خبردار ہوجائیں؟میڈیکل سائنس کے حیرت کدہ سے محفوظ رہیں

The human beings are a special creation and humans have shown that specialty in many ways and means. We humans have always wished to enjoy a healthy and prosperous life. However, we do fell ill and suffer sickness. This write up in Urdu is a translated opinion of Dr. Ananya Sarkar about the current medical practices to warn common people with additional comments from the blogger.

Jul 20, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

خبردار؟ میڈیکل سائنس کے حیرت کدہ سے محفوظ رہیں۔ تحریر ڈاکٹر اننیا سرکار

 

یہ تحریر تفریحا" یا مذاقا" نہیں لکھی گئی۔۔۔ 🙏

براہ کرم ذرا غور سے پڑھیں؛ اور اگر پسند آئے تو دوسروں تک بھی پہنچائیے!۔

 

کبھی کبھار ہمیں بلا وجہ ہی ایک دو دن بخار ہوجاتا ہے؛ تو اگر ہم کوئی دوا نہیں لیتے تب بھی ہمارا جسم چند دنوں میں خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے اور ہم واپس زندگی کے معاملات میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے بزرگ ایسا ہی کرتے تھے؛ اور خوب زندگی گذارتے تھے۔

لیکن؛ اب ہم تعلیم یافتہ ہوگئے ہیں اور جب ہمیں طبعیت کچھ ناگوار محسوس ہوتی ہے تو ہم ڈاکٹرسے ضرور رجوع کرتے ہیں۔

یہ کچھ انوکھا نہیں ہے کہ آجکل جب ہمیں بخار ہوا تو ہم ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔

ڈاکٹر نے ہمارا معائنہ کیا اور فورا" ہی کچھ ٹیسٹوں کا ایک گروپ تجویز کردیا۔

 نسخہ پر لکھا تھا۔۔

۔۔ NYT۔۔ یعنی ابھی بخار کی وجہ دریافت نہیں ہوئی؛ لیکن پھر بھی مریض کی تسلی کے لیے ڈاکٹر نے استعمال کے لیے ایک دوائی لکھ دی۔۔۔

لیکن ٹیسٹ کے نتائج نے بھی بخار کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی۔ تاہم، ٹیسٹ کے نتائج نے کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کی سطح کو قدرے بلند پایا - جو عام لوگوں میں کافی عام ہے۔ بخار اگلے دن اتر گیا، لیکن اب آپ صرف بخار کے مریض نہیں تھے۔

ڈاکٹر نے آپ سے کہا:

 > "آپ کا کولیسٹرول زیادہ ہے۔ آپ کی شوگر قدرے بڑھ گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ پہلے سے ذیابیطس کے مریض ہیں۔ آپ کو کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے دوا شروع کرنے کی ضرورت ہوگی"۔" اور تین ماہ بعد پھر معائنہ کی ہدایت بھی کی۔

اس کے ساتھ ساتھ متعدد غذائی پابندیاں بھی آئیں۔

 ہو سکتا ہے آپ نے کھانے کی پابندیوں پر سختی سے عمل نہ کیا ہو — لیکن آپ دوائیں لینا نہیں بھولے؛ کیونکہ آپ کو اپنی صحت کی بہت پرواہ ہے۔

تین مہینے گزر گئے۔ آپ ہشاش بشاش ڈاکٹر کے پاس پہنچے اور دوبارہ ٹیسٹ کیے گئے۔

 ٹیسٹ کے نتائج میں آپ کا کولیسٹرول لیول تھوڑا سا گر گیا تھا، لیکن اب آپ کا بلڈ پریشر قدرے بڑھ گیا تھا۔

مجبورا" ڈاکٹر کو ایک اور دوا تجویز کرنا پڑی۔

اب آپ کو بلاناغہ تین ادویات استعمال کرنا پڑنی تھی۔

 یہ سب پڑھ کر کہیں آپ کی پریشانی تو نہیں بڑھ گئی۔ جی ہاں؛ جب ہم ہر روز تین دوائی استعمال کریں گے تو پریشانی تو ہونی چاہیے۔ کیونکہ ہمیں اپنی صحت کا بہت خیال ہے۔

> "آگے کیا؟"

> اس پریشانی کی وجہ سے آپ کی نیند میں خلل پڑنے لگ گیا۔ چنانچہ؛؛؛

> ڈاکٹر نے نیند کی گولیاں تجویز کیں — اور اب آپ کی دوائیوں کی تعداد بڑھ کر چار ہوگئی۔

یہ تمام ادویات لینے کے بعد آپ کو تیزابیت اور سینے کی جلن کا سامنا کرنا شروع ہوگیا۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے؛ گیس تو بن ہی جاتی ہے۔۔۔ آپ پھر ڈاکٹر کے پاس گئے۔۔۔

ڈاکٹر نے مشورہ دیا:

> "کھانے سے پہلے گیس کی گولی خالی پیٹ لیں۔"

> اب آپ پانچ ادویات پر تھے۔

چھ ماہ گزر گئے۔

 ایک دن، آپ کو سینے میں درد ہوا اور ایمرجنسی میں پہنچ گئے۔

مکمل چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے کہا:

> "اچھی بات ہے کہ آپ وقت پر آگئے۔ ورنہ یہ سنگین ہوسکتا تھا۔"

مزید ٹیسٹوں کی سفارش کی گئی۔

مہنگے ٹیسٹوں کی ایک سیریز سے گزرنے کے بعد، ڈاکٹر نے آپ کو بتایا:

 > "اپنی موجودہ دوائیں جاری رکھیں۔ لیکن اب دل کے لیے دو مزید گولیاں اور ڈال دیں۔ اس کے علاوہ، آپ کو اینڈو کرائنولوجسٹ سے ملنا چاہیے۔"

> اب آپ سات ادویات پر ہیں۔

جیسا کہ کارڈیالوجسٹ نے مشورہ دیا، آپ نے اینڈو کرائنولوجسٹ سے ملاقات کرلی۔

اس نے ایک اور ذیابیطس کی دوا اور ایک تھائرائڈ گولی شامل کی تاکہ تھائیرائیڈ کی سطح ہلکی سے بلند ہو۔

اب آپ کی دوائیوں کی کل تعداد نو تھی۔

  آہستہ آہستہ، آپ کو یقین ہوجانا چاہیے کہ آپ شدید بیمار ہیں:۔۔۔

( اتنی دوائیاں استعمال کرتے ہوئے آپ خود کو صرف بیمار سمجھتے ہیں تو آپ یقینا" بیمار ہیں)

*دل کا مریض

*ذیابیطس

* بے خوابی

*گیس کے مسائل

* تھائیرائیڈ کے مسائل

*گردے کے مسائل

اور فہرست جاری ہے۔۔۔۔

کیا آپ کو کسی نے اس دوران بتایا کہ آپ بہتر طاقت، خود اعتمادی، اور بہترطرز زندگی کے انتخاب کے ذریعے اپنی صحت کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔

اس کے بجائے، آپ کو بار بار بتایا گیا کہ آپ ایک شدید مریض، کمزور، لاعلاج، اور ٹوٹے ہوئے انسان ہیں۔

چھ ماہ بعد ان تمام ادویات کے مضر اثرات کی وجہ سے آپ کو پیشاب کے مسائل کا سامنا کرنا شروع ہوگیا۔

مزید ٹیسٹوں سے گردے کے ممکنہ مسائل کا انکشاف ہوا۔

 ڈاکٹر نے مزید ٹیسٹ کئے۔ رپورٹ دیکھنے کے بعد اس نے کہا۔

> "کریٹینائن کی سطح میں قدرے اضافہ ہوا ہے۔ لیکن پریشان نہ ہوں - جب تک کہ آپ اپنی دوائیں باقاعدگی سے لیتے رہیں۔"

> اس نے دو مزید دوائیں شامل کیں۔

اب آپ گیارہ ادویات پر ہیں۔

اب آپ کھانے سے زیادہ ادویات استعمال کر رہے ہیں، اور ان ادویات کے مضر اثرات کی وجہ سے آپ آہستہ آہستہ *موت کی طرف بڑھ رہے ہیں*۔

 کیا عجب ہوجاتا کہ اگر، شروع میں، جب آپ پہلی بار اپنے بخار کے لیے ڈاکٹر کے پاس گئے تھے تو ڈاکٹر نے سادگی سے کہا ہوتا۔۔۔

> "پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، یہ صرف ہلکا بخار ہے، دوا کی ضرورت نہیں ہے۔ بس آرام کریں، وافر مقدار میں پانی پئیں، تازہ پھل اور سبزیاں کھائیں، صبح کی سیر کے لیے جائیں - بس اتنا ہی ہے۔ کسی دوا کی ضرورت نہیں"۔

 لیکن پھر… ڈاکٹر اور دوا ساز کمپنیاں کیسے روزی کمائیں گی؟ میڈیکل سائینس نے تو تیزرفتار ترقی کی ہے اور ایک حیرت کدہ تخلیق کیا ہے؛ تو اس سے آپ گزر کرہی؛ اس راز کی حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں۔

### سب سے بڑا سوال؟؟؟

ڈاکٹرز کس بنیاد پر مریضوں کو ہائی کولیسٹرول، ہائی بی پی، ذیابیطس، دل کی بیماری، یا گردے کی بیماری قرار دیتے ہیں؟

یہ معیار کون طے کرتا ہے؟

## آئیے اس کو تھوڑا گہرائی سے دیکھیں:

سنہ ۱۹۷۹ عیسوی میں، بلڈ شوگر لیول جسے ذیابیطس سمجھا جاتا تھا ** ۲۰۰ ایم جی / ڈی ایل تھا۔ اس وقت، دنیا کی آبادی کا صرف **۳.۵% ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریض تھے۔

سنہ ۱۹۹۷عیسوی میں، انسولین بنانے والی کمپنیوں کے دباؤ میں، ذیابیطس کی حد *کم کرکے 126 ایم جی / ڈی ایل کردی گئی، جس نے اچانک ذیابیطس کی آبادی کو **3.5% سے بڑھا کر 8% کر دیا — یعنی 4.5% زیادہ لوگوں کو بغیر کسی حقیقی علامات کے ذیابیطس کا لیبل لگا دیا گیا۔

سنہ ۱۹۹۹ عیسوی میں، ڈبلیو ایچ او نے اس ہدایت کو قبول کیا۔ چنانچہ انسولین کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر منافع کمایا اور مزید کارخانے کھولے۔

سنہ ۲۰۰۳ عیسوی * میں، **امریکن ذیابیطس ایسوسی ایشن (اے ڈی اے) نے روزہ رکھنے والے خون میں شکر کی سطح کو مزید کم کر کے 100 ایم جی / ڈی ایل کر دیا۔ذیابیطس سے پہلے کے معیار کے طور پر۔ mg/dl

نتیجے کے طور پر، 27% لوگوں کو اچانک بغیر کسی وجہ کے ذیابیطس کے مریض کے طور پر درجہ بندی میں شامل کر لیا گیا۔

فی الحال، امریکن ذیابیطس ایسوسی ایشن (اے ڈی اے) کے مطابق، *کھانے کے بعد بلڈ شوگر 140ایم جی / ڈی ایل کو ذیابیطس سمجھا جاتا ہے۔

اس کی وجہ سے، تقریباً 50% عالمی آبادی پر اب ذیابیطس کا لیبل لگا ہوا ہے — جن میں سے اکثر واقعی بیمار نہیں ہیں۔ کیونکہ انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ وہ بیمار ہیں۔ ( جبتک وہ ڈاکٹر کے ہاتھ نہیں لگتے)

ہندوستانی دوا ساز کمپنیاں اس کو مزید کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، 5.5% کے ایچ بی اے۱سی تک، اس طرح اور بھی زیادہ لوگوں کو مریضوں میں تبدیل کرنا اور دوائیوں کی فروخت میں اضافہ کرنا ہے۔

بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ 11% تک ایچ بی اے۱سی کو ذیابیطس نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ HbA1c

 ### ایک اور مثال:

سنہ ۲۰۱۲ عیسوی میں، ایک بڑی دوا ساز کمپنی کو *امریکی سپریم کورٹ نے $3 بلین جرمانہ کیا تھا۔

ان پر الزام تھا کہ، 2007-2012 کے درمیان، ان کی ذیابیطس کی دوا نے دل کے دورے کے خطرے میں 43% اضافہ کیا۔

کمپنی کو یہ پہلے سے معلوم تھا لیکن جان بوجھ کر اسے نفع کے لیے چھپایا۔

اس مدت کے دوران، انہوں نے \$300 بلین منافع کمایا۔

 یہ ہے آج کا "انتہائی جدید طبی نظام"!۔۔۔ میڈیکل سائینس کا حیرت کدہ۔

🧏‍♀️ سوچیں… سوچنا شروع تو کریں...

✅ یقیناً یہ معلومات دوسروں سے شئیر کرنے کے قابل ہے ...

🧏‍♂️* آئیے خوش اور صحت مند رہیں — آج یہ تمام انسانوں کے لیے ہماری خواہش ہونی چاہیے۔ *

صحت مند زندگی کے لیے مشورہ

خوش رہنا سیکھیے۔ اور ہم سب کو صحت مند زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے؛ جو متوازن خوراک، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، کافی نیند، اور تناؤ کی کمی کا انتظام کرنے سے ممکن ہے۔ (وہ کہتے ہیں کہ ٹینشن لینے کا نہیں دینے کا)۔ مزید برآں، تمباکو نوشی اور الکحل جیسے غیر صحت بخش مشاغل اور طریقوں سے پرہیز کریں، ہائیڈریشن کو ترجیح دیں، یعنی پانی کو خوب استعمال کریں؛ اور دماغی تندرستی کو فروغ دینے والی سرگرمیوں میں مشغول ہوں۔ ذیل میں ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں:-۔

1. خوراک:

متوازن غذا کھائیں: پھلوں، سبزیوں، سارا اناج اور دبلی پتلی پروٹین کو ترجیح دیں۔

غیر صحت بخش غذاؤں کو محدود کریں: پراسیسڈ فوڈز، میٹھے مشروبات، اور زیادہ مقدار میں غیر حل شدہ اور غیر صحت بخش چکنائیوں کا استعمال کم کریں۔ جسمانی پانی کی کمی سے بچیں؛ دن بھر وافر مقدار میں پانی پائیں۔

2. جسمانی سرگرمی:

باقاعدگی سے ورزش کریں: ہفتے کے زیادہ تر دنوں میں کم از کم 30 منٹ کی اعتدال پسندی والی ورزش کا مقصد بنائیں۔

ایسی سرگرمیاں تلاش کریں جن سے آپ لطف اندوز ہوں: ورزش کو پائیدار بنانے کے لیے اپنے معمولات میں خوشگوار جسمانی سرگرمیاں شامل کریں۔

دن بھر حرکت کریں: طویل عرصے تک بیٹھنے سے گریز کریں اور اپنے روزمرہ کے معمولات میں حرکت کو شامل کریں۔

3. نیند:

کافی نیند حاصل کریں: ہر رات 7-9 گھنٹے کی معیاری نیند کا مقصد بنائیں۔

نیند کا نظام الاوقات بنائیں: اپنے جسم کے قدرتی نیند سے خود جاگنے سے کو منظم کرنے کے لیے بستر پر سونے کے لیے جائیں اور ہر روز ایک ہی وقت میں جاگیں۔

سونے کے وقت کا ایک آرام دہ معمول بنائیں: بہتر نیند کو فروغ دینے کے لیے سونے سے پہلے پرسکون سرگرمیوں میں مشغول ہوں۔

4. ذہنی تندرستی:

تناؤ کا انتظام کریں: تناؤ کو کم کرنے والی تکنیکوں پر عمل کریں جیسے مراقبہ، یوگا، یا گہری سانس لینے کی مشقیں (ایک مسلمان کو دن میں پانچ وقت نماز پڑھنی چاہیے)۔

فطرت سے قریب وقت گزاریں: اپنے مزاج کو بہتر بنانے اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے فطرت سے جڑیں۔

ان سرگرمیوں میں مشغول ہوں جن سے آپ لطف اندوز ہوں: ایسے مشاغل اور سرگرمیوں کے لیے وقت نکالیں جو آپ کو خوشی اور راحت فراہم کریں۔

ذہن سازی کی مشق کریں: ذہن سازی اور مراقبہ تناؤ کو کم کرنے اور توجہ کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ (کتابیں پڑھیں یا صحت مند ویڈیوز دیکھیں / سنیں)۔

5. طرز زندگی کے انتخاب:

غیر صحت بخش مشاغل اور مشقیں چھوڑیں: تمباکو نوشی اور شراب نوشی کے صحت پر بہت سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور ترک کرنا آپ کی صحت کے لیے بہترین کاموں میں سے ایک ہے۔

خطرناک رویوں سے بچیں: حادثات اور چوٹوں سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

اچھی حفظان صحت کی مشق کریں: جراثیم اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اچھی حفظان صحت کو برقرار رکھیں۔

مشورہ خاص طور پر بزرگوں کے لیے (50 سال سے زیادہ عمر کے)

بڑھاپا کوئی بیماری نہیں، یہ ایک ضروری راستہ ہے۔

بوڑھوں اور ان کے بچوں کے لیے چند الفاظ کہے جائیں:

سب سے پہلے، یاد رکھیں: تمام تکلیف ایک بیماری نہیں ہے.

دوسرا، بوڑھے سب سے زیادہ "خوفزدہ" ہونے سے ڈرتے ہیں۔ جسمانی معائنہ کی رپورٹ سے نہ گھبرائیں اور نہ ہی اشتہارات سے بیوقوف بنیں۔

تیسرا، بچوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے والدین کو ہسپتال لے کر نہ جائیں، بلکہ ان کے ساتھ چہل قدمی، دھوپ میں غسل، کھانے اور بات چیت کے لیے جائیں۔

بڑھاپا دشمن نہیں بلکہ غلط تصور اور غلط تشخیص اصل دشمن ہے۔

 

ہمیشہ مثبت رہیں: ہم انسان اللہ تعالی کی خاص تخلیق ہیں؛ اشرف المخلوقات ہیں؛ اور ہمارے جسم کے اندر خالقِ کُل نے ایک مکمل متوازن نظام شامل کیا ہوا ہے؛ جو خود اختیاری طور پر ہماری موت تک کام کرتا ہے۔ اور ہماری صحت مند عادات اور مثبت سوچ سے پیدا ہونے والے مثبت طرز زندگی صحت مند لمبی زندگی کے لیے کافی اچھا نسخہ ہیں۔ چنانچہ خوش رہنے اور شکر کرنے کی عادت بنائیں۔

*وما علينا إلا البلاغ المبين*

More Posts