مضمون "عمر کی نقدی"۔
"Man's Shelf Life" is a deeply philosophical exploration of time, transience, and the human condition, weaving together the industrial concept of shelf life with the natural progression of human existence. By contrasting the melancholic Urdu verses of Ibn-e-Insha with the celebratory Western poetry of Mary Oliver and Lord Tennyson, the essay captures the bitter sweetness of life’s finite milestones. Ultimately, it reflects on personal loss and grief, transforming the inevitability of death into a profound, graceful acceptance and a celebration of a life lived with wonder.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
مضمون "عمر کی نقدی"۔
کائنات کے بازار میں انسان واحد تاجر ہے جسے سرمائے کے طور پر روپیہ پیسہ نہیں، بلکہ 'وقت' دیا گیا ہے۔ یہ وقت، یہ سانسیں، یہ ماہ و سال دراصل "عمر کی نقدی" ہیں جو ہماری جیب سے ہر لمحہ خاموشی سے سرک رہی ہیں۔ دنیا کا ہر نقصان پورا ہو سکتا ہے، کھویا ہوا مال واپس آ سکتا ہے، مگر عمر کے بازار میں جو ایک سیکنڈ خرچ ہو گیا، وہ کائنات کی تمام دولت مل کر بھی واپس نہیں خرید سکتی۔ اردو کے مایہ ناز شاعر ابنِ انشا نے جب کہا تھا کہ "جب عمر کی نقدی ختم ہوئی، اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے" تو انہوں نے اسی انسانی بے بسی کی ترجمانی کی تھی جہاں انسان زندگی کے آخری موڑ پر کھڑا ہو کر حسرت سے ماضی کی طرف دیکھتا ہے۔
اگر عمر کی اس نقدی کو ہم مادی اور سائنسی تناظر میں دیکھیں، تو یہ کائنات میں انسان کی اصل "شیلف لائف" ہے۔ صنعتی اصطلاح میں شیلف لائف سے مراد وہ مدت ہے جس کے دوران کوئی مصنوع (خاص طور پر خوراک اور ادویات) خراب ہوئے بغیر یا فروخت ہوئے بغیر محفوظ رہ سکتی ہے؛ یا وہ زیادہ سے زیادہ وقت جس کے دوران کسی پیک شدہ مواد کو مخصوص حالات میں ذخیرہ کیا جا سکتا ہے اور وہ پھر بھی مقررہ کارکردگی کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔ انسان بھی ایک حیاتیاتی تخلیق ہے، جس کا معیارِ زندگی اور بقا ایک مخصوص وقت کی محتاج ہے، اور اس شیلف لائف کو برقرار رکھنے کے لیے مخصوص حالات یعنی صحت، سازگار ماحول اور مثبت طرزِ زندگی کی ضرورت ہوتی ہے۔
مادی اشیاء کی شیلف لائف تو صرف ان کے درست رہنے کی مدت ہے، مگر انسان ایک ایسا کمالِ تخلیق ہے جس کی زندگی میں اس کا ایک حیرت انگیز، جیتا جاگتا اور کہیں زیادہ گہرا مظاہرہ ہوتا ہے۔ یہاں ہر دورِ حیات محض وقت گزرنے کا نام نہیں، بلکہ جذبات، خصوصیات اور مواقع کا ایک ایسا پیکیج ہے جس کی اپنی ایک مخصوص میعاد ہے۔ اگر عمر کی وہ مخصوص نقدی اس کے اپنے تقاضوں کے مطابق صحیح خرچ نہ ہو، تو انسان باقی ساری عمر ایک ناقابلِ تلافی نقصان اور پچھتاوے کی زد میں رہتا ہے۔ قدرت نے انسانی زندگی کی اس شیلف لائف کے مدارج کو ایک خاص ترتیب سے پرویا ہے، جہاں ہر درجہ اپنی ایک منفرد قیمت اور قدر رکھتا ہے:۔۔
• بچپن: یہ زندگی کے دورانیے کا ابتدائی اور سب سے معصوم مرحلہ ہوتا ہے؛ جو شیرخوارگی سے متصل ہوتا ہے۔ بچپن کی یہ عمر ماں کی گود سے باہر نکل کر دنیا دریافت کرنے کی ابتداء بھی ہوتی ہے۔ اس "عمر کی نقدی" کھیل کود، بے فکری، بھولپن اور سادگی سے عبارت ہے۔ اگر کوئی بچہ اس عمر کی نقدی کو اس کے فطری تقاضوں کے مطابق استعمال نہیں کر پاتا—اگر اس سے اس کا بھولپن چھین لیا جائے یا وہ بے فکری سے محروم ہو جائے—تو وہ معصومیت پھر کبھی کسی قیمت پر واپس نہیں آسکتی۔
• لڑکپن: بچپن کی سرحد ختم ہوتے ہی لڑکپن کا آغاز ہوتا ہے۔ اب اس عمر کی نقدی بھی ایک منفرد قیمت رکھتی ہے، اور اس قیمت کا تعین اسی عمر کی نادانیوں، خوابوں اور جذباتی سچائیوں میں ہوتا ہے۔ یہ وہ انمول دن ہوتے ہیں جن کے گزر جانے کے بعد، پھر زندگی میں کبھی "محبت کی اس پہلی حماقت" کی وہ قیمت، وہ سحر اور وہ بے ساختہ دلیل باقی نہیں رہتی جو صرف اسی عمر کا خاصہ تھی۔ بعد کی عمروں کی رفاقتیں، سنگتیں، محفلیں اور محبتیں منطق، مصلحت اور نفع نقصان کی محتاج ہو جاتی ہیں۔ یہ وہی بچپن ہے جس کا طعنہ بڑی عمر میں اس طرح دیا جاتا ہے کہ "کیا بچوں والی بات کر رہے ہو؛ اب بڑے ہو جاؤ"۔لڑکپن ایک فسانہ کی طرح ہوتا ہے جس کی انتہاء بلوغت سرایت کرنے پہ ہوتی ہے۔ یہ وہ عمر ہے جس کی ایک نقدی عرفِ عام کا "کرش" کہلاتا ہے۔ دانشور اس کی وجہ بلوغت کا سرایت کرنا قرار دیتے ہیں مگر تقریباً سب ہی انسان اس نقدی کو "محبت کی پہلی حماقت" سے ضرور کریدتے ہیں۔ لڑکپن ختم ہوتے ہوتے انسان کو معاشرے میں تعارف ضرور دے جاتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں "ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات"؛ اثر دکھاتا ہے۔ یہ لڑکپن انسان کو اپنے گھر سے باہر سارے محلے اور اردگرد کے علاقے میں مصروف کر دیتا ہے۔
• نوجوانی: لڑکپن کی نادانیوں سے نکل کر انسان جب نوجوانی میں قدم رکھتا ہے، تو صلاحیتیں انگڑائی لیتی ہیں اور توانائی اپنے عروج کی طرف گامزن ہوتی ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں خواب تعبیروں کی تلاش میں نکلتے ہیں، اور انسان اپنے وجود اور مقصد کو پہچاننے کی تگ و دو شروع کرتا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ انسان اپنے روپ میں سب سے زیادہ حسین اسی عمر میں دکھتا ہے۔ یعنی نوجوانی کی نقدی کی بہترین قدر "حسین ترین" دکھنا ہے تو یہی عمر ہے؛ اب چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی؛ اور اس کی ایک معتبر وجہ بچپن کا رخصت ہوتا معصومیت کا رنگ ہوتا ہے؛ اور شاید اس کی ایک وجہ جوانی کی طاقت ہوتی ہے اور طاقت بذاتِ خود حسن پرور نہیں ہوتی۔ نوجوانی کی ایک شرح محبت کی پہلی حماقت کا پھیلاؤ بھی ہوتا ہے مگر اسے اسی عمر میں اختتام پذیر ہو جانا چاہیے؛ کیونکہ ایسی حماقت بعد از نوجوانی بہت مہنگی پڑتی ہے؛ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی بعد از شیلف لائف ایک دوائی جو زہر بن گئی ہو، کا استعمال کر لے۔ ہمارے پاکستان کے معاشرے میں بہت بڑی تعداد میں لڑکیاں اسی عمر میں شادی شدہ ہو جاتی ہیں؛ اور ایک معتبر رائے یہی ہے کہ ان کے لیے اس اہم مرحلائے زندگی کے لیے یہ بہترین عمر ہوتی ہے۔
• جوانی: یہ انسان کی بہترین کارکردگی (پیک پرفارمنس) کا دور ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں اگر انسان ایک شے ہے تو یہ مصنوعات اپنی شیلف لائف کے سب سے موثر اور پائیدار دور سے گزرتی ہے۔ جسمانی طاقت، ذہنی صلاحیت اور ارادے مضبوط ہوتے ہیں۔ معاشرہ اور زندگی اس دور میں انسان سے سب سے زیادہ پیداواری صلاحیت (پروڈکٹیویٹی) کا تقاضا کرتے ہیں۔ دورِ جدید میں زیادہ تر لڑکے اس عمر میں شادی کے بندھن میں بندھتے ہیں۔ یہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ شادی بنی نوع انسان کی تہذیب کا ایک اہم اور سنگین موڑ ہوتا ہے؛ یہ موڑ بقائے نسلِ انسانی اور کسی بھی قوم کی تہذیب کا مضبوط ترین مرحلہ ہوتا ہے اور شاید اسی لیے یہ تمام معاشروں میں خوب دھوم دھام سے انجام پذیر ہوتا ہے۔ یہ جوانی کی عمر ہی ہے کہ بڑی عمر کے لوگ اپنے نوجوانوں کو زندگی کا بوجھ اٹھاتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور یہی وہ مرحلہ ہے جب یہ قول "بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں" کا پودا توانا ہو کر اپنی شکل دکھانا شروع کرتا ہے۔ زندگی کی دوڑ میں کوئی قوم کیا حاصل کر پائے گی، اس کا اندازہ اس کے جوانوں کی تگ و دو، صلاحیت اور قابلیت سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔
• عمر رسیدگی: یہ وہ موڑ ہے جہاں شیلف لائف کی حد آہستہ آہستہ نمایاں ہونے لگتی ہے۔ کارکردگی کے گراف میں ایک سنجیدہ ٹھہراؤ آ جاتا ہے۔ اب صلاحیت، قابلیت اور تجربہ انسان کی پہچان بننا شروع ہوتی ہے۔ یہاں انسان کو خود کو گرنے سے بچانے کے لیے زیادہ دیکھ بھال, فہم اور متوازن طرزِ زندگی کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ جوانی کے طوفانی ولولے اور بڑھاپے کے اضمحلال کے بیچ کا ایک نازک اور سنجیدہ پل ہے۔ اس عمر کی نقدی بقولِ اقبال "کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں" کے مصداق ظاہر ہوتی ہے۔ یہ عمر انسان کو زندگی کے تمام شعبوں اور مقامات پہ سنجیدہ ماہر کے طور پہ پیش کرتی ہے۔ اور اسی عمر میں لوگ جوانی کی طرح تیز و طرار تو نہیں رہتے مگر تجربہ کار بن کر معتبر روپ دھار لیتے ہیں اور اہم ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ اس "عمر کی نقدی" قیادت کا سہرا ہے، اور سمجھ بوجھ، عقل و فہم اور خرد و ادراک کے حامل افراد اپنے اپنے شعبوں کے "کپتان" بن کر اپنا اپنا رنگ دکھاتے ہیں۔ تاریخ کی کتاب اس "عمر کی نقدی" کے کارہائے نمایاں سے بھری ہوئی ہے۔
•ادھیڑ عمر یا بڑھاپا: یہ انسانی شیلف لائف کا آخری کنارہ ہے، جہاں تاریخِ تنسیخ (ایکسپائری ڈیٹ) بالکل قریب آ جاتی ہے۔ جسمانی اعضاء اور ذہنی قویٰ اپنے مقررہ کارکردگی کے تقاضوں پر پورا اترنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یادداشت دھندلا جاتی ہے، ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں اور انسان بالکل اس دوا یا خوراک کی طرح ہو جاتا ہے جس کی مادی اثر پذیری اب ختم ہو چکی ہو۔فرق صرف اتنا ہے کہ دکان کے شیلف پر رکھی مصنوعات پر ان کی تاریخیں واضح لکھی ہوتی ہیں، مگر قدرت نے انسان کی پیکنگ پر تاریخِ تنسیخ کو پوشیدہ رکھا ہے۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہماری جیب میں عمر کے کتنے سکے باقی ہیں۔
یہاں ابنِ انشاء کی نظم "اب عمر کی نقدی تمام ہوئی" کا ذکر کرنا پڑتا ہے۔۔ جو کہتے ہیں کہ:۔۔۔
"جب عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہوکار بنے؟
ہے کوئی جو دیون ہار بنے؟"۔
زندگی کے اس سفر میں جب ہم ماضی پر نظر دوڑاتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ عمر کی اس نقدی کو خرچ کرنے کی سب سے بھاری قیمت اپنے پیاروں کو الوداع کہنے کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ چاہے وہ کوئی وفادار پالتو جانور ہو یا سگے انسان—ان کا بچھڑنا کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر لینا کہ اب وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے، انسانی وجود کے لیے سب سے مشکل مرحلہ ہے۔ جب تک یہ صدمہ کسی ایسے شخص کو ہم سے نہ چھین لے جو ہماری روزمرہ کی زندگی کا اٹوٹ حصہ ہو، تب تک ہمیں یہی لگتا ہے کہ یہ سب تو بس دوسروں کے ساتھ ہوتا ہے، ہم اس سے محفوظ ہیں۔
مگر جیسے جیسے اس کرۂ ارض پر ہماری اپنی مہلتِ حیات یعنی 'شیلف لائف' کم ہوتی جاتی ہے، ایک عجیب سا تغیر جنم لیتا ہے۔ اب انسان ہر طرح کے اختتام کو ایک ایسے سکون اور ٹھہراؤ کے ساتھ قبول کرنا سیکھ لیتا ہے جو پہلے اس میں نہ تھا۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ کل ہم اس زمین پر چل پھر سکیں گے یا ہماری سانسوں کی نقدی باقی رہے گی۔ یہ ایک ایسی برہنہ حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ اپنے پیاروں کو ایک ایک کر کے رخصت ہوتے دیکھ کر انسان یہی سب سے بڑا سبق سیکھتا ہے۔
ایک لحاظ سے، انسان اپنے ان رخصت ہو جانے والے پیاروں کا شکر گزار ہوتا ہے کہ انہوں نے سکھایا کہ اپنی باقی ماندہ زندگی کس طرح گزارنی ہے۔ وہ اگرچہ جاتے جاتے ایک گہرا دکھ دے کر گئے، مگر اپنے پیچھے ایک ایسی روشن کرن چھوڑ گئے جو اندھیروں کو منور کرتی ہے۔ کسی پیارے بھائی یا عزیز کا گزر جانا انسان کو سکھاتا ہے کہ وہ اپنے پیچھے ہمارے اندر جو مرہم، نرمی اور ہمدردی چھوڑ گئے ہیں، ہم اس کی قدر کریں۔ اس تجربے سے زندگی کی نازکی کا مزید احساس ہوتا ہے؛ انسان ہر اس شخص سے محبت کرتا ہے اور اس کی موجودگی کا جشن مناتا ہے جو اسے زندگی کی راہوں میں ملتا ہے، اور ان کی ان شاندار خوبیوں کو تسلیم کرتا ہے جو شاید ان کی صحبت کی برکت سے اس کے اپنے اندر بھی منتقل ہو جاتی ہیں۔
یہیں پر زندگی کا فلسفہ خوف سے نکل کر اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں امریکی شاعرہ میری اولیور اپنی نظم "وین ڈیتھ کمز" میں کہتی ہیں:۔۔
"میں حیرت سے بیاہی ہوئی ایک دلہن تھی..."
یہ مصرع سکھاتا ہے کہ جب موت آئے، تو انسان اگر پیچھے مڑ کر دیکھے تو اسے لگے کہ اس کی عمر ایک حیرت کدہ سے شادی میں گزری، جس میں اس کا احترام اور تقدیس روا رکھا گیا۔۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے ایک دلہن کا کیا جاتا ہے۔ یعنی انسان اس زمین پر ایک لایعنی وقت کاٹنے کے بجائے ایک حسین دور گزار کر جا رہا ہو۔ وہ کسی خوفزدہ مسافر کی طرح نہیں، بلکہ ایک ایسی دلہن کی طرح موت کا سامنا کرے جس نے زندگی کے ساتھ حیرت، تجسس اور والہانہ محبت کا ایک گہرا، دیرینہ اور فعال رشتہ استوار کیا تھا۔ وہ صرف دنیا کا ایک "مختصر دورے" کی مانند غیر فعال مشاہدہ کرنے نہیں آئی تھیں، بلکہ وہ تو وہ دولہا تھیں جس نے کائنات کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا تھا۔
اور تقریباً ایسا ہی پیغام مشہور انگریزی شاعر الفریڈ لارڈ ٹینیسن نے اپنی نظم "کراسنگ دا بار" میں دیا ہے۔ وہ موت کی آمد پر کسی خوف یا ماتم کے بجائے ایک پرسکون سمندری سفر کی خواہش کرتے ہیں، جہاں لہروں کا کوئی شور نہ ہو اور نہ ہی مسافروں کی جدائی کا کوئی نوحہ ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں اس دنیا کی حد (بار) کو پار کر کے ابدیت کے سمندر میں اتروں، تو میرا جہاز سکون سے آگے بڑھے کیونکہ میں اُمید کرتا ہوں کہ میں اپنے "ناخدا" (پائلٹ) کو آمنے سامنے دیکھ سکوں گا۔
جب عمر کی نقدی ختم ہونے کے قریب ہو، تو انسان آہ و زاری اور پچھتاوے کے بجائے اس اطمینان سے بھرا ہو کہ اس نے زندگی کے ہر لمحے اور ہر درجے کو اس کے پورے حسن اور مخصوص تقاضوں کے ساتھ جی کر دیکھا ہے۔ جو لوگ اس سرمائے کو محبت، علم اور انسانیت کی خدمت میں خرچ کرتے ہیں، ان کی جسمانی شیلف لائف بھلے ایک دن ختم ہو جائے، مگر ان کے اعمال کا ذکر دنیا میں کبھی "ایکسپائر" نہیں ہوتا۔ وہ موت کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی اپنی اس "بے باک اور قیمتی" (وائلڈ اینڈ پریشیس) زندگی کا جشن منا کر رخصت ہوتے ہیں، اور یہی عمر کی نقدی کا بہترین مصرف ہے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ انسان کی زندگی کی "شیلف لائف" یعنی "عمر کی نقدی" کا کسی کے پاس صحیح تعین نہیں ہے اس لیے ہر لمحہ اس بہترین طرح جئیں کہ کل نہیں ہوگی۔