India Pakistan War: " پاک بھارت جنگ یا امن نغمہ"

India and Pakistan came into being in 1947 after partition of British India and the two countries are in conflict since then. India is the largest country by population and have huge resources at its disposal as compared to its arch rival Pakistan. This writ up is a poem in Urdu "پاک بھارت جنگ یا امن نغمہ" and googled translated Hindi as well; expressing the desire for peace between two countries.

May 06, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

پاک بھارت جنگ یا امن نغمہ

 

اک فسانہ تمھیں سنائیں گے، کاوش ہماری نہ ٹھکرائیے

پاک انڈیا جنگ تو گھاتک ہے؛ یہ ماجرا تمھیں دکھائیں گے

 

 حوصلہ کیجیے ذرا، ابھی شروع کیا ہی نہیں

اپنی نیتی کے لیے؛ نیتا قوم کو مروا دیں؛

یہ نیتاوں کا ناٹک ہے؛ اس میں کوئی شک ہی نہیں

 کاوش ہماری نہ ٹھکرائیے؛ اک فسانہ تمھیں سنائیں گے

 

دونوں ملکوں کے نیتا؛ خود پسندی کے قیدی ہیں

مسئلہ غلامی کا ہے؛ فائدے کو سب ہی بیچ دیں

یہ سدھر جائیں کبھی؛ یہ تو ممکن ہی نہیں

کاوش ہماری نہ ٹھکرائیے؛ اک فسانہ تمھیں سنائیں گے

 

فطرتی حسن کی زمیں؛ اور بسنے والے لوگ فطین

لوگوں کی ہمت کی قسم؛ ان سے بہتر کوئی نہیں

دل تو کیا ہے جان بھی دیں؛ ایسے انساں کہاں ملتے ہیں

کاوش ہماری نہ ٹھکرائیے؛ اک فسانہ تمھیں سنائیں گے

 

پیار سے رہ لیں اگر؛ پھول ترقی کے کھلیں

ملک ہوجائیں سُپر؛ یہ اگر ہنس کے ملیں

چین امریکہ روس ہی کیا؛ گیت دنیا بھی انکے گائیں گے

کاوش ہماری نہ ٹھکرائیے؛ اک فسانہ تمھیں سنائیں گے

 

اے انڈیا پاک کے لوگو؛ ساتھ ساتھ رہنا سیکھو

جس کا جو حق ہے لوگو؛ اس کو خوش دلی سے دےدو

ایک دفعہ تو سوچ لو؛ راہ میں امن کا پھل پائیں گے

کاوش ہماری نہ ٹھکرائیے؛ اک فسانہ تمھیں سنائیں گے

 

زخم اپنا تمھیں دکھائیں گے؛ بندہ پرور کرم کچھ تو فرمائیے

کہہ رہی ہیں ڈھڑکنیں، قصہ غم تمھہیں سنائیں گے

آرزو کو ہماری نہ ٹھکرائیے؛ حال دل آج ہم سنائیں گے

خواہش ہماری نہ ٹھکرائیے؛ اک ترانہ تمھیں سنائیں گے


Note: This song has been written on the basis of a song written by Poet Kalim Ajiz for a Pakistani film.

भारत-पाकिस्तान युद्ध या शांति गीत

मैं तुम्हें एक कहानी सुनाता हूं, हमारे प्रयासों को अस्वीकार मत करना।

भारत-पाकिस्तान युद्ध एक आपदा है; यह कहानी आपको बताएगी.


कृपया हिम्मत रखें, आपने अभी तक शुरुआत भी नहीं की है।

आपके अपने भले के लिए; राष्ट्र को मरने दो; 

ये तो नेताओं का खेल है; इसके बारे में कोई संदेह नहीं है।

 हमारे प्रयासों को अस्वीकार मत करो; मैं तुम्हें एक कहानी सुनाता हूँ.


दोनों देशों के नेताओं; स्वार्थ के कैदी हैं

समस्या गुलामी है; सभी लाभ बेचें.

यह सदैव सुधरता रहे; ऐसा नहीं हो सकता।

हमारे प्रयासों को अस्वीकार मत करो; मैं तुम्हें एक कहानी सुनाता हूँ.


प्राकृतिक सौंदर्य की भूमि; और वहां रहने वाले लोग खुश हैं।

जनता का साहस; उनसे बेहतर कोई नहीं है.

दिल क्या है, उस पर अपनी जान लगा दो; ऐसे लोग आपको कहां मिलते हैं?

हमारे प्रयासों को अस्वीकार मत करो; मैं तुम्हें एक कहानी सुनाता हूँ.


प्रेम से जियो अगर; विकास के लिए फूल खिलते हैं

देश सुपर बन जाता है; काश वे मिल पाते।

चीन, अमेरिका और रूस ने क्या किया? दुनिया भी उनके गीत गाएगी.

हमारे प्रयासों को अस्वीकार मत करो; मैं तुम्हें एक कहानी सुनाता हूँ.


हे भारत-पाकिस्तान के लोगों; एक साथ रहना सीखो.

जिसका भी अधिकार है, जनता; उसे खुशी-खुशी दे दो।

एक बार इसके बारे में सोचो; आपको रास्ते में शांति का फल मिलेगा। 

हमारे प्रयासों को अस्वीकार मत करो; मैं तुम्हें एक कहानी सुनाता हूँ.


वे तुम्हें अपने घाव दिखाएंगे; कृपया, कृपया कुछ कहो।

वे कह रहे हैं, "धड़कनों, मैं तुम्हें एक दुखभरी कहानी सुनाता हूं।"

हमारी इच्छा को अस्वीकार न करें; आज हम आपको अपने दिल की वर्तमान स्थिति बताएंगे।

हमारी इच्छा को अस्वीकार न करें; मैं तुम्हें एक गाना गाऊंगा.

فلمی گانے کے بول

 

حال دل آج ہم سنائیں گے؛ آرزو کو ہماری نہ ٹھکرائیے

زخم اپنا تمھیں دکھائیں گے؛ بندہ پرور کرم کچھ تو فرمائیے

 

پیار کی ایک نظر؛ پھول امیدوں کے کھلے

عمر ہوجائے بسر؛ آپ اگر ہنس کے ملے

دل تو کیا ہے جان بھی دیں؛ ڈھرکنوں میں تمھیں بسائیں گے

آرزو کو ہماری نہ ٹھکرائیے؛ حال دل آج ہم سنائیں گے

 

ایک نظر تو دیکھ لے، راہ میں یہ نظر بچھائیں گے

حال دل آج ہم سنائیں گے؛ آرزو کو ہماری نہ ٹھکرائیے

آرزو کو ہماری نہ ٹھکرائیے؛ حال دل آج ہم سنائیں گے

 

پھول سا چہرہ حسیں؛ اف یہ چاندی سا بدن

ہائے یہ شوخ نظر؛ جیسے شیشے پہ کرن

دل تو کیا ہے جان بھی دیں؛ ڈھرکنوں میں تمھیں بسائیں گے

آرزو کو ہماری نہ ٹھکرائیے؛ حال دل آج ہم سنائیں گے

 

کیجیے اب تو ذرا، میری محبت کا یقین

دل بدل جائے کبھی، یہ تو ممکن ہی نہیں

کہہ رہی ہیں ڈھڑکنیں، قصہ غم تمھہیں سنائیں گے

آرزو کو ہماری نہ ٹھکرائیے؛ حال دل آج ہم سنائیں گے


More Posts