مضبوط اور خوشحال خاندان
ALLAH AlMighty has revealed Al Quran upon the Last of Prophets Hazrat Muhammad (PBUH). He has also guided us to spend our lives in a particular fashion so as to succeed in this world and hereafter as well. One of His command is to form families based on love and fraternity. This write up in Urdu "مضبوط اور خوشحال خاندان" is a narration for the said purposes.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
مضبوط اور خوشحال خاندان
ہم انسان اس دنیا میں اکیلے آتے ہیں مگر ایک ماں کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں اور ہمارا ایک باپ بھی ہوتا ہے۔ اس طرح دنیا میں اکیلے آنے والے والا بچہ ایک خاندان؛ کسی قبیلے؛ کسی قوم اور ملک کا حصہ ہوتا ہے۔ ایک انسانی بچے کی شیرخوار زندگی اور لڑکپن کا دور اس کی شخصیت اور دنیاوی اور دینوی کامیابی کے لیے اہم کردار ہوتا ہے۔ اور بچہ اس دوران زیادہ وقت اپنے خاندان میں گذارتا ہے؛ اس طرح خاندان کے رسم و رواج اور امر و نواہی اس کی شخسیت میں گوندھے ہوتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک انسان کی عقلی؛ عملی اور نفسیاتی ساخت اس کے خاندان کے اصول وضوابط کی نمائندگی کرتی ہے۔
میرے جد؛ دادا جان کے تین بیٹے تھے اور میرے بابا جان منجھلے [درمیانے] بیٹے تھے؛ اور مڈل سکول میں یتیم ہوگئے تھے مگر انکے مزاج اور ذہن پر اپنے بابا کی چھاپ بہت واضع تھی؛ جس کا کبھی کھبار اظہار وہ اپنی زبان سے کر دیتے تھے۔ دادی جان ایک شفیق ماں تھیں جو اپنے لختِ جگر کو کامیاب دیکھنا چاہتی تھیں؛ سو ہجرت کرنےکی اجازت بھی دی؛ بلکہ دس سال سے زیادہ چھوٹا بھائی بھی ساتھ کردیا کہ مل کر آگے بڑھنا۔ میرے عمو جان [چھوٹے ابی] نے میری زندگی کو قوس و قزاح کے رنگ دیے ہیں اور میری اور دیگر بھائی بہنوں کی کتاب دوستی میں اک بڑا کردار انکا ہی ہے؛ سو اپنے بھائی کی سنگت کا بہترین عملی مظاہرہ کیا۔ عمو جان اب برطانیہ میں سکونت پذیر ہیں؛ اللہ تعالی انکو برکت اور رحمت والا بڑھاپا عطا فرمائے۔ آمین
بابا جان نے اٹھارا سال کی عمر میں ہجرت کی تھی اور پچاس سال سے زیادہ شادی شدہ زندگی میں خاندان جوڑنے میں گزار دی۔ میرا ننھیال بھی ہجرت کے باعث محدود ہی رہا ہے۔ میری ماں جی اپنے دس بھائی بہنوں میں سب سے بڑی ہیں اور مابدولت بھی اپنے دس بھائی بہنوں میں بڑا ہے۔ الحمد اللہ۔ اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے سب ہی نے جلد و بدیرگھر بسایا؛ چنانچہ آج ہم ایک مناسب افرادی قوت کے حامل خاندان ہیں۔ ماشاء اللہ۔ ہجرت کرنے والے اپنےبزرگوں کی روایات اور رسومات سے کٹ جاتے ہیں اور انکی نسلیں نئی روایات کو جنم دیتے ہیں۔ مگر انکی بنیادیں انہی اصولوں پر ہوتی ہیں جو اسلاف کے نظریات پر قائم کئے جاتے ہیں۔ ہم الحمداللہ اسلام کے اوائل سے مسلمان ہیں؛ اور بابا جان اور میرے نانا جان [نوجوانی تک کا وقت انکی صحبت کا ملا] اپنی اسلامی شناخت کے بارے میں بہت واضع اصول رکھتے تھے' اور آقا کریم محمدﷺ کی غلامی کا طوق گلے میں پسند کرتے تھے۔
امت محمدﷺ کے لیے خاندان محض ایک جز یا عنصر نہیں بلکہ اساس محکم ہے۔ ایک مضبوط خاندان سے قبیلہ بنتا ہے اور اس سے قومیں ابھرتی ہیں۔ اقبال نے فرمایا ہے کہ "یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم"؛ اور کسی بھی خاندان کو بنانے اور جوڑے رکھنے کے لیے یہ بنیادی اصول کا محور ہے۔ ایک مسلمان خاندان کے لیے یقین محکم، اللہ سبحان تعالی کی وحدت اور حقانیت؛ آقا محمدﷺ کی رسالت اور شفاعتِ کوثر؛ اور ہدایت کا منبع قرآن ہوتا ہے۔ اور عمل پیہم کی اصطلاح حاکمیت اعلی صرف اللہ کی؛ اور ساری زندگی اللہ کی بندگی کے سُپر کرنا اور رزقِ حلال کی طلب اور کوشش کا نام ہے۔ کسی بھی خاندان اور قوم کو یہ پختہ گری سے جان لینا چاہیے کہ محبت فاتح عالم ہے اور دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ کوئی رشتہ محبت کے دریا سے نہ پھوٹا ہوا؛ پھل پھول نہیں سکتا۔ آقا کریم محمدﷺ نے مدینۃ الرسول میں جو ریاست قائم کی تھی؛ وہ ان اصحاب رسول رضوان اللہ علیھم پر مشتمل تھی جن کے دل و دماغ اور ظاہر و باطن "یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم" کا مظہر تھے۔ اس ریاست میں خرابی کی ابتداء باہمی احترام و محبت کو تحلیل کرنے سے ہوئی۔
"محبت سے مزید محبت جنم لیتی ہے" ایک کہاوت ہے جو محبت اور دل جوئی کی باہمی نوعیت پر زور دیتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جب آپ دوسروں سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، تو وہ ان جذبات کا بدل پانے کے زیادہ حقدار ہوتے ہیں، جس سے محبت کا مثبت دور پیدا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پیار، لگن اور محبت دوسروں میں اسی طرح کے اعمال کی ترغیب دیتا ہے، جو باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات کا باعث بنتا ہے۔ کامیاب اور خوشحال خاندان میں باہمی محبت سمندر کی طرح موجزن ہوتا ہے۔ انکی صفوں میں باہمی دل جوئی، ایثار اور جزبہ قربانی بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔
خاندان آپس میں ایک بندھن میں جڑے ہوتے ہیں جو انکے مشترکہ تجربات، آزاد اور بے غرض گفتگو کے سلسلے، اور باہمی تعاون کے جزبے پر مشتمل ہوتا ہے اور جس کے ذریعے خاندان کے اراکین کے درمیان بامعنی روابط اور تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے افراد اور خاندان پر اعتماد ہوتے ہیں؛ انکے جذباتی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں؛ اور خاندانی اکائی کے باہمی تعلق کا احساس فروغ پاتا ہے۔ مضبوط خاندانی بندھن بچے کی نشوونما، جذباتی بہبود، اور مجموعی کامیابی کے لیے اہم ہوتا ہے۔ یہ ایک محفوظ اور معاون ماحول پیدا کرتا ہے، تعلق، سلامتی اور اعتماد کے احساس کو فروغ دیتا ہے۔ مضبوط خاندانی بندھن بچوں کی بہتر ذہنی صحت، اعلیٰ خود اعتمادی، اور بہتر تعلیمی کارکردگی کو ممکن بناتا ہے۔
مضبوط اور خوشحال خاندان؛ جذباتی گرمجوشی، تحفظ، اور تعلق کا احساس فراہم کرتے ہیں؛ جو افراد اور بچوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے اہم ہے۔ اس سے خاندانی اقدار، عقائد اور طرز عمل تشکیل پاتا ہے۔ جب ہم زندگی کے چیلنجوں سے نبرد آزما ہوتے ہیں تو خاندانی نظریات اور اصول رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اپنے اہداف تک پہنچنے کے لیے ہمارے لیے اتحاد ضروری ہوتا ہے، چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا۔ اکٹھے ہو کر اور اپنے وسائل کو جمع کر کے، ہم بڑے کاموں سے نمٹ سکتے ہیں اور کسی بھی رکاوٹ کو دور کر سکتے ہیں۔ جب ہم ایک اکائی کے طور پر اکٹھے ہوتے ہیں، تو ہم اس سے زیادہ حاصل کر سکتے ہیں جو ہم میں سے کوئی بھی اپنے طور پر کر سکتا ہے۔ مضبوط اور خوشحال خاندان ایک دوسرے کو ترجیح دیتے ہیں، ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہیں، اور انفرادی اور اجتماعی بہبود پر توجہ دیتے ہیں۔ بالآخر، وہ ایک معاون اور لچکدار یونٹ بناتے ہیں جو جذباتی اور مالی طور پر ترقی کر سکتی ہے۔ یاد رکھیے کہ خاندان اکھٹ ہے جس کی ترقی اور بقاء کے لیے جوان خون کی ضرورت ہوتی ہے؛ جو اپنی کوشش اور سعی سے خود بھی آگے بڑھتے ہیں اور خاندان بھی؛ قوم و ملک بھی۔
خاندانی اجتماعات خاندان کے ارکان کی جذباتی اور سماجی بہبود کے لیے ایک بنیاد کے طور پر کام کرتے ہیں؛ حمایت، محبت، اور مشترکہ تجربات کی بنیاد بناتے ہیں جو ایک مضبوط اور لچکدار خاندانی اکائی میں حصہ ڈالتے ہیں۔ جب خاندان کے افراد ایک ساتھ سرگرمیوں میں مشغول ہوتے ہیں اور تجربات کا اشتراک کرتے ہیں، تو یہ ان کی اجتماعی شناخت کو تقویت دیتا ہے اور انفرادی حیثیت کو چمکاتا بھی ہے۔ اس سے خاندانی اور انفرادی اقدار، عقائد اور ثقافتی ورثے کو تشکیل دینے میں مدد ملتی ہے، جس سے مقصد اور تعلق کا گہرا احساس پنپتا ہے۔ ایک صحت مند خاندانی تعلق افراد کی صحت اور تندرستی پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ باوقار خاندانی تعلق تناؤ کے وقت سکون، رہنمائی اور مضبوطی حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یاد رکھیے کہ اس کو موجب صرف اور صرف باہمی محبت اور رواداری کا فروغ ہوتا ہے۔ کیونکہ محبت فاتح عالم ہے۔
ہمارے گھروں میں عید کا دن خوشی، مسرت اور انبساط کا دن ہوتا ہے۔ ہم مسلمانوں کو یہ دن سال میں دو مرتبہ حاصل ہوتا ہے؛ پہلا رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے بعد عید الفطر آتا ہے؛ جس کے بابت حدیث شریف میں ہے کہ جب عیدالفطر کا دن آتا ہے؛ فرشتے راستوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور آواز لگاتے ہیں اے مسلمین کی جماعتوں اپنے رب کریم کی طرف چلو وہ تمہیں ایک اچھے کام کی توفیق دیتا ہے پھر اس پر ثواب عظیم عطا فرماتا ہے۔ اور دوسرا دن عید الاضحیٰ کا تہوار ہے۔ عید الاضحیٰ ذوالحجہ کی دس تاریخ کو منائی جاتی ہے۔ ان دنوں میں مکہ مکرمہ میں حج ہوتا ہے اور باقی دنیا کے مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آقا کریم محمدﷺ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے "بقرعید" مناتے ہیں۔ اور قربانی کا گوشت تقسیم کرتے ہیں تو اس سے مذہبی حکم کی پیروی کے ساتھ ساتھ واضع فائدہ باہمی محبت اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔
سارے مسلمانوں کی طرح ہمارے گھرانے میں بھی عید کا دن خاصے کا دن ہوتا ہےاور ہم بڑے تزک اور اہتمام سے اس دن کو برتتے ہیں۔ ہم سارے اپنی والدہ محترمہ [اللہ تعالی انکے بڑھاپے کو اپنی رحمت سے آسان بنائے؛ آمین] کے پاس اکھٹے ہوتے ہیں۔ خوب گپ شپ ہوتی ہے اور بچے اپنا دھوم دھڑکا جاری رکھتے ہیں؛ اور وہاں عشائیہ کا اہتمام ہوتا ہے جس میں گھر کی بہویں شاندار طریقے سے دسترخوان سجاتی ہیں۔ پروردگارِ عالم نے ابتک مجھے [تایا جان] کو پانچ بھتیجیاں عطا کررکھی ہیں؛ میری یہ شہزادیاں اکثر ایسے موقعوں پر میرا مان بڑھا دیتی ہیں اور آنند یا شادمانی کا باعث بنتی ہیں۔ اس پوسٹ میں بچوں کا خود اپنے ہاتھوں سے خاص طور پر بنائے گئے کارڈز پیش کئے گئے ہیں۔
آئیے خاندان بنائیں اور مضبوط اور خوشحال گھرانے آباد کریں۔ اور اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کو اولین ترجیح دیں۔ تب ہی ملک ترقی کرے گا۔ اللہ سبحان تعالی ہمارے بچوں کو اور ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہم سب کو اپنے گھرانوں؛ خاندانوں اور ملک سمیت خوشحالی اور کامیابی عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔