Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Fiction is defined as any creative literary or narrative work that portrays imaginary characters, settings, and events. This fictional story has been derived out of real life activities under taken across globe exploring real profound civic situations. This fictional story in Urdu **خدایا! کٹھ پتلیوں شتونگڑوں کا تماشہ کب ختم ہوگا؟** is about the political games played in the name of people- common man.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
خدایا! کٹھ پتلیوں شتونگڑوں کا تماشہ کب ختم ہوگا؟
پروردگارِ عالم اور خدائے مطلق نے یہ دنیا ابنِ آدم کے لیے دارالامتحان کے طور پہ بنائی تھی کہ وہ اسے اپنے خالق و مالک کی ہدایات کے تحت ایک دارلامن بنائے گا؛ تاکہ وہ عدل، انصاف اور امن قائم کر کے اس امتحان میں سرخرو ہو سکے؛ مگر انسان نے اکثر لالچ، خود غرضی اور طاقت کی ہوس میں آ کر اسے ظلم اور بے امنی کا گڑھ بنا دیا ہے۔ تاریخ کا ہر دور اس بات کا گواہ رہا ہے کہ جب بھی انسان نے الٰہی ہدایات کو پسِ پشت ڈالا، معاشرے "کٹھ پتلیوں کا تماشہ" اور فساد کا شکار ہو گئے۔ یہ کشمکش—جہاں ایک طرف ظلم اور دوسری طرف امن کی تلاش ہے—انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
آج عام آدمی کی مایوسی اور غصہ بالکل سمجھ میں آتا ہے۔ ملکی یا سماجی حالات جب طویل عرصے تک غیر یقینی کا شکار رہیں، تو ایسا محسوس ہونا فطری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے تماشے اور غیر مستحکم حالات ہمیشہ نہیں رہتے، لیکن ان کا خاتمہ نظام میں شفافیت، شعور اور وقت کے ساتھ ہی ممکن ہوتا ہے۔ ذیل میں ایک تخیلاتی تمثیلی کہانی بیان کی جاتی ہے؛ جس کا مقصد عام آدمی کی فسانہ بیان کرنا ہے۔
'داروغہِ فکرمند' اور لرزتی لاٹھی
شہرِ اقتدار کے مرکزی "اوپن کٹھ پتلی تھیٹر" کا پردہ اٹھا تو تماشائیوں کی سانسیں رک گئیں۔ اسٹیج پر سب سے پہلے "داروغہِ چوکسی" نمودار ہوئے۔ یہ وہی داروغہ تھے جو کل تک پورے شہر کو اپنی انگلی پر نچانے کا دعویٰ کرتے تھے، لیکن آج ان کا اپنا توازن بگڑا ہوا تھا۔ مائیکروفون کے سامنے آتے ہی ان کے ہاتھ پاؤں یوں کانپ رہے تھے جیسے سردی میں غسل کر کے آئے ہوں۔
جب بات چیت سے کام نہ بنا، تو انہوں نے ہوا میں لاٹھی لہراتے ہوئے ضابطہِ اخلاق کی ایسی دھجیاں اڑائیں کہ قانون کی کتاب بھی شرم سے منہ چھپانے لگی۔ داروغہ جی غصے میں بھنبنا تو رہے تھے، لیکن ان کی بے چین باڈی لینگویج چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ وہ چاروں طرف سے گھر چکے ہیں۔ تماشائی سمجھ گئے کہ داروغہ جی کی لاٹھی اب صرف ہا ہا کار مچانے کے کام رہ گئی ہے۔
'بابائے مصلحت' کا نپا تلا غصہ
ابھی داروغہ جی کے پسینے کی بو فضا میں باقی تھی کہ اسٹیج پر "پیرِ تدبیر" تشریف لائے۔ ان کے ایک ہاتھ میں تسبیح تھی اور دوسرے ہاتھ میں مصلحت کی ترازو۔ مائیک کے سامنے بیٹھتے ہی انہوں نے اپنے چغے کو درست کیا اور ایک ایسی گرجدار آواز نکالی جس سے تھیٹر کے در و دیوار ہل گئے۔
ان کا لہجہ غصے سے بھرا ہوا تھا، لیکن کمال کی بات یہ تھی کہ غصے کا ایک ایک قطرہ نپا تلا تھا۔ انہوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے، بغیر کسی خوف کے، سلطنت کے بڑے بڑوں کو ایسی جلی کٹی سنائیں کہ سننے والے دنگ رہ گئے۔ مگر لفظ کوئی ایسا استعمال نہیں کیا جس پر شاہی عدالت ان کی گرفت کر سکے۔ ان کا غصہ بھی ایک سوچی سمجھی شطرنج کی چال تھا، جس کا مقصد صرف اپنی قیمت بڑھانا تھا۔
'مسکراتے ہواباز' اور اونچی اڑان
سب سے آخر میں اسٹیج پر دو ایسے مسافر نمودار ہوئے جنہیں قید و بند کا خوف دکھا کر ڈرانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن وہ ایسے آئے جیسے کسی پارک میں چہل قدمی کر کے آ رہے ہوں۔ ان کا نام "میرِ قانون" اور "شاہینِ کوہسار" تھا۔
ان دونوں کے چہروں پر ایسی پراعتماد مسکراہٹ تھی جیسے وہ تماشہ دیکھانے نہیں، بلکہ تھیٹر خریدنے آئے ہوں۔ انہوں نے مائیک سنبھالا تو نہ کوئی گھبراہٹ تھی اور نہ ہی کوئی لمبی چوڑی تمہید۔ انہوں نے داروغہ جی کی دھمکیوں کا جواب صرف ایک ہنسی سے دیا اور اپنا مختصر، کرکرا اور براہِ راست پیغام تماشائیوں کے سامنے رکھ دیا۔ ان کا بلند مورال دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے وہ منزل کے بالکل قریب پہنچ کر جشن منا رہے ہوں۔
'بے زبان تماشائی' اور بساط کا بوجھ
رات گئے جب تھیٹر کی بتیاں گل ہوئیں اور ڈوریاں ہلانے والے اپنے مہروں کو سمیٹ کر پسِ چلمن جا بیٹھے، تو تھیٹر کے ایک تاریک کونے میں "شہریِ بے نام" اکیلا بیٹھا رہ گیا۔ وہ صبح سے اس امید پر یہاں بیٹھا تھا کہ شاید کوئی اس کے پیٹ کی بھوک یا حقوق کی بات کرے گا، مگر یہاں ہر کوئی اپنی اپنی جنگ لڑ رہا تھا۔
وہ ہال سے باہر نکلا، تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے اس کے چہرے کو چھوا۔ اس کا دل دُکھی تھا، لیکن سلطنت کے مقتدر حلقوں کے سامنے اس کی حیثیت ایک بے زبان مہرے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ وہ شہرِ اقتدار کی بلند و بالا عمارتوں کو دیکھتا ہوا اپنے دل ہی دل میں جواد شیخ کا یہ شعر گنگنانے لگا؛
دل کسی وجہ سے دُکھی ہے مگر
کچھ بھی ایسا نہیں کہ تم سے کہیں
حاصلِ کلام: غیبی ندا
وہ عاجز بندہ خدا کی اس زمین پر چلتے ہوئے سوچنے لگا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ عمرانی معاہدہ تو یہ ہوا تھا کہ اس ریاست کے تین بنیادی جز ہوں گے: خدا کی حاکمیت، خدا کی زمین؛ اور اس زمین پہ اسکے عاجز بندے۔ اور تین مضبوط ستون ہوں گے: مقننہ، منتظم کار حکومت، اور عدلیہ۔
اس نے مظفر وارثی کے بقول سوچا کہ حقیقت تو یہی ہے کہ؛ "کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے"۔۔۔ مگر۔۔۔
اس خطۂ زمین پر یہ ابلیس کی حکومت کیسے قائم ہو گئی؟ یہ ریاست کے باوقار ستون، کٹھ پتلیوں کی طرح انجان ہاتھ میں محض شتونگڑے کیوں بن کر رہ گئے ہیں؟
اس نے آواز دی؛ میرے معبود! یہ تیرے مجبور اور محبوس بندے اب کہاں جائیں؟
مایوسی کی اس انتہا پر وہ عاجز بندہ افتخار عارف کے الفاظ میں دہائی دیتا ہے؛۔
"بکھر جائیں گے کیا ہم جب تماشا ختم ہو گا
میرے معبود آخر کب تماشا ختم ہو گا"؟
تبھی فضا میں حکیم الامت علامہ اقبال کا وہ ابدی پیغام گونجتا ہے:؛
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا
اور پھر، اس اداس رات کے سناٹے کو چیرتی ہوئی ایک غیبی ندا آتی ہے: ''اگر تمہیں منافقت اور کٹھ پتلیوں کا یہ نظام پسند نہیں، تو اٹھو اور اس فرسودہ نظام کو تہس نہس کر دو، اور اپنی مرضی کا ایک نیا، عادلانہ نظام بنا لے!'۔
Understanding PGT-A Testing in IVF and Its Benefits PGT-A testing in IVF is an advanced...