مقام و مرتبہ عشقِ رسولﷺ
Dr Muhammad Allama Iqbal was the great mystic Poet of the East. Iqbal is also called the philosopher of East and national poet of Pakistan. Allama Iqbal had a deep love for the Holy Prophet (PBUH) and this has been expressed during every stage of his Urdu and Persian poetry. This write up "مقام و مرتبہ عشقِ رسولﷺ" in Urdu is about the importance of love for the Prophet(PBUH) for each Muslim.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
مقام و مرتبہ عشقِ رسولﷺ
حضورِ اکرم محمد ﷺ کی سیرتِ پاک ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور انسان کامل ہیں۔ آقا رحمت العالمین ﷺ کی شخصیت کی تجلی میں کیا کیا کمال ہیں یہ تو اللہ سبحان تعالی ہی بہتر جانتا ہے؟ مگر اللہ نے انہیں سراج المنیرﷺ بنایا ہے تو انکی تعلیم، تربیت اور صحبت نے کیسے کیسیے نابغہ روزگار پیدا کیے اور کیا کیا جوہرِ قابل اجاگر ہوئے۔ آقاعلیہ السلام ﷺ کی تعلیم و تربیت ہی تھی کہ صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم کو آپ ﷺ سے والہانہ عشق تھا اور یہ ان کی محبت اور محنت کی عظمت ہے کہ آج تک امت میں سے وقتا" فوقتا" ایسے غلام ابھرتے رہتے ہیں جن کا کلام اور تحریریں امت کے دلوں کو روشن کرتی رہتی ہیں۔
عشق وہ والہانہ جذبہ ہے جو حضرت انسان کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ جذبہ بناوٹ، امید یا لالچ سے ماورا ہوتی ہے۔ یہ جذبہ انسان کو ایک جست میں اس بلندی اور آفاقیت تک لے جاتی ہے، جس کا خیال بھی نہیں ہوتا۔ کسی بھی مسلمان کا آقا کریم ﷺ سے عشق وہ قوت عطا کرتی ہے کہ یقین و ایمان میں پختگی آتی ہے۔ اور اسی جذبہ کے تحت ایمان بل غیب پر یقین محکم ہوجاتا ہے۔
عشق ایک مقناطیسی کشش ہے؛ جس میں محب کا اپنی محبوب کی چاہ میں خود کو فنا کر دینا ہے اور اگرعشق آقا کریمﷺ سے ہو تو یہ تعلق یا کشش سیدنا محمد مصطفی کے عاشق کو عجب کرشمے سے روشناس کراتا ہے۔ آقا کریم محمدﷺ کی ہستی تو ایسا بحرِ ذخار ہے؛ جس کی موجیں فلک کی وسعتوں سے زیادہ ہیں۔ اور عاشقان رسول کا ایسا رویہ کیوں نہ ہو کہ آقا کریم محمدﷺ کی تعلیمات محبت ، اخوت، مساوات اور رواداری کا درس جو دیتی ہیں؛ اور جس کےعملی مظاہرے کی گواہی صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم نے امت تک اچھی طرح پہنچائی ہے۔
آقا کریم محمدﷺ کو نبوت سے پہلے ہی صادق اور امین کے خطاب دئیے گئے تھے؛ اور سچی بات تو یہ ہے کہ کوئی بھی وسعت قلب کا حامل انسان سیرتِ پاکﷺ سے روشناس ہو اور آقا کریمﷺ کی الفت میں گرفتار نہ ہو کیسے ممکن ہے؟ اس لیے یہ بات علامہ اقبال کے لیے قابلِ رشک ہے کہ وہ آقا کریم ﷺ جیسےعظیم بندے اور رسول کےعشق تھے اور اسی نبوت کے آفتاب کے نور سے اقبال کی شاعری منور ہوئی ہے۔ مولانا عبدالسلام ندوی نے ”اقبال کامل“ میں لکھا ہےکہ ” ڈاکٹر صاحب کی شاعری محبت ِ وطن اور محبت قوم سے شروع ہوتی ہے اور محبت الہٰی اور محبت رسول پر اس کا خاتمہ ہوا"۔
علامہ اقبال کو حضوراکرمﷺ سے والہانہ عشق تھا اور اس کا اظہار ان کی اردو اور فارسی کے ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ اقبال کی انفرادیت ہے کہ انہوں نے اردو فارسی دونوں زبانوں میں مدح رسول اکرم کو ایک نئے اسلوب اور نئے آہنگ کے ساتھ اختیار کیا۔ فارسی زبان میں انکا مقام تو اہلِ ایران خوب جانتے ہیں اور بیان بھی کرتے ہیں مگر اردو زبان پر علامہ کا احسان ہےجو انہوں نے کمال اشعار کہہ کر امر کردیے۔
خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کا
خو شا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسیں وہی طہٰ
تازہ میر ے ضمیر میں معرکہ کہن ہوا
عشق تمام مصطفی عقل تمام بولہب
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہء دانشِ فرنگ
سرمہ ہے مری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
عقل ہے تیری سپر ، عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش! خلافت ہے جہان گیر تری
ماسوا اللہ کے لئے آگ ہے تکبیر تری
تو مسلماں ہوتو تقدیر ہے تدبیر تری
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لو ح قلم تیرے ہیں
عشق کا محور و مرکز آقا کریم محمدﷺ
اقبال کی شاعری کا محور اصل میں عشق رسول ہی ہے۔ اسی زینہ پر چڑھ کر وہ محرم راز درونِ مے خانہ کا دعویٰ کرتے ہیں اسی ذات کو اقبال آخرت اور دنیا دونوں میں نجات دہندہ خیال کرتے ہیں۔ اور اقبال نے اسی ذاتِ با برکات کو اپنی فکر اور سوچ کا مرکز بنایا جس نے امت مسلمہ کی درست اور محکم داغ بیل ڈالی تھی۔ اور امت محمدﷺ کا کوئی فرد ہو اور اس کے دل میں آقا کریم محمدﷺ کے عشق کا بیج نہ ہو؛ تو وہ مشکل میں ہے۔ اس تحریر کا مقصد علامہ اقبال کے کلام کے ذریعے قارئین کے دل میں عشقِ محمدﷺ کا بیج بونا ہے۔ شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات تو آئیے علامہ اقبال کی کتاب" بال جبرئیل" کی ںظم "ذوق و شوق " کے کچھ اشعار کی تشریح مختصرا" پڑھتے ہیں۔
لوح بھی تو ، قلم بھی تو ، تيرا وجود الکتاب
گنبد آبگينہ رنگ تيرے محيط ميں حباب
اے میرے محبوبﷺ آپ سب کچھ ہیں۔ یعنی سب کچھ آپ ہی کے وجود مسعود کی بدولت عالم وجود میں آیا۔ اگر آپ نہ ہوتے تو نہ لوح ہوتی نہ قلم ہوتا، اور نہ کتاب ہوتی۔ اور آپ ﷺ کی شان کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ یہ آسمان جس کے طول و عرض کا کچھ پتہ نہیں ہے، آپ ﷺ کے محیطِ وجود کے سامنے اس کی حقیقت ایسی ہے جیسے سمندر کے مقابلہ میں ایک بلبلا!۔
عالم آب و خاک ميں تيرے ظہور سے فروغ
ذرہ ريگ کو ديا تو نے طلوع آفتاب
اس کائنات کو آپ ﷺ ہی کے ظہور سے فروغ حاصل ہوا ہے۔ آپ ﷺ ہی کے قدموں کی برکت سے ذرہ ریگ (بلال حبشی) دنیا میں آفتاب (سیدنا بلال) بن کر چمکا۔ آپ ﷺ ہی کی کفش برداری کا یہ نتیجہ تھا کہ امیرالمومنین فاروقِ اعظم حضرت بلال کو "سیدنا بلال" کہتے تھے۔ آپ ﷺ ہی کی نگاہ کیمیا اثر کا فیض تھا کہ حضرت اسامہ ابن زید اسلامی فوج کے سپہ سالار مقرر ہوئے جو ایک غلام کے بیٹے تھے۔
شوکت سنجر و سليم تيرے جلال کی نمود
فقر جنيد و بايزيد تيرا جمال بے نقاب
سلطان سنجر اور سلطان سلیم آپ ﷺ کی شان جلال، اور حضرت جنید اور حضرت با یزید آپ ﷺ کی شان جمال کے مظہر ہیں۔ جن کا حال درج کرتاہوں:-۔
سلطان سنجر سے زیادہ شان و شوکت والا بادشاہ شاید ہی مشرق کوئی اور گزرا ہو۔ چنانچہ اس کی عظمت و سطوت کا کچھ اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ جب حضرت امام غزالی اس کے دربار میں تشریف لائے تو اس کی شان و شوکت دیکھ کر اُن کے بدن میں رعشہ طاری ہو گیا۔ اگرچہ سلطان نے ان کی انتہائی تعظیم و تکریم کی۔ تخت شاہی سے اتر کر استقبال کیا۔ اور اپنے برابر مسند پر جگہ دی۔ لیکن اس کے باوجود ہیبت کا اثر دور نہ ہوا، تو امام صاحب نے اس قاری سے جو ان کے ہمراہ تھا، درخواست کی کہ مجھے کوئی آیت سناؤ۔ قاری چونکہ موقع شناش تھا اس لیے اس نے یہ آیت پڑھی مَا لَیࣿسَ اللّٰہُ بکافٍ عَبࣿدَہٗ کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے۔ تب جا کر ان کا دل قابو میں آیا۔ اور حواس بجا ہوئے۔ اس کے بعد پھر امام صاحب نے سلطان کی فرمایش پر ایک عالمانہ تقریر ارشاد فرمائی۔
سلطان سلیم اول سلطنت عثمانیہ کے نامور ترین سلاطین میں سے گذراہے۔ ۱۵۱۲ء میں تخت نشین ہوا، اور ۱۵۲۰ء میں صرف آٹھ سال حکومت کرنے کے بعد وفات پائی۔ لیکن اس قلیل مدت میں اس نے سلطنت کی واعت کو دو چند کر دیا۔ یعنی دیار بکر، آرمینیہ، کردستان، شام، مصر، اور حجاز کو سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا۔ حجاز کی فتح کے بعد اُس کو "خادم الحرمین الشریفین" کا لقب حاصل ہو گیا۔ اور آخری عباسی خلیفتہ المتوکل علی اللّٰہ نے جو قاہرہ میں مملوک سلاطین کے زیرِ سایہ اپنی زندگی گذارر رہا تھا، خلافت کے تمام حقوق اسے تفویض کر دیئے۔ چنانچہ سلطان سلیم پہلا عثمانی سلطان ہے، جو خلیفتہ المسلمین اور خادم حرمین شریفین کے لقب سے ملقب ہوا۔
حضرت جنید بغدادی جو صوفیا کے طبقہ ثانیہ سے تعلق رکھتے ہیں اور سید الطائفہ کے لقب سے مشہور ہیں، بلاشبہ اولیائے کبار میں سے ہیں اور ان کا نام غائیتِ شہرت کی وجہ سے محتاج تعارف نہیں ہے۔ تیسری صدی کے شروع میں بغداد میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والدین نے جو ایران النسل تھے مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔ جونی میں حضرت سری سقطی کے ہاتھ پر بیعت کی، اور زہد و تقویٰ کی بدولت طبقۂ صوفیا میں بہت بلند مرتبہ حاصل کیا۔ چنانچہ حضرت شبلی کا قول ہے کہ اصامنا فی ھٰذا العلم و مرجعنا المقتدیٰ بہ جنیدُ۔ ایک دن خلیفہ بغداد نے اپنے کسی مصاحب کو بے ادب، کہہ کر پکارا، تو اس نے کہا اب مجھ سے بے ادبی کا صدور نہیں ہو سکتا، کیونکہ میں نصف روز تک حضرت جنید کی خدمت میں رہ چکا ہوں۔ ۲۳۱ھ میں وفات پائی۔
حضرت بایزید بسطامی، طبقہ اولیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری صدی کے آخر میں پیدا ہوئے تھے۔ اور ۲۳۱ھ میں وفات پائی۔ طبقہ صوفیاء میں اتباع شریعت کے لیے ان کا نام ضرب المثل ہو گیا ہے۔ ان کا یہ مقولہ بہت مشہور ہے، جس میں خود ان کی شخصیت منعکس ہے۔ الاستقامتہ فوق الکرامتہ یعنی شریعت اسلامیہ پر استقامت دکھانا، کرامت دکھانے سے بڑھ کر ہے۔ یا یوں سمجھو کہ سب سے بڑی کرامت جو ایک مسلمان سے ظاہر ہو سکتی ہے یہ ہے کہ وہ اتباع شریعت میں کامل ہو۔
شوق ترا اگر نہ ہو ميری نماز کا امام
ميرا قيام بھی حجاب ، ميرا سجود بھی حجاب
اگر آپ ﷺ کی محبت، یعنی آپ ﷺ کی اتباع کا جذبہ ارکانِ شریعت کی بجا آوری کا محرک نہ ہو، تو کوئی عبادت اللّٰہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہو سکتی۔
تيری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غياب و جستجو ، عشق حضور و اضطراب
یہ آپ ﷺ ہی کا تو فیض ہے کہ عقل اور عشق دونوں اپنی اپنی مراد پا گئے۔ عقل، غیاب و جستجو کی طالب تھی، یہ دولت اُسے مل گئی۔ اور عشق حضور و اضطراب کا آرزو مند تھا، یہ نعمت اُسے عطا ہو گئی۔
واضح ہو کہ ذات عقل کا یہ تقاضہ ہے کہ اس میں غیاب اور جستجو (مقصد سے دور رہنا اور تلاش کرنا) کا رنگ پایا جائے۔ اور ذات عشق اس کی مقتضی ہے کہ اس میں حضور اور اضطراب کی کیفیت پائی جائے۔ یعنی آپ ہی کی بدولت ہر شئے کو اس کی صورتِ نوعیہ نصیب ہوئی۔
حضور و اضطراب، غیاب و جستجو کی ضد ہے۔ اسی لیے عقل عشق کی ضد ہے اور اسی لیے دونوں کی تقدیر جُداگانہ ہے۔ چنانچہ اقبال خود کہتے ہیں؎
عقل، گویا آستاں سے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں
عقل، غیاب یعنی دور رہنے کی حالت سے مطمئن ہو سکتی ہے لیکن عشق مطمئن نہیں ہو سکتا، وہ حضور کا طالب ہے، وہ تو محبوب کو بے پردہ آمنے سامنے دیکھنا چاہتا ہے۔
تيرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے
طبع زمانہ تازہ کر جلوئہ بے حجاب سے
اے میرے آقا! جلوۂ آفتاب سے مادی اشیاء منور ہو سکتی ہیں لیکن انسانی قلوب منور نہیں ہو سکتے۔ بالفاظ دگر مادہ پرستی کی وجہ سے یہ دنیا روحانیت سے محروم ہو گئی ہے۔ اس لیے میں آپ ﷺ سے التجا کرتا ہوں کہ آپ ﷺ اپنے روحانی فیض سے اس دور میں بھی دنیا کو منور کر دیجئے۔
(شرح یوسف سلیم چشتی)
اختتامی کلمات
یہ سیرتِ پاک ﷺ کا معجزہ ہے کہ صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم کا کوئی ثانی نہیں ہے؛ اور آج تک جتنے بھی عاشقِ رسول دنیا میں ابھرے ہیں؛ ایسے چمکے ہیں کہ کوئی انکا بھی ثانی نہیں ہوا۔ آج مسلمانوں کی رسوائی اور ذلت کا سبب قرآن اور آقا کریم محمدﷺ سے دوری ہے۔ آج کے مسلمان کو اگر کوئی عظمت حاصل کرنی ہے تو صرف آقا کریم؛ خاتم النبیین؛ امام المرسلین ﷺ کی غلامی اختیار کرنی ہوگی۔ عشق رسولؐ کے بغیر منز ل کا حصول محض ایک خواب ہے۔
NOTE: یہ تحریر آزاد ویب نیٹ پر موجود مختلف ذرائع سے دستیاب مواد کی مدد سے مرتب کی گئی