"مجھے اب ڈر نہیں لگتا"
Fear is a natural and fundamental human emotion that arises in the face of real, potential, or imagined danger. It is a natural defense mechanism that prepares a person to either protect themselves from the threat or flee from it. This write up in Urdu "مجھے اب ڈر نہیں لگتا" is an opinion based of few poetic works in Urdu including Allama Iqbal's Verses and US Poetess Maya Angelou's Poem "Life Doesn't Frighten Me".
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
"مجھے اب ڈر نہیں لگتا"
ڈر کیا ہے؟ ڈر ایک فطری اور بنیادی انسانی جذبہ ہے جو کسی حقیقی، ممکنہ یا خیالی خطرے کے وقت پیدا ہوتا ہے۔ یہ انسان کا قدرتی دفاعی نظام ہے جو اسے خطرے سے بچانے یا وہاں سے بھاگنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ ڈر ایک فطری زندہ عمل ہے جس کو "جسمانی خطرات"؛ [ آگ، اونچائی، یا کسی نقصان دہ چیز کا سامنا ہونے پر پیدا ہونے والا طبعی خوف]۔۔۔ "نفسیاتی عوامل" [ انجانے مستقبل، ناکامی، یا اندھیرے کا ڈر جو ہمارے وہم یا پرانے تجربات سے بنتا ہے] ۔۔۔ اور "جسمانی ردعمل" [ڈر کے وقت دل کی دھڑکن تیز ہونا، پسینہ آنا اور پٹھوں کا کھنچاؤ] سے بیان کیا جا سکتا ہے۔
ڈر کیوں لگتا پے؟ ڈر لگنا انسان کا ایک قدرتی اور حفاظتی احساس ہے، جو جسمانی خطرے، دماغی ردعمل اور پرانے تجربات کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ڈر کی اہم وجوہات میں "بقا کا نظام" ہے [جسم کا قدرتی دفاعی نظام خطرے کے وقت ہمیں بچانے کے لیے متحرک ہوتا ہے] اور اس کا سبب "پرانے تجربات" ہوتے ہیں [ماضی کے برے واقعات یا تکلیف دہ یادیں ذہن میں خوف نقش کر دیتی ہیں] اور پھر "انجانی چیزیں" بھی شامل ہیں [جو باتیں یا جگہیں معلوم نہ ہوں، ان کا وہم بھی ڈر پیدا کرتا ہے]۔
ہم کہہ سکتے ہی کہ انسان پیدائیشی طور پر ڈرپوک نہیں ہوتا۔ سائنسی اور نفسیاتی تحقیق بھی اسی بات کی تصدیق کرتی ہے۔ انسان صرف دو خوف (بلندی سے گرنے کا ڈر اور تیز آواز کا ڈر) لے کر پیدا ہوتا ہے۔ باقی تمام خوف سیکھے ہوئے ہیں۔ اندھیرے، جانوروں، یا ناکامی کا خوف وقت کے ساتھ ماحول سے سیکھا جاتا ہے۔ جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں، ہمارے تجربات دماغ کو ڈرنا سکھاتے ہیں۔
زندگی کے سفر میں بلاوجہ اور خواہ مخواہ ڈرنے سے انسان کی ذہنی، جسمانی اور سماجی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ذہن پہ ڈر و خوف کا مسلسل بسیرا انسان کے غور و فکر کرنے، سوچنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیتا ہے۔ ڈر انسان کو ہر وقت ذہنی دباؤ اور اداسی میں مبتلا رکھتا ہے۔ اور خوفزدہ انسان خود پر بھروسہ کھو دیتا ہے اور احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتا ہے۔ اور ڈر انسان کے مقصدِ حیات میں ایک مہیب ناکامی کا سبب بنتا ہے؛ چنانچہ ڈر سے انسان نئے کام شروع کرنے اور آگے بڑھنے سے کتراتا ہے۔ ڈرپوک انسان لوگوں کا سامنا کرنے سے ڈرتا ہے اور اکیلا رہ جاتا ہے۔
اب چونکہ انسان جائز و ناجائز بلاوجہ اور خواہ مخواہ ڈرتے ہیں اور زندگی کو اصل معنوں میں جی نہیں پاتے تو ادب کی مہان ادیب و شاعر اس پر اپنی طرح کے انسانوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں۔ اور کچھ افراد نے تو کمال کا اظہار کررکھا ہے۔ اردو زبان کے مشہور شاعر جناب محسن نقوی ہیں جنہوں نے ایک نظم "مجھے اب ڈر نہیں لگتا" لکھی ہوئی ہے۔
محسن نقوی کی مشہور نظم "مجھے اب ڈر نہیں لگتا" دل کی اس پختہ حالت کو بیان کرتی ہے جہاں انسان زندگی کے نشیب و فراز، رشتوں کے ٹوٹنے اور موت کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس نظم کے مرکزی خیالات میں رشتوں کی بے ثباتی، محبت کے تجربات اور موت کا ادراک شامل ہیں۔ شاعر نے پیغام دیا ہے کہ کسی کے دور جانے، روٹھنے یا تعلق ٹوٹ جانے سے اب انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لوگوں کے بدلنے، اپنوں کے آزمانے اور یادوں کے بکھر جانے سے دل اب خوف زدہ نہیں ہوتا۔ شاعر اس کیفیت کو پہنچ چکا ہے جہاں اسے نہ تو دنیا کی پروا ہے اور نہ ہی ایک دن آنے والی موت کا کوئی ڈر باقی رہا ہے۔ آئیے نظم پڑھتے ہیں۔
محسن نقوی کی نظم "مجھے اب ڈر نہیں لگتا"۔
کسی کے دور جانے سے
تعلق ٹوٹ جانے سے
کسی کے مان جانے سے
کسی کے روٹھ جانے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
کسی کو آزمانے سے
کسی کے آزمانے سے
کسی کو یاد رکھنے سے
کسی کو بھول جانے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
کسی کو چھوڑ دینے سے
کسی کے چھوڑ جانے سے
نا شمع کو جلانے سے
نا شمع کو بجھانے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
اکیلے مسکرانے سے
کبھی آنسو بہانے سے
نا اس سارے زمانے سے
حقیقت سے فسانے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
کسی کی نارسائی سے
کسی کی پارسائی سے
کسی کی بے وفائی سے
کسی دکھ انتہائی سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
نا تو اس پار رہنے سے
نا تو اس پار رہنے سے
نا اپنی زندگانی سے
نا اک دن موت آنے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
مایا اینجلو کی نظم "اے زندگی! جا میں نہیں ڈرتا"۔
مایا اینجلو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی مشہور شاعرہ ہیں، انہوں نے ایک مشہور نظم "اے زندگی! جا میں نہیں ڈرتا" لکھ رکھی ہے؛ جس کا مرکزی موضوع خوف کے عالم میں ہمت اور لچک ہے۔ ایک دلیر بچے کی آواز میں نظم یہ پیغام دیتا ہے کہ کس طرح خود اعتمادی، چنچل تخیل، اور منحرف رویہ سے بچپن کے خیالی خوف اور حقیقی دنیا کے خطرات دونوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ شاعرمایا اینجلو نےاس نظم میں سکھایا ہے کہ خوفناک چیزیں موجود ہوتی ہیں؛ مگر ان سےخوف کھانے کے بجائے انکا سامنا کرنا چاہیے۔ نظم سے پتہ چلتا ہے کہ حقیقی بہادری پریشانی کا سامنا کرنے اور ان کو مسترد کرنے کا ایک فعال انتخاب ہوتا ہے۔
مایا اینجلو نے اس پر روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح ایک مثبت ذہنیت کی طاقت ہمیں ہر قسم کی مصیبت سے بچا سکتی ہے۔ اپنے خوف کا مذاق اڑاتے ہوئے، "خوف دلانے" والے کو مسکراتے ہوئے ملنا؛ وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ خوفناک حالات میں اعتماد اور چنچل پن سے سامنا کرنا ڈر و خوف کی طاقت کو چھین لیتا ہے۔ اپنے خوف پر قابو پانے کے لیے، شاعر تخیل اور اندرونی "جادوئی کشش" پر انحصار کرتی ہے۔ آئیے نظم پڑھتے ہیں۔۔۔
مایا اینجلو کی نظم "اے زندگی! جا میں نہیں ڈرتا"۔
دیوار پر سائے ہوں؛
یا نیچے ہال میں شور؛
"اے زندگی سن لے! میں نہیں ڈرتا"۔
اونچی آواز میں بھونکتے خوفناک کتے ہیں؛
اور بادل میں لپٹے بڑے بھوت؛
"اے زندگی! جا میں نہیں ڈرتا"۔
بد مزاج بوڑھی ہنس راج ہو؛
یا آزاد گھومتے شیر؛
وہ سب مجھے بالکل نہیں ڈراتے۔
شعلہ اگلتے ڈریگن ہوں؛
اور میرے گھر کے اندر گھسے ہوں؛
وہ سب مجھے بالکل نہیں ڈراتے۔
میں انکو ڈراتا ہوں؛
ان کو خوف دلاتا ہوں؛
مجھے تو ہنسی آتی ہے۔
تو وہ بھاگ جاتے ہیں۔
میں نہیں روتا ؛
تو وہ اُڑجاتے ہیں۔
میں پھر مسکراتا ہوں؛
تو وہ پاگل ہوجاتے ہیں۔
"اے زندگی! جا میں نہیں ڈرتا"۔
سخت کوش لوگ لڑتے ہیں؛
تنِ تنہا؛ اکیلے رات کو؛
"اے زندگی! جا میں نہیں ڈرتا"
پارک میں چیتے؛
اندھیرے میں اجنبی ہیولے؛
نہیں، وہ سب مجھے بالکل نہیں ڈراتے۔
وہ نیا کلاس روم جہاں؛
لڑکے میرے سارےبال کھینچتے ہیں۔
(چومتی چھوٹی لڑکیاں، جن کے بالوں میں کرل ہیں)
وہ مجھے بالکل بھی نہیں ڈراتے۔
مجھے مینڈک اور سانپ سے مت ڈراو؛
کہ میری چیخ سن سکو؛
ہاں اگر میں ڈر سکوں؛
تو ایسا صرف میرے خوابوں میں ہوگا۔
میرے پاس ایک جادوئی سحر ہے؛
جسے میں اپنی آستین میں چھپا رکھتا ہوں؛
میں سمندر کی سطح پر چل سکتا ہوں۔
اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
سفرِ حیات کی مشکلیں مجھے بالکل نہیں ڈراتیں؛
ہرگز نہیں۔
ہرگز نہیں۔
"اے زندگی! جا میں نہیں ڈرتا"
دل میں لیلائے تمنا پاؤں چھلنی تیز دھوپ; کس قیامت کا سفر تھا جو سفر میں نے کیا
مندرجہ بالا شعر صدیق شاہد کی ایک خوبصورت غزل کا حصہ ہے، جو انسان کی زندگی کی مشکلات، محنت اور تپتی ہوئی دھوپ جیسے کٹھن حالات کو ظاہر کرتا ہے۔ کاروانِ حیات کے سفر میں راستے کی سخت تکلیفیں، مشکلات اور مصائب درپیش ہوتےہیں۔ انسانوں کو ماں کی گود سے قبر تک کا "قیامت کا سفر" کرنا ہوتا ہے؛ جو زندگی کا وہ کٹھن راستہ ہے، جس میں انسان نے اپنوں کی بے رخی اور حالات کی سختی کے باوجود گذرنا ہوتا ہے۔ ہر انسان یہ سفراپنے دل میں موجود آرزو یا منزل کی محبت میں کرتا ہے؛ آرزوئے حیات ہی ہے جو ہر مسافر کو آگے بڑھاتی ہے۔ خواہ اس کے پاؤں چھلنی ہوجائیں اور چاروں طرف تیز دھوپ پھیلی ہوتو وہ انسان کامیاب ہوتا ہے جو ہمت نہیں ہارتا اور اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔
شاعر صدیق شاہد نے اسی غزل کے ایک اور شعر میں یوں کہا ہے" تیرا اپنا راستہ تھا میرا اپنا راستہ؛ اس پہ بھی اے زندگی تجھ کو بسر میں نے کیا "؛ یہاں شاعر نے انسان اور زندگی کے راستوں میں تضاد کو بیان کیا ہے۔ زندگی صرف اس زمین پہ ہے اور اس کی مختلف شکلیں ہیں؛ اور یقینا" انسان کی حیات کا مقصد اور ہے اور عنصر زندگی کا اپنا راستہ ہے۔ اس لیے ہر انسان کو اس میں کٹھن حالات اور زندگی کی دوڑ میں دریا کے مخالف سمت میں چلنا پڑتا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس زندگی میں انسان کو مشکلات اور تکالیف کے باوجود صبر اور حوصلے کے ساتھ زندہ رہنا ہوتا ہے۔
مجھے ڈرا نہیں سکتی یہ مشکلوں کی دھوپ
ابھی امید کا باقی ہے اک شجر مجھ میں
نینا سحر کا مندرجہ بالا شعر امید اور حوصلے کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے، جس میں شاعرکا کہنا ہے کہ شاعر کہتا ہے کہ حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، وہ اسے ڈرا نہیں سکتے۔ اور مشکلات اسے ہرا نہیں سکتیں کیونکہ اس کے اندر ابھی بھی امید کا ایک درخت باقی ہے۔ یہاں "دھوپ" سے مراد زندگی کی سختییں، پریشانیاں اور مصائب ہیں۔
"شجر" درخت کو کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ میرے اندر امید کا درخت ابھی زندہ اور سرسبز ہے۔ جب تک امید کا یہ سہارا موجود ہے، انسان کسی بھی طوفان یا دھوپ کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ یہ شعر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مایوسی گناہ ہے اور مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، دل میں امید کی شمع جلائے رکھنی چاہیے۔
مري سرشت ميں ہے پاکي و درخشاني
نفسِ مضمون علامہ محمد اقبال کی مشہور نظم کے ایک شعر کا مصرع ثانی ہے؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ میری سرشت یعنی فطرت میں پاکیزگی ہے، سچائی ہے؛ اور درخشانی یا چمکنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ مصرع علامہ محمد اقبال کی خوبصورت نظم "ستارے کا پیغام" کی ایک ہی رباعی کا حصہ ہے، جو انکی کتاب "بالِ جبریل " میں شامل ہے۔
مجھے ڈرا نہيں سکتي فضا کي تاريکي
مري سرشت ميں ہے پاکي و درخشاني
تو اے مسافر شب! خود چراغ بن اپنا
کر اپني رات کو داغ جگر سے نوراني
مندرجہ بالا رباعی میں علامہ اقبال نے "ستارے کا پیغام" کے ذریعے ہمیں یہ درس دیا ہے کہ میں ایک مردِ مومن ؛ مردِ حُر؛ مرد آزاد کو حالات اور زمانے کی تاریکی (مشکلات) ڈرا نہیں سکتیں، کیونکہ اسکی فطرت میں سچائی، پاکیزگی اور چمکنے (زندگی میں عزت، وقار اور احترام) کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ علامہ اقبال اس شعر سے پرعزم انسان کی ہمت بڑھارہے ہیں کہ انسانِ مومن کی عظمت، غیرت اور خود اعتمادی ایک لازم عنصر ہے۔ اور اس کے ذریعے وہ مسلمانوں کو جرأت، خود اعتمادی اور باطن کی پاکیزگی کا درس دیتے ہیں۔
اقبال کہتے ہیں کہ مومن کا خمیر اور اس کی روح گناہوں کی تاریکی سے پاک ہے۔ یہ دنیاوی مشکلات، باطل قوتوں اور مایوسی کے ماحول کی علامت ہے۔ جس طرح ایک ستارہ اندھیری رات میں زیادہ چمکتا ہے، اسی طرح سچا انسان برے حالات میں اپنی اچھائی اور ایمان کی طاقت سے چمکتا ہے۔ سچا مسلمان حالات کی خرابی سے مایوس نہیں ہوتا بلکہ اپنے کردار کی روشنی سے اندھیرے کو ختم کرتا ہے۔
اقبال نے انسان کو اس دنیا میں ایک ایسے مسافر سے تشبیہ دی ہے جو اندھیری رات (مشکلات، گمراہی اور ناامیدی کے دور) میں سفر کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس اندھیرے میں باہر سے کسی مدد یا روشنی کا انتظار مت کرو، بلکہ خود اپنے اندر ایمان اور عمل کی شمع روشن کرو۔ یہاں داغِ جگر (دل کی تڑپ / محبت) سے مراد انسان کا اندرونی جذبہ، عشقِ الٰہی، اور کچھ کر گزرنے کی سچی تڑپ ہے۔ انسان اپنے عزم، محنت اور سچے ایمان کی بدولت حالات کے اندھیروں کو ختم کر کے اپنی زندگی اور دنیا کو روشن کر سکتا ہے۔ دوسروں پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنی خودی (اپنی ذات) کو پہچانو۔ اپنی منزل کا راستہ خود بناؤ اور اپنی اندرونی طاقت سے حالات کا رخ بدل دو۔
اختتامی کلمات
محترم قارئین؛ اب تک یہ پیغام تو پہنچ چکا ہوگا کہ ڈر و خوف پالنا کوئی مناسب عمل نہیں ہے۔ یہ خود انسانیت کے جوہر کے برعکس اور برخلاف ایک عنصر ہے۔ حالات اور واقعات کی ستم ظریفی سے اگر ڈر و خوف کہیں جاگزیں ہوگیا ہے تو ذرا ٹہریں اور دیکھیں کہ کیسے نجات پایا جاسکتاہے۔ ڈر پر قابو پانا ایک تدریجی عمل ہے، جس کے لیے سوچ کو بدلنا ہوگا اور ہمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تو سب سے پہلے خوف کی حقیقت جانیں، کیونکہ اکثر ڈر فرضی ہوتے ہیں۔ جس چیز سے ڈر لگتا ہے، اس کا سامنا بار بار کریں۔ اور یہ ذہن میں طے کریں کہ "میں خود کو ڈر سے آزاد کر سکتا ہوں"۔
علامہ محمد اقبال کا پیغام ہے کہ " مجھے ڈرا نہيں سکتي فضا کي تاريکي؛ مري سرشت ميں ہے پاکي و درخشاني"؛ یعنی جیسے ایک چمکتا ہوا تارا رات کے اندھیرے سے نہیں ڈرتا، بلکہ اس اندھیرے میں اور زیادہ چمکتا ہے، اسی طرح انسان کو مشکلات سے ڈرنے کے بجائے اپنی خوبیاں نکھارنی چاہئیں۔ ماحول کا خوف (فضا کی تاریکی) عارضی اور بیرونی چیز ہے، جبکہ انسان کی روح کی چمک (سرشت کی درخشانی) اس کی اصل حقیقت ہے۔
علامہ اقبال کہتے ہیں کہ جب انسان کے اندر سچائی، ایمان اور پاکیزگی کی روشنی موجود ہو، تو باہر کے حالات کی "تاریکی" یا ڈر اسے خوفزدہ نہیں کر سکتے۔ جب انسان کو اپنی صلاحیتوں اور خدا پر کامل یقین ہو جاتا ہے، تو اس کے دل سے دنیا کا ہر قسم کا ڈر اور وہم ختم ہو جاتا ہے۔ مختصراً، علامہ اقبال سبق دے رہے ہیں کہ کاروانِ حیات میں ڈر و خوف کا علاج باہر نہیں ہے، بلکہ ابنِ آدم کے اپنے اندر پوشیدہ ہے، جو توکّل اللہ سے ماخوذ ہمت اور ایمان کی سچائی میں چھپا ہوتا ہے۔