Muhammad Asif Raza 4 months ago
Muhammad Asif Raza #education

ماہِ صیام، محسنات و منکرات

Ramadan is the 9th month of Islamic calendar and occupies a holy status for the Muslims of the entire globe. Ramadan is the month in which the Holy Quran began to be revealed upon the Prophet Muhammad (PBUH) on a special night called Lailatul Qadr. It is month of "Rehmah" for fasting and attaining purification of soul and success in eternal life not only as in individual but as family and society. This write up in Urdu "ماہِ صیام، محسنات و منکرات " is a brief explanation in the same regards.

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


ماہِ صیام، محسنات و منکرات

دین اسلام میں قمری سال کو شمسی سال پر فوقیت دی گئی ہے اور اس لیے ہجری کیلنڈر رائج ہوا؛ اور سارے اسلامی شعار اور حرمت والے دنوں اور خوشیوں کو چاند کی تاریخوں سے جوڑ رکھا ہے۔ شعبان المعظم کے بعد عظیم الشان رمضان المبارک کا چاند طلوع ہوتا ہے اور یہ وہ مہینہ ہے جس کی بابت آقا کریم محمد ﷺ کی یہ حدیث نقل ہوئی ہے" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَب، وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ "؛ [ اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت ڈال، اور ہمیں رمضان نصیب فرما"]؛ اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی عمر میں اس قدر برکت ڈالے کہ ماہِ رمضان کو پاسکیں؛ اور اس کے فیوض و برکات سے مستفید ہوسکیں۔ رمضان المبارک کے مہینے کی بابت اللہ سبحان تعالی نے قرآن الکریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقوی یا پرہیزگاری اختیار کرو"۔ سورۃ البقرہ کی آیت 183

آئیے دیکھتے ہیں کہ تقوی کیا ہے اور پرہیزگاری سے کیا مراد ہے؟

تقویٰ ’’وقٰی‘‘ اور ’’وِقایۃ ‘‘ سے بنا ہے جسکا معنی ہے بچنا ،حفاظت کرنا ،پردہ کرنا اور خوف کرنا وغیرہ۔’’وقٰی ‘‘ اور’’وِقایۃ‘‘ کا معنی ہے کسی چیز کو ایذاء اور ضرر سے محفوظ رکھنا۔ چنانچہ’’تقویٰ ‘‘کا لغوی معنی ہے نفس کو اس چیز سے محفوظ رکھنا جس سے اسے ضرر کا خوف ہو۔ اوپر کی آیت میں تقویٰ کا مطلب اللہ کا خوف رکھنا یعنی بندہ اللہ کی پکڑ سے ڈرے اور منکرات سے بچے؛ یعنی اللہ تعالی کی چاہت اور محبت میں گناہوں سے بچے۔

پرہیزگاری فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں "معصیت سے اجتناب یا پارسائی اختیار کرنا"؛ اور ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ انسان کو ہر روز نئے سورج کے ساتھ دن گذارنا ہوتا ہے اور کچھ نہ کرنا اسلام کی تعلیمات میں سے نہیں؛ یعنی انسان ہر روز کچھ نا کچھ اعمال تو کرتا ہی ہے؛ سو ضروری ہے کہ وہ منکرات سے بچے اور محسنات کو رائج کرے۔ یہ ہوگا تقوی اور پرہیزگاری اختیار کرنا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کا پیغام ہے کہ مسلمان احکامات الٰہی پر عمل کرے اور محسنات پر عمل پیرا ہوکر دل و روح کو پاک رکھے اور جنت کے لیے زادِ راہ جمع کرے۔


اللہ سبحان تعالی اس عظیم الشان مہینے رمضان المبارک کے ذریعے اپنے روزہ داروں کو ایسی روحانی دلی کیفیت عطا کرتا ہے جو اسے اپنے رب عظیم کی نافرمانی سے روکتی اور نیک کاموں کی طرف راغب کرتی ہے؛ اور یہی رمضان المبارک میں دن کے روزے اور قیام الیل جیسی عبادات کا مقصد ہے اور اصل کامیابی جنت کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔ رمضان المبارک کا مہینہ اس لیے عطا کیا گیا کہ مسلمان اس مہینے کے ذریعے تقوی یعنی پاکیزگی کا حصول ممکن بنائیں اور اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہوں۔ ماہِ رمضان المبارک کے ذریعے مسلمان اپنی روح اور دل کو پاک کرتا ہے۔۔

بخشش پہ آتا ہے جب امت کے گناہوں کو

تحفے میں گناہ گاروں کو رمضان دیتا ہے

ماہِ رمضان کے محسنات

ذیل میں قرآن کے" سورۃ الشمس" کی دو آیات پیش ہیں جو واضح طور پر اشارہ کرتی ہیں کہ وہی انسان کامیابی حاصل کرے گا جو پاکیزگی کا مالک ہوگا اور جس کا نفس آلودہ ہوگا وہ برباد / ناکام ہوگا۔ اللہ سبحان تعالی نے ارشاد فرمایا ہے۔

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا) بیشک جس نے نفس کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا (9) وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ) اور بیشک جس نے اپنے نفس کو گناہوں میں چھپادیا وہ ناکام ہوگیا.(10)

ہمیں یہ بہت واضع طور پر ذہن نشین کرنا ہوگا کہ ماہِ رمضان کی رحمت کو سمیٹنا بہت اہم ہے؛ یہ محاورے کی زبان میں زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ حدیث قدسی ہے، رسول کریم محمد ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ؛ ’’ہلاک ہوگیا وہ شخص جس نے رمضان کو پایا اور اللہ کی عبادت کرکے خود کو جہنم سے آزاد ی کا مستحق نہ بناسکا"۔ چنانچہ کامیاب ہوگا وہ شخص جو اپنے رمضان المبارک کےایام کو روزے کے ساتھ گزارے، اور اپنی راتیں عبادت کے ساتھ گزارے، اور سارے مہینے کو پاکیزہ طور پر بسر کرے۔


اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کو دوسرے مہینوں سے افضل اور ممتاز کیا ہے۔ اور یہ اللہ تعالی کا احسان ہوتا ہے کہ مسلمان کو رمضان المبارک کا مہینہ عطاکرتا پے۔ یہ بھی اللہ تعالی کا احسان ہی ہے کہ اس نے ہمیں محسنات یعنی اچھے کاموں کی تفصیل بتادی ہے۔ سب عبادات میں افضل نماز قائم کرنا، روزہ رکھنا، قرآن پڑھنا و سمجھنا اور درود سلام بحضور پاک اقا محمد ﷺ پیش کرنا ہے۔

اللہ سبحان تعالیٰ نے سورۃ البقرہ کی آیت ۱۸۵ میں کس خوبصورتی سے رمضان المبارک اور قرآن کو جوڑا ہے کہ فرماتے ہیں:-۔

شَہۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلۡقُرۡءَانُ هُدً۬ى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَـٰتٍ۬ مِّنَ ٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡفُرۡقَانِ‌ۚ

رمضان کا وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا؛ جو لوگوں کے واسطے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔ سورۃ البقرہ 185

آقا کریم محمد ﷺ کا فرمان ہے کہ " جس آدمی نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کی حدود کا خیال رکھا اورجن امور سے بچنا چاہئے، ان سے بچ کر رہا، تو اس کا یہ عمل اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا"۔ (مسند احمد،۳۶۵۹)

آئیے آگے بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ روزہ دار مزید کیا محسنات برت سکتا ہے؟ مختصرا" جان لیتے ہیں۔۔۔

رسول الله محمدﷺ کا فرمان ہے کہ "روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے حق میں سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس بندے کو دن کے اوقات میں کھانے پینے اور شہوات سے روکے رکھا تھا، لہٰذا تو اب اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا؛ میں نے رات کے وقت اس کو سونے سے روکے رکھا تھا، لہٰذا اب تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، نتیجتاً دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی"۔ (مسنداحمد،۳۶۵۱)

رسول الله ﷺ نے فرمایا؛ "سحری کا کھانا باعث برکت ہے، اس لئے اس کو نہ چھوڑا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو. بیشک الله عزوجل اور اُس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر درود بھیجتے ہیں. (مسند احمد،۱۱۴۱۶)

رسول الله ﷺ نے فرمایا ہے کہ "اللہ تعالیٰ کا ارشادگرامی ہے: ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لیے ہیں مگر روزہ، وہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کابدلہ دوں گا۔ روزہ ایک ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کا روزے کا دن ہوتو وہ بری باتیں اور شوروغوغا نہ کرے۔ اگر اسے کوئی گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ اسے یہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے۔ روزہ دار کے لیے دو مسرتیں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے ایک تو روزہ کھولنے کے وقت خوش ہوتا ہے، دوسرے جب وہ اپنے مالک سے ملے گا تو روزے کا ثواب دیکھ کر خوش ہوگا". ( بخاری ۱۹۰۴)

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ ’’جس شخص نے شب قدر میں ایمان ویقین کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جائیں گے اسی طرح جس نے رمضان کا روزہ ایمان ویقین کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے رکھا اس کے بھی پہلے گناہ معاف کردیے جائیں گے"۔ ( بخاری ۱۹۰۱)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جو کوئی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے تو اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، اور روزہ دار کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہو گی"۔ (سنن ابن ماجہ،۱۷۴۶)

رسول الله محمدﷺ کا فرمان " جو شخص روزے کی حالت میں بھول جائے پھر کچھ کھالے یا پی لے، تو وہ اپنا روزہ پورا کرے (توڑے نہیں). کیونکہ اُس کو الله نے کھلایا اور پلایا ہے. ( بخاری ۱۹۰۳۳)

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ "نبی کریم ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ خیر کی سخاوت کرنے والے ہوتے تھے۔ اور سب سے زیادہ آپ کی سخاوت ماہ رمضان میں ہوتی تھی "۔ ( بخاری ۱۹۰۲)

آقا کریم محمدﷺ کا فرمان ہے کہ "جوشخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو وہ ضرور شادی کرلے کیونکہ یہ نگاہ نیچا کرتی ہے اور بدکاری سے بچاتی ہے اور جو شخص اس کی قدرت نہ رکھتا ہوتو وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ شہوت کوتوڑنے والا ہے"۔ ( بخاری ۱۹۰۵)

حضرت سیّدنا سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں) ہم نے (بارگاہِ رسالت مآب میں) عرض کیا‘ یارسول اللہ ہم میں سے ہر ایک کو روزہ اِفطار کرانے کا سامان میسر نہیں تو کیا غرباء اِس ثواب کوحاصل کر سکیں گے؟ رسولِ کریم نے اِرشاد فرمایا: اللہ (تعالیٰ) یہ ثواب اُس (غریب اِیمان والے) کو بھی عطا فرمائے گا جو دُودھ کے ایک گھونٹ سے، یا ایک کھجور سے یا صرف پانی ہی کے ایک گھونٹ سے روزہ دار کا روزہ اِفطار کرائے گا۔ (حضور نبی کریم نے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا) اور جو اِیمان والا کسی بندہ مومن کو اِفطار کے بعد خوب پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گا‘ اللہ تبارک اُسے میرے حوضِ کوثرسے پانی پلائے گا۔ اور اَیسا سیراب فرمائے گا کہ اُس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے۔ (بعد ازیں کریم آقا نے اِرشاد مبارک فرمایا) یہ وہ ماہِ مبارک ہے کہ جس کے اوّل حصّہ میں رَحمت ہے۔ درمیانی حصّہ میں مغفرت ہے اور آخری حصّہ میں آگ سے آزادی ہے اور جو صاحبِ اِیمان اِس مہینہ میں خادم یا ملازم کے کام یا اوقاتِ کار اور اوقاتِ مزدوری میں تخفیف کرے گا۔ اللہ اُسے بخش دے گا اور اُسے دوزخ کی آگ سے آزادی عطا فرمائے گا۔“ (مشکوٰة ‘ درمنثور، صحیح ابن خزیمہ، کنزالعمال، ‘ الترغیب والترہیب تفسیر مظہری، الجامع لشعب الایمان للبیہقی)

اللہ تعالی نے قرآن المجید اور اپنے حبیب، ہمارے آقا محمدﷺ کے ذریعے بڑی تفصیل سے محسنات کی تفصیل بیان کردی ہے اور قاری کسی بھی مستند ذریعے سے انکی تفصیل جان سکتا ہے۔ آئیے ذرا مختصرا" ایک جائزہ منکرات پر بھی ڈال لیتے ہیں۔

رسول الله محمدﷺ کا فرمان ہے کہ "اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آیا اور اس کی مغفرت ہوئے بغیر وہ مہینہ گزر گیا"۔ (سنن ترمذی۳۵۴۵)

آقا کریم محمدﷺ نے فرمایا ہے کہ " جو شخص (روزہ کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا (یعنی فریب، دھوکہ دینا)، اور جہالت کو (بیہودہ اعمال، باتیں) نہ چھوڑے تو الله کو کوئی حاجت نہیں کہ وہ شخص اپنا کھانا اور پینا چھوڑے"۔ ( بخاری ۱۹۰۳)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضورِ اکرم ﷺ سے پوچھا کہ ماہِ رمضان کے مہینے میں سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟

آپﷺ نے فرمایا " اس مہینے میں افضل ترین عمل اپنے آپ کو حرام کاموں سے بچانا ہے"۔

ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ قران اور حدیث پاکﷺ میں کیا کیا حرام قرار دیا گیا ہے؟ مثلا" سور کا گوشت؛ شراب یا کسی کو قتل کرنا وغیرہ وغیرہ؛ کیونکہ اس پر اکثر گفتگو ہوتی رہتی ہے؛ مگر بہت کچھ ایسا بھی ہے جو ہماری روزمرہ کا حصہ ہوتے ہیں اور ہم ان منکرات یا حرام کو جانتے ہی نہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے اس مثال پیش کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد پاکستان کی ایک معروف اسلامی محقق اور رہنماء تھے۔ انہوں نے اوائل عمری ہی سے قرآن کی تعلیم کو مقصد حیات بنا لیا تھا۔ وہ رمضان المبارک میں ایک جامعہ مسجد میں ہر رات نماز عشاء کی تراویح کے ساتھ درسِ قرآن دیا کرتے تھے۔ یہ واقعہ ایسے ایک دن پیش آیا جب رمضان کی شامیں تھیں، فضا میں روحانیت گھلی ہوئی تھی، مسجد کے صحن میں دسترخوان بچھ چکے تھے، کھجوریں، سموسے، پکوڑے اور شربت کے گلاس قطار میں رکھے تھے۔ مؤذن کی آواز سے پہلے سب کی نظریں آسمان پر جمی تھیں۔

اسی اثنا میں ایک بزرگ مسافر مسجد میں داخل ہوئے۔ سفید داڑھی، سادہ لباس، آنکھوں میں عجیب سی چمک۔ وہ خاموشی سے ایک ستون کے ساتھ بیٹھ گئے۔ کسی نے پوچھا، “بابا جی! آپ مسافر معلوم ہوتے ہیں؟”

وہ مسکرائے، “ہاں بیٹا، اللہ کا مسافر ہوں"۔

افطاری کا وقت ہوا تو ایک نوجوان نے ادب سے پلیٹ ان کے سامنے رکھ دی۔ بزرگ نے پلیٹ کو دیکھا، پھر آہستہ سے کہا؛

“بیٹا، یہ کھانا حرام ہے۔”

نوجوان چونک گیا، “حرام؟ بابا جی! یہ تو ہم نے حلال کمائی سے خریدا ہے۔”

بزرگ نے صرف اتنا کہا، “میں نہیں کھا سکتا۔”

بات پھیل گئی۔ کچھ لوگوں کو حیرت ہوئی، کچھ کو غصہ۔ ایک اور شخص فوراً اپنے گھر دوڑا اور خاص اہتمام سے کھانا لا کر پیش کیا۔ بزرگ نے اسے بھی دیکھا اور سر ہلا دیا؛

“یہ بھی ناجائز اور حرام ہے۔”

اب مسجد میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ کسی نے کہا، “یہ کون سا بزرگ ہے جو سب کو حرام کہہ رہا ہے؟”

کسی نے شک کیا، “شاید یہ ہمیں آزمانے آیا ہے۔”

آخرکار ڈاکٹر صاحب کے ایک قریبی ساتھی نے کہا، “چلو میرے گھر سے کھانا لے آتے ہیں، میں خود نگرانی کرتا ہوں کہ سب کچھ پاکیزہ ہو۔” وہ تازہ روٹی، دال اور سادہ سبزی لے آیا۔ بڑی عقیدت سے بزرگ کے سامنے رکھا۔

بزرگ نے گہری نظر سے اسے دیکھا، پھر فرمایا؛

“تیرا کھانا بھی حرام ہے۔”

اب صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا۔ کچھ نوجوانوں نے سخت لہجہ اختیار کیا؛

“بابا جی! آخر آپ سب کو گناہگار کیوں بنا رہے ہیں؟ اگر کوئی کمی ہے تو بتائیں!”۔

مغرب کی نماز ادا ہوئی، پھر عشاء کا وقت قریب آ گیا۔ مسجد میں ایک بے چینی سی پھیل گئی۔ سب چاہتے تھے کہ اس معمّے کا حل معلوم ہو۔

نمازِ عشاء کے بعد ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے خود بزرگ کے پاس جا کر نہایت نرمی سے پوچھا؛

“حضرت! آپ نے تینوں جگہوں کا کھانا حرام قرار دیا۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں شک نہ رہے۔”

بزرگ نے گہرا سانس لیا اور آہستہ آہستہ بولنا شروع کیا۔

“پہلی پلیٹ جو میرے سامنے رکھی گئی، اس کے منتظم نے پچھلے ہفتے ایک غریب مزدور کی اجرت روکی تھی۔ جب مزدور نے مطالبہ کیا تو اسے ڈانٹ کر بھگا دیا۔ اس کے دل کی آہ اس کھانے میں شامل ہے"۔

مجمع خاموش ہو گیا۔ متعلقہ شخص کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔

“دوسرا کھانا جس گھر سے آیا، اس کے مالک نے زکوٰۃ کا حساب کم بتایا۔ اس نے سمجھا کہ کوئی دیکھ نہیں رہا، مگر اللہ دیکھ رہا تھا"۔

وہ شخص بھی سر جھکا کر بیٹھ گیا۔

“اور تیسرے کھانے والے بھائی… تمہاری کمائی حلال ہے، مگر تم نے آج عصر کے بعد اپنے چھوٹے بھائی کو ماں کے سامنے ذلیل کیا، اس کا دل توڑا۔ جس رزق میں تکبر اور دل آزاری شامل ہو جائے، وہ روح کے لیے زہر بن جاتا ہے"۔

یہ سن کر مسجد میں ایسی خاموشی چھا گئی کہ جیسے سانسوں کی آواز بھی سنائی دے رہی ہو۔

بزرگ نے بات جاری رکھی؛

“بیٹو! کھانا صرف گوشت اور روٹی کا نام نہیں۔ رزق کے ساتھ نیت، کردار اور دوسروں کے حقوق بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر کسی کے آنسو، کسی کی بددعا یا کسی کا حق اس میں شامل ہو جائے تو وہ پیٹ تو بھر سکتا ہے، مگر دل کو نور نہیں دے سکتا"۔

ایک نوجوان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ کھڑا ہوا اور بولا؛

“میں نے واقعی مزدور کی اجرت روکی تھی۔ میں کل ہی اس کا حق ادا کروں گا۔”

دوسرا شخص بولا؛

“میں زکوٰۃ کا پورا حساب دوں گا اور توبہ کرتا ہوں۔”

تیسرے نے روتے ہوئے کہا؛

“میں اپنے بھائی سے معافی مانگوں گا۔”

بزرگ نے مسکرا کر کہا؛

“جب تک تم اپنے اعمال [گناہ والے] کی اصلاح نہیں کرو گے، میرا روزہ تمہارے کھانے سے نہیں کھلے گا۔ میں مسافر ہوں، میرے لیے سوکھی روٹی اور پانی کافی ہے، مگر تم اپنے دلوں کو صاف کرو"۔

ڈاکٹر صاحب نے مجمع کی طرف دیکھا اور فرمایا؛

“رمضان صرف بھوک کا نام نہیں، یہ محاسبۂ نفس کا مہینہ ہے۔ ہم سارا دن بھوکے رہتے ہیں مگر دوسروں کے حقوق بھول جاتے ہیں۔ اصل تقویٰ یہ ہے کہ ہمارا رزق بھی پاک ہو اور ہمارا رویہ بھی"۔


اُسی رات کئی لوگ اپنے گھروں کو لوٹے تو ان کے دل بدلے ہوئے تھے۔ کسی نے مزدور کو ڈھونڈ کر اس کی اجرت ادا کی، کسی نے زکوٰۃ کا بقایا حساب نکالا، کسی نے اپنے گھر والوں سے معافی مانگی۔

اگلے دن افطار سے پہلے وہی بزرگ دوبارہ مسجد میں آئے۔ اس بار وہی لوگ کھانا لے کر آئے، مگر ان کے چہرے ندامت اور عاجزی سے جھکے ہوئے تھے۔

بزرگ نے ایک لقمہ اٹھایا، آنکھیں بند کیں، اور فرمایا؛

“آج یہ کھانا حلال ہے، کیونکہ اس میں توبہ کی مٹھاس اور حق کی خوشبو شامل ہے۔”

مسجد میں سکون کی لہر دوڑ گئی۔ سب نے محسوس کیا کہ اصل پاکیزگی برتنوں کی نہیں، نیتوں کی ہوتی ہے۔

رمضان ختم ہوا تو لوگ اس واقعے کو یاد کر کے کہتے تھے؛

“ہم سمجھتے تھے حرام صرف گوشت کے ذبیحے میں ہوتا ہے، مگر معلوم ہوا کہ حرام دلوں کے رویوں میں بھی چھپ جاتا ہے۔”

کہانی کا پیغام یہ ہے کہ رزق کی حلت صرف ظاہری ذرائع سے نہیں بلکہ باطنی صفائی سے بھی جڑی ہے۔ اگر ہم کسی کا حق ماریں، کسی کو دکھ دیں، یا تکبر سے پیش آئیں تو ہماری عبادت کا ذائقہ کڑوا ہو جاتا ہے؛ مگر ہمیں خبر ہی نہیں ہوتی۔ ہم مسلمانوں کو یہ ہر وقت یاد رکھنا چاہیے کہ یہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے اور آقا محمد مصطفےٰﷺ کا فرمان ہے کہ " اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِرِ"؛ "دنیا مؤمن کیلئے قید خانہ اور کافر کیلئے جنّت ہے"۔(مسلم،۷۴۱۷)

آج کی دنیا کا مسلمان روزہ رکھتا ہے، مسجد میں نمازیں ادا کرتا ہے؛ مگر جس محلے اور معاشرے کا حصہ ہے وہ بےشمار خرابیوں کا حصہ ہے؛ اور سب سے بُرا آپس میں کدورت رکھنا ہے۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ رسول اللہ آقا محمدﷺ نے بعد از ہجرت مدینہ میں مواخات قائم کی تھی؛ اور فرمایا تھا کہ سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اور مسلم بھائی چارے پر مبنی معاشرہ قائم کیا تھا۔ کیا ہمارے لیے ایک مسلم بھائی چارے اور ایثار و قربانی کا معاشرہ بنانے کا حکم نہیں ہے؟

اختتامی کلمات

رمضان المبارک نفس کے تزکیہ کا مہینہ ہے اور ہمیں اس ماہ کی برکتوں اور رحمتوں سے اپنی روح کو پاک کرنا ہے؛ اور ایک سُچا انسان بننا ہے اور مومن کی معراج حاصل کرنا ہے۔ اور اس کا اظہار ایک توانا، خوشحال اور باہم شیر وشکر خاندان اور معاشرہ کی تعمیر کرنے سے ہوتا ہے۔ ایسا خاندان اور معاشرہ ایک مسلم امت کا بنیادی جوہر کہلاتا ہے۔ یہ خواب نہیں ایک تعبیر کا راستہ ہے جو رمضان المبارک کے محسنات کے حصول اور منکرات سے بچنے سے ہوتا ہے۔

ماہِ رمضان المبارک مسلمان کے لیے خوشخبری لے کر آتا ہے۔ حضور آقا کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ "بے شک ماہ رمضان کا نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ گناہوں کو جھلسا دیتا ہے۔‘‘ [کنز العمال، ح: 23688] تو ضروری ہے کہ ہم اس بابرکت مہینے کے طفیل اپنے دل سے بغض، کینہ، نفرت اور کدورت کو جلا دیں۔ دنیاوی کاموں کی انجام دہی کے دوران بد عملی وہ رکاوٹیں ہیں جو رمضان المبارک کی رحمت اور برکت کو چھین سکتی ہیں اس لیے ان سے احتیاط کرنی چاہیے۔ روزہ اللہ کے لیے ہے اس لیے روزے کا پورا مقصد خالق کو راضی کرنا ہے۔ اوراللہ تعالی کے دربار میں حقوق اللہ کی معافی تو ہے مگر حقوق العباد کی کوئی معافی نہیں۔

اے برادران اسلام؛ یہ اللہ سبحان تعالی کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایک بار پھر رمضان المبارک کا مقدس مہینہ عطا فرمایا ہے۔ یاد رہے کہ [ " قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ] وہ کامیاب ہوا جس نے اپنی روح کو پاک کیا" اور ماہِ رمضان تو ہے ہی رحمت کا مہینہ کہ ہمیں پاک کرے۔ اے پیغمبر اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکارو، آئیے اس مشن کو اپنائیں ۔

اللہ سبحان تعالیٰ ہمیں توفیق بخشے کہ ہم اسکی رضا کیلئے کامل یکسوئی اور ایمان و احتساب کے ساتھ روزے رکھیں۔ آنحضرتﷺ کا فرمان ہے کہ " ہوشیار اور عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور اپنا ہر عمل، آخرت کی نجات و کامیابی کو سامنے رکھتے ہوئے کرے؛ جبکہ وہ نادان اور بے وقوف ہے جو اپنے آپکو خواہشاتِ نفس کا تابع کردے اور بجائے احکام خداوندی کے اپنے نفس کے تقاضوں پر چلے اور پھر اللہ سے اُمیدیں باندھے"۔

اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین ثم آمین

0
153
10 Best Site To Buy Aged GitHub Accounts-with With ...

10 Best Site To Buy Aged GitHub Accounts-with With ...

1782860430.png
ashleighham
26 minutes ago
Step‑by‑Step Guide to Buy Old GitHub Accounts Fast

Step‑by‑Step Guide to Buy Old GitHub Accounts Fast

1782860430.png
ashleighham
27 minutes ago
Best 5 Places to Buy GitHub Accounts With Long-Term ...

Best 5 Places to Buy GitHub Accounts With Long-Term ...

1782860430.png
ashleighham
29 minutes ago
2026 Tips on How to Buy Old Github Account Top 7 ...

2026 Tips on How to Buy Old Github Account Top 7 ...

1782860430.png
ashleighham
31 minutes ago
The Ultimate Guide to- Buying- Old- Yahoo accounts

The Ultimate Guide to- Buying- Old- Yahoo accounts

1782860430.png
ashleighham
36 minutes ago