Muhammad Asif Raza 2 months ago
Muhammad Asif Raza #education

خاندان بہ مضبوط بندھن

The family is the foundational building block of human communities. It shapes personal identity, teaches essential social values, and ensures the continuation of culture from one generation to the next. This write up in Urdu "خاندان بہ مضبوط بندھن" is an opinion about the importance of married life for the formation of a family and preservation of values in a society and a nation.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


خاندان بہ مضبوط بندھن


خاندان انسان کی بنیاد ہے۔ یہ اللہ تعالی کا احسان ہے کہ انسان ایک خاندان میں آنکھ کھولتا ہے؛ اور یہی خاندان اس کی پرورش کی پہلی سیڑھی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کتاب حکیم قرآن مجید کی سورۂ النساء میں فرمایا ہے کہ" اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس جاندار سے اس کا جوڑ پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں اور تم خدا تعالیٰ سے ڈرو جس کے نام سے ایک دوسرے سے سوال کیا کرتے ہو اور قرابت سے بھی ڈرو، بالیقین الله تعالیٰ تم سب کی اطلاع رکھتے ہیں"۔ (النساء:۱)۔۔

اسلام میں خاندان انسانی معاشرے کی بنیادی اور سب سے پہلی اکائی ہے۔ اس کی بنیاد ایک مرد اور عورت کے درمیان نکاح کے قانونی اور مقدس معاہدے پر ہوتی ہے۔ یہ نظام میاں بیوی، اولاد اور رحم القرابة اور دیگر قریبی رشتہ داروں کو باہمی محبت، حقوق و فرائض اور اخلاقی ذمہ داریوں کے مضبوط رشتوں میں پروتا ہے۔ اسلام میں نکاح کا رشتہ خاندان کی تشکیل کا واحد اور جائز ذریعہ ہے۔ میاں، بیوی اور ان کی اولاد (بیٹا، بیٹی) پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور خاندان میں والدین، دادا دادی، نانا نانی اور دیگر خون کے رشتے دار (صلہ رحمی / رحم القرابة ) شامل ہوتے ہیں۔


اللہ سبحان تعالیٰ خاندان کی ابتدا دو افراد، دوجانوں کے باہم ملاپ سے ایک گھر کی بنیاد رکھتے ہیں، پھر ان کو ماں باپ کے رتبے سے سرفراز کرکے اولاد جیسی نعمت عطا فرماتے ہیں۔ پھر وہاں بہن اور بھائی کے رشتے جنم لیتے ہیں؛ اور یہی بھائی بہن بڑے ہوکر سسرالی رشتے داریاں (بہنوئی، داماد، بہو وغیرہ) جنم دیتے ہیں اور خاندان وسعت پاتا ہے، یہاں تک کہ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں سے خاندان کا باغیچہ مہک اُٹھتا ہے۔ ماں باپ و اولاد معہ چچا، پھپو، خالہ، ماموں، دادا، دادی اور نانا نانی گلشن حیات کا وہ خوشبودار احاطہ ہے جواُلفت ومحبت کا مظہر ہے۔

خاندان ہی وہ قلعہ ہے جس سے صحت مند اور مہذب معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ بچوں کی بہترین اخلاقی، دینی اور معاشرتی تربیت کا پہلا مدرسہ خاندان ہی ہے۔ یہ انسان کے لیے جذباتی سکون، نفسیاتی تحفظ اور باہمی تعاون کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسلام نے شوہر، بیوی اور اولاد کے فرائض واضح کیے ہیں تاکہ نظم و ضبط قائم رہے۔ خاندانی رشتہ صرف خون کا نام نہیں بلکہ ایک دوسرے کا احترام کرنے اور مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونے کا عملی ثبوت ہے۔ ایک مضبوط خاندانی نظام انسان کو ذہنی سکون اور معاشرے میں مضبوطی فراہم کرتا ہے۔

مضبوط خاندانی بندھن کے لیے کچھ بنیادی اصول ہوتے ہیں؛ جیسے"باہمی احترام" کی قدر کا اہتمام کرنا جس میں ہر فرد کی رائے اور شخصیت کو مقدر جاننا؛ اور " مؤثر بات چیت" کا نظام ہونا، جس میں سب کو خیالات کا اظہار کا موقع ملنا اور دھیان سے سننا ہوتا ہے اور گفتگو میں نرم اور بہترین الفاظ کا چناؤ کرنا سیکھیں۔ پھر آپس میں "وقت کا اشتراک" ہونا، جس میں روزمرہ کی مصروفیت میں بھی ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنا ہوتا ہے؛ اور باہم "اعتماد اور وفاداری" کا ہونا جس میں مشکل حالات میں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوتا ہے۔

خاندانی رشتوں کے بندھن کو مضبوط کرنے کے طریقوں میں باہم مل کر کھانا کھائیں؛ جس کے لیے دن میں کم از کم ایک وقت کا کھانا ایک ساتھ ضرور کھائیں۔ اور پھرخوشی و غم کو ساجھا سمجھیں اور ایک دوسرے کی کامیابیوں کو منائیں اور پریشانیوں میں باہم مشورہ کریں۔ یہ یاد رہنا چاہیے کہ ہم سب انسان ہیں اور خطا کے پتلے ہیں، سو غلطیاں ہوہی جاتی ہیں سومعاف کرنا سیکھیں ور احسان کا معاملہ کرنا سیکھیں؛ کیونکہ درگزر کرنے کی عادت سے رشتوں کو ترجیح ملتی ہے۔ خاندانی معاملات اور وراثت میں انصاف قائم کرنا ضروری ہے۔

قرآن کیا کہتا ہے؟

رحمی رشتے خون کے رشتے ہوتے ہیں اور یہ اس کا مضبوط بندھن ہونا رحمتِ خداوندی کے سبب کے باوجودخود انسانوں کے باہم کوشش سےمشروط ہوتا ہے۔ کہ یہی امتحان اور آزمائش کا سبب بھی ہے۔ قرآن کریم خاندان کے بندھن کو مضبوط رکھنے، رشتوں کا پاس کرنے اور صلہ رحمی (رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک) پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ اسلام میں خاندانی نظام کو ایک مقدس اور بنیادی اکائی مانا گیا ہے۔ قرآنی تعلیمات کے اہم ستون کچھ اس طرح ہیں:-۔

تقویٰ اور رشتہ داری: اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے ساتھ ہی رشتوں کے احترام کا حکم دیا ہے (سورہ النساء: 1)۔

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک: والدین کے سامنے "اُف" تک کہنے سے روکا گیا ہے (سورہ الاسراء: 23)۔

میاں بیوی کا رشتہ: اس رشتے کی بنیاد محبت اور رحمت پر رکھی گئی ہے (سورہ الروم: 21)۔

رشتہ داروں کے حقوق: قریبی رشتہ داروں کو ان کا حق دینے کا واضح حکم ہے (سورہ الاسراء: 26)۔

قطع تعلقی کی ممانعت: رشتوں کو توڑنے والوں پر قرآن میں سخت وعید آئی ہے (سورہ محمد: 22-23)۔


رحم مادر رشتوں کی اہمیت

رحمِ مادر (خونی رشتوں) سے جڑے ہونے کے ناطے خاندانی بندھن انسانی زندگی، معاشرتی سکون اور دینی احکام کے لحاظ سے انتہائی اہم ہیں۔ اسلام اور معاشرت میں ان رشتوں کو جوڑ کر رکھنے، ان کے حقوق ادا کرنے اور باہمی الفت قائم رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں توحید کے فوراً بعد قریبی رشتہ داروں کے حقوق اور حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔

آئیے اس ضمن میں قرآن کی سورت یوسف سے سیکھتے ہیں؛ جہاں اللہ تعالی نے حضرت یعقوب اور انکے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ سورہ یوسف قرآن مجید کی ایک منفرد اور خوبصورت سورت ہے، جسے "احسن القصص" (سب سے بہترین قصہ) کہا گیا ہے۔ یہ سورت انسانی نفسیات، خاندانی معاملات، اور زندگی کے نشیب و فراز سے نمٹنے کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے۔


حضرت یعقوب علیہ السلام نے بچپن ہی سے حضرت یوسف علیہ السلام کو رشتوں کی اہمیت سکھا دی تھی اور بتایا تھا کہ بیٹا ! تفریق کی طرف تو کبھی جانا ہی نہیں ہے، ہمشہ نبھانا ہے کیونکہ رشتوں کو نبھانے والے قرآن کی اصطلاح میں فائن انٹلکچوئلز ہیں۔

اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۔۔۔۔۔۔ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ

حقیقت یہ ہے کہ نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل و ہوش رکھتے ہوں یعنی وہ لوگ۔۔۔۔۔۔جو ان رشتوں کو جوڑتے ہیں جنہیں جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ (سورت رعد: 20،21)

اس نصیحت کو حضرت یوسف علیہ السلام نے ایسے پلے باندھا کہ ان کی پوری زندگی میں کہیں بھی اپنے خونی رشتوں سے ناراضگی نظر نہیں آتی۔

حالانکہ ایک موقع ایسا بھی آتا ہے کہ جب برادران یوسف حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے کہتے ہیں:

اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُۚ-

اگر اس (بنیامین) نے چوری کی ہے تو (کچھ تعجب نہیں ، کیونکہ) اس کا ایک بھائی (یوسف) اس سے پہلے بھی چوری کر چکا ہے۔ (سورت یوسف: 77)

جب یہ بات حضرت یوسف علیہ السلام نے سنی تو

فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْۚ

یوسف نے اس بات کو چپکے سے دل میں چھپا لیا اور ان کے سامنے ظاہر نہ کیا۔ (سورت یوسف: 77)

یعنی حضرت یوسف علیہ السلام بھائیوں کا یہ الزام سن کر بپھر نہیں گئے، غصہ میں ان کو بے نقط نہیں سنانے لگے، ماضی میں ہونے والے واقعات کی پٹاری نہیں کھولی بلکہ سمجھ گئے کہ میں کریم ہوں اور کریم رشتہ نبھانے کی خاطر اس طرح کی باتوں کو اپنے دل میں چھپا لیتا ہے۔


سورہ یوسف کے اہم اسباق

صبرِ جمیل کا صلہ: حضرت یوسف اور حضرت یعقوب علیہما السلام کا صبر سکھاتا ہے کہ تنگی کے بعد آسانی لازمی ہے۔

حسد کی تباہ کاری: بھائیوں کا حسد ظاہر کرتا ہے کہ یہ جذبہ انسان کو اپنوں کے خلاف بھی اندھا کر دیتا ہے۔

پاکدامنی کی طاقت: آزمائش اور گناہ کے موقع پر اللہ کے خوف سے پیچھے ہٹنا دنیا و آخرت میں عزت کا سبب بنتا ہے۔

تقدیر الٰہی پر ایمان: انسان جتنی بھی تدبیریں کر لے، ہوتا وہی ہے جو اللہ کی حکمت اور مشیت میں ہوتا ہے۔

معافی اور درگزر: برسرِاقتدار آنے کے بعد حضرت یوسف کا اپنے بھائیوں کو معاف کرنا اعلیٰ ظرفی کی بہترین مثال ہے۔

خوابوں کی سچائی: اللہ تعالیٰ اپنے چنیدہ بندوں کو خوابوں کے ذریعے مستقبل کے حالات سے آگاہ فرماتا ہے۔

بحران کا حسنِ تدبیر: قحط سالی کے دوران حضرت یوسف کی معاشی حکمتِ عملی بہترین انتظامی صلاحیت کا ثبوت ہے۔


آقا کریم محمدﷺ کی احادیث سے سبق

اسلام میں خاندانی نظم و نسق (صلہ رحمی، باہمی محبت، اور حقوق و فرائض) کی مضبوطی پر نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت زور دیا ہے۔ آقا کریمﷺ کی حدیثِ مبارکہ کے مطابق رحم (رشتہ داری) خدائے رحمن کے نام سے نکلی ہے اور عرش سے لٹک کر کہتی ہے کہ جو مجھے جوڑے گا، اللہ اسے جوڑے گا اور جو مجھے توڑے گا، اللہ اسے کاٹ دے گا۔ چنانچہ بہترین انسان وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور رشتہ داریوں کو جوڑ کر رکھے۔

آقا کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے سب سے اچھا ہے، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہترین ہوں" (سنن ابن ماجہ حدیث 1245)۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کو اس کا سب سے بڑا عملی نمونہ قرار دیا کہ آپ اپنے ازواجِ مطہرات اور اہل خانہ کے ساتھ سب سے زیادہ نرم خو اور مہربان تھے۔

مرد کو خاندان کا نگران اور محافظ بنایا گیا ہے جو اپنے ماتحتوں (بیوی بچوں) کی کفالت اور تربیت کا ذمہ دار ہے۔ آقا کریم محمدﷺ نے فرمایا کہ جو چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور بڑوں کی عزت نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔ (جامع ترمذی حدیث 1919؛ 1920)۔

ایک اور حدیث یوں ہے کہ"جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہچانے (اس کا احترام نہ کرے) وہ ہم میں سے نہیں"۔ (سنن ابی داؤد حدیث 4943)۔

رسول اللہ ﷺ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فرمان کے ذریعے دنیاوی خوشحالی (رزق کی فراخی) اور لمبی زندگی (عمر کی درازی) کا ایک بہترین اور آسان نسخہ بیان فرمایا ہے۔ آقا کریم محمدﷺ کا ارشاد ہے کہ "جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادہ گی ہو اور اس کی عمر دراز ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے"۔ (صحیح بخاری حدیث 2067)۔

خاندانی بندھن کا نسل بہ نسل تعلق

خاندانی بندھن کا نسل بہ نسل (رحمِ مادر سے جڑا) تعلق ایک ایسا مضبوط سلسلہ ہے جو ماضی، حال اور مستقبل کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہ رشتہ صرف جینز یا خون کی منتقلی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اقدار، روایات اور اخلاقیات کا ایک زندہ سفر ہے۔ اور وراثت اس کا اہم ترین تعلق ہے۔ قرآن کریم کی سورہ النساء (آیت 11، 12 اور 176) میں وراثت کے حصے خود اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں تاکہ انسان اپنی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر کسی کا حق نہ مارے۔ قرآن مجید میں خاندانی معاملات اور خاص طور پر وراثت میں عدل و انصاف قائم کرنے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اسلام نے دنیا میں پہلی بار خواتین، بچوں اور کمزوروں کو وراثت کا قانونی حقدار ٹھہرایا اور اسے اللہ کی مقرر کردہ حدود قرار دیا۔

برادرانِ اسلام؛ قرآن الحکیم میں وراثت کے قوانین بیان کرنے کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:"یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں" (النساء: 13)۔ جو شخص ان حدود کو توڑے گا اور دوسروں کا حق مارے گا، اس کے لیے سخت عذاب کی وعید ہے: "اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدود سے تجاوز کرے گا، اللہ اسے آگ میں ڈالے گا" (النساء: 14)۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اولاد اور پوتوں/ نواسیوں کو اللہ کی بڑی نعمتوں میں شمار کیا ہے (سورہ النحل: 72)۔

شیطان کا سب سے بڑا ہدف انسانی خاندان

قرآن مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ شیطان کا سب سے بڑا ہدف انسانی خاندان کو تباہ کرنا، رشتوں میں پھوٹ ڈالنا اور میاں بیوی کے درمیان جدائی پیدا کرنا ہے۔ قرآنِ کریم میں شیطان کی خاندانی نظام کے خلاف ریشہ دوانیوں اور خرابیوں کا ذکر درج ذیل اہم مقامات پر ملتا ہے۔ سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے جادو اور شیطانی اعمال کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کو خاص طور پر اجاگر فرمایا ہے کہ شیطان کا سب سے بدترین وار میاں بیوی کے تعلق کو توڑنا ہے:۔

"پھر لوگ ان دونوں سے وہ (جادو) سیکھتے جس کے ذریعے وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں۔" (سورہ البقرہ، آیت: 102)

( حدیث مبارکہ میں بھی اس کی تائید ملتی ہے کہ ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے اور اس کا جو چیلہ میاں بیوی میں طلاق کروا کر آتا ہے، ابلیس اسے گلے سے لگاتا ہے اور سب سے بڑا اعزاز دیتا ہے)۔۔

سورہ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کی سازش کے بعد (جب وہ دوبارہ ملتے ہیں) واضح فرماتے ہیں کہ بھائیوں کے درمیان یہ حسد اور دوری شیطان کی وجہ سے تھی۔ "اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا۔" (سورہ یوسف، آیت: 100)۔۔

شیطان خاندان کے افراد کی آپس کی گفتگو میں وسوسے ڈالتا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کی بات کا غلط مطلب نکالیں اور گھر کا امن برباد ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ "اور میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہت اچھی ہوں، یقیناً شیطان ان کے درمیان فساد ڈلواتا ہے۔" (سورہ بنی اسرائیل، آیت: 53) ۔۔

خاندانوں میں اکثر لڑائیاں مال و زر اور وراثت پر ہوتی ہیں۔ شیطان انسان کو مستقبل اور مفلسی کا خوف دلاتا ہے، جس سے انسان اپنوں کے حقوق مارتا ہے اور صلہ رحمی چھوڑ دیتا ہے۔ "شیطان تمہیں مفلسی (غربت) سے ڈراتا ہے اور تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔" (سورہ البقرہ، آیت: 268)۔۔

شیطان نے سب سے پہلا حملہ اس کائنات کے سب سے پہلے خاندان (حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام) پر جنت میں کیا تھا، جس کا مقصد ان کے درمیان حجاب اور حیا کو ختم کرنا تھا۔ "اے اولادِ آدم! شیطان تمہیں کسی فتنے میں نہ ڈال دے جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوا دیا، اس حال میں کہ ان کا لباس ان سے اتروا رہا تھا۔" (سورہ الاعراف، آیت: 27)

خلاصہ یہ ہے کہ شیطان کا پورا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ گھروں کے سکون کو غیبت، حسد، بدگمانی، جادو اور تلخ کلامی کے ذریعے جہنم بنا دے۔ اس سے بچنے کا واحد حل کثرت سے "استغفار"، "اعوذ باللہ" پڑھنا اور آپس میں درگزر کرنا ہے۔

اختتامی کلمات

خاندان کا بندھن مضبوط ہونا چاہیے اور اس کے لیے مسلسل کوشش کرنا ہوتی ہے؛ کیونکہ شیطان رجیم بھی مسلسل اس میں خرابی کا معاملہ کرتا رہتا ہے۔ یہی ازمائش اور امتحان ہے جس سے ہم انسانوں کو گزرنا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے میں اس مقام کا تصور کیجیے جہاں ایک بھائی نے ایک بہتان باندھا کہ "اگر اس (بنیامین) نے چوری کی ہے تو (کچھ تعجب نہیں ، کیونکہ) اس کا ایک بھائی (یوسف) اس سے پہلے بھی چوری کر چکا ہے"۔ (سورت یوسف: 77)

اس طرح کے مواقع پر چپ رہنا، حق پر ہونے کے باوجود خاموش ہو جانا دل گُردے کا کام ہے۔

یہاں بڑے بڑے عبادت گزاروں کی زبانیں کھل جاتی ہیں ، جوش سے دماغ کھول اٹھتا ہے اور ہاتھ پاؤں کی رگیں تن جاتی ہیں لیکن یہ پیغمبر ہیں؛ اور اپنے خاندان کورشتہ نبھانا سکھا رہے تھے۔

ہم سیکھتے ہیں کہ قرآن کا سبق یہی ہے کہ ہر وقت ہر بات کا رد یا ہر جگہ اپنا موقف بیان کرنا ضروری نہیں ہوتا، بعض امور میں جان بوجھ کر غافل یا جاہل رہنا ہی فائدے مند ہوتا ہے، بعض مسائل اور الجھنیں تو صرف ایک مسکراہٹ کی مار ہوتی ہیں۔ لیکن ہم ہر مسئلے کی پوری کھوج لگاتے ہیں اور صبح شام طرح طرح کے الزامات ، غیبتیں اور جھوٹ کے ذریعے رشتوں کے تار و پود ادھیڑ دیتے ہیں۔

ہم کیوں یہ نہیں سوچتے کہ کبھی کبھار خاموشی اور تھوڑا سا رک کر کوئی فیصلہ کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ سچا ہونے کے باوجود سچ نہیں کھولنا تاکہ دوسرا رشتہ دار سب کے سامنے شرمندہ نہ ہو۔

آج سینکڑوں رشتے صرف زبان کے غلط استعمال اور ہر جگہ ہر بات بولنے کی وجہ سے ٹوٹ رہے ہیں۔ ان رشتوں کو ٹوٹنے سے بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنے سینے کو رازوں کا مدفن بنا لیں، زبان کو ایسی لگام دیں کہ کبھی اس کے ذریعے سے رشتوں پر حرف نہ آئے۔

یہ کام مشکل ضرور ہے کیونکہ بہت زیادہ صبر کا تقاضا کرتا ہے لیکن نا ممکن نہیں ہے اور اس کا اجر ربِ جمیل کے محبت بھرے کلام سے سنیے؛ [ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ]۔ "حقیقت یہ ہے کہ جو شخص تقوی اور صبر سے کام لیتا ہے تو اللہ (ایسی) نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا"۔ (سورت یوسف: 90)۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ خود کو شیطان اور خود اپنے نفس کے شر سے محفوظ کریں۔ اور اس کا راستہ صرف اور صرف اللہ تعالی کی بندگی اور غلامی احمد مرسلﷺ میں پوشیدہ ہے۔ بہتر ہےکہ اللہ تعالی کے حضور مسلسل دعاگو رہیں۔

قرآن میں انبیاء کرام کی دعائیں موجود ہیں جہاں انہوں نے اپنی نسلوں کے لیے سب سے اہم شے ایمان اور نماز پر قائم رہنے کی دعا مانگی؛ آئیے ہم بھی شامل ہوں۔۔۔

"اے میرے رب! ان دونوں (والدین) پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔" (سورہ الاسراء: 24)۔۔

( حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا "اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا، اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول فرما۔" (سورہ ابراہیم: 40)۔۔۔

"اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو (بخش دے) اور سب مومنوں کو بھی (بخش دے) جس دن حساب قائم ہوگا" (سورہ ابراہیم، آیت: 41)۔۔

"اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔" (سورہ الفرقان: 74)۔۔۔

رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے، جو زندگی کے ہر معاملے پر محیط ہے؛ "اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔" (سورہ البقرہ: 201)۔۔۔

اللہ تعالی ھم سب کو ھر لمحہ صبر اور تقوی کی نعمت عطا فرمائیں۔ اور اسلام کی نشاطِ ثانیہ کے لیے ایک مضبوط خاندان اور معاشرے کے قیام کے لیے جدوجہد کی توفیق عطا فرمائیں؛ تاکہ ایسے ایمان اور ایقان والے بیٹے اور بیٹیاں جوان کریں جو قومِ مسلم کا فخر بن سکیں۔ اللہ سبحان تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین ثم آمین۔

0
239

Vigortrix: A Complete Guide to Its Features and Potential Benefits

What Is Vigortrix Male Enhancement? Vigortrix is a dietary supplement marketed for adult...

defaultuser.png
TripleGreen
15 minutes ago
Hotel Econômico São José do Rio Preto-SP Centro Cidade: Encontre Hospedagem com Bom Preço e Conforto

Hotel Econômico São José do Rio Preto-SP Centro Cidade: Encontre Hospe...

defaultuser.png
Alexistogel Slot Online
55 minutes ago

Solvarex Review: What Makes This Formula Stand Out?

What Is Solvarex? Solvarex is a dietary supplement designed to support general metabolic...

defaultuser.png
TripleGreen
1 hour ago
Elegant USA Fashion Looks and Maison Margiela Shoes

Elegant USA Fashion Looks and Maison Margiela Shoes

defaultuser.png
Suicide boys Merch
12 hours ago
Southwest Airlines Las Vegas Office

Southwest Airlines Las Vegas Office

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocI5fcKdmhEi8P38-_ctJodLIIM3u8MYzelilrmXjH-IvJxLUw=s96-c
Elisha Parker
13 hours ago