قطع رحمی ظلم ہے؛ ایثار سیکھیں

Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Religion is a force multiplier for any believer of a religion. Relationship among fellow humans is an important societal function and it is said that kindness is the pillar of true family bonding. This story in Urdu "قطع رحمی ظلم ہے؛ ایثار سیکھیں" is about the blood relationship as explained through Quranic and Prophetic sayings for practical application in real life.

Sep 20, 2026 - Muhammad Asif Raza

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


قطع رحمی ظلم ہے؛ ایثار سیکھیں


یہ کہانی دو سگے بھائیوں، احمد اور اسلم کی ہے، جو اپنی عمر کی چالیس بہاریں دیکھ چکے تھے یعنی چالیس کے پیڑھے سے کافی اوپر ہو چکے تھے۔ عمر کے اس حصے میں جہاں انسان کو زیادہ سنجیدہ اور بردبار ہونا چاہیے، وہ دونوں ایک ہی گھر کی چھت تلے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے لیے بالکل اجنبی بن چکے تھے۔ ہوا یوں تھا کہ ایک دن کسی معمولی دورانِ گفتگو ترشی کے معاملے پر ایسی تلخی بڑھی کہ دونوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ مکمل بند ہو گیا۔

اسی گھر کے ایک کمرے میں ان کی بوڑھی ماں رہتی تھی، جس کا دل اپنے دونوں بیٹوں کو یوں آمنے سامنے سے خاموش گزرتے دیکھ کر خون کے آنسو روتا تھا۔ وہ اکثر راتوں کو مصلے پر بیٹھ کر روتی اور خدا سے دونوں میں صلح کی دعا مانگتی۔ اس ذہنی تناؤ نے ماں کو وقت سے پہلے مزید ضعیف اور بیمار کر دیا تھا۔

ایک دن، ان کی بڑی بہن، عائشہ، اپنی ماں کی عیادت کے لیے گھر آئی۔ ماں کو نڈھال دیکھ کر اس نے وجہ پوچھی، تو ماں نے روتے ہوئے سارا ماجرا سنا دیا:۔

انہوں نے کہا کہ "عائشہ بیٹی! میں اس گھر میں جیتے جی مر رہی ہوں۔ احمد اور اسلم ایک دوسرے کا منہ تک نہیں دیکھتے۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں لیکن اجنبیوں کی طرح۔ میری ہڈیاں اب جواب دے رہی ہیں، میری بس یہی خواہش ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے بچوں کو ایک ہوتے دیکھ لوں"۔۔


عائشہ کا دل بھر آیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ آج ان بھائیوں کی بڑی بہن ہونے کا حق ادا کرے گی۔ شام کو جب دونوں بھائی کام سے لوٹے، تو عائشہ نے دونوں کو ماں کے کمرے میں چائے کے بہانے بلا لیا۔ احمد اور اسلم ایک دوسرے کو دیکھ کر ہچکچائے، لیکن بڑی بہن کے احترام میں بیٹھ گئے۔

عائشہ نے چائے کی پیالیاں رکھیں اور انتہائی سنجیدگی اور محبت سے کہنا شروع کیا؛ "احمد اور اسلم! میرے ماں جائیو؛ تم دونوں اب چالیس سال کے کافی اوپر ہو چکے ہو۔ زندگی کا آدھا سفر طے کر چکے ہو اور اب خود اپنی اولادوں والے ہو۔ کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ تمہاری اس انا اور خاموشی کا اثر تمہاری بوڑھی ماں پر کیا ہو رہا ہے؟ وہ جو تمہیں بچپن میں ایک ہی تھالی میں کھانا کھلاتی تھی، آج اسی گھر میں تنہا روتی ہے۔ تم دونوں قطع رحمی (رشتہ داری توڑنے) اور ماں کا دل دکھانے کے جرم کا شکار ہو رہے ہو"۔۔۔


دونوں بھائیوں نے شرمندگی سے سر جھکا لیے، لیکن انا اب بھی حائل تھی۔ احمد نے دبی آواز میں کہا، "باجی، اس دن گفتگو کے دوران اسلم کے لہجے کی ترشی سب نے دیکھی تھی، شروعات اس نے کی..."۔۔۔

عائشہ نے انتہائی شفقت سے احمد کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا؛ "میرے بھائیوں! تم جانتے ہو کہ تم کتنے بڑے نقصان کی طرف بڑھ رہے ہو؟

رسول اللہ ﷺ کا فرمان یاد کرو، آپ ﷺ نے فرمایا تھا: 'ہر گناہ کی سزا اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو قیامت تک مؤخر فرما دیتا ہے، مگر: ظلم و سرکشی، والدین کی نافرمانی، اور قطع رحمی (رشتہ داری توڑنا)، کی سزا اللہ تعالیٰ موت سے پہلے دنیا ہی میں دے دیتا ہے' (بخاری)۔ کیا تم چاہتے ہو کہ تمہاری زندگیوں سے برکت ختم ہو جائے اور خدا کا عذاب دنیا ہی میں آ جائے؟"۔

کمرے میں گہرا سناٹا چھا گیا۔

عائشہ نے بات جاری رکھتے ہوئے اسلم کی طرف دیکھا اور کہا؛"اور اسلم! اگر تم سمجھتے ہو کہ تم سچے ہو، تو بھی جھک جاؤ۔ کیونکہ عاجزی ہی مومن کا شیوہ ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'بے شک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ تم لوگ آپس میں اتنی عاجزی اور تواضع اختیار کرو کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر ظلم و زیادتی کرے۔' تو پھر یہ فخر اور انا کیسی؟"۔۔

دونوں بھائیوں کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔

عائشہ نے دونوں کا ہاتھ تھاما اور آخری ضرب لگاتے ہوئے کہا؛ "تم دونوں میں سے جو بھی پہلے صلح کے لیے ہاتھ بڑھائے گا، اس کا درجہ خدا کے ہاں بہت بڑا ہوگا۔ پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: 'کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو درجے میں روزے، نماز اور زکوۃ سے بڑھ کر ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: آپس میں صلح کرا دینا' (سنن ابو داوود)۔"۔۔۔


پھر عائشہ نے انہیں ایک عرب دیہاتی کا سچا واقعہ سنایا:-۔

"ایک بار ایک عرب دیہاتی نے قرآن کی معافی اور صلح سے متعلق ایک آیت سنی۔ وہ آیت اس کے دل میں ایسی اتری کہ وہ فوراً کھڑا ہوا، اپنے پرانے دشمن کے پاس گیا جس سے اس کی پرانی ناراضی تھی اور محبت سے کہا: 'میرے بھائی! السلام علیک ورحمۃ اللہ!' اور ان کی دشمنی ختم ہو گئی۔ تم دونوں تو سگے بھائی ہو، ایک ہی ماں کا دودھ پیا ہے۔ کیا تمہاری انا خدا اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات سے بھی بڑی ہے؟"۔۔


احادیث مبارکہ کے ان نورانی کلمات، ماں کی سسکیوں اور عائشہ کی مخلصانہ باتوں نے چالیس سال سے اوپر کے ان پختہ مردوں کے دلوں کی جمی ہوئی برف کو پگھلا دیا۔ دونوں کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو جاری ہو گئے۔

احمد اپنی جگہ سے فوراً کھڑا ہوا اور اس نے اسلم کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے روتی ہوئی آواز میں کہا؛ "میرے بھائی! السلام علیک ورحمۃ اللہ! مجھے معاف کر دے، مجھ سے بڑی بھول ہوئی۔"۔۔

اسلم نے تڑپ کر کھڑے ہو کر احمد کا ہاتھ تھاما، اسے سینے سے لگا لیا اور روتے ہوئے بولا؛"وعلیک السلام ورحمۃ اللہ! اللہ مجھے اور آپ کو معاف فرمائے، بھائی۔"۔۔


ماں نے جب اپنے بیٹوں کو اتنے عرصے بعد گلے ملتے دیکھا، تو اس کے چہرے پر زندگی کی سب سے بڑی مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے روتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر عائشہ کے سر پر رکھے اور اپنے بیٹوں کو گلے سے لگا کر دعائیں دینے لگی۔ اس دن اس گھر کا بند دروازہ اور دلوں کی نفرت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔

حاصلِ کلام

آخر کو ہم آدم کے بیٹے اور اولاد ہیں، اور ہم سب نے ایک دن مٹی میں مل کر فنا ہو جانا ہے۔ پھر یہ تلخی کیونکر؟ یہ خدا سے بغاوت نہیں تو پھر کیا ہے؟ جس نے ساری امتِ محمد ﷺ کو بھائی بھائی قرار دیا ہے۔ تو پھر رحمِ مادر سے جڑا یہ سگا رشتہ کیسے توڑا یا مکروہ کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہمیں اس کی سزا معلوم نہیں؟

یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انا، ضد اور گفتگو کی ترشی عارضی ہیں، لیکن خون کے رشتے اور ماں کی دعا دائمی ہیں۔

دنیا کی کوئی بھی ناراضی اتنی بڑی نہیں ہو سکتی کہ اس کے لیے خدا اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کو پسِ پشت ڈال دیا جائے۔

More Posts