India and Pakistan came into being in 1947 after partition of British India and both the countries are in constant conflict since then. The two countries again tested military muscles after Pahalgam terror attack on 22 April 2025. India's Operation Sindoor of 7 May 2025 and Pakistan's Operation Bunyanun Mursoos of 10 May 2025 consisted of mostly action in the air of Kashmir between two air forces. This write up in Urdu "کشمیر کی فضاوں میں کیا ہنگامہ برپا ہوا؟" is an opinion about the same event.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
کشمیر کی فضاوں میں کیا ہنگامہ برپا ہوا؟
امریکی ایرو اسپیس ماہر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مدغم فضائی جنگی (انٹیگریٹڈ ایئر وارفیئر) صلاحیتوں نے اسے بھارت پر برتری دلائی۔
کہتے ہیں کہ پاکستان نے اپنے لڑاکا طیاروں اور ہوائی جہاز سے قبل از وقت انتباہی (ارلی وارننگ) دینے والے طیاروں کے ساتھ زمینی بنیاد پر ریڈارز کو مربوط کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے تفریحی مقام پہلگام میں مورخہ 22 اپریل 2025 بروز منگل کی شام ایک سانحہ ہوا جس میں 27 افراد کی ہلاکت ہوئی۔ اس کے بعد اس ماہِ مئی6/7 کی رات کو بھارت نے اپنے تئیں پاکستان کے اندر دہشتگردی کے ٹھکانوں پر "آپریشن سندور" نامی ہوائی میزائل حملہ کیا۔ دنیا کے دفاعی ماہرین کی رائے میں اس رات پاکستان ائیرفورس اور انڈین ائیر فورس کا تصادم دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی ایسی ڈاگ فائٹ ہوئی؛ جس کی پہلے کوئی مثال نہیں تھی۔ وہ صرف 59منٹ کا اعصاب شکن معرکہ تھا جس میں پاکستان ائیرفورس نے پانچ طیارے شکار کئے۔
اس رات ایک ایسی پیشرفت ہوئی جو جنوبی ایشیا میں تزویراتی بحث کو نئی شکل دے رہی ہے، ایک سرکردہ امریکی ایرو اسپیس تجزیہ کار نے مربوط فضائی جنگ میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی ہے؛ اور یہ دلیل دی ہے کہ چین کی طرف سے فراہم کردہ ریڈار اور ہتھیاروں کے نظام کے مؤثر انضمام نے پاکستان کو فضائی محاذ آرائی میں بھارت پر ایک اہم برتری فراہم کی ہے۔
ایئر اینڈ اسپیس فورسز میگزین میں شائع ہونے والے تبصروں میں اور ڈیفنس سیکیورٹی ایشیا کے ایک ماہر کی رائے رپورٹ کیا گیا۔ مچل انسٹی ٹیوٹ فار ایرو اسپیس اسٹڈیز کے ایک سینئر فیلو "مائیکل ڈہم" نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اور حقیقی وقت میں "کِل چین" کو موثر کرنے میں پاکستان کی صلاحیت کو سراہا۔
[ مچل انسٹی ٹیوٹ فار ایرو اسپیس اسٹڈیز کے ایک سینئر فیلو "مائیکل ڈہم" نے کہا کہ پاکستان لڑاکا طیاروں اور ہوائی جہاز کے (ارلی وارننگ) ابتدائی انتباہی طیاروں کے ساتھ زمینی استادہ ریڈارز کو مربوط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔]۔
"مائیکل ڈہم" نے چائنا اسپیس نیوز کی 12 مئی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا — جو بیجنگ کے دفاعی صنعتی کمپلیکس کے ساتھ منسلک ایک اشاعت ہے — جس میں ایک حالیہ آپریشن کی وضاحت کی گئی ہے؛ جس میں پاکستان ائرفورس کے اثاثوں نے مربوط نظاموں کا استعمال کرتے ہوئے؛ ایک ہندوستانی طیارے کو ٹریک کیا، نشانہ باندھا اور اسے بے اثر کیا۔ انہوں نے اس عمل کو "بی" کو "اے" نے اچھالا اور جسے "سی" کی طرف سے ہدایت ملی " کے طور پر بیان کیا۔ ایک ملٹی پلیٹ فارم اٹیک لوپ کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ جس میں زمینی ریڈار، لڑاکا طیارے، اور ہوا سے چلنے والے ابتدائی وارننگ اور کنٹرول سسٹم (اے ای ڈبلیو اینڈ سی) شامل ہیں۔
"مائیکل ڈہم" نے وضاحت کی کہ پاکستان کو فائدہ پلیٹ فارم کی برتری سے نہیں ملی؛ بلکہ اس کی صحیح وجہ سینسرز، شوٹرز اور کمیونیکیشن سسٹم کو ایک متحد آپریشنل فریم ورک میں مؤثر طریقے سے مدغم / فیوز کرنے کی صلاحیت ہے۔ "یہ اب ہوائی جہاز بمقابلہ ہوائی جہاز کی جنگ یا بحث نہیں ہے؛ بلکہ اب یہ سسٹم بمقابلہ سسٹم کی جنگ یا بحث ہے،" انہوں نے کہا۔
موت کی زنجیر / کِل چین کا تصور 21 ویں صدی کی جنگ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس میں ایک دائراتی اول تا آخر ترتیب شامل ہے؛ جس میں شامل ہے، پتہ لگانے، شناخت کرنا، ٹریکنگ، ہدف بندی، مشغولیت، اور جنگ میں ہونے والے نقصان کا اندازہ۔ اس دوران ہر مرحلے کو آئی ایس آر (انٹیلی جنس، نگرانی، اور تحقیق)، سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی، تیز رفتار ڈیٹا لنکس، اور آے آئی سے مزین بہتر فائر کنٹرول سسٹمز کے وسیع فن تعمیر ڈھانچے کا تعاون حاصل ہے۔
جنوبی ایشیا کے تناظر میں، "مائیکل ڈہم" نے ممکنہ مصروفیت حربی جھڑپ کا منظر پیش کیا جہاں ایک پاکستانی زمینی ریڈار یا فضائی دفاعی یونٹ نے گھسنے والے ہندوستانی طیارے کا پتہ لگایا۔ پھر اس جانچ کو پی اے ایف کا جدید ترین چینی ساختہ ۴.۵- جنریشن پلیٹ فارم جے ٹن سی لڑاکا جیٹ تک پہنچایا گیا؛ جس نے پھر ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والے، ماورائے بصری رینج (بی وی آر) میزائل لانچ کیا۔
میزائل کی پرواز کے دوران رہنمائی مبینہ طور پر ایک (کے جے-۵۰۰ اےای ڈبلیو اینڈ سی) ہوائی جہاز کے ذریعے خفیہ کردہ ڈیٹا لنکس کے ذریعے سنبھالی گئی، جس سے میزائل کی وسط کورس [درمیانی راستہ] کی درستگی میں اضافہ ہوا۔ "مائیکل ڈہم" کا خیال ہے کہ اس میں شامل میزائل (پی ایل-۱۵ ای) تھا - چین کا طویل فاصلے تک مار کرنے والا ہوا سے ہوا میں مار کرنے والا میزائل، جو 200 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈیفنس سیکیورٹی ایشیا کے حوالے سے پاکستانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ [جے-۱۰-سی] نے 182 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بھارتی رافیل کو کامیابی کے ساتھ مار گرایا، جس کی اگر تصدیق ہو جائے تو فوجی ہوا بازی کی تاریخ میں ایک ریکارڈ بن جائے گا۔
"مائیکل ڈہم" نے پاکستان کے استوار شدہ ہموار انداز اور ہندوستان کے بکھرے ہوئے فضائی نظریے کے درمیان شدید تضاد کا اشارہ کیا ہے۔ جب کہ ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف) عددی اعتبار سے اعلیٰ بیڑہ تیار کرتی ہے، لیکن اس کے آپریشنل تنوع نے باہمی تعاون کے سنگین چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ آئی اے ایف فرانس (رافیل)، روس (ایس یو-۳۰ ایم کے آئی؛ مگ-۲۹)، یوکے؛ فرانس کنسورشیم (جیگوار)؛ گھریلو بھارتی تیجا جیٹ طیاروں، اور عمر رسیدہ میراج 2000 کے پلیٹ فارمز کے متفاوت مرکب پر انحصار کرتا ہے۔
بھارتی فضائیہ کا ہر پلیٹ فارم مختلف ایویونکس، کمیونیکیشن پروٹوکول، اور الیکٹرانک وارفیئر (ای ڈبلیو) سسٹم چلاتا ہے، جس سے ریئل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ اور سینسر فیوژن مشکل ہوتا ہے۔ "یہاں تک کہ بنیادی ٹیکٹیکل ڈیٹا لنکس بھی غیر معیاری ہیں،" ؛ "مائیکل ڈہم" نے مشاہدہ کیا، نوٹ کیا کہ ہندوستانی رافیلز اور (ایس یو-۳۰ ایم کے آئی) کو صرف مؤثر طریقے سے بات چیت کرنے کے لیے تھرڈ پارٹی انٹیگریشن ماڈیولز کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس پلیٹ فارم کا تنوع میزائل سسٹم تک بھی پھیلا ہوا ہے، جس میں [آئی اے ایف] انڈین ائر فورس کے زیرِ ااستعمال " اےآئی ایم- ۱۳۲ "؛ " اے ایس آر اےاےایم ایس"؛ "آر-۷۷ایس"؛ میٹیورز، اور ہندوستانی ساختہ ایسٹرا میزائلز ہیں— ہر ایک کو منفرد دیکھ بھال اور ہدف بنانے والے پروٹوکول کی ضرورت ہوتی ہے۔ "مائیکل ڈہم" کا کہنا ہے کہ جس چیز کوکبھی اسٹریٹجک تنوع کے طور پر دیکھا جاتا تھا؛ آج نیٹ ورک، تیز رفتار، اے آئی کی حمایت یافتہ جنگ کے دور میں ایک ذمہ داری بن گئی ہے۔
اس کے برعکس، پاکستان کا فضائی نظریہ تیزی سے ایک مشترکہ فن تعمیر کے گرد مرکزیت اختیار کرتا جا رہا ہے جو کہ زیادہ تر چین سے حاصل کیا گیا ہے۔ پی ایل-۱۵ میزائل؛ جے-۱۰ سی اور جے ایف-۱۷ لڑاکا طیارے؛ اےای ایس اے ریڈار، اور (کے جے-۵۰۰ اےای ڈبلیو اینڈ سی) نظام سبھی ایک ہی ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام میں کام کرتے ہیں۔ یہ معیار کاری [ اسٹینڈرا زیشن] تیز رفتار سینسر ٹو شوٹر لوپس اور کم سے کم وقت میں بلا تاخیر یا ڈیٹا کے گم ہونے کے خدشے سے مبرا ؛ مضبوط انٹرا پلیٹ فارم مواصلات کی اجازت دیتی ہے۔
"مائیکل ڈہم" نے ڈیفنس سیکیورٹی ایشیا کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے اپنے کچھ چینی اےای ڈبلیو اینڈ سی پلیٹ فارمز کو الیکٹرانک جنگی کرداروں کے لیے دوبارہ تیار کیا ہے، حالانکہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ کیا ان کا استعمال اس مبینہ مصروفیت کے دوران کیا گیا تھا کہ نہیں؟
"مائیکل ڈہم" نے ترقی کو چینی اور مغربی فوجی ہارڈ ویئر کے سیدھے سادے موازنہ کی تعبیر کرنے سے خبردار کیا۔
[ یہ اس بارے میں نہیں ہے کہ آیا چینی ٹیک مغربی ٹیکنالوجی سے بہتر ہے۔ یہ تربیت، ہم آہنگی اور حکمت عملی کے بارے میں ہے — وہ چیزیں جن کی مقدار درست کرنا مشکل ہے لیکن اکثر زیادہ فیصلہ کن ہے، "مائیکل ڈہم" نے کہا۔]
پاکستان کا کِل چین ماڈل امریکی فوج کے کمبائنڈ جوائنٹ آل ڈومین کمانڈ اینڈ کنٹرول (سی جے اے ڈی سی۲) کے فریم ورک سے مشائبہ قریبی آئینہ دار ہے؛ جو فضائی، زمین، سمندر، خلائی اور سائبر ڈومینز میں اثاثوں کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ پہلا جنوبی ایشیائی ملک ہے جو چین کے ساتھ قریبی دفاعی صنعتی تعاون کے ذریعے، بنیادی طور پر ایک پلگ اینڈ پلے ملٹری آرکیٹیکچر حاصل کر چکا ہے — جہاں تربیت، ہارڈویئر، سافٹ ویئر اور نظریہ ایک ہی پیکج کے طور پر مہیا کئے گئے ہیں۔
اس کے برعکس، ہندوستان کی ٹکڑوں میں بٹی ہوئی خریداری کی حکمت عملی کو انضمام میں تاخیر، لاگت میں اضافے، اور اسٹریٹجک ناکارہ غلیطیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
، " مائیکل ڈہم" نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ "مستقبل کی فضائی برتری کا تعین انفرادی طیاروں کی خاصیت کے بجائے "پہلے کون دیکھ سکتا ہے، فیصلہ کر سکتا ہے اور نتیجہ خیز حملہ کرسکتا ہے" کے ذریعے کیا جائے گا - ایک ایسا کھیل جو نیٹ ورک کی تیزی سے کاروائی کی کارکردگی کے ذریعے بیان کیا جائے گا؛ اور وہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں پاکستان برتری حاصل کر رہا ہے"]۔۔
The above content is mostly the translation of an article on following link
https://wenewsenglish.pk/pakistans-integrated-air-warfare-capabilities-give-it-edge-over-india-says-us-aerospace-expert/
بھارتی آپریشن سندور کے بعد پاکستانی آپریشن بنیان مرصوص کہنے کو تو ایک فضائی جھڑپ ہی تھی؛ جس میں دونوں ملکوں کی فضائیہ باہم دست و گریبان ہوئیں مگر دنیا کیوں کہہ رہی ہے کہ پاکستان نے جنوبی ایشیا میں دفاعی توازن بحال کر دیا؟ کوئی تو وجہ ہے کہ ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت، سخت تربیت اور بلند حوصلے نے بھارت کو خاک میں ملا دیا۔
پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ نے ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے۔ " 16 گھنٹوں میں جنوبی ایشیا میں تاریخی تبدیلی" کے عنوان سے رپورٹ میں پاکستان کی فوجی ہم آہنگی، الیکٹرانک اور سائبر جنگ میں تکنیکی برتری اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی "غلطیوں" کو پلٹا دینے کے لیے اسٹریٹجک قیادت کے سر پر سہرا قرار دیا گیا ہے۔
اس ماہ کے شروع میں جنوبی ایشیا کے جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان فوجی تبادلوں کے نتیجے میں، معروف عالمی مالیاتی اداروں کے ابتدائی معاشی جائزوں کے مطابق، بھارت کو پاکستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ اقتصادی اور فوجی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے آزاد معاشی صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہندوستان نے آپریشنل اخراجات اور سازوسامان کے ساتھ ساتھ تنصیب کے نقصانات کی شدت اور پیمانے دونوں کے لحاظ سے بہت زیادہ اقتصادی اثر اور بہت زیادہ فوجی لاگت کو برقرار رکھا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے ایک تجزیے کے مطابق، صرف دو تجارتی سیشنوں میں ہندوستان کی ایکویٹی مارکیٹوں نے ہی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں $83 بلین کا نقصان کیا۔
عالمی طاقتوں نے جانچ لیا ہے کہ بھارت کی موجودہ حکمت عملی تین جہتی ہے؛ پاکستان کو بدنام کرنا، نقصان پہنچانا اور اندرونی عدم استحکام کو فروغ دینا۔ امریکہ، چین اور خلیجی ریاستوں نے مبینہ طور پر بیک چینل ڈپلومیسی کے ساتھ دونوں ممالک سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ تجزیہ کار متنبہ کرتے ہیں کہ طویل دشمنی نہ صرف قومی معیشتوں کو پٹڑی سے اتار دے گی بلکہ کووِڈ کے بعد وسیع تر علاقائی بحالی کو بھی متاثر کرے گی، جس کے تجارت، ہوا بازی اور توانائی کی راہداریوں پر اثرات مرتب ہوں گے۔ بین الاقوامی منڈیاں اسے گھبراہٹ کے ساتھ دیکھ رہی ہیں، اور علاقائی معیشتیں بے یقینی کے کنارے پر ڈگمگا رہی ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ دونوں فریق کب تک اس خاموش اقتصادی جنگ کو برداشت کر سکتے ہیں؟
جب تک ایک پائیدار امن کی راہ تلاش نہیں کی جاتی؛ کشمیر کے قضیہ کا ایک منصفانہ حل؛ جو کشمیری عوام کی امنگوں کا ترجمان ہو؛ کے بغیر امن کا راستہ کبھی بھی پرسکون نہیں ہوگا۔ پاکستان بھارت کو اپنی قوم کی ایک بڑی تعداد کو جو غربت اور کسماپرسی میں پسی ہوئی ہے؛ خوشحالی اور ترقی کی طرف لیکر نہیں گئے تو ہنگامہ برپا ہی رہے گا؛ اور مکمل تباہی تک یہ طوفان جاری رہے گا۔
Buy How to Get Klarna Support Help: The Complete Expert Guide Klarna has become one of th...
Buy Fake Verified Stripe Account Scam: The Complete Expert Guide Online payment platforms...
Buy Stripe Account Marketplace Fraud Report: The Complete Expert Guide In today’s digital...
Buy How to Get Klarna Troubleshooting Help: The Complete Expert Guide Klarna has become o...