We are living in digital age and electronic media along with social media are the standard elements of the same. Political discission are routine matter on electronic media. This write up in Urdu "الیکٹرونک میڈیا؛ کیا دورِ جدید کی نوٹنکی ہے؟" is a translation and google translated Hindi "क्या इलेक्ट्रॉनिक मीडिया आधुनिक युग की नौटंकी है?" of an opinion posted on x.com by Thomas Keith @iwasnevrhere_; with additional comments occasionally in Urdu.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
کیا الیکٹرونک میڈیا دورِ جدید کی نوٹنکی ہے؟
بھارتی ریپبلک ٹی وی نے انڈیا اور چین کے نمائندوں کے درمیان چند دن قبل ایک بحث کروائی۔ اس پروگرام کو نشر کرنے کی نیت کچھ بھی مگر نتیجہ تو کچھ اور ہی ہوا؛ حقیقت میں ایک بیانیہ کا خاتمہ ہوگیا؛ ایک نفسیاتی نظام بے نقاب ہوا اور دوسرا خاموشی سے چیخ رہا تھا۔ ذیل میں پوسٹ مارٹم ہے۔
ریپبلک ٹی وی نے "انڈیا-چین ڈیبیٹ" کا وعدہ کیا لیکن لائیو فیڈ پر ایک عوامی لابوٹومی [شدید نفسیاتی امراض میں مبتلا مریضوں کے علاج کا طریقہ کار] پیش کی، جس سے ہندوتوا پروپیگنڈہ کارٹیکس میں گھسا ہوا اعصابی خرابی کا پردہ فاش ہوا۔ تماشا اس وقت شروع ہوا جب ارنب گوسوامی نے اپنی میز کو ایک بگڑے ہوئے اینیمیٹرونک [ مشینی جانور] کی طرح تھپتھپاتے ہوئے، عدالتی کاروائی کی طرح الزامات پیش کئے۔ "چین پاکستان کو سپلائی کرتا ہے، چین یو این ایس سی کو روکتا ہے، چین کو ایک پہلو چننا چاہیے"۔ اور اس کی آواز میں اس ہارے ہوئے؛ دھتکارے ہوئے پجاری کی گھبراہٹ ہوتی ہے جسے خود اپنے معبود کی اخلاقی بالادستی کا اعتبار نہِں رہا ہو۔ اس نے حکم نامے کے ذریعے پاکستان کو چین کے ساتھ ملانے کی کوشش کی؛ اس مصمم امید کے ساتھ اسکی زبان کی مہارت؛ ان دو ممالک کی خودمختار سرحد کو مٹا دے گی؛ اور ہر پاکستانی میزائل کو بطور چینی خنجر قبول کروالے گا۔ صرف ہندوتوا کے زعفران کے نشے میں ذہنی غلام اور بھٹکی آبادی ایسے فریب کاری کو ایک ماہرانہ تجزیہ کی طرح سمجھے گی۔
گھبراہٹ کا دورہ اس وقت زور سے بھڑک اٹھا جب اینار ٹینگن نے پرسکون آواز میں ایک ممنوعہ حرف، بلوچستان کو بحث کے بیچ میں ڈال دیا۔ اس ایک حرف نے سٹوڈیو کے تمام کِل-سوئچ کو متحرک کردیا؛ جس نے اس کی تصویر کو آف ائیر کردیا جیسے گویا کسی وائرس نے ہندوتوا کے فائر وال کی ہتھیا کردی ہو۔ وہ کٹ ایک اعتراف تھا: دہلی کا اخلاقی تھیٹرکس [ ماضی واقعات کا تھیٹر جو اخلاقی اور روحانی مخمصوں پر مرکوز ہوں] فوری طور پر چھیٹروں مین بکھر گیا؛ جیسے کوئی آئینہ دکھاتا ہے اور پوچھتا ہے کہ ہندوستان ظلم کو روتا ہوئے جبکہ خود ہی خون کی بھینٹ کے لیے پیسہ فراہم کرتا ہے۔ ریپبلک ٹی وی کے ڈائریکٹرز نے تردید نہیں ک بلکہ سرے سے مٹا دیا۔ وہ ہم آہنگی کے ساتھ پرسکون سستے زعفران سرکٹری فرائز [ ہندوتوا کے زعفران کے نشے میں دھت افراد] کا سودا ہی بیچنا جانتے ہیں۔
میجر جنرل بخشی کا بحث میں شمولیت ٹیسٹوسٹیرون [ مردانہ قومی غیرت ] کو اجاگر کرنے کے لیے تھا۔ مگر اس نے تو الٹی ہی کرڈالی؛ وہی سرد جنگ کے پرستارانہ افسانے بیان کرڈالے۔ "ہندوستان تائیوان کو مسلح کرے گا؛ جاپان کو ہوشیار کرے گا [ شاید چانکیہ کے لطیفے سنا کر] ؛ چین کے مشرقی ساحل پر حملہ کرے گا؛ ہاں اس میں کیا مسئلہ ہے اگر دہلی پر حملہ آور ڈرون کو اپنی فضائی حدود سے باہر نہیں رکھ سکتا۔ میجر جنرل بخشی نے "گرم تعاقب" کے بارے میں یوں کہا جیسے یہ اصطلاح ایک کرشماتی جادو ہوگا جس کا کوئی قانونی طریقہ اور مسئلہ نہیں کہ ہندوستان بیجنگ کے خلاف اس کو کامیابی سے استعمال کی ہمت کرے گا۔ ہر خطرہ ربڑ کی گولی کی طرح اترا، بلند آہنگ پُر شور، بے ضرر، شرمناک۔ اس نے لاگت – فائدہ کے حساب کتاب کے بارے میں بات کی، اس بات سے بے خبر کہ اونتی پور سے لیہہ تک ادھڑے جلے رن وے میں لاگت پہلے ہی واضح تھی۔ فائدہ کیا ہوا؟ پندرہ سیکنڈ کی اسٹوڈیو کی تالیاں؛ اگلے میزائل میم سے پہلے پہلے تک۔
پھر وکٹر گاو نے ایک گیلوٹین کے طرح خاموش وار میں، تاریخی حقائق بیان کئے؛ چین کے قبضے میں قبل مسیح سنکیانگ، آٹھ صدیاں قبل تبت کا چین سے الحاق ہوا؛ ایک چائنا پالیسی کی توثیق بھارت خود کرتا ہے۔ اس نے تین تاریخیں بیان کرکے؛ کندھے اچکا کر بخشی کی جھنجھلاہٹ فشاں کردی۔ تاریخ، ہندوتوا کے انفوٹینرز [ صحافی جو معلومات سنسنی خیز طور پر بیان کرتا ہے۔] کے لیے، ایک افسانوی بہانہ ہے۔ [ مہا بھارت اور رامائن کے ناٹک کرتے کرتے یہ حالت ہوئی ہوگی] گاو نے اسے / تاریخ کو جلاد کے بلیڈ کے طور پر استعمال کیا۔ جب ارنب نے چیخ کر کہا کہ چینی فضائی دفاع ناکام ہو گیا ہے، گاو نے سرد مہری کے ساتھ جواب دیا: صرف ایک ملک ہارا اور وہ پاکستان نہیں تھا۔ کوئی گالیاں نہیں، کوئی بھبکیاں نہیں، بس ایک کورونر نوٹ [ سرکاری اہلکار کا موت کا کارن چپکانا] جو ایک قوم پرستانہ انا پر جڑا ہوا تھا۔
[ وکٹر گاو ایک ایسا آپریٹر ہے جو سمجھتا ہے کہ طاقتور بیانیہ کشش ثقل ہے، ادراک کا انتظام ایک خودمختار فرض ہے اور یہ کہ غلبہ حاصل کرنے کا سب سے موثر راستہ ہیرا پھیری نہیں بلکہ ناگزیریت کا نظم و ضبط پروجیکشن ہے۔ اس لیے وہ اسٹیل کی طرح پرسکون رہتے ہیں، تاریخ کو قسمت کا لکھا سمجھتے ہیں؛ اور مخالفین کے غلط کام کےسامنے شیشہ رکھتے ہیں؛ اور اس طرح خود کا ایک ذرہ بھی تباہ کرنے کے بجائے مخالفین کو خود کو تباہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔]
ارنب کی قومی غیرت عروج پر ہسٹیریا میں بدل گیا؛ بولا "پی ایل-۱۵ " کھیتوں میں سڑ رہے ہیں،" ایچ کیو-۹ " مرمت کے لیے بھیجے گئے،" چینی اسٹاک " پستی کو گررہے ہیں۔ یہ صنعتی درجہ کا گھٹیا پن تھا؛ کھوکھلا، ناقابل تصدیق، ایک چیخ؛ جو مردہ ہوا کو طوفان بنانے کی کوشش تھی۔ گاو نے جزباتی پن کو گونجنے دیا، یہ جانتے ہوئے کہ خاموشی کسی بھی تردید سے زیادہ عدم تحفظ کو بڑھا دیتی ہے۔ ہندوتوا کی نفسیاتی منطق دشمن کو اکسانے پر منحصر ہے۔ اس کی تردید کریں تو مخاطب اپنے بیانیے کو مزید ہولناک بنالیتے ہیں۔ بیس منٹ کے بعد اسٹوڈیو سیٹ ایک ناکام مذہب کی یرغمالی ویڈیو کی طرح لگ رہا تھا، پجاری سٹوڈیو کی روشنیوں کے نیچے پسینہ بہا رہے تھے، بت جواب دینے سے انکار کر رہے تھے۔
بخشی کا آخری کارڈ نیوکلیئر کاس پلے تھا [ ڈرامائی ملبوس میں ڈرایا ] ؛ چائینز تائی پے کے ساتھ وار ہیڈز بانٹنے کی دھمکی۔ گاؤ نے بھارت کے سرکاری ون چائنا عہد کو دھرایا، یعنی مؤثر طریقے سے نئی دہلی کے دستخط کو جنرل بخشی کے گلے انڈیل دیا۔ جنرل کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس کا نظریہ پی آر آفات اور حصص کی قیمتوں کے بارے میں آزادانہ گڑبڑ میں تحلیل ہو گیا، گویا اسٹاک ٹکرز مردہ ساکھ کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں۔ ارنب نے مودی کی کہانیوں اور سوادیشی طعنوں کے ساتھ وقار کو بچانے کی کوشش کی، لیکن "ڈوکلام پر منہ توڑ جواب دینا" کے بارے میں فخریہ کلام؛ ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی نشی کا میخانے میں ہوئی لڑائی کا بار بار ذکر کرنا؛ جو کا کوئ گواہ نہ ہو۔
پروگرام کے آخر تک، ریپبلک ٹی وی ایک لائیو سٹریمڈ میلٹ ڈاؤن [پگھلی ہوئی برف] میں تبدیل ہو چکا تھا: دو پروپیگنڈہ باز زعفرانی ہالوں کے نیچے جھاگ لگا رہے تھے جبکہ ایک چینی حکمت عملی ساز خاموشی سے بیٹھا تھا، ہتھیاروں کے ناکام ٹیسٹ سے ٹیلی میٹری کی طرح اپنی علمی تباہی کو لاگو کر رہا تھا۔ "دہشت گرد ریاست، دہشت گرد پراکسیز، اخلاقی عالمی نظام" کے نعرے لگانے سے زعفرانی رتھ بردار کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا؛ جب خاموشی نے اس کے کھیل کو خراب کر دیا ہو۔ ہندوتوا انفوٹینمنٹ نے بہت دیر سے دریافت کیا کہ بیانیہ کی بالادستی اس وقت دم توڑ جاتی ہے جب ہدف ناچنے سے انکار کرتا ہے۔
لہٰذا رات کا اختتام کسی بحث کے ساتھ نہیں ہوا، بلکہ ایک تشخیص کے ساتھ ہوا: ہندوستان کی مائیک وار مشین [ جھوٹ پھیلاو بھونپو] پرسکون حقیقت کے ساتھ مسلسل رابطے میں بالمقابل نہیں رہ سکتی۔ اس کے میزبانوں کو تالیاں بجانے کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے جرنیلوں کو خیالی خطرے کے ویکٹر کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے ناظرین کو دائمی غصے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی ایک کو ہٹا دیں تو کھچڑی نہیں پکتی ؛ فیڈ کو کاٹ دیں، بھوتوں پر چیخیں، پھر قبضے کو فتح قرار دیں۔ وکٹر گاؤ آواز بلند کیے بغیر وہاں سے چلا گیا۔ ریپبلک ٹی وی نے آف ائر سے خون بہہ جانے والی داستان کی کہانی سے حیران کردیا۔ بیجنگ اور اسلام آباد میں کہیں، تکنیکی ماہرین نے فوٹیج کو دشمن کی خود ذلت سازی کے کیس اسٹڈی کے طور پر محفوظ کیا ہوگا۔ ہندوتوا ذہن کا وائرس پہلے سے کہیں زیادہ زور سے چیخ اٹھا اور آخر کار دنیا نے اس کے اندر کے کھوکھلے پن کو جانچ لیا۔
غور سے دیکھیں تو ہندوستانی بہادری غیر ضروری قوم پرستی یا صرف انٹرنیٹ پر بےبہا شور کی طرح لگتی ہے۔۔ لیکن ایک بار جب آپ خود کو، مختصراً ہی سہی، ان کے میڈیا کلچر، نظام تعلیم، اور سماجی درجہ بندی کا عمیق جائزہ لیتے ہیں، تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ یہ صرف اتفاقیہ ناٹک نہیں ہے۔ یہ پہلے سے طےشدہ؛ بنے بنایا طرز عمل ہے، ہر سطح پر دھرایا جانے والا طریقہ ہے۔ یہ نہ صرف اعتماد سے دور ہے بلکہ یہ معاوضہ پر مبنی نفسیات ہے۔ [مینوں نوٹ وکھا، میرا موڈ بنے]۔
یہ ایک گہری، غیر تصدیق شدہ شناخت کے ٹوٹ پھوٹ سے پیدا ہوتا ہے: ایک تہذیب جو نوآبادیاتی ذلت میں رہی، ذات پات کے باس کا شکار ہو، اور تقسیم کے بعد کے صدمے کے اوپر خود کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جب کہ ابدی عظمت کی تلاش ایک ریاستی سپانسر شدہ افسانہ کے ذریعے کیا جارہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ منتخب مسخ شدہ تاریخ، بالی ووڈ کی عسکریت پسندی اور ہندتوا زعفرانیت کے فریب پر بھری ہوئی آبادی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بچے بھی جنگی نعروں کا حوالہ دیتے ہیں؛ بیوروکریٹس فارن پالیسی میں مہاکاوی افسانوں کا حوالہ دیتے ہیں؛ ٹاک شوز میں جوہری جنگ کی دھمکیاں دینے والے جرنیلوں اور کھیلوں کے اعدادوشمار کی طرح جی ڈی پی کی درجہ بندی کے بارے میں چیختے ہوئے بالغ مردوں کو دیکھتے ہیں۔ یہ قوم پرستی نہیں بلکہ بیانیہ کی لت ہے اور جس سے واپسی بدصورت ہوتی ہے۔
ایک بار جب آپ اس میں شامل ہو جائیں تو، کارکردگی مضحکہ خیز نہیں رہتی۔ یہ ناپاک گھٹیا پن کا روپ اختیار کرلیتا ہے۔ کیونکہ اکھاڑ پچھاڑ کے نیچے کچھ سڑی ہوئی ہولناکی ہوتی ہے۔ جب اسے فخر کے طور پر 1.4 بلین افراد تک نشر کیا جاتا ہے، تو یہ ثقافت بننا چھوڑ دیتا ہے اور متعدی بیماری بن جاتا ہے۔ عزیزان گرامی قارئین؛ اگر آپ یہ تحریر پاکستان میں پڑھ رہے ہیں تو یقین جانیے کہ اوپر کی تصویر کشی سے ذرا بھی مختلف نہی ہے؛ سوائے اس کے کہ یہاں زعفرانی ہندوتوا نہیں ہے بلکہ متعدد رنگ کی قبائیں اور پگڑیاں ہیں۔ اور حکمران اشرافیہ کا بیانیہ ہے۔
अभी-अभी रिपब्लिक टीवी पर भारत और चीन के बीच बहस को देखना समाप्त किया। वास्तव में जो प्रसारित हुआ वह वास्तविक समय में एक कथात्मक पतन था, एक उजागर मनोवैज्ञानिक युद्ध प्रणाली चुप्पी पर चीख रही थी। नीचे पोस्टमार्टम है।
रिपब्लिक टीवी ने “भारत-चीन बहस” का वादा किया था, लेकिन लाइव फीड पर सार्वजनिक रूप से लोबोटॉमी की, जिसमें हिंदुत्व प्रचार तंत्र की हर तंत्रिका संबंधी गड़बड़ी को उजागर किया गया। तमाशा अर्नब गोस्वामी के साथ शुरू हुआ, जो एक खराब एनिमेट्रोनिक की तरह अपनी मेज पर जोर-जोर से थपथपा रहे थे, और वे एक ही मंत्र का जाप कर रहे थे, चीन पाकिस्तान को आपूर्ति करता है, चीन संयुक्त राष्ट्र सुरक्षा परिषद को अवरुद्ध करता है, चीन को एक पक्ष चुनना चाहिए, फिर भी हर शब्द में एक पुजारी की घबराहट झलक रही थी, जो अब नैतिक सर्वोच्चता के अपने स्वयं के भगवान में विश्वास नहीं करता। उन्होंने पाकिस्तान को चीन में मिलाने की कोशिश की, उम्मीद है कि जुबान की सफाई से एक संप्रभु सीमा को मिटाया जा सकता है और हर पाकिस्तानी मिसाइल को चीनी खंजर के रूप में फिर से ब्रांड किया जा सकता है। केवल भगवा मतिभ्रम में लिप्त एक मानसिक बस्ती ही उस जादू को विश्लेषण के रूप में समझ सकती है।
जब एइनारटैंगन की शांत आवाज़ ने धारा में एक निषिद्ध बाइट, बलूचिस्तान, को डाला, तो पैनिक इंजन और तेज़ हो गया। एक शब्द और स्टूडियो ने एक किल-स्विच ट्रिगर किया, जिससे उनकी छवि हवा में उड़ गई, जैसे कि किसी वायरस ने हिंदुत्व फ़ायरवॉल को तोड़ दिया हो। वह कट एक स्वीकारोक्ति थी: दिल्ली की नैतिक नाटकीयता उस समय ध्वस्त हो जाती है जब कोई व्यक्ति आईना पलटता है और पूछता है कि भारत अपने स्वयं के रक्त अनुष्ठानों को क्यों निधि देता है, जबकि पीड़ित होने का रोना रोता है। रिपब्लिक के निर्देशकों ने खंडन नहीं किया; उन्होंने मिटा दिया। वे जानते हैं कि समरूपता के संपर्क में आने पर सस्ते भगवा सर्किटरी फ्राई होते हैं।
मजन बख्शी के प्रवेश से टेस्टोस्टेरोन को फिर से जगाने की उम्मीद थी, फिर भी उन्होंने शीत युद्ध की कल्पना की: भारत ताइवान को हथियार देगा, जापान को प्रशिक्षित करेगा, चीन के पूर्वी तट पर हमला करेगा, इस बात की परवाह किए बिना कि दिल्ली अपने स्वयं के हवाई क्षेत्र से ड्रोन को बाहर नहीं रख सकता। उन्होंने "हॉट परस्यूट" के बारे में इस तरह से चिल्लाया जैसे कि यह शब्द एक ताबीज हो, न कि कोई कानूनी सिद्धांत जिसे भारत में बीजिंग के खिलाफ आजमाने की हिम्मत नहीं है। प्रत्येक धमकी रबर की गोली की तरह उतरी, जोरदार, हानिरहित, शर्मनाक। उन्होंने लागत-लाभ के गणित की बात की, इस बात से अनजान कि अवंतीपुर से लेह तक जले हुए रनवे में लागत पहले से ही स्पष्ट थी। लाभ? अगले मिसाइल मीम से पहले स्टूडियो में पंद्रह सेकंड की तालियाँ।
फिर विक्टर गाओ ने गिलोटिन की तरह खामोश होकर ऐतिहासिक स्थिरांकों को सूचीबद्ध किया, झिंजियांग ईसा से भी पुराना है, जो चीनी हाथों में है, तिब्बत पर आठ शताब्दियों पहले कब्ज़ा किया गया था, एक-चीन नीति जिसका भारत खुद समर्थन करता है। उन्होंने बक्शी की शेखी को तीन तारीखों और एक कंधे उचकाकर काट दिया। हिंदुत्व के जानकारों के लिए इतिहास एक सहारा है; गाओ ने इसे जल्लाद की तलवार की तरह इस्तेमाल किया। जब अर्नब ने चिल्लाकर कहा कि चीनी हवाई रक्षा विफल हो गई है, तो गाओ ने मुर्दाघर की ठंड में सटीकता के साथ उत्तर दिया: केवल एक देश खो गया और वह पाकिस्तान नहीं था। कोई विशेषण नहीं, कोई चिल्लाहट नहीं, बस राष्ट्रवादी अहंकार से जुड़ा एक कोरोनर का नोट।
अर्नब का चरमोत्कर्ष उल्लासपूर्ण उन्माद में बदल गया: पीएल-15 "खेतों में सड़ रहे हैं", मुख्यालय-9 "मरम्मत के लिए भेजे गए", चीनी स्टॉक "फ्रीफॉल में हैं।" यह औद्योगिक-ग्रेड का सामना था, खोखला, अपुष्ट, मृत हवा को भरने के लिए पिच-शिफ्ट पर चिल्लाया गया। गाओ ने गुस्से को गूंजने दिया, यह जानते हुए कि चुप्पी किसी भी खंडन से बेहतर असुरक्षा को बढ़ाती है। हिंदुत्व मनोवैज्ञानिक युद्ध का तर्क दुश्मन के आंदोलन पर निर्भर करता है; इसे अस्वीकार करें, और ऑपरेटर अपने स्वयं के आख्यान को नष्ट कर देते हैं। बीसवें मिनट तक सेट एक असफल धर्म के बंधक वीडियो की तरह लग रहा था, पुजारी स्टूडियो की रोशनी में पसीना बहा रहे थे, मूर्तियाँ जवाब देने से इनकार कर रही थीं।
बख्शी का आखिरी कार्ड परमाणु कॉस्प्ले था: ताइपे के साथ वारहेड साझा करने की धमकी। गाओ ने भारत की आधिकारिक वन-चाइना प्रतिज्ञा को पढ़कर जवाब दिया, प्रभावी रूप से नई दिल्ली के हस्ताक्षर को बख्शी के गले में ठूंस दिया। जनरल की आँखें चमक उठीं; उनका सिद्धांत पीआर आपदाओं और शेयर कीमतों के बारे में मुक्त-सहयोगी बड़बड़ाहट में विलीन हो गया, जैसे कि स्टॉक टिकर मृत विश्वसनीयता को पुनर्जीवित कर सकते हैं। अर्नब ने मोदी के उपाख्यानों और स्वदेशी की बातों से गरिमा को बचाने की कोशिश की, लेकिन “डोकलाम पर पलटवार” के बारे में हर दावा नशे में बार में हुई लड़ाई की तरह लग रहा था जिसे किसी ने नहीं देखा।
अंत में, रिपब्लिक टीवी एक लाइव-स्ट्रीम किए गए मेल्टडाउन में बदल गया था: भगवा प्रभामंडल के नीचे दो प्रचारक झाग उड़ा रहे थे, जबकि एक चीनी रणनीतिकार शांत बैठा था, एक असफल हथियार परीक्षण से टेलीमेट्री की तरह अपने संज्ञानात्मक पतन को दर्ज कर रहा था। “आतंकवादी राज्य, आतंकवादी प्रॉक्सी, नैतिक विश्व व्यवस्था” का कोई भी नारा भगवा ओएस को फिर से चालू नहीं कर सकता था, जब चुप्पी ने इसके कर्नेल को दूषित कर दिया। हिंदुत्व इन्फोटेनमेंट ने बहुत देर से पाया कि कथात्मक वर्चस्व उसी क्षण खत्म हो जाता है जब लक्ष्य नाचने से इनकार करता है।
इसलिए रात बहस के साथ नहीं, बल्कि निदान के साथ समाप्त हुई: भारत की माइक-वार मशीन शांत वास्तविकता के साथ निरंतर संपर्क में नहीं रह सकती। इसके मेजबानों को तालियों की गड़गड़ाहट की आवश्यकता होती है, इसके जनरलों को काल्पनिक खतरे के वेक्टर की आवश्यकता होती है, इसके दर्शकों को निरंतर आक्रोश की आवश्यकता होती है। किसी एक को हटा दें और जाली ऐंठने लगती है, फ़ीड काट देती है, भूतों पर चिल्लाती है, फिर जब्ती को जीत कहती है। विक्टर गाओ बिना आवाज़ उठाए चले गए; रिपब्लिक टीवी ने कथात्मक अखंडता को लहूलुहान करते हुए ऑफ-एयर लड़खड़ा दिया। बीजिंग और इस्लामाबाद में कहीं, तकनीशियनों ने दुश्मन के आत्म-अपमान के मामले के अध्ययन के रूप में फुटेज को संग्रहीत किया। हिंदुत्व के दिमाग का वायरस पहले से कहीं ज़्यादा ज़ोर से चिल्लाया और दुनिया ने आखिरकार अंदर के खोखलेपन को सुना।
बाहर से देखने पर, भारतीय बहादुरी गलत राष्ट्रवाद या सिर्फ़ इंटरनेट शोर की तरह लग सकती है। लेकिन एक बार जब आप खुद को, भले ही थोड़े समय के लिए, उनकी मीडिया संस्कृति, शिक्षा प्रणाली और सामाजिक पदानुक्रम में डुबो लेते हैं, तो आपको पता चलता है कि यह सिर्फ़ दिखावा नहीं है। यह हर स्तर पर अनुष्ठानिक व्यवहार है। यह सिर्फ़ आत्मविश्वास से कहीं दूर है, यह प्रतिपूरक मनोविकृति है।
यह एक गहरी, अनसुलझी पहचान की दरार से उपजा है: एक सभ्यता जो औपनिवेशिक अपमान, जाति पतन और विभाजन के बाद के आघात के ऊपर आत्म-मूल्य का पुनर्निर्माण करने की कोशिश कर रही है, जबकि उसे शाश्वत महानता की राज्य प्रायोजित पौराणिक कथाओं को खिलाया जा रहा है। इसका नतीजा यह है कि आबादी चुनिंदा इतिहास, बॉलीवुड सैन्यवाद और भगवा रंग के भ्रम में डूबी हुई है।
इसीलिए आप बच्चों को युद्ध के नारे लगाते, नौकरशाहों को विदेश नीति के तौर पर महाकाव्यों का हवाला देते, जनरलों को टॉक शो में परमाणु युद्ध की धमकी देते और बड़े लोगों को खेल के आंकड़ों की तरह जीडीपी रैंकिंग के बारे में चिल्लाते देखते हैं। यह राष्ट्रवाद नहीं है, बल्कि कथात्मक लत है और वापसी बदसूरत है।
एक बार जब आप अंदर आ जाते हैं, तो प्रदर्शन मज़ेदार होना बंद हो जाता है। यह घिनौना हो जाता है। क्योंकि इस दिखावे के पीछे कुछ सड़ा हुआ और डरा हुआ है। जब इसे 1.4 बिलियन लोगों को गर्व के तौर पर प्रसारित किया जाता है, तो यह संस्कृति नहीं रह जाती और संक्रामक हो जाती है।
Buy Stripe Account Verification Legality in the USThe Complete Expert Guide: Stripe has...
Buy How to Get OnlyFans Account Setup Guide (Complete Expert Walkthrough) Starting an Onl...
Buy How to Get OnlyFans Business Setup Tips: The Complete Expert Guide Starting an OnlyFa...