"محبت مردہ پھولوں کی سمفنی"

Mazharul Islam's novel "محبت مردہ پھولوں کی سمفنی" is a beautiful novel of Urdu literature. There is an opinion that the novel was written to save the fading love from the world. This writing has been written to highlight the importance of love and affection in married life.

Jul 16, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

"محبت مردہ پھولوں کی سمفنی"

 

مظہر الاسلام کا ناول "محبت مردہ پھولوں کی سمفنی" اردو ادب کا خوب صورت ناول ہے۔ ایک رائے ہے کہ ناول "محبت مردہ پھولوں کی سمفنی" دنیا سے ختم ہوتی ہوئی محبت کو بچانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ تحریر شادی شدہ ندگی میں محبت اور مودت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔ محبت کے مختلف رنگ روپ ہیں۔ محبت کا بڑا آہنگ مرد وعورت کی شادی کی صورت میں ایک تکمیلی مرحلہ ہے۔ جو تاریخی طور پر شادی کے معتبر نظام کے ذریعے قائم کیا جاتا ہے۔

شادی دو انسانوں [ ایک مرد اور ایک عورت] کے درمیاں ایک قانونی اور سماجی طور پر تسلیم شدہ اشتراک کا طریقہ ہے۔ یہ تعلق آگے بڑھ کر دونوں افراد کے ممکنہ بچوں کے درمیان حقوق اور ذمہ داریاں قائم کرتی ہے۔ یہ ایک رسمی معاشرتی معاہدہ ہے، جو اکثر عوامی تقریب کے ساتھ، کسی جوڑے کو ایک پرعزم اور گہرے رشتے میں متحد کرتا ہے۔ دینِ اسلام میں یہ ایک مذہبی فریضہ ہے۔

  تاریخی طور پر شادی فطرت کے قانون کے تحت خاندان کی افزائش اور پرورش سے منسلک ہوتا ہے؛ چنانچہ شادی سماجی بندھن بنانے اور پیار اور صحبت جیسی ذاتی ضروریات کو پورا کرنے کا کام بھی کرتی ہے۔ کامیاب انسانی معاشروں میں شادی خاندانی تعلق کو استوار کرتا ہے اور مضبوط معاشرتی بنیاد کا باعث بنتا ہے۔ انسانی جوڑوں کی درمیان شادی شدہ زندگی کی کامیابی ایک ترقی پسند اور صحت مند معاشرے کا مقصود ہوتا ہے۔

 کامیاب شادی کے لیے بہترین طریقہ کار؛ آزادانہ مواصلات یعنی بلا روک ٹوک گفگتو کو ترجیح دینا، باہم اعتماد پیدا کرنا، فطری قربت کی پرورش کرنا، اور ایک دوسرے کے لیے مسلسل احترام اور قدردانی ظاہر کرنے پر مرکوز ہوتا ہے۔ اس میں باہم زندگی گذارنے میں درپیش چیلنجوں کو خوشدلی سے اختیار کرنا، ایک دوسرے کو معاف کرنا اور ایک ساتھ مستقبل کے خواب کی تعبیر میں آگے بڑھنے کی خواہش بھی شامل ہے۔ زندگی میں درپیش مسائل کا سامنا کرنے کے لیے باہم مل جل کر کام کرنے کی خواہش کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ کامیاب شادی کے لیے کلیدی عناصر میں باہم میسر وقت کو ترجیحی طور پر معیاری بنانا؛ ذہنی، قلبی، نفسیاتی قربت کو فروغ دینا؛ اور معاف کردینے کی عادت کی مشق کرنا شامل ہیں۔

 لیکن انسانی معاشرے آئیدیل نہیں ہوتے کیونکہ انسان خود مکمل نہیں ہوتے اور انکے درمیان اونچ نیچ کا معاملہ چلتا رہتا ہے۔ باہم جھگڑے بھی ہوتے ہیں۔ مگر اگر دونوں افراد کے درمیان زندگی کو بہتر کرنے کی خواہش موجود ہوتی ہے تو پھر وہ باہم خوشگوار زندگی کا راستہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ تو آئیے ذیل میں ایک حقیقی زندگی سے سبق سیکھنے کے لیے واقعہ پڑھتے ہیں؛ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ واقعہ عرب زمین سے متعلق ہے۔

 ‏جب شیخ راغب نے اپنی بیوی نجيہ کو ایک طلاق دی۔۔۔

تو اُس سے کہا:

“اپنے میکے چلی جاؤ!”

نجیہ نے جواب دیا:

“نہ میں میکے جاؤں گی، اور نہ ہی اس گھر سے باہر قدم رکھوں گی جب تک میری جان نہ نکل جائے!”

شیخ نے کہا:

“میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے، اب میری تم سے کوئی حاجت نہیں، میرے گھر سے نکل جاؤ!”

نجیہ نے پرسکون لہجے میں کہا:

“میں نہیں نکلوں گی، اور تمہارے لیے مجھے اس گھر سے نکالنا جائز بھی نہیں، جب تک میری عدّت پوری نہ ہو جائے۔ اور اس دوران میری نان نفقہ کی ذمہ داری بھی تم پر ہے۔”

شیخ نے غصے سے کہا:

“یہ تو گستاخی اور بے ادبی ہے!”

نجیہ نے جواب دیا:

“میں یہ خود سے نہیں کہہ رہی، بلکہ یہ اللّٰه تعالیٰ کا کلام ہے:”

 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ

ترجمہ: اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدّت کے وقت پر طلاق دو اور عدّت کا شمار رکھو، اور اللّٰه سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، سوائے اس کے کہ وہ کسی صریح بے حیائی کا ارتکاب کریں۔ یہ اللّٰه کی حدود ہیں، اور جو اللّٰه کی حدود سے تجاوز کرے، یقیناً وہ اپنی ہی جان پر ظلم کرتا ہے۔۔۔ (سورۃ الطلاق: آیت 1)

یہ سن کر شیخ نے غصے سے اپنی عباء جھاڑی، اور ناراضی سے گھر سے نکلتے ہوئے بڑبڑایا:

“اللّٰه کی پناہ، یہ لڑکی تو مصیبت ہے!”

نجیہ نے مسکرا کر جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، خود کو سنبھالا، اور اس کے بعد روزانہ قصدًا …

گھر کو خوشبو سے معطر کرتی،

پورا بناؤ سنگھار کرتی،

عطر لگاتی،

اور جب بھی شیخ گھر آتا یا نکلتا، وہ اس کے سامنے موجود ہوتی۔

پانچ دن بھی نہ گزرے تھے کہ وہ دل ہار بیٹھا…

اور رجوع کر لیا۔

ایک دن نجیہ نے ناشتہ تیار کرنے میں تاخیر کر دی۔

شیخ نے غصے سے کہا:

“یہ میرے حق میں کوتاہی ہے، یہ کسی مومن عورت کے شایانِ شان نہیں!”

نجیہ نے نرمی سے جواب دیا:

“اپنے مومن بھائی کے بارے میں اچھے گمان رکھو، حسنِ ظن بہترین صفات میں سے ہے، اور یہ دل کے سکون اور دین کی سلامتی کا ذریعہ ہے۔ جس نے لوگوں کے بارے میں اچھا گمان رکھا، اُس نے ان کے دل جیت لیے!”

شیخ بولا:

“یہ باتیں تمہاری کوتاہی کو جواز نہیں دے سکتیں۔ کیا تمہیں یہ منظور ہے کہ میں بغیر ناشتہ کیے گھر سے نکلوں؟”

نجیہ نے جواب دیا:

 “سچے مؤمن کی نشانی یہ ہے کہ وہ اللّٰه کے دیے ہوئے تھوڑے پر بھی قناعت کرے۔”

ایک حدیث ہے:

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافًا، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ

ترجمہ: وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام لایا، اُسے اتنا رزق ملا جو کافی ہو، اور اللّٰه نے اسے جو دیا اُس پر قناعت عطا فرمائی۔ (صحیح مسلم، حدیث: 1054)

 شیخ نے کہا:

“تو میں کچھ بھی نہیں کھاؤں گا!”

نجیہ نے مسکرا کر کہا:

“تو پھر تم نے اس حدیث سے کچھ نہیں سیکھا”

شیخ بغیر کچھ کہے غصے میں نکل گیا۔ واپس آیا تو بھی خاموش رہا۔

رات کو اس نے بستر چھوڑ کر نیچے فرش پر سونا شروع کر دیا…

یہ سلسلہ دس دن تک چلتا رہا۔

دن میں نجیہ اُس کے تمام کام کرتی، کھانا بناتی، پانی دیتی، اور رات کو دلکش لباس پہن کر، خوشبو لگا کر اپنے بستر پر لیٹتی۔۔۔

لیکن اُسے دانستہ طور پر کچھ نہ کہتی۔

گیارہویں رات…

شیخ نیچے سو گیا، پھر تھوڑی دیر بعد اپنے بستر پر چڑھ آیا۔

نجیہ نے ہنستے ہوئے کہا:

“کیوں آئے ہو؟”

شیخ نے کہا:

“آئی ایم سوری! میں پلٹ آیا ہوں”

نجیہ نے کہا:

“کششِ ثقل تو کہتی ہے کہ لوگ اوپر سے نیچے پلٹتے ہیں، تم نیچے سے اوپر کیسے پلٹ آئے؟”

وہ مسکرایا اور کہا:

“کششِ ثقل سے زیادہ طاقتور ایک اور کشش ہے: بستر پر موجود بیوی کی کشش!”

پھر خوشی سے بولا:

“اگر ساری عورتیں تم جیسی ہوتیں نجیہ، تو کوئی مرد کبھی طلاق نہ دیتا۔ گھروں کے سارے مسائل ختم ہو جاتے”

پھر اس نے ایک حدیث بیان کی:

من صبرت على سوء خلق زوجها أعطاها اللّٰه مثل ثواب آسية بنت مزاحم

ترجمہ: جو عورت اپنے شوہر کے بد اخلاقی پر صبر کرے، اللّٰه تعالیٰ اسے حضرت آسیہ بنت مزاحم کے برابر ثواب عطا فرماتا ہے ✳️

شیخ نے محبت سے کہا:

“اے نجیہ! تم میرے لیے اللّٰه کی اطاعت میں بہترین معاون ثابت ہوئیں۔ اللّٰه تمہیں جزائے خیر دے، اور ہمارے درمیان کبھی جدائی نہ ہو!

 

اوپر کے واقعے سے یہ سبق حاصل کیا جاسکتا ہے کہ

ایسے ہی حلم، صبر، حکمت، اور اخلاق سے غصے پر قابو پایا جاتا ہے۔

نجیہ میں جذباتی اور سماجی ذہانت (اموشنل اور سوشل انٹیلیجنس ) کی جھلک تھی۔

یہ جان لو کہ ہر عورت کے اندر ایک “نجیہ” چھپی ہوتی ہے… ہر وہ عورت جو اپنے رب سے لو لگاتی ہے، اور زندگی کو خوشگوار بنانے کی کوشش کرتی ہے، وہ نجیہ ھے۔

زندگی کا بہترین راستہ محبت اور مودت

لیکن زندگی گزارنے کا بہترین راستہ محبت اور مودت ہوتا ہے۔ زندگی کو محبت کی داستان بنانا زیادہ خوبصورت ہوتا ہے۔ اور اسی کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔

تو آئیے محبت کی ایک لازوال اور خوبصورت حکایت، ایک بے مثال پریم کتھا پڑھتے ہیں۔

 

یہ "سارس کرین" ھے۔۔۔ یہ پرندہ کُونج کی فیملی سے تعلق رکھتا ھے، راقم نے اس سے زیادہ باوفا اور محبت کرنے والے پرندے کا ذکر نہیں سُنا، یہ پرندہ زندگی میں صرف ایک بار جوڑا بناتا ھے اور اگر اس کے نر یا مادہ دونوں میں سے کوئی ایک پہلے مر جائے تو دوسرا اس کے مردہ جسم کو بھی چھوڑنے سے انکار کر دیتا ھے اور اپنی باقی ماندہ زندگی اس کے مُردہ جسم کی رفاقت میں گزار دیتا ھے۔۔۔۔

یہاں تک کہ... وہ اس کی ہڈیوں سے بھی محبت کرتا رہتا ھے اور ان کی جدائی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔

 

آج کی دنیا میں مادیت پرستی ایک عفریت بن کے محبت کو نگلے جا رہی ہے۔ آج سچےجذبوں کی باتیں دھیان سے نہیں سنی جاتی ہیں۔

 محبت ایسا جذبہ ہے جو خاموشی سے ایک دوسرے کے اندر جزب ہونے کا نام ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح بیج زمین میں بویا جاتا ہے تو وہ وہاں نمی پاکر جی اٹھتا ہے اور اگ جاتا ہے اور پھر اپنی جڑیں اسی مٹی میں پیوست کرتا ہے۔ اسی طرح شادی شدہ زندگی بھی محبت کے آہنگ سے حلم، صبر، حکمت اور وفا کے ذریعے اپنی حیات کے سفر میں مضبوط اور تناور سر سبز نخلستان کو دیکھنے کے نام ہے۔

 

محبت ایک دوسرے کے اندر اگنا ہے۔ جوں جوں محبت بڑھتی ہے ،ایک دوسرے کے اندر جڑیں گہری ہوتی چلی جاتی ہیں۔ "اس پودے کو ہر روز تازہ محسوسات اور جذبوں کی کھاد، تعریف کا پانی، ایک دوسرے کے سانسوں کی ہوا اور من کی پرحرارت دھوپ کی ضرورت رہتی ہے۔ جب آپ ایک دوسرے کے اندر اگتے ہیں تو محبت پھول بن کر کھل اٹھتی ہے اور اس کی خوشبو ہمارے پورے بدن میں پھیل جاتی ہے۔ اس لیے کسی بھی ایک میلے لفظ، جملے ،کج ادائی یا دل کی کسی غافل دھڑکن سے محبت کے سیب کو کیڑا لگ جاتا ہے"۔ سمجھداری یہ ہے کہ اپنے دل میں محبت کے سیب کو کبھی کیڑا مت لگنے دیں۔ ایک محبت بھرا دل ہمیشہ خوشی کے نغمے گائے گا اور ہر صبح ایک نیا خواب دیکھے گا اور ہردن ایک نا سفر کرائے گا ور ہر روز ایک نئی منزل تک پہنچائے گا۔ اور مزا یہ ہے کہ ہمارا جیون ساتھی، ہمارا ہم سفر، ہمارا ہمدم؛ ہر پل، ہر آن، ہمارے سنگ ہوگا۔ اور یہی ہے محبت کی سمفنی۔


NOTE: یہ تحریر آزاد ویب نیٹ پر موجود مختلف ذرائع سے دستیاب مواد کی مدد سے مرتب کی گئی تاکہ بینگ باکس کے قارئین لطف اندوز ہوسکیں۔

More Posts