Muhammad Asif Raza 2 months ago
Muhammad Asif Raza #events

معرکہ خیبر و کربلا؛ مومن کی فتح

USA and Israel launched a large-scale attack on Iran on 28 February 2026 and Iran retaliated in strong terms which has baffled the world. It was a battle of "David vs Golaith" where again as per the spirit ordained in Holy Scriptures the small and weak Iran come victorious. This write up in Urdu "معرکہ خیبر و کربلا؛ مومن کی فتح" is a brief opinion on the remarkable end of the USA_Israel_Iran_War.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


معرکہ خیبر و کربلا؛ مومن کی فتح


مورخہ 28 فروری 2026 کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صیہونی یہودیوں نے اپنے ناجائز بچہ ریاست اسرائیل کو ساتھ ملا کر اسلامی جمھوریہ ایران پر ایک وقت میں کئی مقامات اور شہروں پر فضائی حملے شروع کرکے جنگ مسلط کی۔ اور ایک ہی ہلّے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور متعدد دوسرے ایرانی سیاسی اور فوجی عہدیداروں کو شہید کردیا۔ علاوہ اذین کئی سو سے زیادہ شہری بھی ہلاک کردیے گئے۔ اور بربریت کی ابتداء ایران کے شہر مناب میں لڑکیوں/ بچیوں کے ایک پرائمری اسکول پر ٹوماہاک میزائل حملہ تھا؛ جس کے نتیجے میں کم از کم 170 افراد زیادہ تر بچے ہلاک ہوئےتھے۔


ایران نے اسرائیل، امریکی اڈوں اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادی ممالک کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دیا اور آبنائے ہرمز کو بند کر کے عالمی تجارت میں خلل ڈال دیا۔ یہ سب کچھ اچانک نہی ہوا؛ بلکہ سنہ 2023 عیسوی میں مشرق وسطیٰ کا بحران شروع کرایا گیا؛ جب امریکہ اور اسرائیل نے باقاعدہ منصوبہ بندی سے معاملات بگاڑے اور پھر سنہ 2024 میں ایران پر میزائل حملہ کیا گیا؛ اور ایک وقفہ کے بعد اسرائیل اور امریکہ نے جون 2025 میں بارہ روزہ جنگ میں ایران کے خلاف فضائی حملے کیے تھے۔ اسلامی جمھوریہ ایران نے ثابت قدمی سے اس غنڈہ گردی کا جواب دیا تھا۔


ایرانی قوم نے اسلام دشمن قوتوں [ امریکہ، اسرائیل، اتحادی نٹیو ممالک] اور انکے خاموش غلام منافق مسلم ملکوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا؛ کیونکہ یہیں کربلا کا سبق ہے۔ ایران سنہ 1979 کے روح اللہ موسوی خمینی کے لائے"شیعانِ علی" انقلاب کے بعد اک بدلا ہوا ملک ہے۔ ایران اس انقلاب کے بعد 46 سال سے مسلسل ہر طرح کے جبر و دباو کا شکار ہے۔ لیکن اس جبر اور دباو کے ماحول میں ایک قوم کی تعمیر کا عمل جاری رہا ہے۔ جس کی روح میں معرکہ کربلا کو مرکزیت حاصل ہے۔ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کے سبق کو جانِ حزین کا مقصد بنالینے والے معرکہ خیبر کی شان، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم (مولا علی حیدرِ کرار) سے باطل پرجیت کا سبق ضرور لیتے ہیں؛ تو پھر بھلا محبان علی شیعان ایران کیسے پیچھے رہ سکتے تھے؟ ہر مسلمان جانتا ہے کہ جب بھی معرکہ خیبر و کربلا درپیش ہوگا؛ مومن کی فتح ہوگی؛ یہ اللہ سبحان تعالی کا وعدہ ہےجو کبھی باطل نہیں ہوا۔

اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ "اور سستی نہ کرو اور نہ غم کھاؤ، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو"۔ سورہ آل عمران (آیت 139)

دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش

ریاست ہائے امریکہ کو ترقی پذیر ملکوں میں رجیم چینج کا بہت شوق رہا ہے؛ اس کے ذریعے غلام کٹھ پتلی مہروں کو برسر اقتدار لایا جاتا رہا ہے۔ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ فرمان سنیں کہ میزائیل حملوں سے ایران کی قیادت کو شہید کرنے کے بعد کہا ہے کہ "میرے خیال میں ہم ایران سے معاہدہ کر لیں گے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ نہ ہو۔ آپ دیکھیں ہم نے رجیم تبدیل کر دی ہے۔ پہلی رجیم ختم کر دی گئی ہے، وہ سب مر چکے ہیں۔ اس سے اگلی رجیم زیادہ تر ختم ہو چکی ہے اور تیسری رجیم میں بالکل مختلف افراد کا گروپ ہے تو اس لیے میں اسے رجیم چینج سمجھوں گا"۔

لیکن مغربی قوم کی قیادت "ابلیس کی ذریعت" نہیں جانتی کہ عام معمولی "مومن لوگ" ہی دنیا میں یاد رکھے جاتے ہیں۔ یہ غیر معمولی "مومن لوگ" عام حالات میں ایسی صورت تعمیر کردیتے ہیں جو تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ ان کی سوچ غیر معمولی حد تک مثبت ہوتی ہے اور وہ گھمبیرتا کے عالم میں مثبت عمل کی عملی تعمیر بن جاتے ہیں؛ کہ انکے حوالے یاد رکھے جاتے ہیں۔

یہ اصطلاح "معرکہ روح و بدن" علامہ اقبال کے کلام (بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو) کا ایک مشہور مصرع ہے، جو روحانیت / ایمان اور مادیت / مغربی تہذیب کے درمیان تصادم کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ جدید تہذیب کے مظالم، تکنیکی طاقت (مشینوں) اور انسانی روح کے درمیان کشمکش کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اللہ پر ایمان رکھنے والا مومن مادیت پرستی کے سامنے ڈٹا رہتا ہے۔

امریکی جنرل ڈین کین اپنے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پوڈیم پر کھڑے ہوئے فرماتے ہیں؛ انکی آواز ذرا سی کریک ہو رہی تھی، اور ایک بری پنچ لائن کی طرح بولے تھے کہ

"ہر ایرانی جس کے پاس چھوٹی بندوق تھی ہم پر گولی چلا رہا تھا۔" اس کا تصور کریں۔

ریاست ہائےامریکہ کی کچھ علاقوں میں بندوق کی پوجا کی جاتی ہے۔ ان کے پاس بہت زیادہ آتشیں اسلحہ ہوتا ہے؛ بچے ان کے ساتح کھیلتے ہوئےبڑے ہوتے ہیں۔ ہالی ووڈ انکی کہانیوں پر بلاک بسٹر فلمیں بناتا رہا ہے؛ جہاں ایک شخص پستول کے ساتھ دنیا کو دہشت گردوں سے بچاتا ہے۔ دوسری ترمیم بنیادی طور پر ایک مذہب ہے۔ "آؤ اور لے لو،" وہ اپنے پک اپ ٹرکوں سے چیختے ہیں۔

پھر ایسے بچے ایک دن امریکی ائر فورس میں پائلٹ بن جاتے ہیں اور امریکی صدر کے حکم دراصل صیہونی یہودیوں کی خواہش پر ایران پر حملے کرنے پہنچ جاتے ہیں؛ جب وہ اپنے فینسی ایف-15 کپر سوارہو کر آسمان سے ایران والوں کے سر پر دستک دیتے ہیں۔ بلیک ہاکس پہاڑیوں پر گونج رہے ہیں جیسے یہ صرف ایک اور ویڈیو گیم مشن ہے۔ کیا کرتے کہ انکو یہی سمجھایا جاتا ہے؟ اور وہاں جاہل اجڈ ایرانی کیا کرتے ہیں؟

خانہ بدوش۔ کسانوں۔ وہ غیر فوجی لڑکے جن کے پاس جنگلی سؤروں کے لیے ایک پرانی شکاری رائفل ہے۔ وہ اوپر دیکھتے ہیں، جہاں جہاز سےگولیاں چلتی ہیں؛ وہ اسے اپنا دشمن جان لیتے ہیں، اور زمین کی سب سے جدید فوج پر حملہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک والد اور اس کی چھوٹی بیٹی گرے ہوئے ہیلی کاپٹر کے گرد چکر لگا رہے ہیں؛ اور خوش ہو رہے ہیں۔ کوئی فوجی تربیت نہیں۔ تہران سے کوئی حکم نہیں؛ صرف خالص "یہ میرا آسمان ہے، جہنمیو؛ وہاں سے باہر نکل جاؤ"۔

کرہ ارض کی سب سے بڑی بندوق سے محبت کرنے والی قوم اپنے ٹریلین ڈالر کے کھلونوں کے ساتھ نظر آتی ہے… اور اچانک رونا شروع کر دیتی ہے کیونکہ مقامی لوگوں نے آخر کار عام بندوقوں کا استعمال کیا۔ خود امریکی ہمیشہ کہتے ہیں کہ " بندوقیں استعمال کرنے کے لیے ہوتی ہیں؛ حملہ آوروں کے خلاف اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کے لیے"۔

بیچارہ جنرل ڈین کین! مجسمہ آزادی کی عظمت اور جمھوریت کے گیتوں کےسنگ دی گئی وہ تمام تربیت، جان وین کی وہ تمام فلمیں ادھورا خواب بن جاتا ہے؛ جب دیکھتا ہے کہ کوئی فرد اور وہ بھی ایک گنوار ایرانی؛ اصل میں رائفل سے اپنے گھر کا دفاع کرتا نظر آتا ہے۔ تو یہ اس کے لیے اور اس کی فوج کے لیے ایک قومی المیہ بن جاتا ہے۔ وہی امریکہ جو والمارٹ پر کینڈی کی طرح اے آر-15 فروخت کرتا ہے؛ تو اچانک اس وقت حیران رہ جاتا ہے؛ جب چھوٹی بندوقوں والے بھورے لوگ ہیل فائر میزائل سے؛ دلائی جانے والی آزادی کے لیے "شکریہ" نہیں کہتے ہیں۔ بلکہ دلیران مقابلہ کرتے ہیں۔

یہ تقریباً شاعرانہ ہے۔ وہ بندوقوں سے اس وقت تک محبت کرتے ہیں؛ جب تک کہ غلط لوگ [عام معمولی "مومن لوگ"] ان سے پیار کرنا شروع نہ کر دیں۔ اور اگر یہ بندوق غلط لوگ [عام معمولی "مومن لوگ"] کے ہاتھ میں شعلے اگلتی ہے تو مغربی ذرریعتِ ابلیس کے فرستادے اسے دہشت گردی کہتے ہیں۔ ایک امریکی کو ہنسنا ہے یا رونا؛ آپ کی چوائس ہے؛ مگر یاد رہے کہ یہ مذاق آپ ہی نے شروع کیا تھا؛ ایرانی تو اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ آج تک ایک بھی وار ریاست ہائے امریکہ کی زمین پر نہیں ہوا ہے۔

امن کی دعوت؛ طبلِ جنگ کے ساتھ

امریکہ کی تاریخ جنگ سے منور ہے؛ امریکہ کی تقریباً 248 سالہ تاریخ کا 93 فیصد سے زائد حصہ (تقریباً 232 سال) مختلف جنگوں، فوجی مداخلتوں اور تنازعات میں گزرا ہے۔ 1776 میں آزادی کے بعد سے، یہ ملک عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے کے لیے مسلسل جنگی سرگرمیوں، بشمول ویت نام، افغان جنگ، اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں شامل رہا ہے۔ اور آج کا ایران سےجنگ بندی کا اعلان بھی شاید آخری نہ ہو۔ مگرجس حالت میں یہ اعلان کیا گیا ہے اسے بغور دیکھنا چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ " اگر ہم ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے نہ روکتے تو آج اسرائیل ختم ہوچکا ہوتا، جب میں نے ایران جوہری معاہدہ ختم کیا تو سب نے تنقید کی، میں نے معاہدہ ختم کیا کیونکہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کر رہا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امید ہے بجلی گھروں اور پلوں پر بمباری نہ کرنی پڑے، ہمارا خیال ہے کہ ایران اچھی نیت سے بات چیت کر رہا ہے، ابنائے ہرمز کا دوبارہ کھل جانا بڑی ترجیح ہے، بدھ تک آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا گیا تو ایرانی پاور پلانٹ پر حملے کریں گے۔ ایران کے لیے کل تک کی ڈیڈ لائن ہے، کل 8 بجے کے بعد پل، انفرااسٹرکچر اور پاورپلانٹس نہیں بچیں گے، ایران کو پتھر کے دور میں لے کر جاؤں گا، منگل تک ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جو مجھے قابل قبول ہو"۔

ا مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ "ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی اور پھر کبھی اُبھر نہیں سکے گی۔ میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ ایسا ہو گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں آج رات ہی معلوم ہو جائے گا۔ یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے نہایت اہم ترین لمحات میں سے ایک ہو گا"۔‘

اس بیان سے واضع ہوتا ہے کہ امریکی صدر جوہری ہتھیار کے استعمال کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اور یہ بھی واضع ہوتا ہے کہ امریکہ اپنے حواری اسرائیل کے ساتھ جنگ کے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور ایران ایک دفاعی جنگ میں نہ صرف سرخرو رہا ہے بلکہ کچھ معاملات میں فاتح رہا ہے۔ اور اس سبکی کی وجہ سے مندرجہ بالا بیان داغا گیا ہے۔ کیونکہ کوئی فاترالعقل ہی ایسا سوچ سکتا ہے۔ سو دیکھتے ہیں کہ آخرِکار امریکہ کیوں امن کی طرف آیا؟


چین نے جدید تاریخ میں مغربی اتحادی ملکوں کے بارے میں سب سے زیادہ جارحانہ عوامی بیان دیا؛ "چین نے عوامی طور پر کہا کہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا مطلب ہے ایک ملک کے طور پر اسرائیل کا خاتمہ"۔

یہ پہلا موقع ہے جب چین نے امریکہ سے منسلک ایٹمی ریاست کو قومی معدومیت کی براہ راست دھمکی دی ہے۔ بیان ریکارڈ پر دیا گیا تھا - بیک چینلز کے ذریعے نہیں، لیک نہیں کیا گیا، عوامی طور پر۔ روس نے اپنے آپ کو بیان سے الگ نہیں کیا ہے۔ مکمل خاموشی۔

ایک بڑے تھنک ٹینک میں ایک سینئر تجزیہ کار نے مجھے بتایا: "یہ چین ہے جو دنیا کو بتا رہا ہے کہ امریکی جوہری ضمانتیں بے کار ہیں۔ فل سٹاپ۔"

عالمی نظام ابھی بدلا ہے۔ مہینوں میں نہیں۔ ہفتوں میں نہیں۔ ایک بیان میں۔

اسلامی جمھوریہ ایران کی جیت

ایران نے امن کی تجویز پیش نہیں کی۔ اس نے آبنائے ہرمز کے لیے جنگ کے بعد کا آئین پیش کیا، اور اپنی فتح کا اعلان کیا ہے۔

پوائنٹ چھ ایرانی ملٹری کوآرڈینیشن کے تحت آبنائے سے محفوظ، ریگولیٹڈ گزرنے کے لیے ایک مستقل پروٹوکول قائم کرتا ہے۔ پوائنٹ سات فی جہاز دو ملین ڈالر فیس عائد کرتا ہے۔ یومیہ تقریباً 120 جہازوں کی جنگ سے پہلے کی ٹرانزٹ والیوم میں، اس فیس کا ڈھانچہ ہر سال $87 بلین سے زائد ٹول ریونیو پیدا کرتا ہے جو اس حکومت کو ادا کیا جاتا ہے جس کی پوری جنگ سے پہلے تیل کی برآمد کی آمدنی تقریباً $50 بلین سالانہ تھی۔ ایران دوسرے ممالک کے تیل کی گزر گاہ کو کنٹرول کرنے سے زیادہ کمانے کی تجویز کر رہا ہے جتنا کہ اس نے اپنے تیل کو بیچ کر کمایا ہے۔

چوتھا نکتہ تمام امریکی پابندیوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔ پانچواں نکتہ تعمیر نو کی امداد اور نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ کرتا ہے۔ دس نکتہ میں ایران کے خودمختار حقوق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جسے ارنا رائٹرز اور سمیت متعدد ٹائر-2 آؤٹ لیٹس این پی ٹی کے تحت یورینیم کی افزودگی کی منظوری سے تعبیر کرتے ہیں۔ جوہری دہلیز کا مطالبہ امن کے فریم ورک کے اندر سرایت کر گیا ہے، جو ہرمز ٹول کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جو تہران کو سمندری تاریخ کا سب سے امیر چوکی پوائنٹ آپریٹر بنا دے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پرلکھا "پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر، جہاں انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں آج رات ایران کے خلاف بھیجی جانے والی تباہ کن طاقت کو روک دوں۔‘ ’اس شرط پر کہ ایران، آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر رضامند ہو، میں ایران پر بمباری اور حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر متفق ہوں۔ یہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہوگی۔‘

امریکی صدر نے لکھا "اس کی وجہ یہ ہے کہپہلے ہی تمام فوجی مقاصد حاصل کر چکےہیں بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں۔ ایران کے ساتھ طویل مدتی امن اور مشرقِ وسطیٰ میں امن سے متعلق ایک حتمی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ہمیں ایران کی جانب سے دس نکات پر مشتمل ایک تجویز موصول ہوئی ہے اور ہم سمجھتےہیں کہ یہ مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ماضی کے تقریبا تمام متنازع نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ دو ہفتوں کی مدت اس معاہدے کو حتمی شکل دینے اور مکمل کرنے کے لیے درکار ہوگی۔

پوسٹ کے آخر میں لکھا " امریکی صدر کی حیثیت سے اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے میرے لیے یہ باعثِ اعزاز ہے کہ یہ ایک عرصے سے حل طلب مسئلہ حل کے قریب ہے"۔

امریکی صدر کا یہ کہنا " مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے" ایران کا ہمسایہ ممالک پر حملہ جائز بناتا ہے۔ یہ جملہ بتاتا ہے کہ ایران کی جنگ صرف امریکہ اور اسرائیل سے نہیں تھی بلکہ درپردہ ہمسایہ مسلم ممالک بھی منافقت کا لبادہ اوڑھے ایران کے خلاف استعمال ہورہے تھے۔

اختتامی کلمات

چالیس دن کی ایران امریکہ اسرائیل جنگ دراصل سرزمین القدس کی جنگ تھی۔ یہ جنگ مسلم قوم کے خلاف طاغوتی صیہونی یہودی طاقتوں کی جنگ تھی۔ یہ حق و باطل کی جنگ تھی۔

قومِ یہود یعنی بنو اسرائیل نے یروشلم سے حضرت داؤد (عیلہ السلام) اور حضرت سلیمان (عیلہ السلام) کی سرپرستی میں دنیا پرحکومت کی۔ اس کے بعد پہلے ایک مختصر مدت کے لیے اور پھر دوسری مرتبہ طویل عرصے کے لیے مقدس زمین سے بے دخل کر دیے گئے۔ انہیں ان کے انبیاء کے ذریعے ان کی اس قسمت کے بارے میں پہلے سے خبردار کیا گیا تھا۔آئیے ذرا قوم یہود کی کتابوں سے معلوم کریں کہ انکو کیا حکم دیا گیا تھا۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ اب ان کتابوں میں بہت زیادہ تحریف ہوچکی ہے۔

وہ کون سا آدمی ہے جو رب سے ڈرتا ہے؟ اسے وہ طریقہ سکھائے گا جسے وہ چنے گا۔ اس کا روح آرام سے رہے گی۔ اور اس کی نسل (مقدس) زمین کی وارث ہوگی۔ رب کا راز ہے۔ اُن کے ساتھ جو اُس سے ڈرتے ہیں۔ اور وہ انہیں اپنا عہد دکھائے گا۔" (زبور، 25:12-14)لیکن حلیم لوگ (مقدس) زمین کے وارث ہوں گے۔ اور امن کی کثرت میں خود کو خوش کریں گے۔" (زبور، 37:11)"صادق زمین (مقدس) کے وارث ہوں گے، اور اس میں ہمیشہ رہیں گے (یعنی بشرطیکہ وہ نیک ہو)۔ (زبور، 37:29)"مبارک ہیں حلیم لوگ کیونکہ وہ (مقدس) زمین کے وارث ہوں گے۔ (متی، 5:5)


مقدس زمین کے وارث کون ثابت ہوئے؟ یہ پہلے اسرائیل حماس جنگ میں ثابت ہوا۔ امریکی صیہونی نمائندہ ریاست اسرائیل کی فوج کو غزہ کے حماس مجاہدین نے اپنے اسلاف کی نقش قدم پر چلتے ہوئے، قرآن مجید کی ہدایت پر عمل پیرا ہوکر ثابت کیا تھا کہ سرزمین القدس حق و باطل کے فرق کو واضع کرتا ہے۔

دنیا کی طاقتور ترین امریکی فوج اپنے حواری اسرائیل اور دیگراتحادیوں کے ساتھ مل کر بھی ایک کمزور ایران سے جنگ جیت نہیں پایا اور نہتی غیر مسلح انسانی آبادی اور غیر فوجی مقامات کو مسلسل نشانہ بنایا۔ یہی تو فرق ہے حق وباطل کا۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیسے یورپی اور امریکی اتحاد ٹوٹ رہا ہے اور کیسےایک کمزور ایران مگر دولتِ ایمان سے سرفراز؛ کربلا کے جزبے سے شرسار، اور خیبر کی طاقت سے سرخرو پاسداران ایران غالب رہے ہیں؟ خلیج فارس اور بحر احمر میں وقت کے بدلتے دھارے کی نشاندہی ہوگئی ہے۔ اب دنیا کو نئی کروٹ کی ضرورت ہے؛ کون ہے جو مومن کی بصیرت کا حامل ہوکر اللہ تعالی کے نور سے فیض حاصل کرے گا؟ اور اسلام کی نشاطِ ثانیہ کا جھنڈا بلند کریگا۔ حق و باطل کے معرکے میں معاملہ حزب اللہ اور ابلیس کی ذریعت کے درمیان ہوگا؛ تو ہمیشہ مومن ہی غالب ہونگے۔یہ اللہ تعالی کی شریعت ہے جوکبھی نہیں بدلتی۔


0
226

3 Sites to Buy Verified Cashbit Accounts - Personal And Business

What About Verified Cashbit Accounts: Unlock Benefits Now What About Verified Cashbit A...

defaultuser.png
[email protected]
5 seconds ago

Buy How to Get Klarna Pricing Information: The Complete Expert Guide

Buy How to Get Klarna Pricing Information: The Complete Expert Guide Klarna has become on...

defaultuser.png
[email protected]
5 seconds ago

Buy How to Get WeChat Compliance Guide: The Complete Expert Handbook

Buy How to Get WeChat Compliance Guide: The Complete Expert Handbook WeChat has evolved f...

defaultuser.png
[email protected]
9 seconds ago

3 Sites to Buy Verified Cash App Investing Accounts - Personal And Bus...

What About Verified Cash App Investing Accounts: Benefits You Can’t Ignore What about v...

defaultuser.png
[email protected]
27 seconds ago

Buy How to Get Klarna Security Tips: The Ultimate Guide to Safe Shoppi...

Buy How to Get Klarna Security Tips: The Ultimate Guide to Safe Shopping and Payments Onl...

defaultuser.png
[email protected]
28 seconds ago