ماں بولی کی کڑک

Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Fiction is defined as any creative literary or narrative work that portrays imaginary characters, settings, and events. This story "ماں بولی کی کڑک (ایک دیسی مٹیالے کپ کی کہانی)" argues that while humanity has long weaponized arbitrary hierarchies—such as artificial linguistic battles that judge minds by their dialects—the emergence of instant AI translation is quietly dismantling these divisions. Ultimately, "ماں بولی کی کڑک (ایک دیسی مٹیالے کپ کی کہانی)" frames the history of the Blue Planet not as a collection of isolated cultures, but as a singular, unfolding story of mankind striving for shared empathy, resilience, and unyielding truth in the face of the storm. This has been arranged for educational infotainment purposes.

Nov 07, 2026 - Muhammad Asif Raza

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


ماں بولی کی کڑک

(ایک دیسی مٹیالے کپ کی کہانی)


مادری زبان کی اہمیت پر ہونے والی پُروقار انٹرنیشنل کانفرنس ابھی ابھی ختم ہوئی تھی۔ ہال سے باہر نکلتے ہی سرد ہوا کے ایک جھونکے نے چاروں دوستوں کا استقبال کیا۔ ہائی فائی آڈیٹوریم کی مصنوعی روشنی، انگریزی زدہ فلسفیانہ تقریروں اور اصطلاحات کی بھرمار سے تھکے ہوئے یہ چاروں دوست اب ایک ایسی جگہ کی تلاش میں تھے جہاں وہ اپنی جڑوں سے جڑ کر اس سنجیدہ موضوع پر کھل کر گفتگو کر سکیں۔ ان کی سوچ کی پرواز اور مادری زبانیں الگ تھیں، مگر دوستی کا دھاگا ایک تھا۔

قریب ہی سڑک کے کنارے ایک روایتی دیسی ہوٹل تھا، جہاں تندور سے سرخ چنگاریاں اور گرم دھواں اٹھ رہا تھا اور پیتل کے بڑے سے قدیم سماوار میں کڑک چائے ابل رہی تھی۔ ہوٹل کے پرانے اسپیکر پر دھیمی آواز میں بابا فرید کا صوفیانہ کلام گونج رہا تھا جو رات کی خنکی میں ایک سحر انگیز دیسی رنگ گھول رہا تھا۔ چاروں نے ایک کھلے چھپر تلے لکڑی کے بنچوں پر ڈیرہ جما لیا، جہاں کوئلوں کی آنچ ماحول کو گرما رہی تھی۔

میز کے گرد بیٹھنے والے ان چاروں دوستوں کا تعارف کچھ یوں تھا:۔۔۔


•ثاقب: اردو بولنے والا، نفیس کوٹ پینٹ میں ملبوس، عینک لگائے ہوئے، پڑھے لکھے شہری طبقے اور کتابی نفاست کا نمائندہ۔

•جگجيت: پنجابی، گہرے نیلے رنگ کی پگڑی، کُرتا اور واسکٹ پہنے، دلیری اور زندہ دلی کا استعارہ جس کی رگوں میں پنجاب کی مٹی کا لوک ورثہ دوڑتا تھا۔

•اکبر خان: پشتون، غیور اور سنجیدہ، چترالی ٹوپی اور روایتی اونی پٹو میں ملبوس، جس کا چہرہ کوہستان کا عکس اور گفتگو پختہ تھی۔

•ڈینیل: بیرونِ ملک مقیم پاکستانی (اوور سیز)، جدید مغربی لباس میں ملبوس جو انگریزی روانی سے بولتا تھا مگر اپنی جڑوں کی تلاش میں پاکستان آیا تھا اور اب ٹوٹی پھوٹی لیکن خلوص سے بھرپور اردو بول لیتا تھا۔


ابلاغ کا تضاد اور لسانی تعصب


ثاقب نے ہاتھ کے اشارے سے ہوٹل کے چست اور پھرتیلے چھوٹے کو پکارا، "یار لالا! ذرا چار کپ الائچی والی کڑک چائے لانا، ذرا پتی تیز رکھنا۔" اس نے اپنے کوٹ کے کالر سیدھے کرتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا اور بڑے پڑھے لکھے اور نپے تلے انداز میں گفتگو کا آغاز کیا:۔۔۔


"یار، سچی بات بتاؤں؟ کانفرنس میں مکالمے تو بڑے بلند بانگ ہوئے، 'مدر ٹونگ' پر ریسرچ پیپرز بھی پڑھے گئے، لیکن مجھے اس سارے ماحول میں وہ 'کڑک' نظر نہیں آئی جو مادری زبان کا اصل خاصہ ہے۔ وہاں بھی لوگ مادری زبان کی اہمیت پر انگریزی کے رٹے رٹائے جملوں اور مصلحت پسندی کے خول میں بند نظر آئے۔ یہ تضاد روح کو کھٹکتا ہے۔ زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں، یہ تہذیب کا لباس ہے اور جب لباس ہی مستعار مانگا ہوا ہو، تو شخصیت کی اصالت گم ہو جاتی ہے۔

آج اسٹیج پر پہلے مقرر جو نوآبادیاتی تاریخ پر بول رہے تھے، انہوں نے کتنی پتے کی بات کہی کہ ہم یہاں پاکستان میں پنجابی کو 'کھردری'، اردو کو 'شائستہ' اور انگریزی کو 'سمارٹنس' کی حتمی مہر کہتے ہیں، حالانکہ یہ درجہ بندی لسانی نہیں، تاریخی اور سیاسی طاقت کا کھیل ہے۔ لیکن افسوس، انہوں نے یہ پورا ریسرچ پیپر انگریزی کے ایسے بھاری لفظوں میں لپیٹ کر پڑھا کہ سارا اثر ہی ختم ہو گیا"۔۔۔


جگجيت نے ہنستے ہوئے لکڑی کی کچی میز پر ہاتھ مارا اور بولا:۔۔

"اوئے ثاقب یار! توں تے پنجابی دتی کڑک چائے وچ وی اردو دی چاشنی گھول دتی اے۔ پر تیری گل سو آنے سچی اے۔ مادری زبان تو وہ ہے جو دل سے نکلے اور روح کو چھو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لفظ صرف ایک زبان کا نام نہیں، بلکہ ہماری ثقافتی جڑوں، روایتی چائے کی محبت اور مادری زبان کی مٹھاس کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ جب ہم دیسی ماحول یا پنجاب کے کلچر کی بات کرتے ہیں، تو یہ وہ خاص لہجہ اور اثر ہے جو سیدھا دل پر وار کرتا ہے۔ پینل میں صوفیانہ شاعری کا ذکر ہو رہا تھا، مگر جب تک بلھے شاہ کے لفظ اپنی ماں بولی میں نہ سنے جائیں، دل پر چوٹ نہیں لگتی۔ لیکن افسوس، ہم روزمرہ زندگی میں ایک انجانے احساسِ کمتری کا شکار ہو کر اپنی ہی زبان کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ جیہڑا اپنی ماں بولی نوں بھل جاندا اے، اوہ اونا ہی کچا رہ جاندا اے جیویں بغیر پتی دے ابلیا ہویا پانی!۔۔


تم نے کانفرنس کے اس دوسرے سیشن کے اس ماہرِ لسانیات کو سنا؟ اس نے اسٹیج سے بالکل واضح کیا کہ علمِ لسان کے مطابق ہر زبان ایک مکمل، پیچیدہ اور باقاعدہ قاعدے سے جڑا نظام ہوتی ہے۔ یہ جو ہمارے معاشرے میں کہا جاتا ہے ناں کہ کوئی زبان ان پڑھ کی ہے یا گنوار کی، وہ دراصل زبان کی خامی نہیں، بلکہ اس زبان کو بولنے والے طبقے کے ساتھ ہمارے سماجی تعصب کا اظہار ہوتا ہے۔ مگر پینل ڈسکشن کے آخری حصے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر بات کرتے ہوئے ایک نوجوان اسکالر نے کمال نکتہ اٹھایا کہ اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے اس لسانی برتری کا مسئلہ ہی مکا دیا ہے۔ جب مشین سیکنڈوں میں ایک زبان کا دوسری میں ترجمہ کر دیتی ہے، تو زبان کے بل پر بنائی گئی جھوٹی چوہدراہٹ خود ہی ڈھیر ہو جاتی ہے"۔

اس پہ ثاقب نے کہا کہ "یہاں ضروری ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ سرزمینِ ہند و پاک پہ انگریز نے جاتے جاتے اپنی زبان کا جو طوق ہماری اشرافیہ کو پہنایا تھا اور جسے ہمارے حکمرانوں نے بخوشی پہن رکھا ہے، اب اس کا کوئی جواز نہیں رہا۔ جب بھی کسی نے پوچھا تو انہوں نے یہی دلیل دی کہ انگریزی لازمی ہے کیونکہ سارا جدید علم تو انگریزی میں ہے، اور اس بہانے اپنی چوہدراہٹ قائم رکھی۔ مگر اب وہ دور ختم ہو گیا ہے۔ اب ساری کتابیں اور دنیا بھر کا علم محض ایک بٹن کی حرکت سے صرف چند منٹوں میں دوسری زبان میں ترجمہ ہو جاتا ہے۔ تو آخر کب ہم اپنی کانفرنسوں سے انگریزی زبان کا یہ زبردستی کا استعمال ختم کریں گے؟ اب تو لکھے گئے مقالات بھی حاضرین کو فوری ترجمے کے ساتھ دیے جا سکتے ہیں، پھر یہ احساسِ کمتری کیوں؟"۔۔


مٹیالے کپ اور ڈیجیٹل شفافیت کا سچ


اتنے میں ہوٹل کا چھوٹا کچی مٹی کے بنے چار مٹیالے کپوں میں گرما گرم، جھاگ دار کڑک چائے لے آیا۔ جیسے ہی گرم چائے ان برتنوں میں ڈالی گئی، کچی مٹی کی ایک دلفریب، سوندھی سوندھی خوشبو فضا میں بکھر گئی، جس نے آڈیٹوریم کے اس مصنوعی ماحول کی تکان کو ایک لمحے میں مٹا دیا۔

اکبر خان نے گرم چائے کا وہ مٹیالا کپ دونوں ہاتھوں کی گرفت میں لیا، جیسے وہ اس مٹی کی تپش اور اصلیت کو اپنی پوروں کے راستے روح میں اتار رہا ہو۔ اس نے چائے کی بھاپ کو دیکھتے ہوئے دھیمے مگر رعب دار لہجے میں کہا:۔۔۔

"جگجيت خان، بالکل ٹھیک بولا۔ پشتو میں کہتے ہیں کہ جو اپنی زبان کھو دیتا ہے، وہ اپنی غیرت کا ایک حصہ کھو دیتا ہے۔ یہ جو مٹی کے کپ کی اپنی ایک 'کڑک'، اس کی سادگی اور اس کی زمینی خوشبو ہے نا، یہی ہماری ماں بولی کا اصل رعب اور دبدبہ ہے۔ رحمان بابا کا کلام جب تک پشتو کے اپنے دبدبے میں نہ پڑھا جائے، پختونخوا کے پہاڑوں کی گونج محسوس نہیں ہوتی۔ تم دنیا کی جتنی مرضی زبانیں سیکھ لو، جو سکون، جو رعب اور جو اپنائیت ماں کی گود سے سیکھی ہوئی زبان میں ہے، وہ کسی اور زبان میں ممکن ہی نہیں۔ پختونخوا کی پہاڑیوں سے لے کر پنجاب کے میدانوں تک، زبان ہی انسان کی اصل پہچان ہے"۔


مگر یار، مجھے کانفرنس کے آخری مقالے میں اٹھایا گیا وہ 'آفاقی حسابِ کار' (یونیورسل لیجر) کا فلسفہ نہیں بھولتا۔ جرمن پروفیسر نے کتنی گہری بات کی کہ اس ہائی ڈیفینیشن اور ڈیجیٹل شفافیت کے دور میں، اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر انسان کو پڑھنے کے لیے اب الفاظ سے زیادہ اس کے رویوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ انسان کا اصل اخلاق اور پختونولی (پشتون ضابطہ اخلاق) تب کھلتا ہے جب حالات مشکل ہوں، جب وہ دوسروں کو توجہ سے سنے، اور ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو جن سے اسے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو۔ لیکن اسی سیشن میں جو وارننگ دی گئی وہ خوفناک تھی—کہ ڈیپ فیکس اور جھوٹی معلومات کا کینسر اس شفافیت کو کھا رہا ہے۔ اب تو اسکرین پر جھوٹی مسکراہٹیں اور نقلی تاثرات سجا کر حقیقت کو ہیک کیا جا رہا ہے۔ ایسے سستے فریب کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے اسلاف کی روح کو پکا ہونا پڑے گا"۔۔۔


اشرافیہ کا طوق اور اسلاف کا نظم و ضبط


ڈینیل نے چائے کی پہلی چسکی لی۔ اس مٹیالے برتن کے کھردرے پن کو اپنی انگلیوں سے چھوتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیارِ غیر میں گزرے سالوں کی ایک عجیب سی تڑپ اور خالی پن ابھر آیا۔ وہ الفاظ کو سنبھالتے ہوئے بولا:۔۔۔

"آئی... آئی ایگری ود یو آل۔ میں نے لائف کا بڑا حصہ باہر گزارا، انگریزی سیکھی، لیکن وہاں ہمیشہ ایک عجیب سا ایمپٹینس (خالی پن) فیل ہوتا تھا۔ مائی فادر یوژولی سیڈ کہ جڑیں (روٹس) بہت امپورٹنٹ ہوتی ہیں۔ جب وہاں اسکرینز پر دنیا بھر کا علم برانڈز اور گلوبلائزیشن کی چمک میں دکھایا جاتا تھا، تو مجھے مٹی کی یہ خوشبو یاد آتی تھی جو میری دادی ماں کی پرانی پیٹی میں چھپی یادوں اور بچپن میں سنی ایک دھیمی سی لوری میں تھی۔ آج میں یہاں مٹی کے اس کپ سے چائے پی رہا ہوں، تو مجھے وہ کڑک اور مٹی کا سچا کنکشن فیل ہو رہا ہے۔ ہماری نسل—یہ جو جنریشن زی (جن زی) ہے—یہ سوشل میڈیا کے اس دور میں اپنی اس کڑک کو کھوتی جا رہی ہے۔ ہم جدیدیت کے چکر میں اس مٹی کی خوشبو بھول رہے ہیں جس نے ہمیں بولنا سکھایا۔

تم جانتے ہو، کانفرنس کے دوسرے سیشن میں جب وہ ہسٹری اور فلاسفی کا موازنہ کر رہے تھے، تو وہ پینل میری الجھن دور کر گیا۔ ایک اسپیکر نے مغرب کے رواقی فلسفی مارکس اوریلیئس کے 'داخلی قلعے' اور دوسرے نے ابن حزم کی اندلسی نفسیات کا تذکرہ کیا۔ لیکن مجھے چینی مدبر ژینگ گوفان کی 'چار شرافتیں' (فور نوبلٹیز) یاد آ گئیں جو اس پینل میں تفصیل سے ڈسکس ہوئیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس ڈیجیٹل سراب سے نکلنے اور اپنی انسانی کہانی کی حفاظت کے لیے ہم صرف ٹیکنالوجی پر بھروسہ نہیں کر سکتے، ہمیں اپنے اسلاف کے بتائے ہوئے اندرونی نظم و ضبط کی طرف لوٹنا ہوگا، اور وہ چار ہتھیار یہ ہیں:۔۔۔

1. پُرسکون رہنے کی صلاحیت: گمراہ کم معلومات کا دارومدار تیز رفتاری اور فوری جذباتی ردعمل پر ہوتا ہے۔ پُرسکون رہنے کا مطلب ہے کہ الگورتھم کے اس جال میں نہ پھنسا جائے۔ وائرل ہونے کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے خاموشی اور سوچ بچار کو ترجیح دی جائے، تاکہ سچ اور جھوٹ کا فرق واضح ہو سکے۔

2. جھکنے کی صلاحیت: ڈیپ فیکس تبھی زیادہ اثر کرتے ہیں جب وہ ہماری اپنی پسند یا ہمارے مخالفین کے بارے میں ہمارے تعصبات کے عین مطابق ہوں۔ جھکنے کا مطلب ہے اپنے اندر یہ عاجزی پیدا کرنا کہ ہم اپنے خیالات پر بھی سوال اٹھا سکیں۔ ایک وسیع ذہن بند نظریات کے حصار سے نکل کر دنیا کے مختلف زاویوں کو سنتا ہے۔

3. سر اٹھا کر جینے کی صلاحیت: جھوٹ کے اس سیلاب میں سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے غیر معمولی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ عالمی سطح کے بڑے معاملات میں سچ کا دفاع کیا جائے اور چھوٹی باتوں میں حقائق کا دامن نہ چھوڑا جائے۔ افواہوں کا طوفان کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو، سچے حقائق کے سامنے وہ آخرکار دم توڑ دیتا ہے۔

4. ہار برداشت کرنے کی صلاحیت: کسی بھی دھوکے کی حتمی جیت تب ہوتی ہے جب ہمارا اپنا غرور ہمیں یہ تسلیم کرنے سے روک دے کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے۔ ہار برداشت کرنے کا مطلب ہے اپنی غلطی کا اعتراف کرنا، یہ دیکھنا کہ ہم کہاں بہک گئے تھے، اور اس تجربے سے سیکھ کر اپنے اخلاقی راستے کو درست کرنا۔"


آفاقی سرحد اور انسانی اصالت


ثاقب نے ڈینیل کی ٹوٹی پھوٹی اردو اور گہری بات پر مسکرا کر داد دی، اور مٹیالے کپ کو دیکھتے ہوئے فلسفیانہ لہجے میں بولا:۔۔

"ڈینیل میاں! آپ کی اس زبان میں جو خلوص ہے، وہ کانفرنس کے ان بڑے بڑے انگریزی پیپرز سے کہیں زیادہ جاندار ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جیسے جیسے ہم اس دور میں آگے بڑھ رہے ہیں، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے معاونت یافتہ ڈیجیٹل دور کا حتمی چیلنج مکمل طور پر منطق اور سچائی کے گرد گھومے گا۔ جب الگورتھمز میں حقیقت کا روپ دھارنے کی طاقت آ جائے، تو ہم انسانوں کی اصل بقا اس بات میں ہے کہ ہم منطق اور دلیل کے ذریعے سچائی کو تلاش کرنے کی اپنی بنیادی خواہش کو زندہ رکھیں۔ یہ بقا کسی تنہائی یا ٹیکنالوجی پر پابندی سے ممکن نہیں، بلکہ آزاد اور جمہوری انداز میں اظہارِ رائے کی طاقت سے ہی ممکن ہے۔

ارسطو نے کہا تھا کہ انسان ایک 'گفتگو کرنے والا جاندار' (حیوان ناطق) ہے—ہماری اصل طاقت محض زندہ رہنا نہیں، بلکہ بولنے، سوچنے اور مشترکہ فہم پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ ہماری سب سے بڑی دولت اپنے ساتھی انسانوں کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرنے کا سادہ اور مقدس عمل ہے۔ جب ہم بغیر کسی رکاوٹ کے بات چیت کرتے ہیں، تو ہمیں ایک گہری آفاقی سچائی کا احساس ہوتا ہے: محبت کی کوئی زبان نہیں ہوتی، اور ہم آہنگی ہی دلیل کی اصل منطق ہے۔ اے آئی ہماری لغت کا ترجمہ تو کر سکتی ہے، لیکن وہ آپسی ہم آہنگی کی حقیقی روح پیدا نہیں کر سکتی۔ ڈیجیٹل شفافیت کو ہمیں اندھا کرنے کے بجائے ایک ایسے مستقل کی طرف لے جانا چاہیے جہاں ہماری گفتگو سطحی وہموں سے پاک ہو کر سچے انسانی رابطے پر قائم ہو"۔۔۔


اس پہ اکبر خان نے ثاقب کی بات کا سرا پکڑتے ہوئے، گفتگو میں شامل ہو کر یہ کہا:۔۔

"ثاقب خان، تم نے ٹھیک کہا۔ انسان حیوانِ ناطق ہے، لیکن اگر اس نطق کے پیچھے قلم کی طاقت اور کتاب کا ارتقا نہ ہو، تو انسان صرف شور مچانے والا جاندار بن جاتا ہے۔ آنے والے مستقبل میں زندہ رہنے کے لیے، انسانوں کو قلم سے لکھنے، کتابیں پڑھنے اور بچوں کو کہانیاں سنانے کے ایک مشکل لیکن ضروری چیلنج کو اپنانا ہوگا۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے والدین نے ہمیں قلم اور کتاب سے جوڑے رکھا؛ جبکہ ہمارے دیگر ساتھی اس سے دور رہے تو ہماری جنریشن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ مناسب تفریق کی صلاحیت کمزور ہے۔

ہماری نوعِ انسانی کا مستقبل مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اپنے اندر اظہارِ رائے کی طاقت کو کتنا نکھارتے ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ہماری مادری زبان، کسی بھی دوسری زبان کے ساتھ مل کر، مصنوعی رکاوٹوں کو توڑنے میں مدد کرے گی۔ اے آئی کے اس دور میں، ایک ایسا انسان جو اپنے گہرے جذبات اور احساسات کو بیان کرنے اور اس پر گفتگو کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو، وہ اس دنیا کے کسی کام کا نہیں رہے گا۔ انسانی بقا اس بات میں ہے کہ ہم اپنی فکری اور اظہاری صلاحیتوں کو خالص، گہرا اور زندہ رکھیں"۔۔۔


سچی بولیاں اور الوداعی قہقہہ


اس موقع پہ ثاقب گویا ہوا:۔۔

"اس نیلے سیارے (بلیو پلانٹ) کی تاریخ اب اپنے سب سے نازک اور شفاف دور میں داخل ہو چکی ہے۔ زندگی اور انسان کی کہانی اب لسانی رکاوٹوں یا لائبریری کی دھول جمی کتابوں میں بکھری ہوئی نہیں ہے۔ ہم انسانی رویوں کا ایک زندہ انسائیکلوپیڈیا لکھ رہے ہیں، لیکن اس کے صفحات پر اب مصنوعی سائے منڈلا رہے ہیں"۔

جگجیت نے بات کو بڑھاتے ہوئے کہا:۔۔۔

"جیسا کہ الیگزینڈر ڈوما نے 'دی کاؤنٹ آف مانی کرسٹو' میں یاد دلایا تھا کہ زندگی ایک طوفان ہے، جہاں انسان ایک لمحے دھوپ کا لطف اٹھاتا ہے اور اگلے ہی لمحے چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا ہے۔ جو چیز ہمیں ایک حقیقی انسان بناتی ہے، وہ یہ ہے کہ جب وہ طوفان آئے تو تم کیا کرتے ہو۔ آج وہ طوفان ہماری اسکرینوں پر معلومات کا ایک سیلاب ہے، جہاں حقیقت اور فریب آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ زبانوں کی برتری کے عارضی جھگڑوں کو مٹا کر، اور مشرق و مغرب کی کلاسیکی حکمت سے اپنے کرداروں کو مضبوط کر کے، ہم انسان اپنے اس آفاقی حسابِ کار کی شفافیت کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ایسا کر کے ہی ہم یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہماری مشترکہ آواز ہمدردی, جوابدہی اور اٹل سچائی کی آفاقی زبان سے جڑی رہے"۔


اس پہ ڈینیل مسکراتے ہوئے اپنے فون کی اسکرین کو دیکھ کر بولا:۔۔۔

"یار! ہم نے ماں بولی پہ کافی گفتگو کر لی ہے اور اب وقت ہوتا ہے کہ ہم اپنی ماؤں کے فون آنے سے پہلے گھر کی راہ لیں؛ کہ وہ رات کے کھانے پہ ہماری منتظر ہوں گی"۔

جگجیت نے ہنستے ہوئے اس کے موڈھے پر ہاتھ مارا، "بالکل ڈینیل میاں! دنیا بھر کی یہ بڑی بڑی کانفرنسیں ایک طرف، اور ماں کے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی اور اس کی گود کی مٹھی مٹھی بولی ایک طرف!"۔۔۔

چائے کے گھونٹ کے ساتھ گفتگو کا تانا بانا بنتا گیا، اور رات کی خنکی میں صوفیانہ کلام فضا میں لہرایا۔ اب اس سڑک کنارے ڈھابے پر، مٹی کے خالی کپوں سے اٹھتی بھاپ اور ان کے دلوں سے نکلتی ہوئی سچی بولیاں ایک دوسرے سے گلے مل رہی تھیں، جو ایک حقیقی علم دوستی اور اپنی مٹی سے محبت کی گواہی دے رہی تھیں۔ ماں بولی زمین سے پھوٹتی ہے اور ماں کی گود میں سیکھی اور برتی جاتی ہے۔ بچے بڑے ہو جاتے ہیں اور ماں کے آنچل سے الگ ہو جاتے ہیں مگر ماں بولی انسان کی روح اور بدن کا حصہ بنی رہتی ہے۔


More Posts