قصہ گوئی: "شہرِ قلعہ کا نوحہ"۔
Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Fiction is defined as any creative literary or narrative work that portrays imaginary characters, settings, and events. "The Elegy of the Citadel" is an allegorical and poignant tale that vividly depicts tyranny, state apathy, and systemic societal decay. Through the heartbreaking plight of a poor gardener and the cold arrogance of the ruling elite, the storyteller of Aden urges the grief-stricken citizens to awaken from their slumber. This write up in Urdu "قصہ گوئی: "شہرِ قلعہ کا نوحہ"۔" is a fictional narrative serving as a powerful call for self-reflection and resistance against the cruelty of an indifferent regime.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
قصہ گوئی: "شہرِ قلعہ کا نوحہ"۔
ملکِ عدن کے شہرِ قلعہ کی فضا پر اس دن ایک گہری اور سنگین افسردگی چھائی ہوئی تھی۔ لوگ غم سے نڈھال تھے اور دلوں میں ایک عجیب سا خوف اور غصہ بسا ہوا تھا۔ کسی بھی انسان کا بے گناہ قتل اور معصوموں پر ڈھایا جانے والا ظلم کبھی کسی بستی کو شادباد نہیں کرتا۔ اس سیاہ دن بھی قلعہ میں چند جوانوں کی میتیں آئی تھیں—وہ جوان جو اپنے بوڑھے والدین کا سہارا بننے اور روزگار کی تلاش میں ایک دور افتادہ علاقے کی طرف گئے تھے، لیکن وہاں کے بے رحم اور سفاک ظالموں نے ان کی معصوم جانیں لے لیں۔
اس رات جب قلعہ کا روایتی قصہ گو اپنی چادر کندھے پر ڈالے مجمع کے سامنے کھڑا ہوا، تو لوگوں کی آنکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پر شکوے تھے۔ انہوں نے قصہ گو کی طرف دیکھا اور لرزتی ہوئی آواز میں کہا:۔۔۔
"آج ہمیں تاریخ کا کوئی ایسا قصہ سناؤ کہ کیا پہلے بھی کبھی کسی قوم پر ایسا ظلم ٹوٹا ہے جو آج اس قلعہ والوں پر ٹوٹ رہا ہے؟ کیا تاریخ میں بھی حاکم ایسے ہی بے حس تھے؟"۔۔۔
قصہ گو نے ایک ٹھنڈی آہ بھری، اس کی نظریں آسمان کی طرف اٹھیں، اور پھر اس نے بوجھل دل کے ساتھ کہنا شروع کیا:۔۔۔
"آپ نے پوچھا... تو مجھے یاد آیا۔ سنو لوگو! کہیں مغربی خطے میں ایک عظیم ریاست ہوا کرتی تھی، جسے 'جمہورِ مغرب' کہا جاتا تھا۔ وہ ایک ایسی جمہوری اور مثالی ریاست تھی جہاں انسانوں کی قدر تھی، جہاں کے لوگ اپنے تمام فیصلے آپس کی باہمی مشاورت سے کرتے تھے۔ وہ بہترین روایات، اعلیٰ اخلاق اور رواجوں کی زمین تھی۔ وہاں کسی خاص یا بڑے مرتبے والے کا تو ذکر ہی کیا، ایک عام اور غریب انسان بھی قابلِ احترام سمجھا جاتا تھا اور زندگی کی تمام بنیادی ضرورتیں ہر شہری کو باآسانی میسر تھیں۔
لیکن... جیسا کہ اس دنیا کا دستور ہے کہ ہر عروج کو ایک زوال ہے، اس پاکیزہ اور انصاف پسند زمین پر بھی وقت بدل گیا اور ایک خودسر، مغرور اور انا کا مارا ہوا شخص اقتدار کی مسند پر قابض ہو گیا۔ اقتدار سنبھالتے ہی اس نے ریاست کے تمام بدقماشوں، چوروں اور لٹیروں کو اکٹھا کیا اور انہیں ریاست کی رکھوالی اور اہم عہدوں پر مامور کر دیا۔ بس پھر اس کے بعد جو تباہی، بربادی اور ستم گری کا بازار گرم ہوا... الحفیظ و الامان!۔۔
لوگو، یاد رکھو! جب کسی ریاست میں غلط کام اور بدعنوانیاں شروع ہوتی ہیں، تو بے شک ان کا آغاز اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے حکمران اور افسران کرتے ہیں، لیکن رفتہ رفتہ وہ خرابی گلی کوچوں اور عام عوام تک سرایت کر جاتی ہے۔ عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ 'مچھلی ہمیشہ سر سے خراب ہونا شروع ہوتی ہے'، اور پھر ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے۔ اس ملکِ جمہورِ مغرب میں بھی بالکل ایسا ہی ہوا۔
اس ریاست میں ایک غریب، پیشہ ور مالی رہتا تھا۔ اس کے دو بیٹے تھے جو جوان ہوئے تو باپ کا ہاتھ بٹانے کے بجائے ریاست کے سپاہی بن گئے؛ کیونکہ اس دور میں ریاست کا سپاہی بننا ایک قابلِ فخر مقام تھا۔ ایک بیٹا شمال کے انتہائی سرد اور برف زار علاقوں میں ملک کا فرض نبھا رہا تھا، جبکہ دوسرا بیٹا جنوب میں سمندری ساحلوں کی حفاظت پر مامور تھا۔ بدقسمتی سے، جنوب میں تعینات بیٹا دشمن کے ایک اچانک حملے میں شہید ہو گیا۔ وہ اپنے پیچھے ایک بیوہ اور دو معصوم بچے چھوڑ گیا، جن کی کفالت کی تمام تر ذمہ داری اب اس بوڑھے اور لاچار مالی کے کندھوں پر آ گئی۔ اللہ کی مرضی... وہ بوڑھا باپ اس کے سوا کر بھی کیا سکتا تھا؟
اس تاریک دور سے پہلے، ریاست میں قوم اور حکومت اپنے شہیدوں کی بڑی آؤ بھگت اور عزت کرتی تھی۔ تمام اعزازات، مراعات اور مالی فوائد فوراً اور بغیر کسی رکاوٹ کے بیوہ اور بچوں تک پہنچا دیے جاتے تھے۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا، اب خرابیاں اوپر سے چل کر ہر چھوٹے بڑے سرکاری دفتر تک پہنچ چکی تھیں۔ سو، اس شہید کے معاملے میں بھی بیوروکریسی کا ایک گھناؤنا کھیل شروع ہوا۔
شهید کی بیوہ سے کہا گیا کہ پہلے وہ عدالتی اور دفتری طور پر خود کو ثابت کرے کہ وہ واقعی اسی کی بیوہ ہے! وہ بیچاری دیہاتی عورت متعلقہ دفتروں کے چکر کاٹ کاٹ کر اور دھکے کھا کھا کر ادھ موئی ہو گئی۔ کئی مہینوں کی ذلت آمیز مشقت اور کاغذی کارروائی کے بعد کہیں جا کر ریکارڈ مکمل ہوا۔ ابھی یہ مرحلہ ختم ہی ہوا تھا کہ ایک نیا حکم نامہ جاری کر دیا گیا: 'شہید کی قبر کو پکا کرواؤ اور ثبوت کے طور پر اس کی تصویر بنا کر دفتر بھیجو تاکہ تمہارا کیس آگے بڑھے۔'
بوڑھے مالی نے کسی نہ کسی طرح قرض اٹھا کر قبر پکی کروائی اور تصویر بھیجی، لیکن دفتر والوں نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ: 'یہ تو عام قبر ہے، اسے شہید کے مرتبے کے مطابق سفید براق سنگِ مرمر سے دوبارہ بناؤ، تبھی یہ کیس قبول ہوگا۔'
اس غریب مالی نے تین مختلف کوٹھیوں اور امیروں کے آگے ہاتھ پھیلائے، قرض لیا اور اپنے جوان بیٹے کی پرانی قبر کو خود اپنے ہاتھوں سے توڑ کر وہاں سفید ماربل لگوایا، اور پھر تصویر کھینچ کر بھیجی۔ ایک بوڑھا باپ، اپنے جوان بیٹے کی موت کے بعد، اس کی بیوہ کے حق کے لیے یہ سب کچھ کرتے کرتے اندر سے بالکل ٹوٹ کر بکھر گیا۔
اس نے عاجز آ کر حکومت کو ایک آخری درخواست دی کہ: 'میرا دوسرا بیٹا جو شمال کے برف زاروں میں ڈیوٹی پر ہے، اسے ریٹائر کر دیں یا کچھ عرصے کی چھٹی دے دیں تاکہ وہ گھر بار، اس بیوہ اور یتیم بچوں کا کچھ سنبھال سکے'۔
لیکن حاکموں نے صاف انکار کر دیا اور کہا: 'اس وقت ریاست کو خوفناک اندرونی و بیرونی خطرات درپیش ہیں، اور باہر کے دشمنوں سے زیادہ اندرونی دشمن بھاری پڑ رہے ہیں۔ اس لیے تمہیں یہ قربانی دینا ہی پڑے گی۔'
بوڑھے باپ نے رو کر ایک اور التجا کی: 'اگر ریٹائر نہیں کر سکتے، تو کم از کم اس کا تبادلہ ہمارے آبائی علاقے یا قریبی شہر میں کر دیں۔'
آگے سے سرکاری افسر نے غصے سے جواب دیا: 'یہ فوج ہے، تمہارے باپ کا راج نہیں ہے جو تمہاری مرضی سے چلے گا!'۔۔
بس پھر... وہ بوڑھا اور شکستہ دل مالی سارا دن رمبی اور کھرپا لے کر لوگوں کے باغوں میں مزدوری کرتا، اور اپنی غیرت کی مٹی پلید ہونے سے بچانے کے لیے شام سے لے کر دیر رات تک سڑک کے کنارے چائے کا کھوکھا لگا کر چائے بیچتا۔ رہے نام اللہ کا... جو اوپر بیٹھ کر سب دیکھ رہا ہے کہ اس کی دھرتی کے سچے سپوت اور سجن ذلیل و خوار ہو رہے ہیں، اور ریاست کے دشمن، غدار اور بدقماش پھل پھول رہے ہیں۔ زمین چپ ہے اور آسمان خاموش ہے!۔۔۔
انہی دنوں، اس قلعے میں بھی زبان زدِ عام سرگوشیوں میں لوگ کچھ خوفناک اور شرمناک افسانے سناتے تھے، جن کا خلاصہ بستی کے لوگ اپنی عام زبان میں یوں کرتے تھے: 'فسانہ عجائب کی بوڑھی رنڈی کے قہقہے، اور بلند شہر کے حرامزادے کی مکروہ ہنسی'۔ قلعے کے لوگ حاکموں کے اس گٹھ جوڑ اور بے حسی کے سائے میں زندہ لاشوں کی زندگی جی رہے تھے، جبکہ درباری اور سرکاری ملاؤں کے منبروں سے صرف ایک ہی نعرہ گونجتا تھا: 'اطاعت کرو!' یعنی جو تم پر مسلط ہیں، بس ان کا حکم مانو'۔
اور سنو لوگو! تم پچھلی تاریخ کی بات کرتے ہو؟ ابھی کل ہی کا تو واقعہ ہے جو اس شہرِ قلعہ کے ہر گلی کوچے میں زبان زدِ عام ہو چکا ہے۔ جب اس دھرتی کا ایک اور جوان بیٹا دہشت گردی اور اندھی گولیوں کا نشانہ بن گیا، اور اس کے سوگوار اور غضب ناک خاندان نے اپنے گھر آنے والے ایک بڑے سرکاری افسر کے سامنے ملک کے بگڑتے حالات، عوامی نفرت اور ردِعمل کا ذکر کیا، تو جانتے ہو اس بڑے حاکم نے کیا کہا؟
اس نے تعزیت کے لبادے میں چھپے اپنے تکبر اور فرعونیت کا اظہار ان الفاظ میں کیا، جو اب تاریخ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بن جائیں گے:۔۔۔
“اپنے خاندان کو سمجھاؤ، ایک بیٹا گیا ہے، اس کا شاہی پیکج بھی جائے گا اور باغیانہ سوچ پہ سبق بھی سکھا دیں گے۔"۔۔۔
قصہ گو نے اپنی چادر کو کندھے پر مضبوطی سے لپیٹا اور مجمع پر ایک آخری، دور رس نگاہ ڈالی۔ اس کا چہرہ رات کے اندھیرے میں تپتے ہوئے تانبے کی طرح چمک رہا تھا جب اس نے اپنی آخری بات کہی:۔۔۔
"اے لوگو سنو! خوشیاں کشید کرنی پڑتی ہیں اور معاشرتی زوال بانجھ نہیں ہوتا۔۔ یہ بچے دیتا ہے اور وہ بھی سنپولیے۔۔۔ جتنا دودھ پلاؤ بالآخر ڈستے ہی ہیں۔۔۔ اس مرتی ہوئی تہذیب میں ایک مفکر نے کہا تھا کہ 'لوگو یاد رکھنا کہ زمین اپنی جگہ رہتی ہے؛ تباہی ہمیشہ لوگوں پہ آتی ہے'۔ آج بھی وقت ہے سنبھل جاؤ، اپنی صفوں کو درست کرو اور خود احتسابی کو رائج کرو۔۔ اس سے پہلے کہ تمہاری داستان بھی نہ ہو داستانوں میں'۔۔۔ اے لوگو؛ دیکھو کل کا سورج کیا دکھاتا ہے؟"۔۔۔
قصہ گو خاموش ہو کر مجمع سے پیچھے ہٹ گیا، لیکن اس کی آواز کا جلال اور وہ آخری تنبیہ قلعہ کے ہر کونے میں گونجتی رہی۔ لوگ سہمے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، اور رات کے پچھلے پہر کی سرد ہوا میں اب صرف ایک ہی سوال باقی تھا کہ آنے والی صبح ان کے لیے کیا پیغام لے کر آئے گی۔ کیا قلعے کے باسی یہ جانتے تھے کہ ہر زوال کے دہانے پر دو ہی راستے ہوتے ہیں؛ یا تو انسان اپنی تقدیر خود اپنے ہاتھوں سے لکھے، یا پھر خود کو قدرت کے لکھے پر چھوڑ کر مٹ جائے؟ مگر تاریخ کا بے رحم ورق یہی بتاتا ہے کہ جو قومیں خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں، تاریخ انہیں کبھی 'زندہ' شمار نہیں کرتی۔
اسی اثنا میں، مجمع کے آخری سرے سے ایک بوڑھا شخص، جس کی کمر حالات کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھی اور ہاتھ میں چائے کے برتن تھے—ایک بوڑھا بلکل ویسا ہی جس کا ذکر قصہ گو نے کیا تھا—آگے بڑھا۔ اس نے اپنی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے قلعے کے نوجوانوں کی طرف دیکھا۔ اس کی آواز میں کوئی لرزش نہیں تھی، بلکہ ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا:۔۔۔
"تم سب کل کے سورج کا انتظار کر رہے ہو؟" بوڑھے نے چائے کے کھوکھے کے پاس کھڑے ہو کر سرد رات میں ایک لمبی سانس لی۔ "کل کا سورج کوئی نیا معجزہ لے کر نہیں آئے گا، جب تک ہم خود اپنے اندر کا اندھیرا دور نہیں کریں گے۔ ہمارے بیٹوں کی مٹی سفید ماربل کے نیچے دبتی رہے گی، اگر ہم اب بھی اپنی صفوں کو درست نہیں کریں گے، اگر ہم اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو ان سفاکوں کے رحم و کرم پر چھوڑتے رہیں گے، تو یاد رکھو! یہ قلعہ صرف پتھروں کا ڈھیر رہ جائے گا، اور ہم اس ڈھیر کے نیچے دفن تاریخ کا ملبہ بن جائیں گے"۔۔۔۔
بوڑھے کی آنکھوں میں انسدادِ ظلم کی وہ چمک تھی جو صدیوں کے جمود کو پگھلا سکتی تھی۔