کیا جنگ بندی مستقل ہے؟
There are two wars that took place during last two months. Pakistan India 4 days escalation happened b/w India and Pakistan in May 2025 and 12 days war took place b/w Iran and Israel on 12-24 June 2025. US President brokered cease fire on both occasions. This article in Urdu "کیا جنگ بندی مستقل ہے؟" explores these two events with outcome for future.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
کیا جنگ بندی مستقل ہے؟
صیہونی یہودی ریاست اسرائیل نے جمعہ 13 جون 2025 کو اسلامی جمہوریہ ایران پر ایک بڑا حملہ کیا، جس میں سائنسدانوں، فوجی تنصیبات اور جوہری تحقیقی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ جس کے نتیجے میں تین اعلیٰ فوجی کمانڈر، چھ جوہری سائنسدان اور درجنوں اعلیٰ ایرانی افسران ہلاک ہوئے۔ اس کے جواب میں ہفتہ، 14 جون، 2025 کو، ایرانی پاسداران انقلاب نے آپریشن "سچا وعدہ-3 " شروع کیا اور اسرائیل میں سٹریٹجک اور فوجی اہداف اور مقامات کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
پچھلے اتوار بروز اتوار مورخہ 22 جون 2025 کو ریاست متحدہ امریکہ نے ایران کے تین جوہری مقامات کو نشانہ بنایا۔ حملے کے جواب میں ایران براہ راست امریکہ کی زمین پر حملہ نہیں کر سکتا تھا؛ تو ایران کے پاس کیا آپشنز ہوسکتے تھے؟ ایران کے پاس سب سے بڑا آپشن آبنائے ہرمز کو نشانہ بنانا تھا؛ جہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا 30 فیصد گزرتا ہے۔ یہاں سے روزانہ تقریبا 90 اور سال بھر میں 33 ہزار تجارتی جہاز گزرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا خلل صرف یورپ کو متاثر نہیں کرتا بلکہ اس سے تیل پیدا کرنے والے تمام خلیجی ممالک بھی متاثر ہوتے۔ اور خاموشی سے تماشہ دیکھتی عرب ریاستیں بھی لامحالہ اس تنازع کے نتائج کو محسوس کرنے لگتیں۔
پیر 23 جون کو ایران کی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری بھی دی تھی۔ مگر اس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ملک قطر میں امریکی اڈے پر حملہ کیا۔
پھر امریکی صدر نے خود ہی جنگ بندی کا اعلان بھی کردیا اور ایک ٹائم لائن بھی دے دی۔
مگر ایسا کیوں ہوا؟
پچھلے سو سال میں امریکہ اور اس کا ناجائز بغل بچہ اسرائیل 77 سالوں سے بدمعاش بنے ہوئے ہیں۔ ان طاغوتی جانوروں نے ایک بدمزاج سانڈ کی طرح سوائے تباہی کے اور کچھ نہیں سیکھا؛ اور نہ ہی عمل کرکے دکھایا ہے۔ مگر اس سال 2025 عیسوی میں یہ دوسرا سانحہ ہے جو خدا کی چنی ہوئی مخلوق صیہونی یہودیوں پر گذرا ہے۔ اسرائیلی کو پندرہ ماہ کی جنگ کے بعد جنوری میں حماس سے غزہ جنگ بندی کرنا پڑی تھی۔ مگر یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اس جنگ بندی کے چند دنوں کے بعد ہی اسرائیل فوج نے دوبارہ غزہ پر بمباری شروع کردی۔ یہاں تک کہ محصورین پر یواین کے فراہم کردہ کھانا حاصل کرنے والوں پر بھی بمباری کی جاتی ہے۔
ایران پر حملے کے کچھ مقاصد تو ضرور تھے؛ ایک تھا نیوکلر توانائی کے حصول سے روکنا۔ اور دوسرا تھا حکومت کی تبدیلی۔ امریکہ/اسرائیل نے محسوس کیا کہ ان کی حکومت کی تبدیلی کے منصوبے کامیاب نہیں ہو رہے ہیں، کہ ایرانی حکومت کے پاس ان کے خیال سے زیادہ حمایت اور مضبوط بنیادیں ہیں؛ اور یہ کہ اسرائیل کا فضائی دفاع ختم ہو رہا تھا۔ اور یہ کہ طویل فاصلے کی میزائیل کی جنگ اسرائیل کے لیے بُرا خواب بنتی جا رہی تھی۔
مزید برآں یہ کہ امریکی صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی ایرانی دھمکی کے ساتھ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر پریشان ہونے لگےتھے۔ چنانچہ انہوں نے اسے سمیٹ لیا، فتح کا اعلان کیا اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ ایران نے بھی رضامندی ظاہر کی کیونکہ وہ بھی اسرائیل کی خفیہ کاروائی کی جنگ اور ان کے اپنے فضائی دفاع کی کمی سے کمزور ہوگئے تھے۔
مسلمان دنیا کو یہ بات پتھر کی لکیر کی طرح یاد رکھنا ہوگا کہ آخر کار صیہونی یہودی امن کے ساتھ کیوں نہیں رہنا چاہتے؟ یہ سنیے جہاں ایک یہودی صاف کہہ رہا کہ ہم مکہ مدینہ مسلمانوں سے چھین لیں گے۔
صیہونی یہودیوں کا اگلا اقدام کیا ہوسکتا ہے؟
منصوبہ اول ناکام ہوا (اسرائیل کی 13 جون کو ایرانی فوج کے سر قلم کرنے والے حملے) ایک ایسی جنگ کو بھڑکانے کے لیے جو بالآخر امریکہ کو "بندوقوں کے ساتھ" جنگ میں لے آئی۔ دوسرا منصوبہ بی بھی ناکام ہوگیا (یعنی بی-۲ بمبار حملے) امریکہ اور ایران کے درمیان دشمنی میں تیزی سے اضافہ شروع کرنے میں جو ان کے درمیان ایک مکمل جنگ میں ختم ہو جائے گی۔
ایران کے حکمرانوں کے فیصلوں پر سوال اٹھانے کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں؛ مگر ان کے 'اندازوں' کے بارے میں کچھ کہنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ انھوں نے درست اندازہ لگایا جب انھوں نے دیکھا کہ وہ امریکیوں کو براہ راست نقصان پہنچانے سے بچیں اور اپنی طاقت سے ہر ممکن کوشش کر کے اسرائیل کو ذق پہنچائیں۔ جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔ پروٹوکول کی پیروی کی گئی: اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایران جواب میں اسرائیل پر حملہ کرتا ہے، لیکن ایسے طریقوں سے جو امریکی شہریوں کو مارنے سے بچیں گے۔ سو ہم نے دیکھا کہ بی-ٹو حملے کے تماشے کے بعد بھی امریکہ نے ایران جنگ سے گریز کیا۔
صیہونی یہودیوں نے ان ناکامیوں سے دل نہیں ہارا ہوگا؛ جو ممکنہ طور پر سامنےاسرائیل کو رکھ کر جنگ کرنا ہے مگر امریکہ اور ایران کے درمیان ہمہ گیر جنگ کی امیدوں کو ضرور تقویت دینے کی تیاری کرنا۔ جس کا خاتمہ ایرانی حکومت پر کٹھ پتلیوں کو بٹھانے پر ہوگا؛ جس کے ذریعے سے اسرائیل کو خطے پر مکمل طور پر کنٹرول حاصل ہوگا۔ تاہم، امریہ صدر ٹرمپ کا اب امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بڑے تنازعے سے بچنے کا واضح عزم امریکی صیہونی یہودیوں کی سب سے بڑی مایوسی بن گیا ہے۔ کیا امریکی صیہونی یہودی اب حقیقت کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے اور اپنی زندگی میں عظیم تر اسرائیل کے خوابوں کو ترک کر دیں گے؟
امریکی صیہونی یہودیوں کے لیے جو چیز اس وقت مشکل بنی ہوئی ہے؛ وہ ہے ایران کا بہت سے امریکیوں کے قتل پر اکسانے کی کوششوں؛ ابھی تک ایرانی اس چکر سے محفوظ رہے ہیں۔ اب شاید موساد یہ کام کرے گا کہ کوئی امریکیوں کے قتل عام کا جھوٹا ڈرامہ رچایا جانے والے واقعہ کردیا جائے گا اور جس کا الزام ایران پر عائد کیا جائے گا۔ ہمیں پہلے ہی پورے امریکہ میں ایرانی "سلیپر سیلز" کے بارے میں مطلع کیا جا چکا ہے جو کہ بڑی تعداد میں امریکیوں کو مارنے کے لیے ان کی ہدایات کا انتظار کر رہے ہیں؛ جو دراصل موساد سیلز ہیں جو زیادہ تر ایرانی صیہونیوں پر مشتمل ہیں [ایرانی ملحد اور یہودی اور ایم ای کے نٹ کیسز] جو دولت اسلامیہ کا تختہ الٹتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔
بدقسمتی سے، یہ شاید بے گناہ امریکیوں پر ایک بہت بڑا حملہ ہو گا جس میں سینکڑوں یا ہزاروں اموات ہوں گی؛ یا شاید کوئی بلیک سوان دھماکہ جیسے امرکی صدرٹرمپ یا نائب صدرجے ڈی وانس کو حقیقی طور پر قتل کردیں گے۔ (موساد کی جانب سے 9/11 کے جھوٹا ڈرامہ باز حملے کو انجام دینے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد کے صدمے پر اعتماد کر رہے تھے جو لوگوں کو حکومت کے بنائے گئے بیانات کے لیے جذباتی طور پر قبول کر رہے تھے، جیسا کہ صیہونی ایم ایس ایم نے فرض کے ساتھ رپورٹ کیا ہے)۔ جب ایسا ہوتا ہے تو ہمیں ہر اس شخص کو یاد دلانے کی ضرورت ہوگی جو سنے گا کہ یہ ایران ہی ہے جو 13 جون سے زمین پر کہیں بھی امریکیوں کو مارنے سے بچنے کے لیے اپنے راستے سے ہٹ گیا ہے۔ یہ تاریخی طور پر رائج ثبوت کا ایک ریکارڈ ہے جو ایران کی قیادت کے طبقے کو اس قسم کے پاگل، خونخوار دہشت گردوں کے بالکل برعکس ظاہر کرتا ہے جیسا کہ صیہونیوں نے تل ابیب سے بروکلین تک دکھایا ہے۔
پاکستان کے لیے سبق کیا ہے؟
چھلے ماہ 7-10 مئی 2025 کے دوران چار روزہ پاکستان بھارت بھی ایک جھڑپ ہوئی تھی اور جس کا اختتام بھی امریکی مداخلت پر ہوا تھا۔ کیا ہم نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ جھڑپ کیوں شروع ہوئی تھی؟ اس کا آغاز داوی کشمیر میں پہلگام میں منعقد ایک دہشت گرد کاروائی سے ہوا تھا۔ اور جس کا بہانہ بنا کر بھارت نے 6 اور 7 مئی کی رات کو پاکستان پر فضائی میزائیل کا حملہ کیا تھا۔ اور جس کے بعد اگلے چار دن مارا ماری ہوئی؛ بلکل اسی طرح جیسے ایران اسرائیل کے درمیان ہوئی ہے؛ مگر چونکہ دونوں ملک پڑوسی بھی ہیں؛ سو میزائیل کے علاوہ ڈرون وغیرہ بھی اڑائے گئے۔
بارہ روزہ اسرائیل ایران جھڑپ میں بھی جنگ بندی کرنا اسرائیل کی مجبوری بن گئی تھی کیونکہ تل ابیب اور دوسرے شہروں میں ایرانی میزائلوں نے اس قدر تباہی مچاہی کہ اسرائیل ہر طرف سے جلنے لگا؛ جس کی اس کی قوم کو عادت نہیں تھی؛ انہیں تو خدائے داود کی طرف سے حفاظت کی ضمانت کا یقین دلایا گیا تھا۔ ایرانیوں کے حملے سے بچنے کے لیے ان کے پاس دفاعی سسٹم ختم ہوچکا تھا۔ اسی طرح پاک بھارت جنگ میں بھی منصوبہ ناکام ہوگیا تھا جب پاک فضائیہ نے دھول چٹا دی تھی اور بھارتی دفاع دھرا رہ گیا تھا۔ اس لیے اس جنگ کے حقیقی منصوبہ سازوں صیہونی یہودی گروہ نے امریکی صدرکو آگے کیا اور جنگ بندی کروائی تھی۔
صیونی یہودی مخفی گروہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئےگا؛ کیونکہ اس کے سامنے گریٹر اسرائیل کا خواب ہے جسے وہ جلد ہی دجال کے آنے سے بھی پہلے حاصل کرنے کی جستجو میں ہے۔ بلکل اسی طرح ہندوسان مین بھ ہندوتوا سیوک سنگھے اکھنڈ بھارت کی خواب پالے بیٹھے ہیں اور بھارتی حکمرانی کے سنگھاسن پر براجمان بھی ہیں۔ یہ بھی اپنی کسی شکست سے سبق نہیں سیکھیں گے۔
اختتامی کلمات
یہ جنگ بندیاں سڑک پر پھینکی ہوئی بوتل کی طرح ہیں جسے کسی وقت بھی لات ماری جاسکتی ہے۔ یہ ذہن نشین کرلیں کہ دونوں اطراف سے [پاکستان بھارت اور امریکہ / اسرائیل ایران] سب ہی جنگ کی دوبارہ تیاری شروع کردیں گے؛ اور اگلے دور، اگلی جنگ کے لیے منصوبہ بندی کریں گے۔ جنگ بندی کے دن کے شروعات پر یہ صرف ایک بارہ روزہ اسرائل / امریکہ اور ایران جنگ یا پھر چار روزہ پاکستان بھارت جھڑپ تھی۔ پاکستان اور ایران دونوں کے لیے ابھی زندگی موجود ہے؛ ایران کے لیے سویلین نیوکلیئر افزودگی پروگرام کو برقرار رکھنا، اور اس حقیقت کے ساتھ کہ یہ امریکہ/اسرائیل تھا جس نے "جنگ بندی" کے لیے زور دیا تھا؛ اسے اپنی قومی شعور پر کچھ پوائنٹس تھوڑا آگے بڑھاتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے لیے بھی جیت تھی کہ بھارت جس جارحیت کے ساتھ آگے بڑھا تھا؛ اس کے خواب چکنا چور ہوگئے تھے اور اس کا اختتام پاکستان کو کسی آنے والی جنگ میں برتری کے خوبصورت نتائج کا امید میں بڑھاوا مل گیا۔
ان جنگوں کا سب سے بڑا نقصان؛ این پی ٹی اور بین الاقوامی قانون کا خاتمہ ہے اور جس کے خوفناک نتائج کا ابھی باقی دنیا ادراک ہی نہیں کرپائی ہے۔ یہ لاعلمی درست نہیں ہے اور نہ ہی فائدہ مند ہے کہ ایٹمی تباہی صرف ان ممالک ہی کو تباہ نہیں کرے گی بلکہ پوری دنیا کی بربادی کا سبب بنے گی۔ چنانچہ آنے والی کسی بھی جنگ کو روکنا ساری عالمی برادری کی ذمہ داری ہوگی کیونکہ ناکامی کے نتائج سب ہی کو بھگتنے ہونگے۔