا تھا کہ جب بھی وہ ہائی لیول اجلاسوں میں فیصلے سنانے کے لیے اپنا منہ کھولتے، تو ملوکا کی وادیوں میں ایک گدھے کی کریہہ اور پھٹی ہوئی آواز گونج اٹھتی۔

شاہی سواریوں کا بڑا بحران

ایک منگل کے روز، جب راج یگ الٹا چل رہا تھا اور کیتو کی نظر شاہی محل پہ پڑی؛ بنانا ریپبلک آف ملوکا پر ایک هولناک بحران ٹوٹ پڑا۔ شاہی خزانہ خالی ہو چکا تھا، ریاست کی بڑی گاڑیاں اور لوٹ مار کا نظام اندھا ہوگیا تھا، بازاروں میں چارے اور کیلوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں، اور شہر کے تاجر سخت غصے میں تھے۔ وزیرِ اعظم—جو کہ کمرے میں سب سے بڑے اور بھاری مصنوعی سینگ سجائے بیٹھے ایک عالی شان گدھے کا روپ دھارے تھے—کی روایتی جبلت فوراً بیدار ہوئی۔ انہوں نے اپنا کھر مضبوطی سے میز پر مارا اور غیر ملکی لہجے میں بونگی ماری:۔۔

"ہمیں فوری طور پر ایک 'گرینڈ ایڈہاک کمیٹی' بنانے کی ضرورت ہے!"۔۔

بس پھر کیا تھا، شاہی دربار کے گھنٹے بج اٹھے۔ ایک ساؤنڈ پروف بند کمرے میں ایک بہت بڑی گول میز سجائی گئی۔ قدیم نوآبادیاتی مینوئل کے مطابق، کمیٹی کے ارکان کی نشستوں کا حساب کتاب کچھ یوں طے پایا:۔۔۔

• 36 فیصد نشستیں: سیاسی بارہ سنگوں کو دی گئیں، جو اپنا زیادہ تر وقت شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے جھوٹے سینگوں کو سیدھا کرنے میں گزارتے تھے کہ رعایا میں انکی شان و شوکت نمایاں معلوم ہو۔

• 55 فیصد نشستیں: نوکر شاہی کے بڑے بیوروکریٹس کو ملیں—جو کہ دراصل بوجھ اٹھانے والے ایسے سرکاری مویشی تھے جو فائلوں اور نوٹس کے ڈھیر تلے دبے ہوئے تھے؛ لیکن ان میں پڑے پڑے انکو اپنا راتب ملتا تھا اور جائز و ناجائز کی کوئی شرط نہیں ہوتی تھی۔

• 10 فیصد سے بھی کم نشستیں: "باہر کے لوگوں" کے حصے میں آئیں، جو کہ کوئی آزاد معیشت دان یا سائنسدان نہیں تھے، بلکہ بڑے بڑے تجارتی گروہوں اور کمپنیوں کے نمائندے تھے۔ وہ اپنے ساتھ کاغذوں کے لمبے پلندے لائے تھے جن پر ٹیکس کی چھوٹ، مفت چارے اور قوانین سے استثنیٰ کے مطالبات درج تھے۔

محل کے بند اور مقفل دروازوں کے باہر ملوکا کے اصل ماہرین کی ایک فوج موجود تھی؛ کیونکہ ملوکا کوئی بانجھ زمین نہیں تھی کہ قابل دماغ پیدا نہیں ہوتے تھے؛ بےشمار گدڑی کے لعل تھے جنہیں نظر انداز کردیا جاتا تھا؛ مگر غیر ملکی انکو ہاتھوں ہاتھ لیتے تھے کہ انکو پاس ایسے دماغ اور اعلی صلاحیتوں کا استعمال موجود تھا—وہ آزاد معیشت دان، انجینئرز, ڈیٹا کے ماہرین اور یونیورسٹیوں کے محققین تھے جو تباہ حال نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے سائنسی نقشے اور ٹھوس ثبوت کے ساتھ موجود ہوتےتھے؛ مگر انکو ٹھکرادیا جاتا تھا۔

جب کوئی آندھی آتی؛ کوئی تباہی پھرتی تھی تو ملوکا کے بارہ سنگے دنیا بھر کے علاوہ ملک کے محب وطنوں سے مدد مانگتے تھے۔ انکا مدد سے مراد ہمیشہ روپیہ ہوتا تھا۔ اگر غلطی سے کوئی اعلی دماغ اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھ کر نظام کی خرابی کی کوشش بھی کرتا تھا تو شاہی محافظوں نے انہیں سرکاری دفاتر کے اندر جانے سے روک دیا۔

جب بہت شور مچتا اور محبِ وطن گروہ احتجاج کرتا تونظام کے اندر سے چیف سیکرٹری کی پاٹ دار آواز گونجتی تھی؛ "خاموش رہو! علم صرف ہمارے عہدوں اور محکموں کے پاس ہے۔ سیکرٹری صاحب جانتے ہیں کیونکہ وہ سیکرٹری ہیں، اور وزیر صاحب فیصلہ کرتے ہیں کیونکہ وہ وزیر ہیں۔ عقل و فہم اور علم و ادراک کا جوڑ اور خزانہ صرف سرکاری کرسی سے ہے، سرکار سے باہر والوں کا یہاں کوئی مقام اور مرتبہ نہیں اور نہ ہی ان کے بس کا کام ہے!"۔۔۔

انتظامی تھیٹر

باہر سے دیکھنے والے کے لیے یہ کمیٹی روم علم و حکمت کا کوئی بہت بڑا مرکز معلوم ہوتا تھا۔ یہ ایک شاندار "انتظامی تھیٹر" (ادارتی ناٹک) تھا۔ بیوروکریٹس فائلوں کو بائیں سے دائیں اور دائیں سے بائیں گھماتے رہتے اور کلرک بے معنی نوٹ تیار کرتے۔ یہ منظر ان پرانی کہانیوں کی یاد دلاتا تھا جہاں بوجھ اٹھانے والے جانوروں کی پیٹھ پر بڑی بڑی اور بھاری کتابیں لاد دی جاتی ہیں، اور وہ ان کتابوں کے علم اور حکمت سے بالکل بے بہرہ ہو کر صرف ان کا بوجھ اٹھاتے پھرتے ہیں۔ کمیٹی کے ارکان ڈیٹا اور فائلوں کے سمندر میں ڈوبے ہوئے تو تھے، لیکن حقیقی عقل و دانش سے بالکل عاری تھے۔


ملوکا کی زمین پر ایک وقت ان بدترین منافقوں کا راج تھا جن کی منافقت پر علامہ اقبال کا یہ شعر بالکل صادق آتا تھا:۔۔۔

تُو بھی ہے شیوۀ اربابِ ریا میں کامل

دل میں لندن کی ہوَس، لب پہ ترے ذکرِ حجاز


یہ قوم کو قابو کرنے کے لیے ہیگلین مکالمے کی فرسودہ تیکنیک استعمال کرتے تھے۔ یہ ایک ایسی بھیانک تکنیک تھی جو حکومت کی طرف سے اپنے ہی شہریوں کو رضاکارانہ طور پر اپنی بنیادی آزادیاں ترک کرنے اور ریاست کے مزید کنٹرول کو قبول کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ یہ پہلے خود ایک جھوٹا پرچم (فالس فیلگ) لہراتے ہوئے مصنوعی بحران پیدا کرتے (تھیسز)، پھر عوام کی طرف سے شدید ردعمل کا انتظار کرتے (اینٹی تھیسز)، اور آخر میں پہلے سے تیار شدہ نوآبادیاتی حل (سنتھیسز) کے ذریعے عوام کو مزید ذہنی و قانونی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیتے۔جب بھی ملوکا کے عام شہری یہ پوچھتے کہ "کمیٹی نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے کیا کر رہی ہے؟" تو محل کا پریس سیکرٹری بالکونی پر نمودار ہوتا، ہوا میں ایک خفیہ کاغذ لہراتا اور بلند آواز میں کہتا: "ایک تاریخی اجلاس منعقد ہو چکا ہے! ہمارے عمل پر بھروسہ رکھیں! یہ تمہارا نصیب بدلے گا۔۔ یہ گیم چینجر منصوبہ آگیا ہے۔۔ اب دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی۔۔"۔۔۔

لیکن ملوکا کے شہریوں کو کبھی بھی ان اجلاسوں کی کاروائی دیکھنے کی اجازت نہیں ملی۔ انہوں نے کہیں دودھ اور شہد کی نہر تو نہیں دیکھی، لیکن کچھ عرصے بعد ہمیشہ یہ اطلاعات ضرور ملتی تھیں کہ فلاں فلاں بارہ سنگے کے دیارِ فرنگ میں عالی شان محلات بن گئے ہیں اور غیر ملکی زمینوں پر ان کے خفیہ خزانے بھرے جا چکے ہیں۔ وہ مضحکہ خیز "گیم چینجر منصوبے" دراصل ملوکا کی عوام کے لیے نہیں، بلکہ ان لٹیرے بارہ سنگوں کے اپنے ذاتی مفادات کے لیے ہمیشہ سے ایک شیریں ذائقہ رہے تھے۔

ملوکا کا نظام ریاست ایک گورکھ دھندہ تھا؛ مسائل کی جانچ کرنے والوں نے یہ جاننے اور پوچھنے کے بجائے کہ کیسے پورے نظام کا ایکسل ہی ٹوٹ چکا ہوتا تھا؛ وہ علم اور ادراک کی اعلی کمیٹیاں کئی ہفتے اس بات پر ضائع کر دیتے تھے کہ کون سے سرکاری گذٹ نوٹیفکیشن میں ایک چھوٹی یا بڑی ترمیم کی جائے، سرکاری مہر کہاں لگائی جائے اور کس بڑے تاجر؛ ٹھیکےدار؛ سیاسی بارہ سنگے کو کیسے مطمئن کیا جائے۔ وہ اصلاحات کا کوئی پلیٹ فارم نہیں بناتے تھے، بلکہ مخصوص اشرافیہ کے لیے سودے بازی کا ایک بڑا بازار سجایا جاتا تھا۔

نتائج ہمیشہ کی طرح وہی نکلتے تھے۔۔۔ نظام پہلے سے زیادہ بیکار اورعوام کے لیے مزید تباہ کن ہوجاتا تھا؛ نتیجتا عوام کی روٹی اور جانوروں کا چارہ مزید مہنگا ہو جاتا تھا اور ملوکا کے عام لوگ پستی کی دلدل میں مزید دھنستےچلے جاتے تھے۔ لیکن کمال کی بات یہ تھی کہ جب یہ کمیٹی ختم ہوتی تھی، تو تمام ارکان کے لیےایک شاندار پر تعیش عشائیہ تقریب منعقد کی جاتی تھی اور انکی بدترین کارکردگی پر ایک دوسرے کے سینوں پر شاندار سرکاری تمغے سجائے جاتے۔ وہ اعزازات میں تولے جاتے تھے مگر عوام میں جانے سے ڈرتے تھے، کیونکہ عوام کی نظر میں ان کے یہ تمغے بے غیرتی اور عبرت کا نشان ہوتے تھے۔

سونے کے پنجرے کے پانچ ستون

ملوکا کے اسکوائر پر کھڑے ایک بیدار مغز اور بوڑھے شہری، عوامی شاعر بانگِ کبیر نے تمغے سجا کر گزرتے ہوئے ان خود ساختہ بارہ سنگوں کے جلوس کو دیکھا۔ وہ نوجوانوں کی طرف مڑا اور اپنے تھیلے سے "پریزنرز آف ایمپائرز" کا ایک پرانا نسخہ نکالا۔

"کیا تم ان چمکتے ہوئے تمغوں کو دیکھ رہے ہو؟" کبیر نے سرگوشی کی۔ "یہ لوگ دراصل ان پانچ نوآبادیاتی ستونوں کے تحفظ کا جشن منا رہے ہیں۔ یہ نظام کو کبھی ٹھیک نہیں کریں گے، کیونکہ یہ تباہ حال راستے ہی ان کی بقا کا ذریعہ ہیں۔"۔۔۔


اس نے محل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:۔۔۔

1. جائیداد کا نوآبادیاتی فن تعمیر: "یہ بارہ سنگے آج بھی وہی پرانے قوانین برقرار رکھے ہوئے ہیں جہاں زمینوں کے حقوق ایک مخصوص اشرافیہ کے پاس ہیں، تاکہ ملوکا کا کسان ہمیشہ غربت کے چکر میں پھنسا رہے اور اپنی خوراک کی بجائے صرف ان فصلوں پر محنت کرے جو باہر کے ملکوں کو بھیجی جا سکیں۔"۔۔

2. وسائل کا اخراج: "انہوں نے قوانین میں ایسی خامیاں برقرار رکھی ہیں جن کے ذریعے ملوکا کا سونا، گیس اور معدنیات ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بدعنوان اشرافیہ کی مدد سے منظم طریقے سے ملک سے باہر منتقل ہو رہے ہیں، اور عوام خالی ہاتھ رہ جاتی ہے۔"۔۔۔

3. ایک طرفہ تجارتی راستے: "ان سڑکوں اور تجارتی راستوں کو دیکھو۔ یہ ہمارے اپنے دیہاتوں اور شہروں کو آپس میں نہیں جوڑتے، بلکہ یہ مائنز (قدرتی ذخائر کی کانوں) سے سیدھے بندرگاہوں کی طرف جاتے ہیں—تاکہ یہاں کی دولت آسانی سے باہر کھینچی جا سکے، مقامی ترقی ان کا مقصد ہی نہیں ہے۔"۔۔۔

4. غیر ملکی زبان کا جادو: "یہ ہمارے بچوں پر ایک ایسا تعلیمی نظام مسلط رکھتے ہیں جو انہیں اپنے ہی ورثے اور تاریخ سے دور کرتا ہے۔ جو جتنا اچھا غیر ملکی زبان میں 'ڈھینچوں ڈھینچوں' کر سکتا ہے، وہی اس ہائی ٹیبل پر بیٹھنے کا اہل سمجھا جاتا ہے، جبکہ دیسی عقل کو باہر دھکیل دیا جاتا ہے۔"۔۔۔

5. رازداری اور پولیس کے قوانین: "اور ان کی عدالتوں کے قوانین انصاف کے لیے نہیں، بلکہ عوام کو کنٹرول کرنے اور اختلافِ رائے کو کچلنے کے لیے بنائے گئے ہیں، تاکہ کوئی بھی ان کے کاغذ کے سینگوں پر انگلی نہ اٹھا سکے۔"۔۔۔

بیداری

نوجوان نسل نے محل کو دیکھا، پھر اپنی تباہ حال زندگی اور سواریوں کو دیکھا، اور آخر میں ان حکمرانوں کے سروں پر بندھے کاغذ کے کھوکھلے سینگوں کو دیکھا۔ ان کے ذہنوں سے وہ پرانا سحر ٹوٹ گیا۔ ان خود ساختہ "بارہ سنگوں" کا جھوٹا رعب ختم ہو گیا اور ان کا اصل گدھا پن ملوکا کے ہر شہری کے سامنے بالکل واضح ہو گیا۔

"ہم اس نوآبادیاتی سحر کو کیسے توڑیں؟" ایک نوجوان لڑکی نے پوچھا۔

کبیر نے آگے بڑھ کر ملوکا کے نوجوانوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھا اور اس کی آنکھوں میں ایک انقلابی چمک ابھر آئی۔

"ہمیں ان کے اس تماشے کا حصہ بننا بند کرنا ہوگا،" کبیر نے گرجدار آواز میں کہا۔ "سب سے پہلے، ہمیں ان کی مغرب زدہ نصابی کتابوں اور اس تعلیمی نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا جو عقل کی بجائے ذہنی غلام پیدا کرتا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو اپنی قومی زبان اردو اور علاقائی زبانوں میں تعلیم دینی ہوگی، اور ملوکا کے ہر سرکاری دفتر کو عوامی زبان اپنانے پر مجبور کرنا ہوگا تاکہ یہ جھوٹی برتری ختم ہو سکے۔ اور پھر اس کے بعد، ہمیں اس نظامِ حکومت کو جڑ سے بدلنا ہوگا جو عوامی فلاح اور کھلی شفافیت کی بجائے بند کمروں کی سودے بازی اور گدھوں کے انتظامی تھیٹر پر چل رہا ہے۔ ملوکا رازداری اور نوآبادیاتی قوانین کے ذریعے ترقی نہیں کر سکتا؛ اسے اب ایک نئے حکومتی فنِ تعمیر، کھلی حکومت، حقیقی دیسی مہارت، عوامی ثبوت اور عوامی حمایت کی ضرورت ہے۔ ایک اسلامی فلاحی ریاست صرف جمہوری اور الہامی اصولوں پر ہی ترقی کر سکتی ہے۔ ہم ان خود ساختہ بارہ سنگوں کے گدھے پن کے نتائج متعدد دھائیوں سے بھگت رہے ہیں؛ اب وقت آ گیا ہے کہ ملوکا کے عوام بیدار ہوں!"۔۔


کبیر کی آواز ملوکا کے چوک پر گونجی اور اس نے فرنگ ہی کے مشہور شاعر پرسی بش شیلی کی یاد دلاتے ہوئے؛ وہ انقلابی پیغام دہرایا جو اس نے انگلستان کے مظلوموں کے لیے ایک نظم کی صورت میں کہا تھا:۔۔

"ملوکا کے کسانو اور محنت کشو! تم ان لٹیروں کے لیے نوالہ کیوں بنتے ہو جو تمہارا خون چوستے ہیں؟ تم ان بے رحم گدھوں کے لیے محلات کیوں تعمیر کرتے ہو جو تمہیں انہی کی دہلیز پر ذلیل کرتے ہیں؟ تم ان کے دفاع کے لیے ہتھیار کیوں ڈھالتے ہو جو تمہاری ہی نسلوں کو قید رکھتے ہیں؟ ان کی بنائی ہوئی ریشم پر اب تمہارا حق ہے، ان کے کھوکھلے تمغے تمہاری محنت کا استحصال ہیں۔ اب ان کے لگائے گئے کوڑوں کے سائے میں جینا بند کرو!"۔۔۔


اور پھر کبیر نے لارنس ٹریبل کی لازوال نظم "اویکن" کی روح کو ملوکا کے افق پر پھونکتے ہوئے اپنی بات کا اختتام کیا:۔۔

"اب وقت آ گیا ہے کہ تم اپنی آنکھیں کھولو اور جاگ جاؤ! کیونکہ جب تک تم گہری نیند میں سوئے رہو گے، یہ جعلی بارہ سنگے تمہارے حقوق کی نیلامی کرتے رہیں گے۔ اگر تم نے آج اپنے تعلیمی نظام، اپنی زبان اور اپنے الہامی جمہوری اصولوں کا دفاع نہ کیا، تو یاد رکھو، غلامی کی یہ سیاہ رات کبھی ختم نہیں ہوگی۔ بیداری کوئی دوسرا آ کر تمہیں تحفے میں نہیں دے گا، یہ تمہارے اپنے اندر سے پھوٹے گی۔

جاگو! اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، اور اس انتظامی تھیٹر کے پردے ہمیشہ کے لیے گرا دیے جائیں"۔۔۔


جلوس اب بھی جاری تھا، لیکن ملوکا کے شہری اب تالیاں نہیں بجا رہے تھے۔ انہوں نے گزشتہ متعدد دھائیوں کے جھوٹے وعدوں اور ان کے سروں پر بندھے مضحکہ خیز مصنوعی سینگوں کو دیکھ کر مسکرانا چھوڑ دیا تھا۔ بیداری کی ایک تیز لہر نے ملوکا کے ذرے ذرے کو جھنجھوڑ دیا تھا، اور عوام اب اپنے ملک کی تقدیر کا ایک نیا، آزاد اور الہامی آئین لکھنے کے لیے پوری قوت سے کھڑے ہو چکے تھے۔

Off-Grid Rooftop Solar in Uttarakhand – Reliable Energy Solutions by Gayatri Solar

Off-Grid Rooftop Solar in Uttarakhand – Reliable Energy Solutions by G...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocLq_CatRtzh807WChZb3x_1z0UV8_-u2-65AqA1ba8Fzv4KHuQ=s96-c
gayatri solar
8 seconds ago
Woodworking Blade Sharpener Machine for Better Cutting Efficiency

Woodworking Blade Sharpener Machine for Better Cutting Efficiency

1784981405.png
Umiya Engineering
7 minutes ago

Come rendere speciale il periodo dell’Avvento con un calendario decora...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocI96iZO4tZUPqyl2vWLhlchI__rZr8RCA78sZrJC0S2JbYqWA=s96-c
Raul Smith
33 minutes ago

CSGO Clicker Unblocked – Unlock Skins & Upgrade Your Game

1773903133.png
The Pizza Edition
35 minutes ago
Ayurvedic Treatment for Diabetes at Dr Monga Medi Clinic

Ayurvedic Treatment for Diabetes at Dr Monga Medi Clinic

1749711470.png
Dr Monga Clinic
37 minutes ago