مقاصدِ فطرت کا نگہبان بندہ صحرائی مرد کہستاني
The human beings are a special creation and humans have shown that specialty in many ways and means. The humans have habituated this earth which has three distinct geographic shapes as deserts mountains and seas. This write up "مقاصدِ فطرت کا نگہبان بندہ صحرائی مرد کہستاني " is an opinion about the strength of personality provided by these elements of nature to humans.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
مقاصدِ فطرت کا نگہبان بندہ صحرائی مرد کہستاني
فطرت کے مقاصد کي کرتا ہے نگہباني
يا بندہ صحرائي يا مرد کہستاني
دنيا ميں محاسب ہے تہذيب فسوں گر کا
ہے اس کي فقيري ميں سرمايہ سلطاني
يہ حسن و لطافت کيوں ؟ وہ قوت و شوکت کيوں
بلبل چمنستاني ، شہباز بياباني!
اے شيخ ! بہت اچھي مکتب کي فضا ، ليکن
بنتي ہے بياباں ميں فاروقي و سلماني
علامہ محمد اقبال نے اپنی کتاب ضربِ کلیم کی ایک نظم "محراب گل افغان کے افکار" میں زمین کے دو مظہر ماحولِ فطرت صحرا اور کوہستان کے باسیوں کے حوالے سے جدید دور کے انسان کے لیے کچھ ارشادات بیان کئے ہیں۔ مندرجہ بالا اس ہی نظم کے کچھ اشعار ہیں۔ اقبال نے ایک مردِ کوہستان محراب گل کو موضوع بحث بنا کر یہ انکشافات کئے ہیں کہ محراب گل چونکہ خود پہاڑوں میں رہتا تھا اس لیے اسے اس بات کا مشاہدہ تھا کہ قدرت نے فطرت میں جو مقاصد حضرتِ انسان کے لیے بطور حقوق اور فرائض پنہاں کررکھی ہیں؛ وہ کوہستان کی وادیوں اور صحرا کی وسعتوں میں بے نقاب ہوتے ہیں؛ چنانچہ قدرت کے مقاصد عام لوگوں کی نگاہوں تک ظاہر ہوتے ہیں ۔
یورپ کی جدید تہذیب نے لوگوں پر جو جادو کر رکھا ہے اوراس کی ظاہری چمک دمک میں آ کر جس طرح لوگ خود کو بھول چکے ہیں اس کا حساب کتاب کرنا یا اس کی باز پرس کرنا ان لوگوں کا کام ہے جو اس تہذیب سے الگ ہیں اور جن پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور ایسے لوگ صرف وہ ہوتے ہیں جو قدرت کے مقاصد کی حفاظت صحراؤں اور پہاڑوں میں رہ کر کرتے ہیں ۔ ایسے ہی فطرت شناس لوگوں میں وہ درویش پیدا ہوتا ہے جس کی درویشی میں عہد حاضر کی جادو بھری تہذیب کی باز پرس کرنے کی اہلیت ہوتی ہے ۔ اس کے فقر میں شاہی دولت چھپی ہوتی ہے یعنی وہ فقیری میں بھی شاہانہ شان رکھتا ہے ۔
آج کی دنیا میں ایک گروہِ انسان ایسا ہے جو تہذیب جدید کے جادو میں آ چکا ہے ۔ ان کو شاعر نے باغ کی بلبل سے تشبیہ دی ہے جہاں حسن بھی ہوتا ہے اور ملائمت بھی ۔ جبکہ ایک طبقہ فطرت سے جڑا حقیقی مقاصد زندگی کی حفاظت کرتا ہے؛ اور شاعر بے انکو بیابان کے شاہین سے تشبیہ دی ہے؛ جس میں طاقت بھی ہوتی ہے اور شکوہ بھی ہوتا ہے ۔ ان دو طبقات کے موازنے سے شاعر یہ ثابت کرنا چاہتے ہے کہ باغ میں رہنے والی اور حسن و ملائمت کو پسند کرنے والی بلبل بیابان میں رہنے والے شاہین سے کم تر ہوتی ہے ۔
شہروں اور بیابانوں کی فضاؤں اور ان میں رہنے اور پلنے والوں میں فرق کو آگے بڑھاتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ اے استاد مدرسہ! میں مانتا ہوں کہ جدید مدرسوں کا ماحول ظاہری طور پر بہت اچھا ہے اور مغربی تہذیب و ثقافت کا اثر لیے ہوئے تعلیم بظاہر بڑی بھلی معلوم ہوتی ہے لیکن ان مدرسوں کی فضا میں مغربی ذہن رکھنے والے تو پیدا ہو سکتے ہیں لیکن حکمرانی ہوتے ہوئے حضرت عمر فاروق جیسی خصوصیات اور درویش ہوتے ہویے حضرت سلمان فارسی جیسی صفات رکھنے والے پیدا نہیں ہوتے ۔ ایسے لوگ صرف بیابانوں میں پیدا ہوتے ہیں جہاں فطرت بے نقاب ہوتی ہے اور جہاں کے لوگ فطرت کے مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہیں نہ کہ یورپ اور اہل یورپ کے مقاصد کو ۔
شہری آبادیوں میں لوگوں کو یہ بات میسر نہیں ہوتی کہ قدرت کے جو مقاصد ہیں ان کی حفاظت صرف ریگستان یا بیابان یا پہاڑ میں رہنے والے لوگ ہی کر سکتے ہیں کیونکہ وہی فطرت کے تقاضوں سے واقف ہوتے ہیں ۔ اقبال کا یہ پیغام تقریبا" سو سال پرانا ہے۔ ذیل میں ایک تحریر پیش خدمت ہے جو ڈیجیٹل میڈیا "لنکڈان" پر جناب مارک پولیٹ نے لکھا ہے، جو متحدہ عرب امارات میں مقیم اسکول لیڈر | عالمی تعلی کے ماہر ہیں۔ آئیے پڑھتے ہیں۔
صحرا میں کھلے خیمہ سے قیادت کا سبق
زندگی میں کچھ ایسے سبق ہوتے ہیں جو کوئی کتاب نہیں سکھا سکتی۔ اسباق سیاہی میں نہیں بلکہ صحرائی ہواؤں کے درمیان خاموشی میں پنہاں ہوتی ہے؛ اورجو رات ہونے سے پہلے آگ لگائی جاتی ہے، اور کسی اجنبی کو خوش آمدید کہنے کے لیے جس طرح ہلکی ہوا میں خیمہ کا پلہ پھڑ پھڑاتا ہے؛ سبق سکھاتا ہے۔
میں نے پچھلا ہفتہ الظفرہ میں کینوس کے خیمے کے نیچے ایک بدو بزرگ کے ساتھ بیٹھ کر گزارا۔ ہوا ریت اور لکڑی کی خوشبو لے کر گھومتی تھی، اور آسمان شام کے نرم رنگوں میں رنگا ہوا، ہمارے اوپر لامتناہی پھیلا ہوا تھا۔ اس نے قہوہ کو ایک چھوٹے فنجان میں ڈالا، اسے ایک شان کے ساتھ میرے حوالے کیا، اور بغیر کسی لگی لپٹی کے ایک ایسی بات کہی جو تب سے میرے ذہن میں گونج رہی ہے:
"خیمہ آپ کا نہیں ہے اگر دوسرے اس میں خوش آمدید محسوس نہ کریں۔"
پہلے تو میں شائستگی سے مسکرایا، سر ہلایا جیسے میں سمجھ رہا ہوں۔ لیکن جب وقت گزرنے کے ساتھ میں زیادہ دیر تک بیٹھا اور آگ کی روشنی ٹمٹماتی گئی، تو اس جملے کی گہرائی میرے اندر ڈوبنے لگی۔ وہ جملہ خیمے کے بارے میں نہیں تھا۔ وہ شاید ہر چیز کے بارے میں تھا۔
صحرا میں مہمان نوازی وصف مجبوری نہیں، بلکہ وصف لازم ہے۔ کسی مسافر کے لیے اپنا خیمہ بند کرنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اس کے زندہ رہنے کے موقع سے انکار کر دیا جائے۔ بیڈوین / صحرائی بدوی ثقافت میں سخاوت کار محض نہیں ہے؛ بلکہ یہ بنیادی وصف حیات ہے۔ مہمان صرف خوش آمدید نہیں کہا جاتا بلکہ مہمان مقدس ہوتا ہے۔
"مہمان خدا کا تحفہ ہے،" بزرگ نے مجھے بعد میں بتایا۔ "وہ اپنے ساتھ وہ نعمت لاتا ہے جس کا آپ کو علم ہی نہیں ہوتا کہ اس کی آپ کو ضرورت ہوتی ہے۔"
یوں وہ صدیوں سے دولت یا حفاظتی دیوار سے نہیں بلکہ اپنی برادری کی طاقت سے زندہ ہیں۔ ہر کوئی اپنا ہے۔ کوئی بھولا نہیں ہے۔
وہاں میں نے غور کیا اور میں نے دنیا کی قیادت کے بارے میں سوچنا شروع کیا؛ اور ان اداروں سے متعلق غور کیا جن کے بارے میں سب سے بہتر جانتا ہوں، یعنی اسکول، ادارے، نظام۔ میں نے کتنی بار کارکردگی یا ساخت کے نام پر اپنے ہی خیمے کا استعاراتی فلیپ بند کیا؟ کتنی آوازیں سنائی نہیں دی تھیں، اس لیے نہیں کہ میں نے انہیں مسترد کر دیا، بلکہ اس لیے کہ میں نے انہیں اندر آنے کا موقع نہیں دیا؟ ایک بند کمرے میں کیا گیا فیصلہ، جس میں ایک والدین کو بہت جلد برطرف کر دیا تھا؛ اور ایک استاد جسے کبھی اپنائیت محسوس کرائے بغیر روانہ کردیا گیا۔
بدوؤں کی زندگی میں لیڈر خود کو اوپر نہیں رکھتا۔ وہ خود گھل مل کر دوسروں کے درمیان رہتا ہے۔ اس کی آواز ناپی جاتی ہے۔ اس کی خاموش موجودگی میں؛ اس کا اختیار نافذ نہیں کیا جاتا، لازم محسوس ہوتا ہے۔ میں نے کبھی بھی ایسی ثقافت کو نہیں جانا جہاں قیادت اتنی گہرائی سے عاجزی سے جڑی ہوئی ہو۔ صحرا میں ایک حقیقی رہنما دیکھتا ہے کہ کون غائب ہے، نہ کہ صرف کون موجود ہے۔ وہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی اکیلا نہ کھائے، ہر ایک کی آواز ہو، چاہے وہ آواز نرم اور باریک ہی کیوں نہ ہو۔
"ایک سچا لیڈر آخر میں کھاتا ہے، بولتا بعد میں ہے، اور پہلے سنتا ہے،" بزرگ نے مسنون دل موہنے والی مسکراہٹ کے ساتھ کہہ دیا۔
یہ درجہ بندی کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ انسانیت کے بارے میں ہے۔ اس سب کی سادگی کے بارے میں گہرائی سے آگے بڑھنے والی چیز ہے۔ ایک خیمہ۔ ایک آگ۔ کافی کا کپ ہاتھ سے ملا۔ کوئی پاورپوائنٹس نہیں۔ کوئی نوکری کے عنوانات نہیں۔ صرف لوگ، اور ان کے درمیان خالی جگہیں جو اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے لیے کون ہیں۔
قیادت، جیسا کہ مجھے صحرا نے سکھایا، کنٹرول کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ تعلق پیدا کرنے کے بارے میں ہے۔ خیمہ ایک ڈھانچہ ہے، ہاں، لیکن یہ استقبال کی علامت بھی ہے۔ اگر لوگ داخل ہونے میں محفوظ محسوس نہیں کرتے ہیں، تو آپ مینیجر ہوسکتے ہیں، لیکن آپ ابھی تک لیڈر نہیں ہیں۔
اور اس لیے میں نے اپنے آپ سے پوچھا؛ اور میں آپ سے بھی پوچھتا ہوں، آپ کا خیمہ کیسا لگتا ہے؟
کیا یہ کھلا ہے؟ کیا یہ دعوت دے رہا ہے؟ کیا ایسے لوگ ہیں جو باہر انتظار کر رہے ہیں، اس بات کا یقین نہیں ہے کہ کیا وہ واقعی خوش آمدید کہے جائیں گے؟
شاید ہماری قیادت کا اصل پیمانہ ہمارے تزویراتی منصوبوں یا ہماری معائنہ رپورٹوں میں نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں میں ہے جو ہم وہاں موجود ہونے کی وجہ سے دیکھے، سنے اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
یہ صرف شروعات ہے۔ اگلی جمعرات، میں ریت سے ایک اور مختصر کہانی شیئر کروں گا۔
ڈیجیٹل میڈیا "لنکڈان" پر جناب مارک پولیٹ کی تحریر اس لنک پر موجود ہے۔
https://www.linkedin.com/pulse/tent-open-leadership-from-desert-mark-pollitt-awe3f/
اختتامی کلمات
ہم اس زمین پر بسنے والے انسانوں کی بصارت جس کا تعلق ظاہری آنکھوں سے ہے روشنی کے بغیر کچھ نہیں دیکھ سکتی اور اس کا دیکھنا چیزوں میں تمیز کرتا ہے کہ یہ فلاں شے ہے اور یہ فلاں چیز نہیں ہے ۔ یہ فلاں رنگ ہے یا یہ فلاں رنگ نہیں ہے ۔ ستم یہ ہے کہ شہری زندگی کے عادی انسانوں کی بصارت حقیقی مقاصد فطرت کی تمیز کرنے والی ہے حقیقی نگاہ نہیں رکھتی ہے ۔ حقیقی نگاہ وہ ہے جو سورج اور چاند کی روشنی کی محتاج نہیں اور اس کے بغیر ہی صرف اشیا ہی کو نہیں بلکہ اشیا کی حقیقت تک کو دیکھ لیتی ہے ۔ یہ آنکھ حقیقت انسان کی پرکھ رکھنے والے لوگوں کے پاس اپنے اندر ہوتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اس نگاہ کو پیدا کرنے کی جستجو کرتا رہے ۔
مندرجہ بالا مواد میں سارا ذکر اقبال کے کلام کے توسط سے ہوا اور بندہ صحرائی اور مرد کوہستانی نام آیا۔ اقبال کشمیر جنت نظیر میں پیدا ہوئے اور زندگی کا زیادہ وقت لاہور میں گزارا؛ گرچہ وہ تعلیم کے لیے ولایت بھی گئے۔ لیکن ان کی نگاہ سمندری ملاح پر نہیں پڑی۔ موصوف بذات خود کچھ سال سمندر کی وسعتوں میں گذار چکا ہے اور آج جو تاریخ انسان کو سبق دے رہی ہے وہ یہ بتا رہی ہے کہ جن انسانوں نے سمندر کی اتھاہ وسعتوں میں فطرت کے تقاضے سیکھے وہ دنیا پر حکمران بن گئے۔ واکنگز سےشروع ہونے والا سفر مغربی دنیا کے ملاحوں نے آگے بڑھایا تو ساری دنیا کے حکمران بن گئے۔ کچھ نہ کچھ اسرار تو سمندر کی لہروں میں چھپا ضرور ہے۔ اس کا سفر اختیار کریں گے تو معلوم پڑے گا۔ اپنے قارئین کے لیے بہت جلد؛ ان شاء اللہ۔