ماہِ اپریل اور سخنِ شاعری

April is a month of Spring season in which nature takes rebirth, regrowth, and renewal. The Spring in April transforms fields from plain, to lovely wildflower-filled terrain. The air is filled with flowers scented aroma. This article in Urdu "ماہِ اپریل اور سخنِ شاعری" is about the poetic expressions for the blessings of Mother Nature in the month of April.

Apr 13, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


 ماہِ اپریل اور سخنِ شاعری

 

ماہِ اپریل کی صبحیں خنک اور تازگی بخش بادِ صبا کے سنگ ہوتی ہیں؛ دوپہر کی دھوپ چمکدار ہوتی ہے لیکن اس میں ابھی چبھن نہیں ہوتی؛ شامیں سہانی ہوتی ہیں، جو انسانوں کو چہل قدمی پر اکساتی ہیں؛ اور راتیں خواب ناک ہوتی ہیں کہ جیسے جیسے رات ڈھلتی ہے خنکی بڑھتی جاتی ہے اور نیند گرم چادر سے لپٹ کر بےخود ہوجاتی ہے۔

 

 باغوں اور گلستانوں میں زمین پر گھاس کا مخملی قالین بچھ جاتا ہے۔ صبح کو گھاس پر اوس کے قطرے چمک رہے ہوتے ہیں۔ کیاریوں میں رنگ برنگے پھولوں کی قطاریں دور تک سج جاتی ہیں؛ جن کی خوشبو کا اپنا ہی جادو ہوتا ہے۔ اپریل کے چاند سے اترتی چاندنی نورانی اور ٹھنڈی ہوتی ہے۔ اور سارا دن خاص طور پر شام کے بعد سبک خرام ہوا کے سنگ پھولوں کی مہک بھی محو خرام ہوتی ہے۔

 

اپریل کے مہینے میں فطرت دلہن کی طرح سنگھار کرلیتی ہے؛ ہر طرف، ہر سو، ہر جگہ قدرت کی فیاضیوں کا مظہر ہوتا ہے اور ماحول خوبصورت، سندر سپن سلونا ہوجاتا ہے۔ فضا میں پھولوں کی خوشبو نشہ پھیلاتی ہے؛ اور پھولوں سے مہکی ہوا انسان کو دیوانہ بنا دیتی ہے۔ کئی اصحاب اس وارفتگی میں گیت گاتے ہیں؛ گنگناتے ہیں۔ سیٹیاں بجاتے ہیں؛ اور کچھ اصحاب فرزانگی میں شعر کہتے ہیں۔ "یہ اپریل ہے! سورج کی روشنی، بہار کی بارش، کھلتے پھول، یہاں تک کہ محبت کا وقت"۔

 

شاید اسی لیے اپریل امریکہ میں شاعری کا مہینہ ہوتا ہے۔ پچھلے وقتوں میں شاعری کو خواص کا وصف مانا جاتا تھا یہاں تک کہ ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر صاحب دیوان شاعر ہوئے۔ امریکہ میں پوئٹری فاؤنڈیشن کا مقصد شاعری کو فروغ دینا ہے جس کی نمائندہ یڈالمی نوریئیگا کے مطابق یہ مہینہ فن کی اُس شکل کا جشن منانے کا وقت ہوتا ہے جس کا شمار بنی نوع انسان کے قدیم ترین فنون میں ہوتا ہے۔ امریکہ کے صدر کی حلف وفاداری کی تقریبات میں مخصوص شعراء کی شاعری پیش کی جاتی ہے۔

 

امریکی شاعری کا مہینہ “دنیا کا سب سے بڑا ادبی جشن” قرار دیا گیا ہے۔ اس مہینے میں امریکہ میں بہت سے سکول شاعری سکھاتے ہیں، سرکاری لائبریریوں میں شاعری سنانے کی تقریبات ہوتی ہیں اور کمیونٹیاں شعر پڑھنے اور لکھنے کے پروگرام ترتیب دیتی ہیں۔ معاشرے کے سارے طبقات میں شاعری مقبول ہونی چاہیے۔ اس رجحان کو تقویت دینے کے لیے فی البدیہہ شعروں کا رواج عام کرنا چاہیے؛ جس کے لیے بیت بازی کے محافل سجانے چاہیں۔

 

امریکی شاعر ٹی ایس ایلیٹ نے اپنی نظم "دا ویسٹ لینڈ" میں اپریل کو “ظالم ترین مہینہ” کہا ہے؛ مگر ایک دوسری امریکی شاعرہ لیمون جن کو ملکہ الشعراء بھی قرا دیا گیا کہتی ہیں کہ اُن کے خیال میں اپریل “ایک ایسا متحرک مہینہ ہے جس میں بعض حوالوں سے ہم دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ لہذا میں چاہتی ہوں کہ [انکی نظمیں] تھوڑا سا دوبارہ زندہ کرنے کا کام دیں"۔

 

ماڈرنسٹ شاعر ٹی ایس ایلیٹ شاید اپنی نظم "دی ویسٹ لینڈ" میں لکھتے ہیں

 

اپریل ظالم ترین مہینہ ہے، افزائش نسل

مردہ زمین سے باہر بکائن ، اختلاط

یادداشت اور خواہش، ہلچل

موسم بہار کی بارش کے ساتھ پھیکی جڑیں۔

منیر نیازی کی نظم "لاہور میں اپریل کے پہلے دن"۔

عجیب رت کے عجیب دن ہیں

نہ دھوپ میں سکھ

نہ چھاؤں میں سکھ

یہ دل بھی لگتا نہیں ہے جو چھاؤں میں بھی بیٹھو

تپش بھی سورج کی سہنا مشکل

یہ کیسے سایہ ہیں ان بنوں میں

سفید دھوپیں سفید جن ہیں

عجیب رت کے عجیب دن ہیں

ال جولسن کی نظم "اپریل کی بارش"۔

زندگی پھولوں سے سجی شاہراہ نہیں ہے؛

پھر بھی اس میں خوشیوں کا بچھونا ہے؛

جب سورج اپریل کی بارشوں کو راہ دکھاتا ہے؛

یہاں فطرت کا وہ تقاضہ ہے جسے آپ کبھی نہ بھولیں۔

اگرچہ اپریل کی بارش آپ کے راہ روک سکتی ہے؛ مگر

وہ مئی میں کھلنے والے پھول لاتی ہے۔

اگر بارش ہو رہی ہو تو کوئی افسوس نہ کریں؛

کیونکہ یہ بارش نہیں برس رہی؛ آپ دیکھو تو سہی؛

یہ بنفشہ برس رہا ہے۔

اور جہاں اب پہاڑیوں پر بادل تیرتے دکھتے ہیں؛

آپ جلد وہاں ڈیفوڈلز کا ہجوم دیکھیں گے۔

تو اس نیلے پرندے کو ڈھونڈو؛

اور اس کے گیت سنو؛

جب بھی اپریل کی بارشیں ہوں۔

نصیر احمد ناصر کی نظم "ہم اپریل میں پیدا ہوئے"۔

ہم اپریل میں پیدا ہوئے

اس لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں

ہم اپریل میں پیدا ہوئے

اس لیے ہمیں

پھولوں کی طرح کِھلنا،

پہاڑی راستوں پر چلنا

اور بارشوں میں بھیگنا پسند ہے

ہم اپریل میں پیدا ہوئے

اس لیے

روز مل کر بھی پوری ملاقات نہیں کر پاتے

ہم اپریل میں پیدا ہوئے

اس لیے ہاتھ میں دل رکھتے ہیں

اور ہونٹوں پر مسکراہٹ

اور کھلکھلاتے ہوئے ہنسی کے بوسے لیتے ہیں

ہم اپریل میں پیدا ہوئے

اس لیے ذرا سی بات پر اداس یا خوش ہو جاتے ہیں

ہم اپریل میں پیدا ہوئے

اس لیے

لمبی واک اور لانگ ڈرائیو کے رسیا ہیں

ہم اپریل میں پیدا ہوئے

اس لیے کھانے سے زیادہ کھلانے کے شوقین ہیں

ہم اپریل میں پیدا ہوئے

اس لیے

گھنٹوں چائے خانوں، ریستورانوں میں بیٹھے

کچھ کہے بغیر

باتوں کا لمس کشید کرتے

اور چسکیاں لگاتے رہتے ہیں

ہم اپریل میں پیدا ہوئے

لیکن ہماری موت

پتا نہیں کس ماہ، کس موسم میں ہو گی


More Posts