مضمون: لوح و قلم تیرے ہیں
This powerful essay in Urdu "مضمون: لوح و قلم تیرے ہیں" mirrors Allama Iqbal's profound philosophy of Khudi (Selfhood) and Ishq-e-Rasool (love for the Prophet ﷺ) to explore the cosmic weight of the written word. By tracing the historical journey from the first revelation of 'Allama bil-Qalam to the majestic spires of Andalusia, the text underscores the pen as the ultimate guardian of the human story. It diagnoses the modern-day tragedy of Generation Z's digital enslavement and prescribes a radical return to the sacred pedagogy of writing with hand and Seerah education. Ultimately, the narrative "مضمون: لوح و قلم تیرے ہیں " serves as an inspiring clarion call to reclaim the pen, asserting that absolute devotion to Prophet Muhammad ﷺ empowers humanity to master its own destiny and command the global canvas.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
مضمون: لوح و قلم تیرے ہیں
عصرِ حاضر میں مسلمانوں کو غلامی کی زنجیریں توڑنے اور فکری آزادی کا شعور دینے میں جو مقام حکیم الامت علامہ محمد اقبال کو حاصل ہے، وہ تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ علامہ اقبال محض ایک روایتی شاعر نہیں تھے، بلکہ وہ ایک عظیم فلسفی، مفکر اور دوراندیش رہنما تھے جنہوں نے برصغیر پاک و ہند کے مظلوم اور غلام مسلمانوں کو آزادی کا خواب دکھایا۔ انہوں نے دیکھا کہ امتِ مسلمہ مادی اور ذہنی طور پر غلامی کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکی ہے، چنانچہ انہوں نے اس زوال کا علاج اپنے "فلسفۂ خودی" میں تلاش کیا۔ خودی سے مراد اپنے نفس کی پہچان، غیرتِ ایمانی، اور اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہ جھکنے کا عزم ہے۔ اقبال نے مسلمانوں کو یہ باور کرایا کہ اگر وہ اپنی خودی کو بیدار کر لیں، تو وہ کائنات کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
شکوہ سے جوابِ شکوہ تک: ایک فکری ارتقاء
اسی فکری بے چینی کے دوران، علامہ اقبال نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب 'بانگِ درا' میں ایک نظم "شکوہ" لکھی، جس میں انہوں نے مسلمانوں کی زبوں حالی پر بارگاہِ الٰہی میں گلہ کیا۔ جب ظاہری بین طبقے میں شور مچا، تو انہوں نے اس کا جواب "جوابِ شکوہ" کی صورت میں نازل کیا، جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو ان کے زوال کا سبب بتایا گیا کہ تم نے قرآن اور اسوۂ رسول ﷺ کو چھوڑ دیا ہے۔ اس لازوال نظم کا آخری شعر پورے اسلامی فلسفے کا نچوڑ اور کائنات کا سب سے بڑا سچ ہے:
کی محمد سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں!۔
شعر کی تشریح و تفہیم:۔۔
اس شعر میں اللہ تعالیٰ کا بندے سے ایک ابدی اور کائناتی وعدہ بیان ہوا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے تمام مادی، سیاسی اور روحانی زوال کا واحد حل عشقِ رسول ﷺ اور ان کی کامل پیروی ہے۔ اگر تم محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے سچی وفا کرو گے، تو کائنات کا مالک تمہارا ہو جائے گا۔ یہ دنیا تو ایک عارضی اور معمولی چیز ہے، کائنات کی تقدیر لکھنے والی "لوح" (لوحِ محفوظ) اور اس تقدیر کو جاری کرنے والا "قلم" (آفاقی قلم) بھی تمہارے تابع کر دیے جائیں گے، یعنی تم زمانے کے امام اور تقدیر کے سکندر بن جاؤ گے۔ یہ فلسفہ عین قرآنی تعلیمات کے مطابق ہے جہاں واشگاف فیصلہ ہے: "اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ"۔ اللہ تک پہنچنے کا اور اس کی رضا کا واحد راستہ آقا نامدار ﷺ کی سچی غلامی میں پوشیدہ ہے۔
آقا کریم ﷺ کا نظامِ علم اور "علمِ لوح و سلطانی"۔
مکہ کی تاریک گلیوں میں جب آقا کریم ﷺ تشریف لائے، تو انہوں نے تلوار سے نہیں بلکہ علم اور اخلاق سے انقلاب برپا کیا اور اپنے پیروکاروں کو غارِ حرا کا وہ پہلا سبق ازبر کرایا جس کا آغاز ہی "اِقْرَأْ" سے ہوا تھا۔ علامہ اقبال اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دنیاوی جاہ و جلال، بادشاہت اور امارت کی کوئی حیثیت نہیں اگر انسان کے پاس وہ علم نہ ہو جو کائنات کے پوشیدہ رازوں کو وا کر دے:۔۔
امارت کیا، شکوہِ خسروی کیا، کچھ نہیں اس کی
اگر حاصل نہ ہو انسان کو علمِ لوح و سلطانی!۔
علمِ لوح و سلطانی سے مراد وہ باطنی اور کائناتی علم ہے جو انسان کو مادی غلامی سے آزاد کر کے حقیقی معنوں میں زمان و مکان پر حکمرانی عطا کرتا ہے۔ آقا کریم ﷺ نے اپنی امت کے ہاتھوں میں قلم تھمایا اور انہیں جہالت کے اندھیروں سے نکال کر اسی سلطانی علم کے نور سے منور کیا۔
لوح و قلم کا حقیقی مالک: "وجودِ الکتاب"۔
علامہ اقبال نے اپنی شہرہ آفاق نظم "مسجدِ قرطبہ" کے ایک بند میں عشقِ رسول ﷺ اور قلم و کتاب کے رشتے کو جس معراج پر پہنچایا ہے، وہ اس مضمون کی روح ہے۔ اقبال امت کی حالتِ زار اور اپنی فکری تڑپ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:
آیۂ کائنات کا معنیِ دیر یاب تُو
نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بُو
جلوَتیانِ مدرسہ کور نگاہ و مُردہ ذوق
خلوَتیانِ مے کدہ کم طلب و تہی کدُو
مَیں کہ مری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سُراغ
میری تمام سرگزشت کھوئے ہُوؤں کی جُستجو
بادِ صبا کی موج سے نشوونَمائے خار و خس
میرے نَفس کی موج سے نشوونَمائے آرزو
خُونِ دل و جگر سے ہے میری نَوا کی پرورش
ہے رگِ ساز میں رواں صاحبِ ساز کا لہُو
’فُرصتِ کشمکش مدہ ایں دلِ بے قرار را
یک دو شکن زیادہ کُن گیسوے تابدار را‘
اقبال گلہ کرتے ہیں کہ آج کے مدرسوں کے پڑھانے والے "کور نگاہ اور مردہ ذوق" ہو چکے ہیں اور خانقاہوں کے لوگ "کم طلب" ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میری تحریر اور میرے قلم میں اس گمشدہ عظمت کا سراغ ہے جسے امت بھلا چکی ہے۔ یہ قلم عام اوزار نہیں، اس کی پرورش مفکر کے "خونِ دل و جگر" سے ہوتی ہے۔ اور جب یہ قلم عشقِ رسول ﷺ میں ڈوب کر اپنا سفر مکمل کرتا ہے، تو وہ حقیقت سامنے آتی ہے جو اقبال نے حضور سرورِ کائنات ﷺ کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہی:۔
لَوح بھی تُو، قلم بھی تُو, تیرا وجود الکتاب
گُنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!۔
اس لافانی بند کی تشریح:۔
یہاں پہنچ کر "لوح و قلم" کا پورا فلسفہ اپنی اصل حقیقت پا لیتا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! کائنات کی لوحِ تقدیر بھی آپ ہیں، اور اس تقدیر کو لکھنے والا قلم بھی آپ کی ذاتِ گرامی ہے، بلکہ آپ کا مبارک وجود تو خود "الکتاب" (اصل کتاب اور قرآن کا مجسم روپ) ہے۔ یہ نیلگوں آسمان اور یہ پوری مادی کائنات آپ کے علم اور رتبے کے بحرِ بیکراں میں محض ایک عارضی بلبلے (حباب) کی مانند ہے۔
غارِ حرا کا ابدی اعلان اور بیداری کا خواب
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس زمین پر انسانیت کی ہدایت کے لیے اپنا آخری نبی اور رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چنا۔ جب کائنات کے سب سے عظیم مصلح اور ہادی پر غارِ حرا کی تنہائیوں میں پہلی وحی نازل کی گئی، تو سب سے پہلا پیغام "اِقْرَأْ" یعنی "پڑھیے / علم حاصل کیجیے" کا دیا گیا۔ یہ اس بات کا واضح اور رہتی دنیا تک کا ابدی اعلان تھا کہ اب دنیا کی رہنمائی اور سیادت و برتری صرف مادی طاقت یا خاندانی حسب و نسب سے نہیں، بلکہ علم کے ذریعے حاصل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پہلی کائناتی وحی میں ارشاد فرمایا:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
•اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ ﴿١﴾
•خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ ﴿٢﴾
•اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ ﴿٣﴾
•الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ ﴿٤﴾
•عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ ﴿٥﴾
1۔ "عَلَّمَ بِالْقَلَمِ" اور بچوں کی فکری تربیت
آج مسلم دنیا کی حالتِ زار پر غور کریں تو ایک ہولناک حقیقت سامنے آتی ہے۔ اگرچہ دنیا کے نقشے پر بظاہر مسلمان ملکوں کو زمین اور علاقے کی آزادی حاصل ہے، لیکن حقیقت میں ان کی گردنوں میں فکری اور تعلیمی طوقِ غلامی ہے، جو کہیں مجبوری کے تحت اور اکثر جگہوں پر فخر کے ساتھ پہنا گیا ہے۔ ہم نے مغرب کے نظامِ فکر، ان کی زبان، ان کی اسکرینوں اور ان کے مادی تعلیمی ماڈلز کو اس طرح اپنا لیا ہے کہ ہماری اپنی تہذیب مٹ کر رہ گئی ہے۔
اگر قومِ مسلم کو دوبارہ ایک ہو کر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کی چادر کے نیچے آنا ہے، تو ہمیں سب سے پہلے اپنے اس فکری زوال کا علاج کرنا ہوگا۔ اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے معاشروں میں قلم اور کتاب کی تقدیس و حرمت کو واپس لائیں اور اپنے پورے نظامِ تعلیم و تدریس کو ازسرِ نو قرآنی خطوط پر استوار کریں۔ فکری آزادی کا راستہ بچوں کو قلم دینے اور انہیں اپنی داستانِ خودی لکھنے کا سلیقہ سکھانے سے شروع ہوتا ہے۔ اقبال نے بھی اسی بات کی تاکید کی ہے کہ وہ علم جو انسان کو تسخیرِ کائنات کی طاقت نہ دے اور جو صرف دوسروں کی نقالی سکھائے، وہ علم نہیں بلکہ ایک نئی غلامی ہے:
عصرِ حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکرِ معاش
بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو اس کا ذہن ایک سادہ کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔ جب بچہ قلم پکڑ کر کاغذ پر پہلی بار حروف کو جوڑتا ہے (اب + با = ابّا اور ام + ما + ں = امّاں)، تو مٹی اور سیاہی کے اس ملاپ سے کائنات کے سب سے خوبصورت رشتے جنم لیتے ہیں۔ نیورو سائنس بتاتی ہے کہ جیسے جیسے حروف جڑتے ہیں، بالکل اسی لمحے بچے کے دماغ کے خلیات ( نیورونز) کے درمیان نئے رابطے اور راستے بن رہے ہوتے ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں میں جب ہم نے جدیدیت کے نام پر بچوں کو قلم سے دور کر کے اسکرین کا عادی بنایا، تو جنریشن زی (جن زی) کی گہری سوچ اور تخلیقی صلاحیتیں بری طرح داغدار ہو گئیں۔ ان کے دلِ بیدار کو مادی افکار سے فارغ کرنا ہوگا کیونکہ:۔
دلِ بیدار فارغ ہے مادی افکار سے
کہ یہ وہ تڑپ ہے جو انسان کو کرتی ہے تراش
قلم صرف ایک مادی اوزار نہیں ہے بلکہ یہ ایک تہذیب کا دروازہ ہے جس سے انسان کی عقل, فہم اور ادراک کا سرمایہ بُنا جاتا ہے۔
2۔ سیرتِ پاک ﷺ اور خودی کی بیداری
اگر امتِ مسلمہ کو اپنے گلے سے فکری غلامی کا یہ طوق اتارنا ہے، تو ہمیں دوبارہ غارِ حرا کے اسی پہلے سبق کی طرف لوٹنا ہوگا، اپنے بچوں کے نازک ہاتھوں میں دوبارہ قلم دینا ہوگا، اور یاد رکھنا ہوگا کہ کائنات کا ہر راز اور ابدی برتری آقا محمد ﷺ کی غلامی سے ہی حاصل ہوگی۔ ہمیں اپنے بچوں کو سیرتِ پاک ﷺ پڑھانی ہوگی۔ سیرت کی کہانی دل و دماغ اور روح کو تازہ کرتی ہے اور اس خودی کو بیدار کرتی ہے جو آزادی کی تڑپ رکھتی ہے۔ علامہ اقبال کے مطابق خودی کی بقا اور اس کا استحکام صرف اور صرف اطاعتِ رسول ﷺ اور اسوۂ حسنہ کو اپنانے میں پوشیدہ ہے۔ بالِ جبریل میں فرماتے ہیں:۔
طرحِ نو افگن کہ ما جدت پسند افتادہ ایم
ایں چہ حیرت خانۂ امروز و فردا ساختہ
(ترجمہ: ایک نیا اندازِ زندگی پیدا کر کیونکہ ہم نئے راستوں کے مسافر ہیں، تو نے اپنے آپ کو آج اور کل کے اس حیرت خانے (مادی دنیا) میں کیوں قید کر رکھا ہے؟)
ایک اور جگہ علامہ اقبال اسی بات کو انتہائی واشگاف اور حتمی انداز میں فرماتے ہیں کہ آقا ﷺ کے اسوہ کے بغیر سب گمراہی ہے:۔
بہ مصطفیٰؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی، تمام بولہبی است!۔
(ترجمہ: اپنے آپ کو محمدِ مصطفیٰ ﷺ کے اسوہ تک پہنچاؤ کہ دین مکمل طور پر یہی ہے۔ اگر وہاں تک نہ پہنچ سکے، تو تمہارا سب کچھ بوجہل جیسی گمراہی ہے)۔۔۔
3۔ صوفیائے کرام کا پیغام اور برصغیر کی تاریخ
ہندوستان کی ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے کہ یہاں اسلام تلوار کے زور سے نہیں، بلکہ ہمارے صوفیائے کرام (جیسے حضرت داتا گنج بخشؒ، خواجہ غریب نوازؒ اور مجدد الف ثانیؒ) کے اخلاق، محبت اور آقا کریم ﷺ کی محبت کا بیج بونے سے پھیلا۔ انہوں نے دلوں کی زمین میں عشقِ رسول ﷺ کی ایسی فصل بوئی جس نے صدیوں کی فکری اور مادی کایا پلٹ دی۔ انہوں نے لوگوں کو غلامی سے نکال کر خدا کی بندگی اور آقا ﷺ کی غلامی کا مٹھاس چکھایا۔ انہوں نے دلوں کو فتح کیا اور اسی عشق کی بدولت مسلمانوں کو وہ تہذیبی عروج ملا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ ہمیں بھی اگر ثریا (بلندیوں) کا عروج واپس چاہیے، تو ہمیں اسی صوفیانہ تڑپ اور آقا کریم ﷺ کے عشق کو اپنے تعلیمی نظام کا حصہ بنانا ہوگا۔
4۔ قوتِ عشق اور اسمِ محمد ﷺ (حاصل کلام)
انسانی تہذیب کا اگر کوئی سب سے بڑا، معتبر اور زندہ سرمایہ ہے، تو وہ قلم اور کتاب ہے؛ کیونکہ اسی سے انسان کی کہانی بنتی ہے۔ کائنات کی سب سے عظیم اور آخری کتاب، قرآنِ مجید کا بنیادی موضوع ہی "انسان" اور "انسان کی کہانی" ہے۔
آج کا انسان اسکرین اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے پیچھے چھپ کر اپنی کہانی کھو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت معلومات تو جمع کر سکتی ہے، لیکن وہ انسانی دل کا درد، روح کی تڑپ اور عشقِ رسول ﷺ کی وہ مٹھاس نہیں لکھ سکتی جو صرف ایک عاشق کے ہاتھ میں تھما ہوا قلم ہی کاغذ پر بکھیر سکتا ہے۔ بلاشبہ، جب تک امت کے سینے میں یہ عشق بیدار نہیں ہوتا، وہ ثریا کی بلندیوں کو دوبارہ حاصل نہیں کر سکتی۔ علامہ اقبال کی لازوال نظم "جوابِ شکوہ" کے یہ اشعار اس پورے مضمون کا نچوڑ اور کائنات کا سب سے بڑا سچ ہیں:۔
قوتِ عشق سے ہر پست کا بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کر دے!۔
جب ہم آقا ﷺ کی لائی ہوئی اس تعلیمی اور روحانی روشنی سے اپنا رشتہ جوڑ لیں گے، تو پھر کائنات کا مالک ہمارے سامنے مادی دنیا کی حقیقت کو کھول دے گا، لوح بھی ہماری ہوگی اور قلم بھی ہمارا ہوگا؛ اور پھر ہم اپنی تقدیر کا ہر فیصلہ خود اپنے قلم سے کرنے کے اہل ہو جائیں گے، جیسا کہ اقبال نے فرمایا:۔
تُو اپنی سرنوشت خود اپنے قلم سے لکھ
خالی رکھی ہے خامۂ حق نے تیری جبیں!۔
اور کامیابی کا یہ راستہ بالکل واضح، سیدھا اور سادہ ہے کہ:۔
کی محمد سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں!۔
اس لیے آگے بڑھیے، قلم کو تھامیے، آقا ﷺ کے عشق کو سینوں میں بسائیے اور دنیا کو کہانی کہنے اور لکھنے کا فن سکھائیے!۔۔