کیا آج سرمایۂ شبیّری میراثِ مسلم ہے؟
The tragedy of Karbala is about Hazrat Imam Hussain (AS) and the unforgettable sacrifices rendered by the clan of Prophet Muhammad (PBUH) in the month of Muharram Ul Haram in 61 AH. This essay reflects that how Hazrat Imam Hussain (AS) at Karbala rejuvenated the religion of his grand father and what is the legacy for a true follower of Islam?
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
کیا آج سرمایۂ شبیّری میراثِ مسلم ہے؟
علامہ محمد اقبال شاعرِ مشرق ہیں اور مصور و مفکر پاکستان بھی ہیں۔ علامہ محمد اقبال ایک عظیم شاعر، فلسفی اور سیاستدان تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری اور فلسفے کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں میں بیداری اور خودی کا احساس پیدا کیا؛ جب ہندوستان پر برطانی سامراج کی حکومت میں سارا ہندوستان ہی غلامی کی زندگی بسر کررہا تھا۔انہوں نے 1930 میں الہ آباد میں ایک علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا، جو بعد میں پاکستان کے قیام کا باعث بنا۔ علامہ اقبال کا پیغام ایک مسلمان ملک کا قیام ہی نہیں تھا بلکہ ایک اسلامی ریاست کے حصول تھا جہاں ایک ایسی حکومت قائم کی جائے جس کی بنا ریاستِ مدینۃ الرسولﷺ ہو جو اہل اسلام کی حقیقی میراث ہے۔ اس میراث میں خلفائے راشدین کا دور حکومت اور حضرت امام حسینؑ کا کربلا میں چھوڑا ہوا سرمایۂ شبیّری ہے۔ مگر کیا آج کا مسلمان اور خاص طور پر پاکستان کا مسلمان اس میراث کا دعوے دار یا اس کے قابل بھی ہے؟
اک فقر ہے شبیّری، اس فقر میں ہے مِیری
میراثِ مسلمانی، سرمایۂ شبیّری!
مندرجہ بالا شعر اقبال کی کتاب بالِ جبریل کی نظم " فَقر" سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں اقبال فرماتے ہیں کہ ایک فقر وہ ہے جس کا نمونہ حضرت امام حسینؑ نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہی وہ فقر ہے جس کے حصول کے بعد انسان ایک مومن کے مرتبے پر پہنچ سکتا ہے؛ اور ایک مومن ہی دنیا میں سرداری کے مرتبہ کے قابل ہوتا ہے۔ اوردینِ اسلام کے پیروکاروں کے لیے پیغامِ کربلا یہ ہے ایک حقیقی مسلمانوں ہی سرمایۂ شبیری کا وارث ہے۔ اسلام کا منشاء اور مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ مسلمان جناب شبیرؑ؛ حضرت امام حسینؑ کے نقشِ قدم پر چل کر دنیا میں حق و صداقت کے علمبردار بن جائیں۔ اور اپنے حق و سچ کی بنیاد پر ایک ایسا معاشرہ ترتیب دیں جس اللہ سبحان تعالی کی منشاء یعنی قرآن مجید کے اصولوں پر کھڑا ہو اور آقا کریم محمدﷺ کی سیرت پاک کا نمونہ ہو۔
یہاں جو اصطلاح فقر استعمال ہوا ہے؛ یہ فقر کیا ہے؟ فقر کے لغوی معنی احتیاج کے ہیں۔ عام طور پر اس سے تنگ دستی' غربت' مفلسی اور ناداری مراد لی جاتی ہے۔ دینِ اسلام میں " فقر" سے وہ راہ یا وہ طریقہ مراد ہے جو بندے اور اللہ کے درمیان سے تمام حجابات کو ہٹا کر بندے کو اللہ کے دیدار اور وصال سے فیض یاب کرتا ہے۔ ”فقر” دراصل دینِ اسلام کی حقیقت ہے۔ ''فقر'' یعنی روح کے اللہ تعالیٰ سے قرب کی وہ انتہا جہاں روح اللہ کا دیدار اور اللہ سے وصال کی تکمیل پاتی ہے'۔ آقا کریم محمدﷺ نے فرمایا ہے کہ " فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے اور فقر ہی کی بدولت مجھے تمام انبیا و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے" ۔ تو امت مسلمہ کو بھی فضیلت فقر کے باعث ہی حاصل ہوگا۔ پھر کیسے حاصل کریں "فقر" کا مقام؟
علامہ محمد اقبال نے اپنی کتاب "رموزِ بیخودی" میں ایک قطعہ لکھا ہے؛ فرمایا ہے کہ
ماسوی اللہ را مسلمان بندہ نیست
پیش فرعونی سرش افکندہ نیست
خون او تفسیر این اسرار کرد
ملت خوابیدہ را بیدار کرد
اقبال نے کہا ہے کہ "مسلمان خدا کے سوا کسی کا غلام نہیں ہو سکتا؛ اس کا سر کسی فرعون کے آگے نہیں جھک سکتا؛ امام حسینؑ کے خون نے یہ راز کھول دیا؛ ملت جو سو رہی تھی، اسے جگا دیا"۔ مولانا محمد علی جوہر نے کہا ہے کہ " اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد" جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کربلا ختم نہیں ہوا بلکہ بار بار پیش آسکتا ہے۔ کیونکہ اس دنیائے فانی میں انسان صرف دورِ امتحان میں ہے اور ابلیس اپنے چیلوں کے سنگ ایسے حوادث کو جنم دیتا رہتا ہے؛ جہاں ایک مسلمان کو کربلا جیسی صورتحال پیش ہوتی ہے۔ آج کا مسلمان گرچے پچھلی صدی کی طرح نوآبادیاتی غلامی میں تو نہیں ہے مگر ایک اندیکھی نفس کی غلامی کا شکار مادیت پرستی میں مست سورہا ہے۔ یہ صریح غلامی منافقت کی منزل ہے اور گمراہی کا سبب بنی ہوئی ہے۔
نقش الا الله بر صحرا نوشت
سطر عنوان نجات ما نوشت
علامہ اقبال نے حضرت امام حسینؑ کے کربلا پر کہا ہے کہ امام عالی مقام نے ”الا اللہ “ کا نقش صحرا پر لکھا / کھینچا اور اس طرح ہماری نجات کے عنوان کی سطر لکھ دی۔ اپنی شہادت سے انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود یا طاقت نہیں ہے۔ سو آج کے مسلمان کو چاہیے کہ اپنے دل و دماغ سے خوف کا بت توڑ دے؛ اور جان لے کہ اللہ کے سوا کوئی اس کا پالنہار اور مددگار نہیں ہے؛ اور یہ زندگی محض دور امتحان ہے اور اس دنیا کی کامیابی اطیع اللہ و اطیع الرسول کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کربلا میں حضرت امام حسینؑ نے یہی عمل کرکے دکھایا اور اپنی ذات کے ساتھ ساتھ پورا خانوادہ بھی شہید کروایا؛ اور حضرت امام حسینؑ کا یہ عمل امتِ مسلمہ کے لیے نجات کا باعث بن سکتا ہے اگر ہم اسے اپنا حرزِ جان بنالیں۔
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر
پروفیسر حمید اللہ ہاشمی نے اقبال کی کتاب ضربِ کلیم کی نظم " نصیحت" کے اوپر کے شعر کی کچھ اس طرح تشریح کی ہے کہ "غلاموں کو ہمیشہ کے لیے محکوم رکھنے کا جو طریقہ تلوار سے بڑھ کر کارگر ہے (جو حاکم قوم کے سینے میں محفوظ ہوتا ہے) وہ یہ ہے کہ ان غلاموں کو ایسا نظام تعلیم دو کہ جس سے وہ اپنی شناخت کو بھول کر حاکموں کے طور طریقوں کو اپنا لیں۔ اس طریقہ کار کو فرنگی لارڈ نے ایک ایسا تیزاب کہا ہے کہ جب غلام قوم کے لوگوں کی خودی اس میں ڈالی جائے گی تو وہ ایسی ملائم ہو جائے گی کہ حاکم اسے جس سمت پھیرنا چائے پھر جائے گی۔ اور تعلیم کا یہ تیزاب ان غلاموں کے حق میں تانبے یا مٹی کو سونا بنانے کی بجائے اور الٹ کام کرے گا اور وہ یہ کہ وہ نظام تعلیم ان لوگوں کے مضبوط عقائد اور خود شناس شخصیتوں کے سونے کے ہمالہ کو مٹی کا ڈھیر بنا کر رکھ دے گا اور یہ بات پچھلی ڈیڑھ دو صدی کے انگریزی نظام تعلیم کے حصول سے ثابت بھی ہو چکی ہے اور اس حد تک ثابت ہو چکی ہے کہ سیاسی آزادی کے باوجود بر صغیر کے لوگ مغربی تہذیب، تمدن اور ثقافت کے رنگ میں ڈھل چکے ہیں اور ان کی اپنی آزادانہ شناخت ختم ہو چکی ہے"۔ پروفیسر حمید اللہ ہاشمی نے اس تشریح کے ذریعے آج کے مسلمان کے مسئلے کی تشخیص کردی ہے۔
ہزار چشمہ ترے سنگِ راہ سے پُھوٹے
خودی میں ڈُوب کے ضربِ کلیم پیدا کر
علامہ محمد اقبالؒ نے حکیم الامت ہونے کا حق ادا کیا اور اس مسئلہ کا حل بھی بیان کیا ہے۔ اقبالؒ نے ضربِ کلیم میں ایک شعر میں فرمایا ہے کہ "مرد مومن اپنی پہچان، مقام اور مرتبے کے ساتھ خودی، خودشناسی اور قوتِ ایمانی کی صفات سے بہرور ہو کر میدانِ عمل میں آئے تو آج بھی وہ وہی کچھ کر سکتا ہے جو حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ کے عصا کا اعجاز تھا۔ اقبال ؒکہنا یہ چاہتے ہیں کہ مرد مسلماں خودی کے جذبے سے سرشار ہو کر آج کے دور کے فرعونوں کا ضربِ کلیم بن کر مقابلہ کر سکتا ہے"۔ اس کو آسانی سے یوں کہہ سکتے ہیں کہ جس تعلیمی نظام کو انگریز نے پراگندا کردیا ہے اسے بدل ڈالیں اور ایک ایسا تعلیمی نظام ترتیب دیں جو مسلمان بچے کو مرد مومن بنائے؛ جو اسے اپنی خودی سے آشناء کرے اور اس کو اپنی ذات کی پہچان کرائے ؛ اللہ تعالی کے نظام میں اپنے مقام اور مرتبے کا احساس دلائے؛ یعنی قوت ایمانی کا حامل خود شناس ہو۔ ایسا انسان آقا محمدﷺ کا حقیقی عاشق رسول اور غلام بن جائے گا۔ اور یقین جانیے کہ جب ایک حقیقی عاشقِ رسول محمد ﷺ میدان عمل میں اترے گا تو انشاء اللہ اس کا عمل باقی دنیا کے لیے معجزات ہی ہونگے۔
صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبر حُسینؓ بھی ہے عشق
معرکۂ وجُود میں بدر و حُنَین بھی ہے عشق
جناب اسرار زیدی نے اس شعر پر رائے دی ہے کہ " یہ عشق ہی تھا جس کی بدولت حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے سچائی اور راست بازی کا رتبہ بلند حاصل کیا ۔ امام عالی مقام حضرت امام حُسینؓ نے کربلا کے میدان میں جو قربانیاں دیں اور تین روز کی بھوک اور پیاس کے باوجود لشکر یزید کے خلاف علم جہاد بلند کر کے سر کٹوایا اور زندگی کے آخری مرحلے تک صبر و شکر کا مظاہرہ کیا تو یہ سارا عمل عشق حقیقی کا ہی مرہون منت تھا ۔ پیغمبر اسلام حضور سرور کائنات نے بدر و حنین کے معرکوں میں کفار کو زیر کر کے جو کامیابیاں حاصل کیں وہ بھی عشق حقیقی کے سبب کیں" ۔
جناب یوسف سلیم چشتی نے اس بابت کہا ہے کہ " اقبال کہتے ہیں دیکھ لو! اسی عشق کی بدولت، حضرت ابراہیم ظالم بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہہ سکے، اور حضرت امام حُسینؓ کربلا کے میدان میں صبر و استقامت کا بینظیر نمونہ دکھا سکے۔ اور صحابہ کرام جنگِ بدر اور جنگِ حنین میں اس شان کے ساتھ باطل کا مقابلہ کر سکے۔ واضح ہو کہ اس مصرع میں بدر و حنین سے وہ مخصوص غزوات مراد نہیں ہیں جو2 اور 8 ہجری میں واقع ہوئے بلکہ معرکۂ وجود میں کامیابی مراد ہے۔ اور معرکۂ وجود سے حق و باطل میں وہ آویزش (جھگڑا) مراد ہے جو ابتدائے آفرینش(تخلیق) سے چلی آ رہی ہے۔ چنانچہ اقبال بالِ جبریل کی نظم ذوق و شوق میں خود کہتے ہیں کہ معرکۂ حق و باطل جو اس کائنات میں ہمیشہ سے سر گرمِ رہا ہے اور رہے گا۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سےشرارِ بو لہبی
وجود، منطق اور فلسفہ کی اصطلاح بھی ہے، لیکن یہاں اقبال نے اس لفظ کو کائنات کے معنی میں استعمال کیا ہے۔
اختتامی کلمات
امام عالی مقام حضرت امام حُسینؓ نے کربلا کے میدان میں ایک بےمثال قربانی پیش کی تھی۔ اور اللہ سبحان تعالی کی حاکمیتِ اعلی کے تحت اسلامی ریاست میں ابلیسی مداخلت کے خلاف سپر آزماء ہوئے تھے۔ امام عالی مقام حضرت امام حُسینؓ نے بھوک اور پیاس کی حالت میں لشکر یزید کے خلاف علم جہاد بلند کر کے سر کٹوایا اور زندگی کے آخری مرحلے تک صبر و شکر کا مظاہرہ کیا۔ یہ مقامِ شبیّری میراث ہے ہر مسلمان کی؛ خواہ کہیں کا بھی مقیم ہو اور کیسی ہی زندگی کیوں نہ گذار رہا ہو۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے وہ ہم اس پر عمل پیرا ہوں۔ ہم نے اگر اس میراث کو نہیں پایا تو کل اُخروی زندگی میں کامیابی کیسے ملےگی؟