Muhammad Asif Raza 6 hours ago
Muhammad Asif Raza #education

مضمون: عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (قلم کے ذریعے سکھیے)

This profound essay in Urdu مضمون: عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (قلم کے ذریعے سکھیے) explores the eternal significance of knowledge and the written word through the divine lens of the Qur'an's first revelation, "‘Allama bil-Qalam" (He Who taught by the pen). By tracing the golden era of Islamic scholarship from Baghdad to Andalusia, the narrative highlights how the pen serves as the ultimate custodian of the human story and civilization. It addresses the psychological depths of early childhood pedagogy—showing how hand-writing structures young minds—and culminates in a powerful critique of our modern digital dependency. Ultimately, the مضمون: عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (قلم کے ذریعے سکھیے) delivers a stirring call to reclaim the pen and the art of storytelling as humanity's most vital defense in the rising age of Artificial Intelligence.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


مضمون: عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (قلم کے ذریعے سکھیے)


تعارف: غارِ حرا کا ابدی اعلان

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس زمین پر انسانیت کی ہدایت کے لیے اپنا آخری نبی اور رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چنا۔ جب کائنات کے سب سے عظیم مصلح اور ہادی پر غارِ حرا کی تنہائیوں میں پہلی وحی نازل کی گئی، تو سب سے پہلا پیغام "اِقْرَأْ" یعنی "پڑھیے / علم حاصل کیجیے" کا دیا گیا۔

یہ اس بات کا واضح اور رہتی دنیا تک کا ابدی اعلان تھا کہ اب دنیا کی رہنمائی اور سیادت و برتری صرف مادی طاقت یا خاندانی حسب و نسب سے نہیں، بلکہ علم کے ذریعے حاصل ہوگی۔ علم حاصل کرنے والا ہی ہمیشہ برتر اور معتبر رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پہلی کائناتی وحی میں ارشاد فرمایا:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ ﴿١﴾

(اے حبیب!) اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے (سب کچھ) پیدا فرمایا۔

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ ﴿٢﴾

اس نے انسان کو جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔

اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ ﴿٣﴾

پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے۔

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ ﴿٤﴾

جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا۔

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ ﴿٥﴾

اس نے انسان کو وہ کچھ سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔


آیات کی تشریح و تفہیم

یہ پانچ آیات اسلامی نظامِ فکر، انسانی تاریخ اور تہذیب و تمدن کی بنیاد ہیں۔ ان کی تشریح کو ہم درج ذیل اہم نکات میں سمجھ سکتے ہیں:-۔


1. علم کا آغاز "رب کے نام" سے

اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب کا آغاز کسی دنیاوی قانون یا مادی فائدے کے ذکر سے نہیں، بلکہ "اِقْرَأْ" (پڑھو) کے حکم سے کیا۔ اسلام میں علم کا تصور سیکولر یا مادی علم تک محدود نہیں، بلکہ وہ علم ہے جو انسان کو اپنے "رب" کی پہچان کروائے۔ جب انسان اللہ کے نام سے پڑھتا ہے، تو علم اس کے اندر تکبر کی بجائے عاجزی اور نافرمانی کی بجائے معرفت پیدا کرتا ہے۔


2. انسان کی حقیقت اور خالق کی قدرت

ایک طرف اللہ نے علم کی بلندی کا ذکر کیا، اور دوسری طرف انسان کو اس کی مادی حقیقت یاد دلائی کہ وہ "عَلَق" (جمے ہوئے خون) سے پیدا ہوا ہے۔ یہ تضاد انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ مادی طور پر وہ کتنا کمزور اور بے مایہ تھا، لیکن علم کی دولت نے اسے تمام مخلوقات پر فضیلت بخش دی۔


3. اللہ کی صفتِ کرم کا ظہور

اللہ نے فرمایا کہ "آپ کا رب بڑا کریم ہے"۔ یہاں کرم کا ذکر اس لیے ہے کہ انسان کو علم دینا اور اسے جہالت کے اندھیروں سے نکالنا اللہ کا بہت بڑا احسان اور اس کی کریمی کا مظہر ہے۔ اگر وہ علم کا راستہ نہ کھولتا، تو انسان کبھی بھی حق سچ کی پہچان نہ کر پاتا۔


4. قلم کی عظمت اور تاریخی تسلسل

آیت "الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ" اس مضمون کا مرکزی عنوان ہے۔ زبان سے بولا ہوا لفظ عارضی ہوتا ہے اور ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے، لیکن قلم کا لکھا ہوا لفظ مستقل ہو جاتا ہے۔ اگر قلم نہ ہوتا تو پچھلی امتوں کے علوم, انبیاء کی تعلیمات، شریعت کے احکام اور انسانی تجربات اگلی نسلوں تک کبھی منتقل نہ ہو پاتے۔ قلم انسان کے حافظے کا محافظ ہے۔


5. جہالت سے نور کی طرف سفر

آخری آیت "عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ" انسانی ترقی کے تمام بند دروازے کھول دیتی ہے۔ انسان دنیا میں بالکل بے علم آتا ہے، پھر اللہ اسے حواسِ خمسہ، عقل اور وحی کے ذریعے وہ علوم سکھاتا ہے جن تک انسان خود کبھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔

اسلامی تاریخ میں قلم اور کتاب کا مقام: بغداد سے اندلس تک

پہلی وحی کی ان الہامی آیات نے عرب کے بدوؤں اور امّیوں (ان پڑھ لوگوں) میں علم کی ایسی تڑپ پیدا کی کہ انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کی علمی و تہذیبی قیادت سنبھال لی۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نے قلم اور کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط رکھا، دنیا کی کوئی طاقت ان پر غالب نہ آ سکی۔ مسلم سلاطین، علماء اور دانشوروں نے قلم کو صرف لکھنے کا اوزار نہیں، بلکہ سلطنتوں کی بقا اور انسانی ترقی کا سب سے بڑا ضامن سمجھا۔


1. بغداد کا بیت الحکمت: قلم کی روشنی میں دنیا کا عروج

عباسی دورِ حکومت میں جب بغداد اسلامی سلطنت کا دارالخلافہ بنا، تو وہاں علم کی ترویج کے لیے ایک عظیم الشان ادارہ "بیت الحکمت" قائم کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب یورپ تاریک دور (ڈارک ایجز) سے گزر رہا تھا، جبکہ بغداد میں قلم دن رات علم کے موتی بکھیر رہا تھا۔

•کتابوں کا وزن اور سونا: خلیفہ مامون الرشید کے دور میں مترجمین اور مصنفین کی حوصلہ افزائی کا یہ عالم تھا کہ جو شخص کسی دوسرے علوم کی کتاب کا عربی میں ترجمہ کرتا، اسے اس کتاب کے وزن کے برابر خالص سونا انعام میں دیا جاتا تھا۔

•کاغذ کی صنعت کا انقلاب: مسلمانوں نے چین سے کاغذ بنانے کا ہنر سیکھا اور بغداد میں کاغذ کا پہلا کارخانہ قائم کیا۔ اس ایجاد نے قلم کو نئی زندگی دی۔ بغداد کے بازاروں میں "وراقین" (کتابیں لکھنے اور نقل کرنے والے) کی سینکڑوں دکانیں تھیں، جہاں دن بھر قلم کی سرسراہٹ گونجتی تھی۔


2. غرناطہ اور اندلس: یورپ کے اندھیروں میں علم کا چراغ

دوسری طرف، جب ہم اسپین (اندلس) کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں، تو قرطبہ اور غرناطہ علم و دانش کے ایسے مینار بن کر ابھرے جنہوں نے پورے یورپ کو جہالت کے اندھیروں سے نکالا۔

•شاہی اور عوامی لائبریریاں: اندلس کے اموی خلیفہ الحکم ثانی کے دور میں اکیلے قرطبہ کی شاہی لائبریری میں چار لاکھ (400,000) سے زائد کتابیں موجود تھیں، جن کی فہرست ہی کئی جلدوں پر مشتمل تھی۔ یہ اس دور کی بات ہے جب یورپ کے بڑے سے بڑے گرجا گھر میں بھی چند سو کتابیں بڑی مشکل سے ملتی تھیں۔

•علم کا عام ہونا: غرناطہ اور قرطبہ کے مدارس میں صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ عیسائی اور یہودی طلبہ بھی قلم تھامے مسلم اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے تھے۔ اندلس کی گلیوں میں علم اس قدر عام تھا کہ عام شہری بھی پڑھنا لکھنا جانتا تھا، اور کتاب رکھنا امارت اور شرافت کی سب سے بڑی نشانی سمجھا جاتا تھا۔


3. مسلم مدارس کا طریقہ کار: قلم کے ذریعے نسلوں کی تعمیر

بغداد کے مدرسہ نظامیہ سے لے کر اندلس کے جامعات تک، مسلمانوں کا تعلیمی نظام قلم کے گرد گھومتا تھا۔ طلبہ اپنے اساتذہ کے لیکچرز کو زبانی سننے کے ساتھ ساتھ انہیں قلم بند کرتے تھے، جنہیں "امالی" کہا جاتا تھا۔ ان مدارس نے ایسے الہیات دان، سائنسدان، فلسفی اور جراح پیدا کیے (جیسے ابن سینا، الخوارزمی، ابن رشد، اور زہراوی) جن کی قلم سے لکھی گئی کتابیں صدیوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی رہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بغداد ہو یا اندلس، مسلمانوں نے جب تک قلم کی حرمت کو پہچانا، انہوں نے دنیا کو تہذیب، سائنس، اور عدل و انصاف کا راستہ دکھایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تاتاریوں نے بغداد پر حملہ کیا، تو انہوں نے مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے سب سے پہلے بیت الحکمت کی کتابوں کو دجلہ میں پھینکا، جس سے دریا کا پانی سیاہی سے کالا ہو گیا تھا—یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اسلام دشمن بھی جانتے تھے کہ مسلمانوں کی اصل طاقت ان کی تلوار نہیں، بلکہ ان کا قلم اور کتاب ہے۔

بچوں کی تدریس اور قلم کا سفر: لفظ سے تہذیب تک

بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو اس کا ذہن ایک سادہ کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔ اس مٹی کے لوتھڑے کو ایک باشعور انسان بنانے میں قلم سب سے پہلا اور معجزاتی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ سفر محض ہاتھ کی انگلیوں کو حرکت دینے کا نام نہیں، بلکہ انسانی عقل، فہم اور ادراک کے بننے کا عمل ہے۔


1. صوتیات سے حروف کی شناخت: بولنے اور لکھنے کا ملاپ

تدریس کا آغاز لفظ کو بولنے اور سننے سے ہوتا ہے۔ بچہ جب کوئی لفظ سنتا ہے، تو وہ اس کی آواز کو اپنے ذہن میں محفوظ کرتا ہے۔ لیکن جب اس کے ہاتھ میں پہلی بار قلم دیا جاتا ہے، تو وہ معجزہ رونما ہوتا ہے جہاں "بولنا" اور "لکھنا" آپس میں مل جاتے ہیں۔ بچہ حروف کو قلم کے ذریعے کاغذ پر اتار کر مادی شکل دیتا ہے۔ قلم اس کی غیر مرئی سوچ کو ایک مرئی حقیقت بنا دیتا ہے۔


2. لفظوں کی جادوئی بُنت: 'ابّا' اور 'امّاں' سے کہانیوں تک

ذرا غور کیجیے کہ یہ عمل کتنا سحر انگیز ہے! جب بچہ قلم پکڑ کر کاغذ پر پہلی بار 'ا' اور 'ب' لکھتا ہے، اور پھر اس کے ساتھ 'ب' اور 'ا' کو جوڑتا ہے (اب + با = ابّا)، تو مٹی اور سیاہی کے اس ملاپ سے کائنات کا سب سے خوبصورت اور مضبوط رشتہ "ابّا" جنم لیتا ہے۔ اسی طرح جب اس کا ننھا قلم 'ا'، 'م'، 'م'، 'ا' اور 'ں' کے حروف کو آپس میں بُنتا ہے (ام + ما + ں = امّاں)، تو محبت کا سمندر "امّاں" کاغذ پر لہرانے لگتا ہے۔

یہ صرف حروف کی مادی جڑت نہیں ہے:

•دماغی خلیات کا ملاپ: نیورو سائنس بتاتی ہے کہ جب بچہ ہاتھ سے لکھتا ہے، تو اس کے دماغ کے مختلف حصے—جو دیکھنے، چھونے، حرکت دینے اور زبان کو سمجھنے سے تعلق رکھتے ہیں—ایک ساتھ بیدار ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے حروف جڑتے ہیں، بالکل اسی لمحے بچے کے دماغ کے خلیات (نیورونز) کے درمیان نئے رابطے اور راستے بن رہے ہوتے ہیں۔

•احساسات کو زبان ملنا: بچہ اپنی زندگی کے سب سے قریبی جذبوں کو جب قلم کے ذریعے مجسم شکل میں دیکھتا ہے، تو اسے لفظوں کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ 'الف' سے لے کر 'ی' تک کا یہ سفر دراصل ایک مہم جوئی ہے، جہاں وہ ہر نئے لفظ کے ساتھ اپنے اردگرد کی دنیا کو نئے نام اور نئے مفاہیم دیتا ہے۔


3. جملہ بندی سے کہانیوں تک: تخیل کی پرواز

جب بچہ املا اور لفظوں کے جوڑ پر عبور حاصل کر لیتا ہے، تو قلم اس کے لیے ایک جادوئی چھڑی بن جاتا ہے۔ اب وہ جملہ بندی سیکھتا ہے—اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات، مشاہدات اور احساسات کو جملوں کی شکل دیتا ہے، مثلاً: "امّاں لوری سناتی ہیں" یا "ابّا مجھے پیار کرتے ہیں"۔


یہاں سے سفر آگے بڑھتا ہے مضامین اور کہانیاں لکھنے کی طرف۔ جب ایک بچہ قلم اٹھا کر کوئی کہانی بنتا ہے، تو وہ اپنے اندر کے تخلیق کار سے ملاقات کرتا ہے۔ وہ نئے کردار تخلیق کرتا ہے، مسائل کے حل سوچتا ہے اور اپنے تخیل کی اڑان سے نئی دنیا ئیں آباد کرتا ہے۔ قلم بچے کے اندر تنقیدی سوچ اور ہمدردی کے جذبات ابھارتا ہے۔


4. قلم: ایک اوزار نہیں, تہذیب کا دروازہ

قلم محض لکڑی، پلاسٹک یا سیاہی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تہذیب کا دروازہ ہے۔ اس کے ذریعے انسان کی عقل، فہم اور ادراک کا وہ سرمایہ بنا جاتا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔

•جو بچہ قلم سے محبت کرنا سیکھ جاتا ہے، وہ کتب خانوں کا رخ کرتا ہے۔

•وہ دوسروں کی آراء کا احترام کرنا اور اپنی بات کو دلیلیوں کے ساتھ پیش کرنا سیکھتا ہے۔

•قلم بچے کو سکھاتا ہے کہ طاقت صرف لڑائی جھگڑے یا چیخنے چلانے میں نہیں، بلکہ اپنے خیالات کو خوبصورتی سے کاغذ پر منتقل کرنے میں ہے۔

انسانی کہانی، مصنوعی ذہانت اور قلم کا ابدی چیلنج

انسانی تہذیب کا اگر کوئی سب سے بڑا، معتبر اور زندہ سرمایہ ہے، تو وہ قلم اور کتاب ہے؛ کیونکہ اسی سے انسان کی کہانی بنتی ہے۔ اس زمین پر لکھی جانے والی ساری تاریخ، ساری فتوحات، سارے دکھ سکھ اور ساری دریافتیں دراصل صرف اور صرف "انسان کی کہانی" پر مشتمل ہیں۔ کوئی بھی مادی طاقت یا مصنوعی ذہانت (اے آئی) انسان کی اس سچی اور لافانی کہانی کو نہ تو بدل سکتی ہے اور نہ ہی اس کا نعم البدل بن سکتی ہے۔

جب کائنات کے خالق نے خود گواہی دی: "الَّذِىۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ"، تو اس نے کائنات کا یہ ابدی اصول طے کر دیا کہ حقیقی سیکھنا، شعور پانا اور عقل کا ارتقاء قلم ہی کے راستے سے ہوگا۔


جنریشن زی (جن زی) کا المیہ اور پچھلی دو دہائیوں کی غلطی

لیکن افسوس کہ پچھلی دو دہائیوں میں ہم نے جدیدیت، اسکرین اور کی بورڈ کے نام پر ایک ہولناک تجربہ کیا۔ ہم نے اپنے بچوں کو کاغذ اور قلم کی روایتی مشق سے دور کر دیا، اور اس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔ قلم سے دوری کی وجہ سے جنریشن زی (جن زی) کی تخلیقی صلاحیتیں، ان کی گہری سوچ، اور مستقل مزاجی بری طرح متاثر اور داغدار ہوئی۔ ہاتھ کی پوروں سے قلم کا لمس چھن جانے سے ان کے دماغ کی وہ قدرتی بنُت سست پڑ گئی جو 'ابّا' اور 'امّاں' جیسے جذبوں کو الفاظ میں پروتی تھی۔


آنے والے وقت کا اصل چیلنج

آج دنیا سمجھتی ہے کہ آنے والے وقت کا سب سے بڑا چیلنج "مصنوعی ذہانت" ہے، لیکن یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے۔ آنے والے وقت کا اصل چیلنج مصنوعی ذہانت نہیں، بلکہ انسان کا قلم سے رشتہ بحال رکھنا ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ کیا انسان اپنی "کہانی کہنے" اور "کہانی لکھنے" کی موروثی صلاحیت کو زندہ رکھ پائے گا یا مشینوں کے تخلیق کردہ بے روح الفاظ کے پیچھے چھپ جائے گا؟

مصنوعی ذہانت معلومات تو جمع کر سکتی ہے، لیکن وہ انسانی دل کا درد، آنکھ کا آنسو اور روح کی تڑپ نہیں لکھ سکتی جو صرف ایک انسانی ہاتھ میں تھما ہوا قلم ہی کاغذ پر بکھیر سکتا ہے۔


ایک پکار: قلم کو تھامیے!۔

چنانچہ، اگر ہمیں اپنی تہذیب کو بچانا ہے، اپنے بچوں کے ادراک کو زندہ رکھنا ہے اور انسانیت کے سچے سرمائے کی حفاظت کرنی ہے، تو ہمیں دوبارہ غارِ حرا کے اسی پہلے سبق کی طرف لوٹنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو مشینوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے ان کے نازک ہاتھوں میں دوبارہ قلم دینا ہوگا۔ انہیں لفظوں کو جوڑنا، جملے بنانا اور اپنے دل کی داستان کو کاغذ پر اتارنا سکھانا ہوگا۔

حاصل کلام: غارِ حرا سے قرآن اور انسان تک

اگر ہم غارِ حرا کے اس پہلے پیغام سے لے کر آج کے دور تک کے پورے سفر کا جائزہ لیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ قلم، کتاب اور انسان کا رشتہ ابدی ہے۔

کائنات کی سب سے عظیم اور آخری کتاب، قرآنِ مجید کا بنیادی موضوع ہی "انسان" اور "انسان کی کہانی" ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پوری کتاب میں انسان کی تخلیق، اس کے عروج و زوال، اس کے جذبوں، رشتوں اور اس کی ہدایت کی کہانی بیان کی ہے۔ اور اس عظیم کتاب کا آغاز کہاں سے کیا؟ "عَلَّمَ بِالْقَلَمِ" سے! یعنی کائنات کی سب سے بڑی کتاب نے خود یہ گواہی دی کہ انسان کو اگر اپنی کہانی کو بامقصد بنانا ہے، تو اسے قلم کا دامن تھامنا ہوگا۔

اس پورے فکری سفر کا سب سے بڑا اور حتمی سبق یہ ہے کہ قلم اور کتاب کے بغیر کوئی حقیقی ترقی، شعور یا تہذیب ممکن ہی نہیں۔

•جو قومیں قلم کو چھوڑ کر صرف مادی وسائل یا مشینوں پر تکیہ کر لیتی ہیں، وہ اپنی کہانی خود اپنے ہاتھوں سے مٹا دیتی ہیں۔

•قلم اور کتاب کے بغیر انسان مٹی کا ڈھیر تو رہ سکتا ہے، لیکن اشرف المخلوقات نہیں بن سکتا۔

آنے والے وقت میں ہماری بقا صرف اور صرف اسی قرآنی فلسفے میں ہے کہ ہم اپنی پوروں کو دوبارہ قلم کے لمس سے روشناس کریں، اپنے بچوں کو الفاظ کی بُنت اور کہانی کا فن سکھائیں، اور یاد رکھیں کہ حقیقی علم اور ابدی برتری کا واحد راستہ وہی ہے جو اللہ نے طے کر دیا ہے: یعنی "عَلَّمَ بِالْقَلَمِ"۔

اس لیے آگے بڑھیے، قلم کو تھامیے اور دنیا کو کہانی کا فن سکھائیے!۔۔


Hot Rolled Coil Price Trend 2026 | Q3 Forecast, Chart, Prices and Inde...

1787734945.png
Lakshay Choudhary
7 minutes ago

Hot Dipped Galvanized Coil Price Trend Q3 2026 | Global Price Trends,...

1787734945.png
Lakshay Choudhary
25 minutes ago

Cold Rolled Coil Price Trend 2026 | Q3 Forecast, Chart, Prices and Ind...

1787734945.png
Lakshay Choudhary
48 minutes ago

Hypertension Treatment in Rishikesh: The Week That Reads the Log

Hypertension treatment in Rishikesh at Modi Yoga Retreat — a paced week that keeps antihyp...

1760005703.jpg
Modi Yoga Retreat
1 hour ago

Employee Wellbeing in the Workplace: How UK Businesses Can Create Heal...

Discover how UK businesses can improve employee wellbeing, support mental health and build...

defaultuser.png
Marketing
1 hour ago