مقام و مرتبہ

تمثیلی کہانی مکھی اور پروانے کے کرداروں کے ذریعے انسانی عادات، نیت اور ظرف کا ایک گہرا صوفیانہ موازنہ پیش کرتی ہے۔ کہانی میں مکھیوں کا ایک وفد بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہو کر پروانے جیسی عزت اور بلند مقام حاصل کرنے کی التجا کرتا ہے۔ تاہم، انہیں معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی سرفرازی اور رتبہ صرف تمنا کرنے سے نہیں، بلکہ پاکیزہ طلب اور سچی قربانی سے ملتا ہے۔ یہ تمثیل دراصل انسان کو مادی پیٹ پوجا سے بالاتر ہو کر نورِ حق اور مقصدِ حیات تلاش کرنے کا درس دیتی ہے۔

Oct 18, 2026 - Muhammad Asif Raza

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


مقام و مرتبہ


یہ جو دنیا ہمارے سامنے پھیلی ہوئی ہے؛ نجانے کتنی صدیوں سے موت و حیات کا کھیل اس پہ جاری ہے۔ ہر ذی حیات حیوان، چرند و پرند، نباتات اور افضل المخلوق انسان، سب اس زمین پہ پیدا ہوتے ہیں اور اپنی اپنی زندگی جیتے ہوئے مر جاتے ہیں۔ لیکن ہر ذی حیات کا اس زمین پہ ایک مختلف مقام و مرتبہ ہے۔

مثال کے طور پہ مکھی اور پروانہ! انسان جو اشرف المخلوقات ہے، اس نے مکھیوں کو ہمیشہ گندگی، بدبو اور بیماری کے استعارے کے طور پہ بیان کیا ہے، جبکہ پروانے کو بہت اونچا مقام دیتے ہوئے اسے عشق اور وفاداری کی علامت مانا ہے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مکھیوں کو انسانوں کا یہ سلوک پسند نہیں آیا۔ انہوں نے خواہش کی کہ ان کو معاشرے میں ایک بہتر مقام و مرتبہ ملے۔ سو، مکھیوں کا ایک وفد اپنے حالات سے تنگ آکر ربِ کائنات، خالقِ یزدان کے دربار میں حاضر ہوا۔ ان کا مکھیا آگے بڑھا، سر جھکایا اور نہایت مؤدبانہ انداز میں عرض کرنے لگا:۔۔


"اے کائنات کے مالک! تو نے ہمیں بھی پر دیئے، اڑنے کی طاقت دی اور جینے کا سامان دیا۔ لیکن معاشرے میں جو عزت، مقام اور رتبہ پروانے کو حاصل ہے، ہم اس سے محروم ہیں۔ پروانے کو لوگ محبت، قربانی اور عشق کی علامت سمجھتے ہیں۔ شاعر اس پر غزلیں لکھتے ہیں اور محفلیں اس کی تعریف کرتی ہیں۔ جبکہ ہمیں دیکھتے ہی لوگ نفرت سے ہاتھ ہلاتے ہیں، مارنے کو دوڑتے ہیں اور گندگی کی علامت سمجھتے ہیں۔ ہماری گزارش ہے کہ ہمیں بھی معاشرے میں پروانے جیسا مقام اور عزت عطا کی جائے!"

مالکِ کل نے ان کی فریاد سنی اور فرمایا: "چلو ایسا کرو کہ تم بھی اس کی طرح روشنی کی تلاش کرو اور زمین پہ روشنی کے سارے منبعوں اور جگہوں کو دیکھ آؤ، اور یہاں واپس آکر بیان کرو"۔۔۔


مکھیوں کا وفد اڑا اور ساری زمین پہ پھیل کر روشنی کے بارے میں تحقیق کرنے لگا۔ کچھ عرصے بعد جب وہ واپس دربار تک آئے، تو سبھی مکھیاں تھکی ہاری اور شرمندہ سی نظر آ رہی تھیں کیونکہ ان کی نظر صرف کچرے اور نجاست پر ہی پڑتی رہی۔

مکھیا نے روتے ہوئے التجا کی: "اے مالکِ یزدان! تو ہماری فطرت سے گندگی کی یہ تلاش اور کشش ختم کر دے، تو ہمارا کام آسان ہو جائے گا اور ہم بھی روشنی کے سچے دلدادہ بن جائیں گے"۔۔۔۔

خالقِ کل نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایسا کر دیا کہ اب گندگی ان کی توجہ حاصل نہیں کر سکتی تھی اور نہ ہی انہیں اپنی طرف کھینچتی تھی۔ مکھیاں خوش ہو گئیں اور دوبارہ زمین کے چپے چپے پر پھیل گئیں۔

ایک طویل تحقیق کے بعد، مکھیوں کا وفد پھر دربارِ الٰہی میں حاضر ہوا اور اپنی رپورٹ پیش کی۔ مکھیا نے بتایا کہ دنیا میں کہاں کہاں اور کیسی کیسی روشنیاں ہیں—کونے کونے میں علم و محبت کا نور ہے، کہیں شہروں میں مصنوعی چراغاں ہے اور کہیں قدرت کے چاند ستارے چمک رہے ہیں۔

لیکن اس تفصیل کے ساتھ ہی، مکھیا نے ایک سچائی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: "اے باری تعالیٰ! گندگی کی کشش ختم ہونے کے باوجود، ہمیں اپنی بقا اور پیٹ بھرنے کے لیے بہرحال اسی گندگی اور فضلے پر ہی جانا پڑا۔ ہم نے حساب لگایا ہے کہ ہمارا نوے فیصد (90%) وقت کھانے پینے کی تلاش میں گندگی پر بیٹھے ہوئے گزرا، اور صرف دس فیصد (10%) وقت ہی ہم روشنی کی تلاش میں نکال سکے"۔۔۔


مالکِ کل نے مکھیوں کی یہ رپورٹ توجہ سے سنی اور پھر مسکرا کر ایک ایسا سوال پوچھا جس نے پورے وفد پر سکتہ طاری کر دیا۔

مالکِ کل نے پوچھا: "تم تو اپنی بقا کی خاطر گندگی پر لوٹ گئیں اور زندہ واپس آ گئیں... لیکن یہ بتاؤ کہ اس روشنی کو پا کر کتنے پروانے واپس آئے؟"۔۔۔

مکھیوں کا مکھیا یہ سن کر دنگ رہ گیا اور دھیمی، کانپتی ہوئی آواز میں بولا: "اے پروردگار! ایک بھی نہیں! جو پروانہ بھی اس روشنی تک پہنچا، وہ اسی شمع پر نثار ہو گیا، جل کر راکھ ہو گیا، لیکن وہاں سے زندہ واپس نہیں پلٹا"۔۔۔۔


باری تعالیٰ نے یہ سن کر فرمایا:۔۔۔

"اے مکھیو! ہم نے تم مکھیوں اور پروانے دونوں کو اپنے افضل مخلوق کی تربیت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اے مکھیو! تم اس کو گندگی کی موجودگی کا پتہ دیتی ہو، تم اس کو باور کراتی ہو کہ پیٹ پوجا کی طلب گھٹیا راستوں کا سفر ہے... لیکن ہم اس کو پروانہ بھی دکھاتے ہیں جو زمین کی تاریکی سے نکلتا ہے، روشنی کی تلاش کرتا ہے، شمع تک پہنچتا ہے اور خود کو فنا کر دیتا ہے۔ تم بتاؤ، کائنات کا سب سے بڑا روشنی کا منبع اور خزانہ کیا ہے؟"

یہ سن کر سب مکھیاں یک زبان ہو کر بول پڑیں: "اے مالکِ کُل! تیرے سوا اور کون ہو سکتا ہے؟ تو ہے، صرف تو ہی تو ہے!"۔۔

باری تعالیٰ نے فرمایا:۔۔۔

"اے میری مکھیو! اس زمین پہ سب میری مخلوق ہیں اور سب کا مقام و مرتبہ ہم نے قائم کیا ہے۔ یہ رتبہ اور مقام کسی کی خواہش سے نہیں ملتا، یہ طلب اور جستجو کا معاملہ ہے۔ پروانے کا مقام اس لیے اونچا ہے کیونکہ اس کی طلب پاکیزہ ہے، وہ نور کا طالب ہے اور اس راہ میں اپنی ہستی مٹا دیتا ہے۔ جبکہ تمہاری طلب پیٹ پوجا کے لیے گندگی کی تلاش جیسی پست ہے۔ تم روشنی کی متلاشی ہی نہیں رہتیں اور اگر تمہیں روشنی مل بھی جائے، تو تم اسے پیٹ پوجا کی ڈور میں ضائع کر دیتی ہو۔

تمہارے ذریعے ہم انسان کو سکھا رہے ہیں کہ اس دنیا کی طلب صرف اندھیرے اور بدبو کی تلاش ہے۔ جب تک تمہاری طرح انسان کی اندرونی خواہش اور ظرف صرف پیٹ پوجا رہے گا، دنیا میں تمہارا استعارہ ہی اس کا نصیب ہوگا۔ اور میرے جو بندے روشنی اور نور کے متلاشی ہوں گے، وہ تو قربانی دیں گے، شہید کہلائیں گے اور سرفراز ہو جائیں گے۔ دنیا طلب کیا جانیں کہ پروانے کا مقام و مرتبہ کیا ہے!"۔۔۔۔


مکھیوں کا وفد خاموشی سے سر جھکائے دربار سے رخصت ہو گیا، کیونکہ وہ اب اچھی طرح جان چکی تھیں کہ خالقِ کُل نے ان کو کس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور خدا کی رضا اور خوشی سے بڑھ کر کسی بھی مخلوق کے لیے اور کیا اچھا ہو سکتا تھا؟ وہ اپنے مرتبے پر مطمئن ہو کر اپنے رب کی حمد کرتی ہوئی لوٹ گئیں۔


حاصلِ کلام


"کائنات کی عدالت کا یہ ابدی اصول ہے کہ مقام و مرتبہ خواہشوں کی بنیاد پر نہیں، بلکہ طلب کے ظرف اور قربانی کے معیار پر ملتا ہے۔ مکھی اور پروانہ دراصل انسانی رویوں کے دو متضاد رخ ہیں۔ دنیا طلبی کی پست دوڑ انسان کو روشنی کے مرکز میں بھی اندھیرے اور بدبو کا اسیر رکھتی ہے، جبکہ حق طلبی کا سچا جذبۂ عشق اسے مادی وجود کی قید سے آزاد کر کے سرفرازی اور شہادت کے لافانی درجے پر فائز کر دیتا ہے۔ جو پیٹ پوجا کی ڈور میں بندھے ہیں وہ مٹ جاتے ہیں، اور جو نورِ حق کی خاطر اپنی ہستی کو فنا کرنا جانتے ہیں، وہی امر کہلاتے ہیں۔"

گرنا ترے حضور میں اس کی نماز ہے

ننھے سے دل میں لذتِ سوز و گداز ہے

پروانہ، اور ذوقِ تماشائے روشنی

کیڑا ذرا سا، اور تمنائے روشنی!۔

More Posts