کہانی: "بیٹا! قلم کو دھیان سے پکڑو"۔

This story "کہانی: "بیٹا! قلم کو دھیان سے پکڑو"۔" enchanting allegory weaves a bridge between generations, transforming Allama Iqbal’s philosophies of Khudi (Selfhood) and Ishq-e-Rasool (love for the Prophet ﷺ) into a tangible household legacy. Set within the historic courtyard of Khwab Mahal, the narrative"کہانی: "بیٹا! قلم کو دھیان سے پکڑو"۔" captures a grandfather lovingly guiding his grandchildren away from the soulless convenience of digital screens back to the sacred trust of the physical pen. Through their innocent dialogue and the tactile imagery of chalk and vintage slate, the children discover that handwriting is not an obsolete chore, but a spiritual gateway to sculpting their own destiny. Ultimately, the story serves as a profound defense of human emotion, history, and divine connection against the rising tides of modern technological dependence.

Nov 07, 2026 - Muhammad Asif Raza

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


کہانی: "بیٹا! قلم کو دھیان سے پکڑو"۔


پھول نگر کے پرانے پُرشکوه خواب محل کے دالان میں نومبر کی دھندلی سی شام اتر رہی تھی۔ فضا میں سوکھی پتیوں کی سوندھی مہک اور ایک گہرا نرم صوفیانہ سکون تھا، جبکہ دالان کے کونے میں کوئلوں پر ابلتے سبز قاوے کی کیتلی سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ دالان کے وسط میں بچھے ہوئے پرانے قالین پر ستر سالہ رانا محمد بخش سفید لٹھے کا کڑھا ہوا کرتہ پہنے، پشمینہ کی گرم شال اوڑھے گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ان کا چہرہ زندگی کے ان گنت تجربات اور علم کی روشنی سے چمک رہا تھا۔ رانا محمد بخش خواب محل کا ورثہ سنبھالے ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ ان کی نئی نسل تک وہ روایات منتقل ہو جائیں جن کا خواب خود ان کے دادا نے خواب محل کی بنیادیں رکھتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ خواب تھا خواب نگر کو اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ کے تحت آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ریاستِ مدینہ والی ریاست جیسا بنانا۔

ان کے اردگرد ان کے پوتے اور نواسے بیٹھے تھے جن کی عمریں پانچ سے دس سال کے درمیان تھیں۔ آٹھ سالہ نوال اور چلیبلے سے پانچ سالہ سرفراز کے ہاتھوں میں لکڑی کی تختیاں (سلیٹ) اور چاک تھیں۔ دالان میں گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ لکڑی کی تختیوں پر سفید چاک کی چرچراہٹ کی ہلکی ہلکی آواز گونج رہی تھی۔

رانا محمد بخش نے جھک کر نوال کی ننھی انگلیوں کو دیکھا، جو چاک کو بہت مضبوطی سے جکڑے ہوئے تھیں، جس کی وجہ سے لکڑی پر ٹیڑھی میڑھی لکیر بن رہی تھی۔ انہوں نے محبت سے نوال کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دھیمے سے مسکرا کر کہا:۔۔

"نہیں میری بچی۔۔۔ بیٹا! اس چاک کو قلم کی طرح دھیان سے پکڑو۔ ہاتھ میں قلم ایک امانت ہوتا ہے جس کو پوری محبت اور اعتماد سے تھامنا ہوتا ہے۔ قلم کو یوں سختی سے نہیں جکڑتے، اسے انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا مان دیا جاتا ہے۔ جیسے آپ مرغی کے چوزے کو اپنے ہاتھوں تھامتے ہو کہ وہ اڑنے بھی نہ پائے اور اس کا دم بھی نہ گھٹے۔"

سرفراز نے اپنی سلیٹ پر لکھی ہوئی الٹی سیدھی لکیریں دکھاتے ہوئے اور اپنے کرتے کے دامن سے چاک کا سفید پاؤڈر جھاڑتے ہوئے معصومیت سے پوچھا: "دادا جان! ہم روز روز یہ 'الف' اور 'ب' کیوں سیکھ رہے ہیں؟ اب تو موبائل پر بس ایک بار انگلی چھوؤ تو پورا لفظ خود ہی لکھا ہوا آ جاتا ہے! پھر اس قلم اور چاک سے اتنی محنت کیوں؟"

رانا محمد بخش نے ایک گہرا سانس لیا اور ان کا ذہن صدیوں پرانی تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے لگا۔ انہوں نے اپنے پاس رکھی سلیٹ اٹھائی، اور چاک سے سلیٹ پر خوبصورت خوش خط حروف میں لکھا:۔

"اللہ ایک ہے اور ہم آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں۔"

اور اس کے بعد انہوں نے اپنے واسکٹ کی جیب سے ہاتھی دانت کا ایک قدیم نب والا فاؤنٹین پین نکالا جس کی سنہری نب برقی قمقموں کی روشنی میں چمک اٹھی؛ اور پاس رکھے کاغذ پہ اسی جملے کو لکھا؛ پوری خوش خطی کے ساتھ۔ "اللہ ایک ہے اور ہم آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں"۔۔۔


بچوں نے اپنے دادا کے عقیدت سے لکھے ہوئے ان نورانی الفاظ کو دیکھا، جن کی بناوٹ میں ایک عجیب سا جلال تھا۔ رانا محمد بخش نے اپنی شال کو کندھوں پر درست کرتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں گفتگو کا آغاز کیا:۔۔۔

"میری جان! جب کائنات کے مالک نے اپنے آخری نبی اور ہم سب کے آقا؛ میری جان بھی ان پہ قربان؛ حضرت محمد ﷺ پر غارِ حرا میں پہلی وحی نازل کی، تو کائنات کا سب سے پہلا حکم بادشاہت، مال و دولت یا ہتھیاروں کا نہیں تھا، بلکہ وہ حکم تھا 'اِقْرَأْ' یعنی پڑھو! اور اگلی ہی آیات میں اللہ نے گواہی دی: 'الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ' (جس نے قلم کے ذریعے سکھایا)۔ یہ رہتی دنیا تک کا اعلان تھا کہ علم اور قلم کا تھامنے والا ہی ہمیشہ برتر رہے گا۔ یہ جو تم اسکرین پر انگلی چھوتے ہو سرفراز، وہ مشین کے بے روح الفاظ ہیں۔ لیکن جب تم قلم سے لکھتے ہو 'اب + با = ابّا' اور 'ام + ما + ں = امّاں' تو اسی لمحے تمہارے دماغ کے خلیات (نیورونز) کے درمیان قدرت نئے راستے بنا رہی ہوتی ہے۔ پچھلی کچھ دہائیوں سے بچوں کو قلم سے دور کر کے اسکرین کا عادی بنانے سے ہماری نئی نسل کا دلِ بیدار داغدار ہو گیا"۔۔۔


نوال نے پوچھا: "دادا جان! کیا پرانے زمانے میں لوگ اسی قلم سے اتنا کچھ لکھ لیتے تھے؟" اس نے دادا جی کے ہاتھ میں پکڑے اس چمکتے ہوئے نب والے پرانے فاؤنٹین پین کی طرف اشارہ کیا جس سے وہ ایک کاپی میں سلیٹ پر لکھی تحریر کے موتیوں کو دہرا رہے تھے۔

رانا محمد بخش نے دالان میں رکھے ہوئے پرانے لکڑی کے صندوق پر سجیں بھاری بھرکم کتب کی طرف دیکھا، ایک گہرا سانس لیتے ہوئے قریب کے لیمپ کی لو کو تھوڑا تیز کیا اور بولے:۔۔


"مسلمانوں نے جب تک اس قلم کی تقدیس کو پہچانا، دنیا ان کے قدموں میں تھی۔ بغداد کا 'بیت الحکمت' ہو یا اندلس کے کتب خانے، وہاں قلم کی سرسراہٹ راتوں کو گونجتی تھی۔ ہمارے ہندوستان کی ہزار سالہ تاریخ دیکھو، یہاں اسلام کسی تلوار سے نہیں پھیلا، بلکہ داتا گنج بخشؒ اور خواجہ غریب نوازؒ جیسے صوفیائے کرام نے اپنے اخلاق اور آقا ﷺ کی محبت کا ایسا بیج بویا کہ دلوں کی کایا پلٹ گئی"۔۔۔

"لیکن دادا جان! اب تو لوگ کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سب کچھ خود لکھ دے گی؟" دس سالہ احمد نے، جو اپنے دادا کے بالکل قریب بیٹھا تھا، سوال کیا۔

رانا محمد بخش کے چہرے پر جلال اور عزم کی لہر دوڑ گئی، انہوں نے کاپی پر قلم روک کر تمام بچوں کو گہری نظروں سے دیکھا:۔۔۔


"یہی تو اس صدی کا سب سے بڑا مغالطہ ہے! کمپیوٹر دنیا بھر کی معلومات تو جمع کر سکتا ہے، لیکن وہ انسانی دل کا درد، آنکھ کا آنسو، اور آقا نامدار ﷺ کے عشق کی وہ مٹھاس کبھی نہیں لکھ سکتا جو صرف ایک تڑپتے ہوئے انسانی دل اور ہاتھ میں تھمے ہوئے قلم سے نکلتی ہے۔ اس زمین پر جو بھی تاریخ لکھی گئی ہے، وہ صرف 'انسان کی کہانی' ہے، اور کوئی مصنوعی ذہانت اسے بدل نہیں سکتی۔ علامہ اقبال نے اسی لیے تو کہا تھا:۔۔

امارت کیا، شکوہِ خسروی کیا، کچھ نہیں اس کی

اگر حاصل نہ ہو انسان کو علمِ لوح و سلطانی!۔


میرے بچو آپ ذرا خود اپنے قلم کو اٹھاؤ اور یہ جملہ لکھو: 'اللہ ایک ہے اور ہم آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں۔' اور جب ایسا کرو تو محسوس کرنا کہ اللہ دیکھ رہا ہے اور آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ درود کی صورت میں پہنچ رہا ہے؛ ۔۔ چلو اب لکھو"۔۔۔

بچوں نے جوش اور عقیدت سے اپنے ننھے ہاتھوں میں چاک تھامی اور سلیٹ پر لکھنے لگے۔

احمد بولا: "دادا جی؛ بہت عجب سا محسوس ہوا۔۔۔ کچھ نیا سا۔۔۔ جیسے دل دھڑک نہیں رہا بلکہ گا رہا ہو۔۔۔"

نوال اپنی سلیٹ دکھاتے ہوئے چہکی: "دادا جی مجھے تو لگا کہ جیسے کوئی غیبی طاقت میرے ساتھ شامل تھی جو ان الفاظ کو بنا سنوار کر لکھنے میں میری مدد کر رہی تھی، میرا ہاتھ خود بخود چل رہا تھا"۔۔۔


رانا محمد بخش کے چہرے پر ایک ملکوتی مسکراہٹ ابھری۔ ان کی آنکھوں میں گہرے پیار اور فخر کے قطرے تیر رہے تھے۔ انہوں نے احمد اور نوال کو اپنے اور قریب بلایا اور ان کے سروں پر دستِ شفقت رکھتے ہوئے دھیمی مگر پُر جلال آواز میں کہا:۔۔


"سبحان اللہ! میرے بچو، یہی تو وہ زندہ معجزہ ہے جسے دنیا مادی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتی۔ احمد، جو تمہیں 'کچھ نیا سا' محسوس ہوا، وہ دراصل تمہاری خودی کی پہلی انگڑائی تھی۔ اور نوال میری بچی! جو طاقت تمہیں اپنے ساتھ شامل محسوس ہو رہی تھی، وہ غارِ حرا کی اسی الہامی روشنی کا تسلسل ہے جو قلم پکڑنے والے سچے مومن کے دل کو سہارا دیتی ہے۔ جب انسان دنیا جہان کی تمام مادی محبتوں سے اوپر اٹھ کر آقا کریم ﷺ کے نام کو اپنے دل کی تختی پر سجاتا ہے اور قلم سے کاغذ پر اتارتا ہے، تو کائنات کی روح اس کے قلم کی پشت پناہ بن جاتی ہے"۔۔۔۔


انہوں نے دالان میں بیٹھے تمام بچوں پر ایک نگاہ ڈالی، جن کے چہروں پر اب برقی قمقموں کی زرد روشنی میں ایک عجیب سا وقار اور فہم جھلک رہا تھا۔ اسی لمحے احمد نے بڑے تجسس سے پوچھا:۔۔۔

"دادا جی! اگر ہمارے پاس اتنی بڑی طاقت ہے، تو پھر ہم مسلمان دنیا میں غلام کیسے ہو گئے؟ اور یہ غلامی اتنی مضبوط کیسے رہی؟"


رانا محمد بخش نے ایک گہرا اور سرد سانس لیا، قاوے کی پیالی کو ایک طرف رکھا اور بولے:۔۔

"میرے بچو! ہم نے مادی دنیا کی چمک دمک میں آ کر اپنی روح، اپنی تہذیب اور اپنی زبان چھوڑ دی اور انگریزی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ اب بھلا تم ہی بتاؤ، غیر کی زبان میں انسان اپنی آرزوؤں کی شرح کیسے کر سکتا ہے؟ جب انسان اپنی مادری اور قومی زبان کھو دیتا ہے، تو نہ بولتے ہوئے اس کا دل دھڑکتا ہے اور نہ لکھتے ہوئے اسے کوئی لذت محسوس ہوتی ہے۔ ہم نے مغرب کے نظامِ تعلیم کو اپنایا، لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے صرف گدھوں کی طرح کتابیں اپنے اوپر لاد لیں اور علم کا نور پانے کے بجائے لگے 'ڈھیں چوں ڈھیں چوں' کرنے! اس کا نقصان یہ ہوا کہ معاشی، فکری، نفسیاتی اور نظریاتی غلامی ہماری ہڈیوں تک اتر گئی۔ ہم نے علم تو حاصل کیا، لیکن وہ علم جو ہمیں غیر کا نقال بناتا ہے، اپنی پہچان نہیں دیتا"۔۔۔


رانا محمد بخش نے کچھ دیر کے لیے توقف کیا، ان کی نظریں دالان میں جلتی آگ کے شعلے پر جم گئیں۔ پھر انہوں نے بچوں کو اپنے مزید قریب کرتے ہوئے بڑے مان سے کہا:۔۔۔

"جب برصغیر پاک و ہند کے مسلمان انگریزوں کی مادی اور ہندوؤں کی سماجی غلامی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرے ہوئے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی فکری بیداری کے لیے حکیم الامت علامہ محمد اقبال کو چنا۔ اقبال محض ایک روایتی شاعر نہیں تھے، وہ ایک عظیم فلسفی، مفکر اور دوراندیش رہنما تھے جنہوں نے غلام ہندوستان کے مسلمانوں کو آزادی کا حقیقی خواب دکھایا۔ انہوں نے اس زوال کا علاج اپنے 'فلسفۂ خودی' میں تجویزکیا—یعنی اپنے نفس کی پہچان، غیرتِ ایمانی، اور اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہ جھکنے کا عزم! انہوں نے مسلمانوں کو جھنجھوڑا کہ وہ علم جو تمہیں صرف فکرِ معاش میں الجھا کر تمہاری روح کو مردہ کر دے، وہ علم نہیں بلکہ ایک نئی غلامی ہے۔ اقبال نے پکار کر کہا تھا:۔۔۔۔

عصرِ حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے

قبض کی روح تری دے کے تجھے فکرِ معاش!

دلِ بیدار فارغ ہے مادی افکار سے

کہ یہ وہ تڑپ ہے جو انسان کو کرتی ہے تراش!۔


جب علامہ اقبال نے مسلمانوں کی زبوں حالی پر اپنا مشہورِ زمانہ 'شکوہ' لکھا تو بڑا شور مچا، لیکن جب انہوں نے 'جوابِ شکوہ' لکھا تو امت کو ان کے عروج کا لائحہ عمل دے دیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو بتایا کہ دنیاوی جاہ و جلال، بادشاہت اور امارت کی کوئی حیثیت نہیں اگر انسان کے پاس وہ باطنی اور کائناتی علم نہ ہو جو کائنات کے پوشیدہ رازوں کو وا کر دے:۔۔۔

امارت کیا، شکوہِ خسروی کیا، کچھ نہیں اس کی

اگر حاصل نہ ہو انسان کو علمِ لوح و سلطانی!۔


اقبال نے اپنی شاہکار نظم 'مسجدِ قرطبہ' میں امت کی حالتِ زار پر روتے ہوئے گلہ کیا تھا کہ آج کے مدارس کے پڑھانے والے کور نگاہ اور مردہ ذوق ہو چکے ہیں اور خانقاہوں کے لوگ کم طلب ہیں:۔۔۔

جلوَتیانِ مدرسہ کور نگاہ و مُردہ ذوق

خلوَتیانِ مے کدہ کم طلب و تہی کدُو

مَیں کہ مری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سُراغ

میری تمام سرگزشت کھوئے ہُوؤں کی جُستجو!۔۔


لیکن میرے بچو! حکیم الامت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مایوس نہیں تھے۔ انہوں نے اس مردہ ذوق امت کو بیدار کرنے کے لیے اپنے تڑپتے ہوئے قلم سے مشہور نظم ذوق و شوق میں، جو انہوں نے اپنے سفرِ فلسطین کے دوران لکھی تھی؛ کے آخری بند میں حضور سرورِ کائنات ﷺ کی بارگاہ میں وہ حقیقت بیان کی جو کائنات کا سب سے بڑا سچ ہے کہ آقا ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہی کائنات کی اصل تقدیر اور مجسم کتاب ہیں:۔۔۔

لَوح بھی تُو، قلم بھی تُو، تیرا وجود الکتاب

گُنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!۔۔

جب انسان اس ہستی سے وفا کرتا ہے جو خود لوح بھی ہے اور قلم بھی، تو کائنات کی ہر شے اس کے آگے سرنگوں ہو جاتی ہے۔"


انہوں نے نوال کے گال پر لگی چاک کی سفیدی کو اپنے انگوٹھے سے نرمی سے صاف کرتے ہوئے اپنی بات کو آگے بڑھایا:۔۔

"میرے بچو! آج مسلمان ملک بظاہر آزاد ہیں، مگر ان کے ذہنوں میں مغربی افکار کا طوقِ غلامی ہے جسے وہ مجبوری میں نہیں، بلکہ بڑے فخر سے پہن کر گھومتے ہیں۔ اگر ہمیں اس غلامی سے نکل کر دوبارہ اوجِ ثریا (عروج) حاصل کرنا ہے، تو ہمیں اپنے بچوں کو دوبارہ سیرتِ پاک ﷺ پڑھانی ہوگی، کیونکہ سیرت دل و دماغ اور روح کو تازہ کرتی ہے اور اس خودی کو بیدار کرتی ہے جو آزادی کی تڑپ رکھتی ہے۔ علامہ اقبال کے مطابق خودی کی بقا اور اس کا استحکام صرف اور صرف اطاعتِ رسول ﷺ اور اسوۂ حسنہ کو اپنانے میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے واشگاف انداز میں فرمایا تھا:۔۔۔

طرحِ نو افگن کہ ما جدت پسند افتادہ ایم

ایں چہ حیرت خانۂ امروز و فردا ساختہ!

بہ مصطفیٰؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

اگر بہ او نرسیدی، تمام بولہبی است!"۔۔

• (اے خدا!) کوئی نیا انداز یا نئی کائنات پیدا کر، کیونکہ ہم انسان فطری طور پر جدت پسند (نئی چیزوں کو پسند کرنے والے) واقع ہوئے ہیں۔

• تو نے یہ زمان و مکان (آج اور کل) کا کیسا حیرت خانہ بنا رکھا ہے! (یعنی یہ پرانی دنیا جس میں صبح و شام کا ایک ہی تکراری چکر ہے، اب ہماری پروازِ تخیل کے لیے کم پڑ گئی ہے)۔

• اپنے آپ کو حضور محمد مصطفیٰ ﷺ کے اسوۂ حسنہ، ان کی سنت اور محبت کے سانچے میں ڈھال لو (ان تک پہنچ جاؤ)، کیونکہ پورا دین صرف اور صرف ان کی ذاتِ گرامی اور ان کی پیروی کا نام ہے۔

• اور اگر تم ان کی ذات اور سچی اطاعت تک نہ پہنچ سکے (یعنی اگر تمہارے دل میں عشقِ رسولؐ اور زندگی میں اتباعِ رسولؐ نہیں ہے)، تو پھر تمہارا سارا علم، تقویٰ، فلسفہ اور دینداری محض "بو لہب" جیسی گمراہی اور کفر ہے۔


شام اب پوری طرح گہری ہو چکی تھی اور دالان میں لگی پرانی لالٹین کی پیلی روشنی سلیٹ پر لکھے ہوئے الفاظ "اللہ ایک ہے اور ہم آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں" کو چمکا رہی تھی۔ چھوٹے سرفراز نے شرارت سے اپنی سلیٹ کو گھما کر دادا جی کے کرتے پر ہلکا سا چھوا، جس سے ململ پر سفید چاک کا ایک ننھا سا نشان بن گیا۔ رانا محمد بخش کھلکھلا کر ہنس پڑے۔

انہوں نے بچوں کے ننھے ہاتھوں کو دیکھا جو اب چاک کو بہت دھیان، مان اور احترام سے تھامے ہوئے تھے۔ انہوں نے بڑے پیار سے سرفراز اور نوال کی طرف دیکھا اور بولے:۔۔۔

"میرے بچو! آپ یہ جو ایک ایک حرف لکھنا سیکھ رہے ہو، ان ہی حرفوں کو جوڑ کر لفظ بنتے ہیں۔ پھر ان لفظوں سے جملے بنتے ہیں اور جملوں سے ایک پوری کہانی جنم لیتی ہے۔ تو چلو، آج سب مل کر اپنی سلیٹ پر ایک ایک جملہ لکھو"۔۔۔

سب بچوں نے مسکرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں جیسے کوئی خفیہ اشارہ کیا، اور پھر نہایت توجہ اور محبت سے اپنی اپنی سلیٹ پر چاک چلانے لگے۔ جب سب نے لکھ لیا تو انہوں نے بیک وقت اپنی سلیٹیں دادا جی کے سامنے کر دیں۔

رانا محمد بخش نے دیکھا کہ سب بچوں کی سلیٹ پر ایک ہی جملہ بڑی خوش خطی سے لکھا ہوا تھا:۔۔۔

"میرے دادا بہت اچھے ہیں!"


رانا محمد بخش کی آنکھوں میں محبت اور شفقت کے آنسو چمک اٹھنے لگے۔ انہوں نے تمام بچوں کو باری باری اپنے گلے سے لگایا اور جذباتی آواز میں کہا:۔۔

"سبحان اللہ! میرے پیارے بچو؛ ہمارا اللہ بہت بڑا ہے، وہ سب سے بڑھ کر شفیق اور کریم ہے، اور ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، کہ جن پر ہماری اور کائنات کی کروڑوں جانیں بھی قربان، وہ سب سے اچھے اور سب سے عظیم ہیں۔ اور انہی آقا ﷺ کے ایک سچے غلام اور عاشق ہمارے علامہ محمد اقبال بھی ہیں، جنہوں نے ہمیں خودی اور آزادی کا راستہ دکھایا"۔۔۔


انہوں نے کہانی کا اختتام حکیم الامت علامہ اقبال کے اس ابدی فلسفے پر کیا جو دالان کی فضاؤں میں ایک سحر پھونک رہا تھا:۔۔۔

"یاد رکھو میرے پیارے بچو! جب تم آقا ﷺ کی لائی ہوئی اس تعلیمی اور روحانی روشنی سے اپنا رشتہ جوڑ لو گے، تو پھر کائنات کا مالک تمہارے سامنے مادی دنیا کی حقیقت کو کھول دے گا۔ لوح بھی تمہاری ہوگی اور قلم بھی تمہارا ہوگا۔ پھر تم اپنی تقدیر کا ہر فیصلہ خود اپنے قلم سے کرنے کے اہل ہو جاؤ گے، کیونکہ خامۂ حق (خدا کے قلم) نے تمہاری پیشانی کو کسی دوسرے کی غلامی کے لیے نہیں، بلکہ تمہاری اپنی داستانِ خودی کے لیے خالی رکھا ہے، جیسا کہ اقبال نے فرمایا:۔۔

تُو اپنی سرنوشت خود اپنے قلم سے لکھ

خالی رکھی ہے خامۂ حق نے تیری جبیں!۔


اور اس عروج کا راستہ بالکل واضح، سیدھا اور سادہ ہے کہ:۔۔۔

کی محمد سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں!۔

چلو میرے بچو! اب اپنی اپنی سلیٹ اٹھاؤ، کتب خانوں کا رخ کرو، قلم کو تھامے رکھو اور کائنات میں اسمِ محمد ﷺ سے اجالا کرنے کے لیے اپنی کہانی خود لکھنا سیکھو؛ اور جہاں مشکل ہو تو علامہ محمد اقبال کا کلام پڑھنا اور حدیثِ پاک و قرآنِ مجید کو اپنا رہنما بنانا"۔۔۔


احمد، نوال اور سرفراز نے گہرے ادراک کے ساتھ اپنے دادا جی کو دیکھا۔ خواب محل کا یہ دالان اب محض ایک گھر کا حصہ نہیں رہا تھا، بلکہ ایک نئے رنگ کی تہذیب کا وہ دروازہ بن چکا تھا جہاں سے عقل، فہم اور غیرتِ ایمانی کا لافانی سرمایہ بُنا گیا تھا۔

More Posts