Muhammad Asif Raza 1 hour ago
Muhammad Asif Raza #education

خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریل

Allama Dr Muhammad Iqbal was the great mystic Poet of the Sub Continent India-Pakistan. Iqbal is also the philosopher of East and national poet of Pakistan. This essay in Urdu "خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریل" explores Allama Iqbal's profound philosophy of Khudi (selfhood) through the lens of his iconic verse, balancing the light of intellect (Ilm) with the fire of spiritual devotion (Ishq). Ultimately, the text highlights the historical necessity of transforming Pakistan into a truly independent Islamic state modeled after the governance of the State of Madinah and Khilafat-e-Rashida.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریل


حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا فلسفۂ خودی ان کی شاعری اور تفکر کا محور ہے۔ ان کے ہاں "خودی" سے مراد غرور یا تکبر نہیں، بلکہ انسان کا اپنے نفس کو پہچاننا، اپنی مخفی صلاحیتوں کو بیدار کرنا اور خود کو خدا کا سچا نائب ثابت کرنا ہے۔ اپنی شہرہ آفاق کتاب 'بالِ جبریل' (حصہ دوم) کی ایک غزل میں وہ خودی کی معراج اور اس کی پختگی کے مراحل کو انتہائی خوبصورت انداز میں یوں بیان کرتے ہیں:۔۔۔

خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریل

اگر ہو عشق سے محکم تو صُورِ اسرافیل


شعر کی تشریح اور خودی کے دو ذرائع

اس شعر میں اقبال نے خودی کی مضبوطی اور اس کے ارتقا کے دو بنیادی ذرائع بیان کیے ہیں: علم اور عشق۔

1. علم سے محکم خودی (غیرتِ جبریل):۔۔

شعر کے پہلے مصرعے میں اقبال فرماتے ہیں کہ جب انسان کی خودی علم، عقل اور آگہی کے ذریعے مضبوط ہوتی ہے، تو وہ کائنات کے اسرار و رموز کو تسخیر کر لیتا ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام، جو خدا کی طرف سے وحی اور علمِ الٰہی کے حامل فرشتہ ہیں، وہ بھی ایسی عالم و دانا خودی پر رشک کرتے ہیں۔ کیونکہ انسان کو علم کے ساتھ ساتھ انتخاب کی آزادی (فری وِل) بھی دی گئی ہے، جو فرشتوں کے پاس نہیں ہے۔

2. عشق سے محکم خودی (صُورِ اسرافیل):۔۔

دوسرے مصرعے میں اقبال خودی کو ایک اعلیٰ تر درجے پر لے جاتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر یہی خودی "عشق" (یعنی خدا سے سچی محبت، مقصد سے جنون کی حد تک لگن اور اخلاصِ نیت) سے مضبوط ہو جائے، تو اس کی طاقت "صُورِ اسرافیل" بن جاتی ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو مردہ قوموں، سوئے ہوئے دلوں اور مایوس ذہنوں میں ایک نیا انقلاب اور زندگی پھونک دیتی ہے۔


علم اور عشق کا تقابل اور درجہ بندی

یہاں علامہ اقبال عقل (علم) اور عشق کے درمیان کوئی تضاد یا دشمنی پیدا نہیں کر رہے، بلکہ ان کے درمیان ایک منطقی درجہ بندی قائم کر رہے ہیں:۔۔۔

•علم روشنی ہے: علم انسان کو حقیقت کی پہچان کرواتا ہے، اسے کائنات کی مادی قوتوں پر قابو پانا سکھاتا ہے اور شعور کو جلا دیتا ہے۔

•عشق حرکت اور زندگی ہے: علم اگر صرف عقل تک محدود رہے تو وہ جمود کا شکار ہو سکتا ہے۔ عشق اس علم کو حرکت، تڑپ اور زندگی بخشتا ہے۔

اقبال کے کلام میں عقل اور عشق کا تقابل بار بار آتا ہے۔ جیسے ان کی ایک اور کتاب 'ضربِ کلیم' کی نظم "علم و عشق" میں وہ واضح کرتے ہیں کہ عشق سراپا حضور (خدا کی بارگاہ میں بلاواسطہ رسائی) ہے، جبکہ علم (اگر عشق سے خالی ہو) تو وہ سراپا حجاب (پردہ) بن جاتا ہے جو انسان کو مادی بحثوں میں الجھا دیتا ہے۔


علم و عشق کا تہذیبی و معاشرتی اثر

اقبال اس انفرادی خودی کو صرف ذات تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ وہ ایک ایسے اسلامی معاشرے اور تہذیب کی وکالت کرتے ہیں جو علم اور عشق کی مشترکہ بنیادوں پر کھڑی ہو۔ کوئی بھی معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے، اور اس معاشرے کی ثقافت، فن اور روزمرہ کی زندگی ہی اس کی تہذیب کی بنیاد ہوتی ہے۔

اس شعر کے ذریعے اقبال یہ آفاقی پیغام دے رہے ہیں کہ ایک مثالی مسلم معاشرہ اس بلند مقام پر ہونا چاہیے جہاں:۔۔

•علم کا محور اتنا مستحکم اور روشن ہو کہ اس معاشرے کی فکری و سائنسی ترقی کو دیکھ کر فرشتۂ علم (حضرت جبرائیلؑ) بھی رشک کریں۔

•عشقِ الٰہی اور بندگی کی شان یہ ہو کہ وہ معاشرہ روحانیت کی اس معراج پر پہنچ جائے جہاں قیامت کا سامان (صورِ اسرافیل) بھی اس کا منتظر ہو، اور اس کے اندر مردہ انسانیت اور بے جان تہذیبوں میں ایک نئی زندگی کی روح پھونکنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔


تاریخی پس منظر اور موجودہ دور کا تقاضا

ہمیں یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ حکیم الامت نے یہ کلام تقریباً ایک صدی قبل اس وقت لکھا تھا جب برِصغیر کے مسلمان انگریز کی غلامی اور ہندوانہ اکثریت کے جبر کے تلے دبے ہوئے تھے۔ اس تاریک دور میں اقبال نے مایوس مسلمان کو اس کی کھوئی ہوئی خودی بیدار کرنے کا راستہ دکھایا اور ایک آزاد، خودمختار اسلامی ریاست کا خواب پیش کیا، تاکہ وہ اپنی تہذیب کا احیا کر سکیں۔

آج اس خواب کو تعبیر ملے اور مملکتِ خدا داد پاکستان کو آزاد ہوئے تقریباً اسی برس بیت چکے ہیں، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ جغرافیائی آزادی کے باوجود ہماری "خوئے غلامی" (غلامانہ ذہنیت) آج بھی اسی طرح قائم ہے۔ ہم آج بھی اغیار کی فکری، ذہنی، تہذیبی، فلسفیانہ اور معاشی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ہماری درس گاہوں سے لے کر ہمارے معاشی نظام تک، سب غیروں کے مرہونِ منت ہیں۔


اس فکری زوال سے نکلنے کا راستہ آج بھی وہی ہے جو اقبال نے سو سال پہلے دکھایا تھا۔ یعنی ایک ایسی حقیقی آزاد اسلامی ریاست کی تشکیل:۔۔

•جہاں حاکمیتِ اعلیٰ صرف اور صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کی ہو۔

•جہاں حکومت بندگانِ خدا کے ہاتھ میں ہو جو اقتدار کو امانت سمجھیں اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور احکامات کی تعمیل میں مصروف رہیں۔

•ایک ایسا حکمرانی کا نظام جو ریاستِ مدینہ کا پرتو ہو اور جو خلافتِ راشدہ کا سچا عکس ہو۔

جب تک ہمارا علم ہمیں ذہنی غلامی سے نجات نہیں دلاتا اور ہمارا عشق ہمیں مصلحتوں سے آزاد کر کے خدا کے سامنے جھکنا نہیں سکھاتا، تب تک ہم حقیقی آزادی کے ثمرات سے محروم رہیں گے۔ پاکستان کو اقبال کا پاکستان بنانے کے لیے آج پھر خودی کو علم اور عشق سے محکم کرنے کی ضرورت ہے۔


حاصلِ کلام

اقبال ہرگز علم یا عقل کے منکر نہیں ہیں۔ وہ جدید سائنسی اور مادی علم حاصل کرنے کے شدید حامی تھے، لیکن وہ علم کو بے لگام نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک کامل خودی اور مثالی تہذیب وہ ہے جس میں علم کی بصیرت اور عشق کی حرارت دونوں یکجا ہو جائیں۔

اگر علم کو عشق کی رہنمائی حاصل نہ ہو تو وہ ہلاکت خیز بن جاتا ہے، اور اگر عشق کو علم کی بصیرت نہ ملے تو وہ اندھی عقیدت میں بدل جاتا ہے۔ چنانچہ، جب علم کی روشنی اور عشق کا جنون مل کر ایک معاشرے اور ریاست کی تشکیل کرتے ہیں، تو خلافتِ راشدہ کے اصولوں پر مبنی ایک ایسی زندہ جاوید تہذیب وجود میں آتی ہے جس کے سامنے کائنات کی ہر مادی قوت سرنگوں ہو جاتی ہے۔

NPK Price Trend Q3 2026 | Global Price Trends, Forecast, Chart, Prices...

1787734945.png
Lakshay Choudhary
45 minutes ago
Building a Healthier Future Through Professional Rehabilitation Services in Mumbai – Lifeline Foundation India

Building a Healthier Future Through Professional Rehabilitation Servic...

defaultuser.png
llfindia Pune
46 minutes ago
Building a Healthier Future Through Comprehensive Addiction Treatment in Delhi NCR – Humana Wellness Center

Building a Healthier Future Through Comprehensive Addiction Treatment...

defaultuser.png
Humana Wellness
1 hour ago

Phosphate Rock Price Trend Q3 2026 | Global Price Trends, Forecast, Ch...

1787734945.png
Lakshay Choudhary
1 hour ago
The Role of Acrylic Signs in Modern Office and Corporate Branding

The Role of Acrylic Signs in Modern Office and Corporate Branding

defaultuser.png
Genesis Signs & Graphics
2 hours ago