Muhammad Asif Raza 3 weeks ago
Muhammad Asif Raza #education

کتب : تہزیب کی بنیاد

Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Fiction is defined as any creative literary or narrative work that portrays imaginary characters, settings, and events. Books are the basis of human civilization. If history is studied, it is known that the relationship of the book and civilization is like the soul and the body. This write up "کتب : تہزیب کی بنیاد" is a fictional story about a discussion in a family about books and knowledge.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


کتب : تہزیب کی بنیاد

کتابیں انسانی تہذیب کی بنیاد ہیں۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کتاب اور تہذیب کا رشتہ روح اور جسم جیسا ہے۔ انسانی تہذیب اس لیے ترقی کر سکی کیونکہ ایک نسل نے اپنا علم، سائنسی ایجادات، اور فلسفہ کتابوں کی شکل میں اگلی نسل تک پہنچایا۔ اگر کتابیں نہ ہوتیں تو ہر نسل کو پہیے کی ایجاد سے لے کر جدید سائنس تک کا سفر دوبارہ صفر سے شروع کرنا پڑتا۔

دنیا کے بڑے بڑے انقلابات، چاہے وہ فرانسیسی انقلاب ہو یا صنعتی انقلاب، ان سب کے پیچھے کتابوں اور نظریات کا ہاتھ تھا۔ کتابیں انسان کو سوچنے، سوال کرنے اور معاشرے کو بہتر بنانے کا شعور دیتی ہیں۔ انسانی سماج کو جنگل کے قانون سے نکال کر ایک مہذب معاشرہ بنانے میں کتابوں (خاص طور پر آسمانی کتابوں اور قانونی دستاویزات) کا سب سے بڑا کردار ہے۔ انہوں نے انسان کو حقوق، فرائض اور انصاف کا تصور دیا۔ ایک ترقی یافتہ قوم میں ایسے خاندان ضرور ہوتے ہیں جہاں کتابیں اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اور انکی زندگی کا خاصہ ہوتی ہیں۔


ایسا ہی ایک خاندان احمد صاحب کا بھی ہے؛ جہاں خاندان کے دیگر افراد کی گفتگو کا محور بھی کتابوں کے گرد رہتا ہے۔ شام کی چائے کے بعد کا وقت عموماً ہلکی پھلکی گپ شپ کا ہوتا ہے، لیکن اس گھرانے کی شام ہمیشہ منفرد ہوتی تھی۔ احمد صاحب (والد) جو پیشے کے لحاظ سے استاد تھے، اپنی عینک درست کرتے ہوئے لاؤنج کی میز پر بیٹھے تھے۔ عذرا بیگم (والدہ) چائے کی پیالیاں سمیٹ رہی تھیں، جبکہ ان کے دونوں بیٹے—ہارون (بڑا بیٹا، جو ادب کا طالب علم تھا) اور دانیال (چھوٹا بیٹا، جو میڈیکل کا طالب علم تھا)—میز کے گرد موجود تھے۔

بحث کا آغاز ہارون کے ایک گہرے جملے سے ہوا، جس نے چائے کی عام نشست کو ایک خوبصورت فکری مباحثے میں بدل دیا۔

ہارون (بڑی سنجیدگی سے): "ابا! میں آج ہرمن ہیسے کی صوفیانہ شاعری کا مجموعہ 'دی سیزنز آف دی سول' پڑھ رہا تھا۔ اس میں ایک نظم ہے 'کتب' (بکس)۔ ہیسے کہتا ہے کہ دنیا کی تمام کتابیں مل کر بھی انسان کو وہ سچی خوشی نہیں دے سکتیں جس کی تلاش میں وہ بھٹک رہا ہے، کیونکہ اصل دانشمندی اور روشنی انسان کے اپنے اندر سے پھوٹتی ہے"۔۔۔۔

دانیال (مسکراتے ہوئے، چائے کا گھونٹ لے کر): "بھائی! اگر سب کچھ اندر ہی موجود ہے، تو پھر ہم دن رات میڈیکل اور سائنس کی موٹی موٹی کتابیں کیوں چاٹتے ہیں؟ پھر تو لائبریریاں اور یونیورسٹیاں بند کر دینی چاہئیں! ذرا ہم بھی تو سنیں کہ اس نظم میں ایسا کیا لکھا ہے؟"۔۔

ہارون (میز پر رکھی کتاب کھولتا ہے اور گہری، پرکشش آواز میں نظم پڑھنا شروع کرتا ہے):۔۔


"دنیا بھر کی کتابیں؛

آپ کو خوشی تو نہیں دیتیں؛

مگر آپ کے دل کی جانب؛

ایک خفیہ راستہ تعمیر کرتی ہیں۔

جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے وہ آپ کے اندر ہی موجود ہے؛

سورج، ستارے، چاند؛

اور وہ روشنی جس کی آپ کو تلاش تھی؛

وہ آپ کے اپنے اندر سے ہی پھوٹتی ہے۔

حکمت کی جستجو نے؛

آپ کو کتب خانوں کی خاک چھاننے پر مجبور کیا۔

اب ہر صفحہ وہی سچ بولتا ہے؛

جو آپ کے اپنے وجود سے جھلکتا ہے۔"۔۔


نظم ختم ہوتے ہی لاؤنج میں چند لمحوں کے لیے ایک گہرا سکوت چھا گیا۔ دانیال جو پہلے مسکرا رہا تھا، اب کچھ سوچنے لگا۔

احمد صاحب (محبت سے مسکراتے ہوئے ہارون کو دیکھتے ہیں): "بہت خوبصورت انتخاب ہے ہارون! دیکھو دانیال، ہرمن ہیسے یہاں کتب بینی کی نفی نہیں کر رہا، بلکہ وہ مطالعے کے اصل مقصد کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ تم سائنس پڑھتے ہو، سائنس تمہیں کائنات کے مادی قوانین سکھاتی ہے، لیکن جینے کا ڈھنگ، محبت، دکھ، اور اپنے اندر کے انسان کو سمجھنے کا شعور ہمیں ادب اور فلسفہ دیتا ہے۔ جیمز بالڈون نے ایک بار کہا تھا کہ جب انسان یہ سمجھتا ہے نا کہ اس کا درد اور دل شکنی دنیا میں سب سے منفرد ہے، تو وہ مطالعہ کرتا ہے اور اسے پتا چلتا ہے کہ تاریخ میں کروڑوں لوگ اسی درد سے گزر چکے ہیں۔ کتابیں ہمیں تنہائی کے احساس سے نکالتی ہیں۔"۔۔


عذرا بیگم (بحث میں شامل ہوتے ہوئے): "احمد! آپ کی بات درست ہے، مگر فرانسیسی ادیب مارسیل پروست کا ایک قول میں نے آپ کی ہی ایک مضمون میں پڑھا تھا کہ 'کسی کتاب کی حکمت کا اختتام، ہمیں محض اپنی حکمت کے آغاز کے طور پر دکھائی دیتا ہے'۔ اس کا مطلب بھی تو یہی ہوا نا کہ کتاب مصنف کا آخری نقطہ ہو سکتی ہے، لیکن قاری کے لیے وہ صرف ایک شروعات ہے؟"۔۔۔


ہارون (جوش سے): "جی امی! بالکل یہی! پروست اور ہیسے دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ بیرونی دنیا کا تمام علم صرف اس وقت کارآمد ہوتا ہے جب وہ ہمارے باطن کے سوئے ہوئے شعور کو بیدار کرے۔ کتاب پڑھتے ہوئے جب ہمیں کوئی جملہ بہت متاثر کرتا ہے، تو دراصل ہم کوئی نئی چیز نہیں سیکھ رہے ہوتے، بلکہ اپنے ہی اندر پہلے سے موجود کسی سچائی کو پہچان رہے ہوتے ہیں جسے ہم پہلے الفاظ نہیں دے پا رہے تھے"۔۔۔۔


دانیال (فکری انداز میں): "ہمم... یعنی سائنس باہر کی دنیا کی مادی حقیقتیں دکھاتی ہے، اور یہ کتابیں ہمیں ہمارے اندر کا آئینہ دکھاتی ہیں۔ لیکن ابا، یہ سفر ختم کہاں ہوتا ہے؟ ہم اندر کی کائنات کو پہچان کر آخر کہاں پہنچیں گے؟"۔۔۔


احمد صاحب (ان کا چہرہ ایک خاص روحانی نور سے چمک اٹھا): "بہت خوبصورت سوال کیا تم نے دانیال۔ یورپ کے ان مفکرین کی عقل اور فلسفہ جہاں آ کر رک جاتا ہے، وہاں سے ہماری سچی الہامی کتاب، یعنی قرآنِ مجید کا سفر شروع ہوتا ہے۔ قرآن انسان کو آفاق (کائنات) اور انفس (باطن) دونوں میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ 'عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ وہی حق ہے"۔۔۔


عذرا بیگم (سرسراتی آواز میں): "سبحان اللہ! صوفیائے کرام بھی تو یہی کہتے ہیں کہ 'من عرف نفسہ فقد عرف ربہ' یعنی جس نے اپنی ذات کو پہچانا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا"۔۔۔


احمد صاحب (بات کو سمیٹتے ہوئے): "بالکل عذرا! جب انسان کتب بینی سے اپنی عقل کو جلا بخشتا ہے، تو وہ اپنے عجز اور روح کی پیاس کو محسوس کرتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ وہ خود مختار نہیں بلکہ کسی مالکِ حقیقی کا محتاج ہے۔ دنیا کی کتابیں ہمیں اپنے باطن کا راستہ دکھاتی ہیں، مگر قرآنِ کریم ہمارا ہاتھ تھام کر ہمیں سیدھا خالقِ کل کی چوکھٹ تک لے جاتا ہے۔ اس لیے میرے بچو! کتب بینی کو اپنا مشغلہ بناؤ تاکہ عقل وسیع ہو، اور قرآن کو حرزِ جان بناؤ کیونکہ یہی انسان کی حقیقی فلاح کا ابدی نسخہ ہے۔"

لاؤنج میں ایک پُرٹھہراؤ خاموشی چھا گئی۔ چائے کی اثر زود آور ہو چکا تھا، اور چاروں دلوں میں علم اور باطنی روشنی کی ایک نئی شمع روشن ہو چکی تھی۔ ادھر احمد صاحب کو فکر لاحق ہوئی کہ گھر کی لائبریری میں الماریوں کا اضافہ کرنا ہوگا۔۔۔

0
143
"My Child! Hold the Pen with Care"

"My Child! Hold the Pen with Care"

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
19 minutes ago

What a Grain Is, and Why 50, 55, 62, 130 and 168 Keep Showing Up on th...

A grain is 1/7000 of a pound. Choosing a bullet weight is mostly a matter of what your bar...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocJikOo2vcdbvkEF44AHPWfTK57DqQ38AOfGrBWaRQ7tMrYPAA=s96-c
zab nab
1 hour ago
The Robust Kick of the Mother Tongue

The Robust Kick of the Mother Tongue

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
1 hour ago

Furadeira de Impacto: Como Escolher, Utilizar e Aproveitar Seus Benefí...

Furadeira de Impacto: Como Escolher, Utilizar e Aproveitar Seus Benefícios

defaultuser.png
Alexistogel Slot Online
2 hours ago
Lest We Be Not Humans

Lest We Be Not Humans

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
2 hours ago