ماہِ مہر؛ پورنما کی رات میں اماوس کی گھڑی
This is the month of September and full moon is called "harvest moon" as well in the western hemisphere. The full moon has been a subject of various discussions and people have drawn their own logic and reasonings for the magic casted by full moon. This write up in Urdu "ماہِ مہر؛ پورنما کی رات میں اماوس کی گھڑی" is an opinion on the harvest moon and is based upon the verses of a 'gazal' from poet Nabeel Ahmad Nabeel.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
ماہِ مہر؛ پورنما کی رات میں اماوس کی گھڑی
(نبیل احمد نبیل کی ایک غزل کے آئینے میں ایک تحریر)
ماہِ مہر (ماہِ ستمبر) کی چودھویں رات کا چاند جب آسمان پر نمودار ہوتا ہے، تو کائنات کا تو پتہ نہیں مگر اس خطہِ زمین پہ جہاں کہیں بھی انسان خود موجود ہوتا ہے؛ تو اس علاقے اور خود اس پر ایک عجیب سی سحر انگیزی طاری ہو جاتی ہے۔ چاند کا یہ جادو کیا ہے؛ اس پہ متعدد مفروضے اور کہانیاں بیان کی جاتی ہیں ؟ مگر ایک بات پہ زیادہ تر متفق ہیں کہ جادو اس کی پھیلائی ہوئی چاندنی میں ہوتا ہے۔ چاندنی کی یہ نرم اور یکساں روشنی جہاں باہر کی دنیا کو منور کرتی ہے، وہاں انسان کے اندر چھپے تضادات, تنہائی اور دشت کی وحشت کو بھی بیدار کر دیتی ہے۔ لیکن ایسا خطہِ زمین کے ہر مقام پہ محسوس نہیں ہوتا؛ خاص طور پہ جدید شہروں میں، جہاں مصنوعی روشنیاں اور شور فطرت کے اس ابدی جادو کو گہنا دیتے ہیں۔ آج کی مادی دنیا میں یہ احساس یا تو سمندر کے کنارے یا وہ جو اس کی سطح پہ لہروں کے سنگ محو خرام ہوں، یا صحرا کی لامتناہی وسعت میں، یا پھر دور افتادہ پہاڑوں کی اوٹ میں بیدار ہوتا محسوس ہوگا۔
ایسے ہی کسی پرسکون مقام پر، جب باہر پورنما کا جلال ہو اور اندر تنہائی کی اماوس ہو، تب نبیل احمد نبیل کی ایک غزل کے اشعار دل کے نہاں خانوں سے ٹکراتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے چاند کی یہ پورنما باہر نہیں، بلکہ انسان کی اپنی ذات کے اندر پھیلے صحرا جیسی وسعت اور خاموشی پر اتری ہو۔ اپنے ماہِ مہر، دل کے چین اور زندگی کے چاند کو مخاطب کرتے ہوئے جب یہ غزل پڑھی جائے، تو اس کا ایک ایک لفظ کہیں انسان کی اپنے اندر اترتا محسوس ہوتا ہے۔
نبیل احمد نبیل کی یہ غزل انسانی نفسیات، سماجی بیگانگی اور عشق کی سلطنت کا ایک بے مثال آئینہ ہے۔ آئیے اس ماہِ مہر والی پورنما کی رات اور تنہائی کے پس منظر میں اس غزل کے اشعار کی گہرائی کا جائزہ لیتے ہیں۔
۱۔ پیاس کا حسن اور سیرابی کا دکھ
پیاس کی سوندھی مہک صحراء کی ویرانی میں رکھ
اور سیرابی کا دکھ بہتے ہوئے پانی میں رکھ
غزل کا یہ مطلع تضادات کی جمالیات کا عکاس ہے۔ دور افتادہ صحرا یا پہاڑ پر کھڑے ہو کر جب انسان چاند کو دیکھتا ہے، تو ایک عجیب سی پیاس اور تڑپ کا احساس ہوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اصل خوبصورتی منزل کو پا لینے میں نہیں، بلکہ اس کی جستجو (پیاس) میں ہے۔ صحرا کی ویرانی میں پیاس کی ایک سوندھی مہک ہوتی ہے جو انسان کو متحرک رکھتی ہے۔ دوسری طرف، جب انسان سب کچھ پا لیتا ہے (سیراب ہو جاتا ہے)، تو وہ ایک جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ بہتے ہوئے پانی کا دکھ یہی ہے کہ وہ منزل کی طرف رواں تو ہے، مگر پا لینے کے بعد کی بے مانیت سے خوفزدہ ہے۔ یہ سبق دنیاوی زندگی کی بے ثباتی کی علامت ہے۔۔۔ اس دنیامیں کچھ بھی حاصل کرلیں؛ رہیں گے پیاسے ہی؛ کیونکہ اصل کامیابی اگلی زندگی کی منزل ہے۔
۲۔ عشق کی سلطنت اور خودسری کا سرِ تسلیم
دیکھ کیسےسلطنت کی رونقیں بڑھ جائینگی
مجھ سااک خودسربھی تواپنی سلطانی میں رکھ
عشق کی سلطنت دنیا کی مادی سلطنتوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ دنیاوی حاکم غلاموں پر راج کرتے ہیں، لیکن "زندگی کا چاند" جب دل کے تخت پر بیٹھتا ہے، تو وہ غلاموں کو نہیں بلکہ "خودسروں" اور باغیوں کو اپنا اسیر بناتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ وہ جو عام دنیا کے سامنے کبھی نہیں جھکتا، جو اپنی خودسری میں لاثانی ہے، اگر اسے اس عشق کی سلطنت کا حصہ بنا لیا جائے تو اس دربار کی رونقیں دوبالا ہو جائیں گی۔ ایک خودسر کا سرِ تسلیم خم ہونا ہی عشق کی سب سے بڑی فتح ہے۔
یہاں حکیم الامت علامہ اقبال کا ایک شعر بہت معنی خیز معلوم ہوتا ہے جو خودسری اور بندگی کے اس پراسرار تعلق کو کائناتی سطح پر آشکار کرتا ہے:-۔
میں دھڑکتا ہوں دلِ یزدان میں کانٹے کی طرح
تو فقط اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو!۔
اقبال کا یہ شعر بتاتا ہے کہ حقیقی حاکم کے دربار میں اندھی اطاعت یا بے حس تسلیم سے زیادہ اس 'خودسر' اور زندہ دل کی اہمیت ہے جو اپنی انفرادیت اور تڑپ برقرار رکھتا ہے۔ خدا کی سلطنت میں بھی وہ بندہ زیادہ رونق کا باعث بنتا ہے جس کی انا میں ایک تڑپ ہو، جو دلِ یزدان میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہے، نہ کہ وہ جو صوفی کی طرح صرف مشینی ذکر میں گم ہو کر اپنی شناخت کھو دے۔ نبیل احمد نبیل بھی اسی خودسری کو عشق کی سلطانی کا زیور بنانے کا تقاضا کر رہے ہیں۔
۳۔ اندھا کنواں اور روشنی کی ابدی جستجو
قیدکرمجھکوکسی اندھےکنویں میں اور پھر
روشنی کی جستجومیری تن آسانی میں رکھ
یہ شعر پورنما کی چاندنی رات میں ایک گہرا تضاد پیدا کرتا ہے۔ جہاں باہر چاروں طرف چاند کی دودھیا روشنی پھیلی ہے، وہاں شاعر محبوب سے اپنے لیے ایک "اندھے کنویں" (عشق کے حصار یا ہجر کی تنہائی) کی قید مانگ رہا ہے۔ لیکن یہ قید کوئی سزا نہیں ہے؛ یہ وہ تن آسانی اور سکون ہے جس کے اندر "روشنی کی جستجو" یعنی امید کی ایک کرن ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ محبوب کی محبت کی اس قید میں رہ کر ہی انسان حقیقی اندرونی روشنی پا سکتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں باہر پورنما ہوتی ہے اور اندر اماوس کی گھڑی کا سکوت۔
ذات کا کنواں اور روح کی قید:۔
اگر صوفیانہ نقطہِ نظر سے دیکھا جائے تو انسان خود بھی ایک کنویں کا قیدی ہے۔ یہ کنواں اس کا مٹی کا بت ہے جس میں اس کی روح قید ہے۔ روح سماوی (آسمانی) ہے اور جسم ارضی (مٹی کا) ہے؛ چنانچہ روح ہمیشہ اپنے اصل یعنی نورِ خداوندی کی طرف لوٹنا چاہتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مادی قید میں رہتے ہوئے انسان خدا کے نور کی جستجو کو خود اپنی جان میں آسانی سے کیسے تلاش کر سکتا ہے؟
اس کا جواب شعر کے دوسرے مصرعے کی جادوئی ترکیب "تن آسانی میں رکھ" میں پوشیدہ ہے۔ صوفیاء کہتے ہیں کہ جب انسان مٹی کے بت (جسم) کی قید کو اپنی تقدیر سمجھ کر اس میں "سکون" پا لیتا ہے (یعنی وہ مادی قید سے لڑنے کے بجائے اس کے اندر ہی گوشہ نشین ہو جاتا ہے)، تو اس کا باطن پرسکون ہو جاتا ہے۔ جب باہر کی دنیا کا شور اور حواسِ خمسہ کی دوڑ مٹ جاتی ہے، تو اسی مٹی کے کنویں کے اندر باطن کا چشمہ پھوٹتا ہے۔
جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کو بھائیوں نے اندھے کنویں میں پھینکا، تو بظاہر وہ ایک قید اور تاریکی تھی، مگر اسی کنویں کی تنہائی میں ان پر وحی الٰہی نازل ہوئی اور وہیں سے ان کی نبوت کے نور کا سفر شروع ہوا۔ سچا انسان جب اپنی مادی قید (تن) کو تسلیم کر کے خاموشی اور تسلیم کی حالت میں آ جاتا ہے، تو اس کے اندر کی تڑپ اور پیاس ہی اس کے لیے نورِ الٰہی کا راستہ بن جاتی ہے۔ پس، یہ جستجو باہر بھاگنے سے نہیں، بلکہ اسی مٹی کے کنویں کے اندر غوطہ زن ہونے سے "آسانی" کے ساتھ روح کو مل جاتی ہے، کیونکہ خدا انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔
۴۔ یکسانیت کا عذاب اور بے ترتیب لمحے کی جستجو
ایک جیسے روزوشب کی دھول ہے اعصاب پر
کوئی بےترتیب لمحہ میری یکسانی میں رکھ
جدید شہروں کی مشینی زندگی نے انسان پر ایک ایسی یکسانیت طاری کر دی ہے جو اعصاب پر دھول کی طرح جم جاتی ہے۔ روز و شب کا ایک ہی دائرے میں گھومنا روح کو تھکا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان سمندروں اور پہاڑوں کا رخ کرتا ہے۔ شاعر اس یکسانیت سے پناہ مانگتے ہوئے کسی "بے ترتیب لمحے" یعنی محبوب کی طرف سے اچانک ملنے والی کسی توجہ, کسی غیر متوقع ملاقات یا کسی جذباتی ہلچل کا تقاضا کرتا ہے، جو زندگی کے اس جمود کو توڑ سکے۔
یہاں حکیم الامت علامہ اقبال کا ایک شہرہ آفاق شعر جدید انسان کو جمود کے اس عذاب سے نکلنے کا ایک اور گہرا سبق دیتا ہے:-۔
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
اقبال کا یہ شعر نبیل احمد نبیل کے "بے ترتیب لمحے" کی فلسفیانہ اور عملی تشریح ہے۔ اقبال کے نزدیک جو سمندر پرسکون ہے، جس کی موجوں میں کوئی اضطراب، کوئی تڑپ یا بے ترتیبی نہیں ہے، وہ دراصل ایک مردہ تالاب کی مانند ہے۔ زندگی کی یکسانیت انسان کے اندر کے سمندر کو سُلا دیتی ہے۔ اس حالت میں اقبال انسان کے لیے کسی "طوفان" کی دعا کرتے ہیں—ایک ایسا طوفان، کوئی ایسا حادثہ، یا کوئی ایسا انقلابی جذبہ جو اعصاب پر جمی روز و شب کی دھول کو اڑا کر رکھ دے اور انسان کو دوبارہ زندگی کی تپش اور متحرک حقیقت سے روشناس کرائے۔ پس، بے ترتیب لمحہ یا طوفان کا آنا زندگی کی علامت ہے، جو انسان کو مشینی وجود بننے سے بچاتا ہے۔
آج کی ڈیجیٹل اور مشینی دنیا میں، وہ طوفان جو انسان کو اس مشینی یکسانیت سے نجات دلا سکے، کوئی مادی یا جسمانی حادثہ نہیں، بلکہ ایک باطنی، ذہنی اور جذباتی انقلاب ہے۔ جدید انسان اب کسی جغرافیائی قید میں نہیں، بلکہ اپنے ہی بنائے ہوئے "مصنوعی ماحول" (سوشل میڈیا، اسکرینز، اور لامتناہی معلومات کے سیلاب) کا قیدی بن چکا ہے۔
اگر ہم گہرائی سے دیکھیں، تو آج کی دنیا میں وہ طوفان درج ذیل صورتوں میں آ سکتا ہے:-
۱۔ "ذات کا سامنا"
آج کا سب سے بڑا طوفان یہ ہے کہ انسان کو کچھ دیر کے لیے اس مشینی دنیا سے الگ کر کے تنہائی میں بٹھا دیا جائے۔ جب انسان اسکرینز اور دنیا کے شور سے کٹ کر اکیلا بیٹھتا ہے، تو اس کے اندر ایک طوفان اٹھتا ہے—اپنی حقیقت کو جاننے کا طوفان۔ وہ سوالات جو اس نے مادی مصروفیت کے پیچھے چھپا رکھے تھے (جیسے: میں کون ہوں؟ میری روح کی پیاس کیا ہے؟)، وہ سب ایک طوفان بن کر اس کے اعصاب پر جمی دھول کو اڑا دیتے ہیں۔
۲۔ عشق اور شدید جذباتی صدمہ
محبت یا کسی مخلص رشتے کا انسان کی زندگی میں اچانک داخل ہونا کسی طوفان سے کم نہیں ہوتا۔ یہ مروجہ اصولوں اور روز و شب کی بوریت کو یکسر بدل دیتا ہے۔ اسی طرح، زندگی میں ملنے والا کوئی گہرا جذباتی صدمہ، کسی پیارے کی جدائی، یا ناکامی کا خوف بھی وہ طوفان ہے جو انسان کے پرسکون سمندر (بحر) میں وہ اضطراب پیدا کرتا ہے جو اسے دوبارہ ایک حساس اور زندہ انسان بنا دیتا ہے۔۔
۳۔ سچی تخلیق اور آرٹ کا لمس
جب انسان کسی شاہکار کتاب، گہری شاعری (جیسے غالب، اقبال یا فیض کا کلام) یا فطرت کے جلال (جیسے سمندر یا صحرا کا سکوت) سے ٹکراتا ہے، تو اس کے اندر کا تخلیقی انسان جاگ اٹھتا ہے۔ یہ آرٹ اور سچی فکر کا طوفان انسان کو اس کے بنے بنائے مشینی سانچے سے باہر نکال پھینکتا ہے۔۔
۴ ۔ مادہ پرستی کے خلاف بغاوت
آج کی دنیا کا سب سے بڑا طوفان انسان کا اپنے مادی فائدے، نوکری، اور بینک بیلنس کی دوڑ سے تھک کر اچانک "ناں" کہہ دینا ہے۔ جب انسان یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اب بھیڑ کا حصہ نہیں بنے گا اور اپنی روح کا سودا نہیں کرے گا، تو یہ انکار اس کی زندگی میں ایک ایسا طوفان لاتا ہے جو اس کی یکسانیت کو ایک سچی اور پرسکون زندگی میں بدل دیتا ہے۔
جیسے اقبال نے فرمایا تھا، یہ طوفان دراصل انسان کے باطن کی وہ "تڑپ" اور "بے چینی" ہے جو اسے ایک جگہ جمنے نہیں دیتی اور اسے مشین بننے سے بچاتی ہے۔
۵۔ بھیڑ کا خوف اور حیرت کی حفاظت
بھیڑمیں کھونےکاخدشہ بڑھ رہاہے مستقل
حیرت کوبہت ہی سخت نگرانی میں رکھ
شہری زندگی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے موجودہ دور نے انسان کو ایک ایسے عالمی ہجوم (گلوبل کراوڈ) میں دھکیل دیا ہے جہاں ہر شخص دوسرے جیسا بننے کی دوڑ میں مصروف ہے۔ اس لامتناہی بھیڑ میں انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی انفرادیت اور پہچان کھوتا جا رہا ہے۔ اس مادی اور ڈیجیٹل ہجوم میں سب سے پہلے انسان کی "حیرت" مرتی ہے—وہ معصوم حیرت جو تخلیق، محبت اور کائنات کو محسوس کرنے کی بنیاد ہے۔
آج کی دنیا کا طوفان اور حیرت کی بیداری:۔
پچھلے شعر میں علامہ اقبال نے جس "طوفان" سے آشنا ہونے کی دعا کی تھی، آج کی مشینی دنیا میں وہ طوفان کوئی مادی حادثہ نہیں، بلکہ ایک باطنی، ذہنی اور جذباتی انقلاب ہے۔
آج کی دنیا میں وہ طوفان دراصل:۔
اسکرینز اور مصنوعیت کے اس لامتناہی شور سے کٹ کر "ذات کا سامنا" کرنا ہے۔مادہ پرستی کی اس اندھی دوڑ کے خلاف دل کے اندر اٹھنے والی وہ "بغاوت" ہے جو انسان کو ہجوم کا حصہ بننے سے روکتی ہے۔
وہ شدید "جذباتی تڑپ یا عشق کا صدمہ" ہے؛ جو اعصاب پر جمی روز و شب کی دھول کو ایک جھٹکے سے اڑا دیتا ہے۔
جب تک انسان کے اندر یہ باطنی طوفان برپا نہیں ہوتا، وہ مادی دنیا کی اس بھیڑ میں اپنی روح کا سودا کر بیٹھتا ہے۔ شاعر کو اسی بات کا مستقل خوف ہے، اس لیے وہ اپنے "ماہِ مہر" (محبوبِ حقیقی یا باطنی شعور) سے دعا کرتا ہے کہ اس ہجوم کے اثرات سے میری "حیرت" کو بچا کر رکھا جائے۔ یہ طوفان ہی دراصل وہ سخت نگران ہے جو انسان کے اندر کی معصومیت اور حیرت کو زندہ رکھتا ہے، تاکہ وہ بھیڑ میں گم ہو کر ایک بے حس مشین نہ بن جائے بلکہ اس کا باطنی سحر قائم رہے۔
۶۔ دشت کی وحشت اور چاک دامانی کا بلاوا
کیا خبر کب دشت کی وحشت پکارے پھر نبیل
چاک دامانی کی مہلت خوش گریبانی میں رکھ
مضمون کا اختتام اس خوبصورت اور فکر انگیز مقطع پر ہوتا ہے۔ ستمبر کی یہ چاندنی رات جتنی پرسکون دکھائی دیتی ہے، اس کے پیچھے دشت کی وہ ابدی وحشت چھپی ہے جو شہروں سے دور سمندروں اور صحراؤں میں محسوس ہوتی ہے۔ انسان بظاہر معاشرے کے اصولوں، مادی کامیابیوں اور عارضی سکون کے مطابق "خوش گریبانی" (ایک مہذب، آسائشوں سے بھرپور اور لائقِ تحسین زندگی) گزار رہا ہوتا ہے۔
آسائشوں کا جمود اور آزمائش کا امتحان:۔
لیکن جب زندگی حد سے زیادہ خوبصورت، پرسکون اور مادی اشیاء کی فراوانی سے بھر جاتی ہے، تو روح کے مرجانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انسان کا اصل امتحان اسی وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی مشکل پڑ جاتی ہے، کوئی کٹھن موڑ آتا ہے یا باطن کا دشت اسے پکارتا ہے۔ شاعر یہاں اسی "مشکل" اور آزمائش کو آواز دے رہا ہے؛ وہ خبردار کرتا ہے کہ اس عارضی اور پرآسائش سکون پر بھروسہ نہ کرو۔ اپنی اس مہذب اور بظاہر مکمل زندگی میں تھوڑی سی گنجائش، تھوڑی سی مہلت اس جنون (چاک دامانی) کے لیے بھی رکھو جو تمہیں تمہاری اصل ذات، تمہاری سچی تڑپ اور خدا سے جوڑتا ہے۔
اس پرآسائش تنہائی اور دشت کے بلاوے کی خوبصورت عکاسی علامہ فیض احمد فیض نے اپنے اس لافانی شعر میں کچھ یوں دکھائی ہے، جو اس دم انسان کے باطن کی کیفیت کا احاطہ کرتی ہے:۔
دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں، لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے، تیرے ہونٹوں کے سراب
جب انسان تمام مادی آسائشوں کے باوجود اپنی ذات کے دشت میں اکیلا کھڑا ہوتا ہے، تو مادی دنیا کے سارے سہارے عارضی اور سراب معلوم ہونے لگتے ہیں۔ اس وقت اسے خوش گریبانی کے ملمع سے نکل کر اپنے باطن کی پاکیزہ روشنی اور یادِ محبوب کے سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ نبیل احمد نبیل بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ زندگی کی اصل خوبصورتی اور بقا اس مشکل کو قبول کرنے، اس دشت کی وحشت کا سامنا کرنے اور خود کو مادی دنیا کے قید خانے سے آزاد کر کے سچی روح کے ساتھ جینے میں ہے۔
حاصلِ کلام
میرے معزز قارئین؛ یہ زندگی فطرت کے حسین نظاروں سے پُر ہے اور کاروانِ حیات میں دن رات کا یہ سفر اپنے تمام تر تضادات کے ساتھ ہمیں ہمہ وقت مصروف رکھتا ہے۔ یہ تحریر اور عنوان "ماہِ مہر؛ پورنما کی رات میں اماوس کی گھڑی" ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی اور محبت صرف بیرونی روشنی، مادی آسائشوں یا ظاہری سکون کا نام نہیں ہیں۔ یہ تو دراصل تضادات کا وہ سنگم ہے جہاں باہر چاندنی کا سیلاب ہو تب بھی انسان کے اندر ہجر، بیگانگی اور تنہائی کا اندھیرا (اماوس) ہو سکتا ہے۔ اس تاریکی سے نجات صرف اس سچے انسان کو ملتی ہے جس کے اندر ایک متبرک و مقدس روح بسی ہو؛ وہ روح جو زندگی کے ظلمات، مشینی یکسانیت اور تنہائی کے اندھیروں میں بھی حقیقی روشنی کی جستجو ترک نہیں کرتی۔
نبیل احمد نبیل کی غزل میں جہاں دشت کا، صحرا کا اور اندھے کنویں کا ذکر ملتا ہے، وہاں ہم پر یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ ویسی ہی ایک مبہم وحشت اور گم ہو جانے کا خوف انسان کو جدید دنیا کے مادی و ڈیجیٹل سیلاب میں، یا پھر سمندروں کی وسعت اور پہاڑوں کی بلندی پر بھی اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ یہ وہ نازک موڑ ہے جہاں انسان کو مٹی کے بت (تن) کی آسائشوں سے نکل کر باطن کی پاکیزہ روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی کے اکثر مقامات پر، جب مادی دنیا انسان کو ایک معمولی تنکے کی طرح بہا لے جانے لگے، تو ظلمات کی پھیلائی اس وحشت اور عارضی خوش گریبانی کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے انسان کو اپنے باطنی سحر اور اس 'طوفان' کو پکارنا پڑتا ہے جو روح کو بیدار رکھتا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو چودھویں کے چاند تلے زندگی کے اس دشت کو ایک ابدی، لافانی اور مقدس حسن عطا کرتا ہے۔