Muhammad Asif Raza 1 year ago
Muhammad Asif Raza #events

INDIA PAKISTAN WAR : ایک سمندری یدھ جو نہیں ہوئی؛ مگر کیوں؟

India and Pakistan came into being in 1947 after partition of British India and both the countries are in constant conflict since then. The two countries again tested military muscles after Pahalgam terror attack on 22 April 2025. India's Operation Sindoor of 7 May 2025 and Pakistan's Operation Bunyanun Mursoos of 10 May 2025; but no action took place at Sea shared by both countries. This write up "ایک سمندری یدھ جو نہیں ہوئی؛ مگر کیوں؟" is an opinion about the same event.

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

ایک سمندری یدھ جو نہیں ہوئی؛ مگر کیوں؟

ہندوستان اور پاکستان، جوہری صلاحیت کے حامل ممالک، حالیہ ماہِ مئی ہی میں ایک منفرد غیرمناسب جنگ نما جھڑپ میں مصروف تھے؛ مگر اس چند روزہ کاروائیوں نےآئندہ جدید جنگ کی شکل آشکارہ کی ہے۔ اس جھڑپ سے عالمی طاقتوں کی بدلتی ساکھ اور صورت کی حرکیات اور معاشی مسابقتی تنازعے کی پیچیدگی کی عکاسی ہوئی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ اور چین عالمی، علاقائی اور معاشی تسلط قائم کرنے کے لیے متعدد اقدامات سے نئی صف بندیوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ چنانچہ دیگر ممالک تیزی سے اپنے اپنے مفادات اور جثے کے ساتھ نئے نئے بلاکس میں صف آرا ہورہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت میں ایک دوسرے کے خلاف دشمنی اور جنگی ہزیان سیاسی نوٹنکی میں قومی یکجہتی کا تیز ترین راستہ ہے؛ اور کشمیر کا تنازعہ بہترین بہانہ مہیا کرتا ہے۔ ایسا ہی بہانی اس دفعہ 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں وقوع پذیر دہشتگردی کا واقعہ بنا۔ یہ "انڈو-پاک" تنازعہ ایک بے مثال حربی مشق بن گئی جو برقی مقناطیسی سپیکٹرم تک محدود تھی۔ یہ ایک غیر رابطہ مصروفیت تھی؛ جس میں زمینی فوج یا فضائیہ ایک دوسرے سے بغل گیر نہیں ہوئے بلکہ بصری حد سے باہر (بی وی آر)، ناقابل یقین دور سے مارے جانے والے ہتھیاروں کی لڑائی ہوئی۔


یہ نئے ابھرتے عالمی اقتصادی آرڈرز میں؛ ڈیجیٹل سائنسز؛ مصنوعی ذہانت (اےآئی)؛ روبوٹکس؛ آٹومیشن اور کمیونیکیشن میں انقلاب کا مقابلہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سی روایتی حربی سرگرمیاں ظہور پذیر نہیں ہوئیں۔ انڈو-پاک جھڑپ محض ایک فضائی معرکہ ہی رہا ہے۔ یہ ایک نئی صورتحال ہے؛ جو دہائیوں سے باقاعدہ اور معمول کے کنونشنز سے الگ تصویر ہے؛ جس سے تقریباً ہر حربی شعبے میں تنوع اور توسیع کے امکانات متعارف ہوئے ہیں۔ اس جھڑپ میں سمندری یدھ بالکل بھی نظر نہہں آیا؛ جو عام افراد کے لیے حیرانی کا باعث تھا؛ مگر سمندر کب عام ناگرک کی سمجھ میں آیا ہے؟ سمندر خود کافی پرشور ہے؛ سو اس کے سوار زیادہ ہڑبونگ نہیں مچاتے؛ اور اگر مچائیں بھی تو سمندر کی لہریں دبوچ لیتی ہیں؛ خاموش کرادیتی ہیں۔ سمندر کی سطح پر خوب شور ہوتا ہے اور گہرائی بالکل چپ۔

سمندری یدھ یا جنگ کیا ہوتی ہے؟

پاکستان کی مسلح افواج بشمول پاک بحریہ نے بھارت کے ساتھ تازہ ترین جھڑپ میں غیر متزلزل چوکسی اور بے مثال پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا جس پر قوم کا ان کو بجا طور پر سلام پیش کیا گیا۔ سمندر میں بحریہ کے خاموش محافظ کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف کھڑے رہے؛ اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ملکی سمندری خودمختاری ناقابل تسخیر رہے۔ پاکستانی قوم نے مسلح افواج کی بہادری اور حکمت عملی کا نتیجہ دیکھا؛ جارحیت کا مقابلہ فولاد سے، تکبر کا مقابلہ خاموش شکر گذاری سے اور جھوٹ کا مقابلہ سچ کے ساتھ کیا۔ یہ سب کے لیے یاددہانی تھی کہ پاکستان کے رکھوالے کبھی نہیں سوتے۔ پاک بحریہ نظروں اور خبروں سے اوجھل خاموشی سے اپنے فرض ادا کرتی ہے۔ اور جہاں ہندوستانی فضائیہ نے اپنی پھرتیاں دکھائیں؛ انکی بحریہ اپنے پانیوں میں سیر سپاٹے میں مصروف رہی اور کسی جارحانہ اقدام سے پرہیز کرتی رہی؛ تو اسکی کوئی تو وجہ ہوگی؟ واقفانِ سنمدری یدھ، اس کی وجہ سے خوب آشناء ہیں؛ کچھ کا یہاں ذکر کردیا جاتا ہے۔

"بحری یدھ"، جسے "بحری جنگ" بھی کہا جاتا ہے؛ سطح سمندر پر، سطح آب سے نیچے یا اس کے اوپر کی جانے والی فوجی کارروائیوں سے مراد لیا جاتا ہے۔ یہ سمندری جہازوں کے درمیان، یا سمندر پر مبنی افواج اور زمین یا ہوا میں اہداف کے درمیان لڑائی پر مشتمل ہوتی ہے۔ بحری جنگ میں بہت سی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں، جیسے بحری جہازوں کے درمیان براہ راست تصادم سے لے کر سمنری جہاز سے لینڈنگ کے ساتھ زمینی کارروائیوں میں معاونت تک، اور آج کے دور میں ایک نئی حالیہ حکمت عملی جیسے سمندر کی تہہ تک کی جنگ بھی ہے۔ لیکن ایک بات ہمیں بہت خوب طریقے سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زمین اور فضاء کے مقابلے میں سمندر کے قوانین کافی مضبوط ہیں۔ سمندری راستوں کے ضوابط بین الاقوامی اور قومی قوانین ہیں جو سمندر میں سفر [نیویگیشن] کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جن سے سمندروں پر حفاظت، سلامتی اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہ ضوابط بنیادی طور پر اقوام متحدہ کے کنونشن برائے سمندر کے قانون (یو این سی ایل او ایس) پر مبنی ہیں۔


سمندر پر حکمرانی کا خواب پھر بھی طاقتور ملکوں کو جنگ پر اکساتا رہتا ہے؛ جس کی قیمت دیگر ممالک کو بھی چکانا پڑتا ہے۔ سمندری جنگ کا ایک مشہور واقعہ 1916 میں، جٹ لینڈ کی جنگ ہے جس نے تاریخ کی ایک بہت بڑی بحری جنگ دیکھی؛ جسے برطانیہ اور جرمنی کی بحریہ نے شمالی سمندر کے کنٹرول کے لیے لڑ ی تھی۔ اس یدھ میں، آبی لہروں کے نیچے، جرمن آبدوزوں نے تجارتی بحری جہازوں کو غرق کرنے اور برطانیہ کو زندگی اورجنگی سامان سے محروم کرنے کی کوشش کی تھی۔

کسی بھی بحری جنگ کے لیے ہر دو ملک کے پاس بحری جہازوں؛ آبدوزوں اور فضائی جہازوں پر مشتمل بیڑے ہوتے ہیں اور دونوں اطراف والے ایک دوسرے کے بحری جہازوں کو دبونے کی کوشش کرتا ہیں۔ اس کا مقصد سمندر کے راستوں پر قبضہ ہوتا ہے تاکہ دشمن ملک کو دوسری دنیا سے الگ کردیا جائےاور اس کی تجارت کو ختم کردیا جائے۔ سمندری جنگ کے لیے ایک کثیر جہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور پر، ایک قوم کو مضبوط بحری صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے جس میں جنگی جہاز، معاون جہاز، اور مواصلات کی فضائی اور سمندری راستوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت شامل ہوتی ہے۔ تربیت یافتہ اہلکار، مضبوط اڈے، اور موثر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی ضروری ہیں۔ مزید برآں، سمندری طاقت کے اصولوں کو سمجھنا اور لاگو کرنا، بشمول تزویراتی منصوبہ بندی اور آپریشنل لچک، کامیابی کی کلید ہوتی ہیں۔

آخر سمندری یدھ کیوں نہیں ہوئی؟

بحیرہ عرب پر پاکستان کی ساحلی پٹی تقریباً 1,046 کلومیٹر (650 میل) لمبی ہے۔ اس ساحلی پٹی کو دو اہم حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: سندھ کا ساحل اور مکران کا ساحل۔ سندھ کا ساحل تقریباً 270 کلومیٹر طویل ہے، جبکہ مکران کا ساحل تقریباً 720 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس ساحل اور اس سے جڑے سمندری وسائل اور تجارتی راستوں کے دیکھ بھال اور حفاظت کی ذمہ داری پاکستان بحریہ کے حوالے ہے۔ پاکستان نیوی، اگرچہ علاقائی اور عالمی طاقتوں سے چھوٹی ہے، لیکن تقریباً 50-60 فعال جہازوں کے ساتھ ایک اہم فورس ہے۔ یہ جدید فریگیٹس؛ میزائی بوٹس؛ آبدوزوں سمیت بحری فضائی قوت اور میرینز سے مزین ایک اچھی طرح سے لیس سمندری بیڑا ہے۔

پاک بحریہ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بحری قزاقی، غیر قانونی ماہی گیری، سمگلنگ، دہشت گردی اور علاقائی تنازعات جیسے خطرات سے اپنی طویل ساحلی پٹی اور خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) کو محفوظ بنانا شامل ہے۔ مزید برآں، بحریہ اپنے بحری بیڑے کو جدید بنانے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے اور بجٹ کی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اور علاقائی بحری افواج سے مقابلہ کر رہی ہے۔ آج کے دور میں کسی بھی جنگ میں سب سے تباہ کن چیز جنگ خود ہوتی ہے اور خاص طور پر پاکستان کے لیے بھارتی رویہ ہے کہ اس کا روایتی دشمن نہ صرف کئی گنا بڑا ہے بلکہ کمینگی کے حد تک عیار اور مکار ہے۔

مئی کی کاروائی سے قبل ہندوستانی میڈیا نے وکرانت اور رافیل کے بارے میں شیخی مارا؛ جو ہندوستانیوں کا اپنے جارحانہ عزائم کی حمایت میں جان بوجھ کر سفاکانہ اظہار تھا۔ انہیں اپنی بالادستی کا یقین تھا۔ مئی کو کراچی پورٹ اور احمقانہ حد تک لاھور کی بندرگاہ کو تباہ کرنے کی جھوٹی خبروں پر بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے اور جشن منانے والوں کی پیروی کرنا؛ بحیرہ عرب میں اس طرح کے حملے کے بھارتی عزائم کا واضح اشارہ تھا۔ وکرانت اور اس کے ساتھ آرمڈا اپنے مذموم ڈیزائن کے لیے تیار تھے۔

یہ پاک بحریہ کی ہمہ وقت چوکس اور سرشار کوششیں تھیں جنہوں نے وکرانت کو ہمارے علاقائی پانیوں سے دور رکھا۔ اس سے قبل 4/5 مئی کی رات کو پاک بحریہ نے بھارتی بحریہ کے طیارے P-81 کا پتہ لگایا تھا۔ بحریہ کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن، کمپیوٹرز، انٹیلی جنس، سرویلنس، اور جاسوسی کی جدید جنگ میں اہمیت کو جانتی تھی اور اس نے ان کا بھرپور استعمال کیا۔ تباہ کن جہازوں، فریگیٹس، کارویٹ، میزائل اور گن بوٹس، بارودی سرنگوں، آبدوزوں اور ایوی ایشن اور میرینز کی مدد کے ساتھ ساتھ پاک بحریہ چار روزہ جنگ کے دوسرے گھات لگانے کے لیے بے صبری سے انتظار کر رہی تھی۔ وکرانت کا ڈوبنا ہندوستان کے ڈوبنے کے مترادف ہوتا۔ کوئی بحریہ ایسا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ وکرانت اور آرماڈا تیزی سے اپنے محفوظ پانیوں کی طرف لوٹ گئے۔

پاک بھارت جھڑپ مئی 2025 میں بھارتی بحریہ نے پاک بحریہ کے خلاف اور پاکستانی سمندر میں کوئی مکارانہ اور بزدلانہ کاروائی نہیں کی تو اس کی کوئی اور وجہ نہیں بلکہ پاک بحریہ کا چاک و چاکس ہونا ہے۔ پاک بحریہ پچھلے دو دہائیوں سے کثیر الجہتی بین الاقوامی مشن کے ساتھ مسلسل بحیرہ عرب اور بحر ہند میں اپنے فرائض پر عمل پیرا ہے۔ اس دوران پچھلے چند سالوں میں متعدد بار بھارتی آبدوزوں کا پاکستانی پانیوں میں دورانِ مٹر گشتی رنگوں ہاتھوں پکڑا جانا کوئی معمولی واقع نہیں رہا ہے؛ اور یقینا" بھارتی آبی سورماوں کے دماغوں سے نکلا نہیں ہوگا۔ اور اس بیان نے کہ ’’امن میں زیادہ پسینہ بہانے والوں کا جنگ میں کم خون بہتا ہے‘‘ ان کے ذہن کو ضرور کھجلایا ہوگا۔ دوسرے یہ کہ پاک بحریہ ایک چھوٹی نیوی سہی مگر انتہائی مہلک قوت کی حامل ہے؛ جس میں اس کا پورے بحیرہ عرب پر مسلسل چوکسی نظر کا علاقے میں موجود سب ہی طاقتوں کو علم ہے۔ اور متواتر کئے جانے والے سمندری مشقوں میں حربی قوت کا تباہ کن مظاہرہ انکی نظروں سے اوجھل نہیں ہوسکتا۔ سمندر جہلا اور اندھوں کی آمجگاہ نہیں اور نہ انکو سمندر کی لہریں پناہ دیتی ہیں۔ اس انڈو پاک جھڑپ میں بھارتی آبی سینا کے سورماوں نے کافی عقلمندی کا ثبوت دیا اور خواہ مخواہ میں ایک مذہبی جنونی گروہ کے اکسانے اور بہکانے میں نہیں آئے؛ اور کسی سمندری یدھ کی کوشش نہیں کی؛ وگرنہ پاک بحریہ کے ہاتھوں "آپریشن دوارکا" اورآبدوز ہنگور کا "ککری" کا ڈوبانا بھول جاتی؛ اور ایک نیا ماتم ان کی تقدیر ہوتا۔

پاک بحریہ خاموش سروس ہے کیونکہ نظروں سے دور ہے؛ مگر اس نے علاقائی پانیوں کے دفاع میں ایک قابل ذکر کام کیا۔ انہوں نے نہ صرف دشمن کے جارحانہ عزائم کو ناکام بنایا اور انہیں دور رکھا بلکہ عدن سے کراچی تک ہماری شپنگ لین کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا، اس طرح ہماری بندرگاہوں میں اقتصادی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنایا۔ یہ سب ہماری بحریہ کی کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری کی وجہ سے ممکن ہوا۔

پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کو پاک بحریہ کی موجودہ پیشہ ورانہ مہارت کا سہرا دینا ہوگا۔ جب مودی جنگی جنون اپنے عروج پر تھا اور تصادم کا خطرہ واضح تھا، ایڈمرل نے خود سمندری اور ساحلی تنصیبات کے ساحل پر موجود تمام یونٹوں کا دورہ کیا تاکہ اہلکاروں کو یاد دلایا جا سکے کہ قوم سے عہد وفا کرنے کا وقت آ گیا ہے اور انہیں اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ سروس چیف کی طرف سے اس طرح کا حوصلہ بڑھانا بے مثال تھا۔ الحمدللہ

بھارتی طیارہ بردار بحری جہاز "وکرانت " کی صلاحیتوں کا افسانہ بے نقاب


آئیے اب ذیل میں کچھ احباب کی مزید رائے پڑھتے ہیں۔ یہ رائے کموڈور (ر) پرویز اقبال کی ہے جنہوں نے پاک بحریہ میں تباہکن بحری جہاز کی کمان کر رکھی ہے۔

بھارتی طیارہ بردار بحری جہاز "وکرانت " کی صلاحیتوں کا افسانہ بے نقاب از کموڈور (ر) پرویز اقبال

طیارہ بردار جہاز عام طور پر ساحل پر مبنی لڑاکا طیاروں کی پہنچ سے باہر دور دراز علاقوں تک فضائی طاقت کو پیش کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ عالمی بحری طاقتوں جیسے امریکہ، روس، برطانیہ اور اب چین کو اس متعین کردار کے لیے ان کی ضرورت ہے۔ وہ گہرے سمندروں پر بحری لڑائیوں میں طاقتور پلیٹ فارم ہیں، لیکن بحیرہ عرب جیسے علاقوں میں زمین کے قریب وہ آبدوزوں اور ساحل پر مبنی جنگی طیاروں کے ذریعے پتہ لگانے اور حملوں کا شکار ہیں۔ اس لیے انہیں تعینات کیے جانے پر ان کی اسکریننگ کے لیے بڑی تعداد میں [ اے ایس ڈبلیو] جہازوں کی حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کیریئر "وکرانت" (جو حالیہ تنازع کے دوران پاکستان کے خلاف تعینات کیا گیا تھا) بنایا جا رہا تھا، غیر ملکی مبصرین کو اس کی افادیت پر شک تھا۔ اپنے دفاع کے لیے کوئی چھوٹا میزائل سسٹم نہیں، پروازیں شروع کرنے کی محدود صلاحیت اور جنگ میں جہاز کے استعمال کے لیے کوئی متعین حکمت عملی نہیں۔

پھر وکرانت کے 'اسکی جمپ' ڈیزائن کی حدود ہیں۔ سکی جمپ فلائٹ ڈیک کے آخر میں ایک خمیدہ ریمپ ہے۔ یہ ایک ہوائی جہاز کو اوپر کی طرف اور آگے بڑھنے کے قابل بناتا ہے، بغیر مدد کے افقی لانچ کے لیے ضرورت سے زیادہ وزن اور کم اختتامی رفتار کے ساتھ ٹیک آف کی اجازت دیتا ہے۔ اگرچہ سکی جمپ ایک ہوائی جہاز کو بڑھتے ہوئے وزن کے ساتھ ٹیک آف کرنے کی اجازت دیتا ہے اور زیادہ حفاظتی مارجن دیتا ہے، ہوائی جہاز کا کل ٹیک آف وزن ابھی بھی کیٹپلٹ اسسٹڈ لانچ کے استعمال سے کم ہوگا جو کہ دیگر بحری جہازوں میں بڑے کیریئرز میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن بڑی آپریشنل رکاوٹوں کے ساتھ آتے ہیں۔

فی الحال، وکرانت کے پاس زیادہ سے زیادہ 24 مگ-۲۹ کے لڑاکا طیارے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اینٹی سب میرین جنگ اور دیگر فرائض کے لیے چھ ہیلی کاپٹر ہیں۔ وکرانت کے وسائل کا کم از کم 70% اس کے اپنے فضائی دفاع میں جاتا ہے جو طویل فاصلے کے حملوں کے لیے بہت کم رہ جاتا ہے۔ 1971 کی جنگ کے دوران، ہندوستانیوں کو خلیج بنگال میں پرانے وکرانت کو تعینات کرنے کی واقعی کوئی ضرورت نہیں تھی جب اس کے سی ہاک طیارے کلکتہ یا دیگر ہوائی اڈوں سے زیادہ آسانی سے کام کر سکتے تھے۔ وہ یہ دکھانا چاہتے تھے کہ وہ ایک سپر پاور ہیں؛ جو وہ نہیں ہیں۔ ( سمندر شیخی خوروں کے لیے بھی خوشگوار نہیں ہوتا)

لیکن اس بار نئے وکرانت کو مختلف حالات میں تعینات کیا گیا تھا۔ اگر اس نے اور اس کے یسکارٹس نے اپنے مگ 29 کو لانچ کرنے کے لیے قریب پہنچنے کی کوشش کی تو یہ پاکستان کے ساحل پر تعین شدہ ہوائی جہاز کے حملے کی زد میں آنے کا خطرہ مول لے رہا تھا، نیچے جاتے ہی وہیل مچھلیوں اور دیگر ڈینٹیزنز کو خوفزدہ کر دیتا تھا۔

لہٰذا، دانشمندی کے ساتھ، یہ اپنے اعلیٰ افسران سے یہ اعلان کرنے سے دور رہا کہ اس نے کراچی کو "تباہ" کر دیا ہے۔

وہ اس سے زیادہ جھوٹ بول رہے ہیں جو میں نے اپنی بیوی سے 50 سال کی شادی شدہ زندگی میں کہا ہے۔ چیئرز

کیپٹن (ر) امجد نور کا اضافی نوٹ

اب ذیل میں کیپٹن (ر) امجد نور؛ جوپاک بحریہ کے پائلٹ رہے ہیں؛ کا اضافی نوٹ بھی پڑھ لیجے جو انہوں نے کموڈور(ر) پرویز کی پوسٹ پر لکھا ہے۔

پیارے سر پرویز اقبال... نیول وارفیئر ہیٹ پہننے کا شکریہ

ایک سنجیدہ نوٹ پر، آپ نے حال ہی میں بھارتی کیریئر کو تعینات نہ کرنے کے بھارتی بحریہ کے تحفظات کو مناسب طریقے سے بیان کیا ہے۔ میں آپ کے اس نتیجے سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں کہ (این اے ایس) بہت محدود پانی ہے جس میں پاکستان کے شمال میں 1000 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے تاکہ اپنے آپریشنز میں کیریئر کی آزادی کی اجازت دے سکے۔ جب دونوں پڑوسیوں کے زمینی جنگجو اپنے اپنے اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں تو طیارہ بردار بحری جہاز کو خطرے میں ڈالنا کوئی عملی معنی نہیں رکھتا۔

جو لوگ میری ٹائم آپریشنز سے واقف نہیں ہیں، انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ایک بحری جہاز یا آبدوز اپنی پوزیشن کو ظاہر کیے بغیر، خاموشی سے کام کر سکتی ہے اور پھر بھی مارا جا سکتی ہے، لیکن ایک طیارہ بردار جہاز کے لیے بھی ایسا ہی نہیں ہے۔ اسے سمندر میں رہتے ہوئے ہر وقت الیکٹرانک طور پر شعاع کرنا چاہیے چاہے دشمن کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ اسے اپنے ایل آر ایئر وارننگ ریڈار کو چمکانا چاہیے جو اےاے ڈبلیو پکٹ (کنسورٹ / اسکورٹ ) سے مکمل ہے، اسکرین کے دیگر جہازوں کو اے ایس ڈبلیو / نیویگیشن کے لیے مختصر رینج کے آئی بینڈز کو بھی چلانا چاہیے، ایک جہاز کو ایم آر کے خطرات کا خیال رکھنا چاہیے جبکہ سب کو سونارز کو سمندر سے محفوظ رکھنے والوں کو چلانا چاہیے۔

اس کے بعد ہوائی اثاثوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ریڈیو ٹیلی فونی یا ڈیٹا لنک ٹرانسمیشن والے ہوائی جہاز کے لانچ/ ریکوری کے لیے ڈیک پر مبنی نیو ایڈز کو چلانے کی ضرورت ہے۔ یہ تمام اخراج کیریئر گروپ کی کمزوری کو بڑھاتا ہے۔ اگر یہ وکرانت کے ذریعہ شمالی بحیرہ عرب میں ہوتا ہے تو پی این آبدوزیں اور پی-۳ اس خوابیدہ ہدف کا مزہ لیں گی.. اے ایل سی امز / تارپیڈوز بشمول زمین پر مبنی فتح میزائل کا استعمال کرتے ہوئے تمام سمتوں سے متعدد حملوں کے ذریعے اپنے دفاع کو پورا کر کے۔ ایک ذہین ٹیکوو اپنے ایل آر تارپیڈوز کے ذریعے جان لیوا دھچکا پہنچانے کے لیے کیریئر سے گریز کرتے ہوئے اسکرین میں گھسنا بھی پسند کرے گا۔ کیوں؟ ہم سب جانتے ہیں کہ گہرے ڈرافٹ برتن کے خلاف ٹارپیڈو ڈوبنے کی ضمانت دیتا ہے جبکہ میزائل فری بورڈ سے ٹکرانے کے نتیجے میں سپر اسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مگر بھارتی آبی سینا نے سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا اور کسی بھی قسم کی چالاکی سے دور رہے؛ یہ بحیرہ عرب کی شانتی بنائے رکھنے کا بہترین فیصلہ تھ؛ مگر اس سے پاکستان بحریہ کو ایسی خوشی میسر نہیں آئی جیسی ماضی میں ملی تھی۔ مگر وسیع تر بین الاقوامی شانتی شاید زیادہ بہتر ہے۔

مینو - کامیابی - خوشی - حوصلے - پرانی یادیں


مینو - کامیابی - خوشی - حوصلے - پرانی یادیں؛ اور انکے راوی ہیں کموڈور(ر) نسیم غفور ہیں۔

کامیابی میٹھی ہوتی ہے، ایک لمحہ زیادہ خوش ہونے کے لیے اس لیے جب آپ بدمعاش کو بغیر کسی دقت تباہ کر دیتے ہیں، تو مورال آسمان تک پہنچ جاتا ہے، اور پرانی یادیں چاروں طرف چھائی رہتی ہیں۔ بھارت کے ساتھ 4 دن کی جھڑپ کے بعد ہماری جیت کا جشن منانے والے ملک میں ایسی ہی صورتحال ہے۔

سوشل میڈیا ایسی کہانیوں سے بھرا ہوا ہے جس میں مودی اور رافیل کو سب سے زیادہ عام باتوں کے طور پر دکھایا گیا ہے، مودی رافیل کے ملبے سے لدی گدھا گاڑی چلا رہے ہیں۔ میرے ایک بہت ہی پیارے دوست نے مجھے ایسی ہی ایک پوسٹ بھیجی جس میں ایک مینو کا اعلان کیا گیا جس میں گوڈزیلا دہی بھلاے، رافیل پکوڑے، پی ایل 15 کباب، اور چائے کا وہ مشہور کپ، جو 27 فروری 2019 کو تیار کیا گیا تھا۔ (سچی بات تو یہ ہے کہ اس دن کے بعد سے چائے کا مزا خوب ہوا اور اب فرنچ ٹوسٹ کے ساتھ چائے کا آرڈر ایک خاص مزا ہی دینے لگا ہے۔ بھولی مجِ تو کی جانے انارکلی دیاں شاناں )

خوش ہونے کے علاوہ، اس نے مجھے جنگی نوعیت کے ڈسٹرائر پی این ایس خیبر کے آپریشن سومناتھ سے واپسی کے بعد اسی طرح کی تقریبات کی یاد دلا دی جس میں پاک بحریہ کے جہازوں نے 1965 میں دوارکا پر بمباری کی تھی۔ کیپٹن اختر حنیف (بعد میں کموڈور) کمانڈنگ آفیسر پی این ایس خیبر اور ۲۵ ڈسٹرائر سکواڈرن کے کمانڈر تھے۔

پاک بحریہ نے ہندوستانی بحریہ کو ہمارے علاقائی پانیوں سے دور رکھنے اور ہمارے جہاز رانی کے راستوں اور بندرگاہوں کی حفاظت میں شاندار کام کیا۔ مجھے یقین ہے کہ "وکرانت کٹا کٹ" کو (کسی کی حماقت کے سبب ) وارڈ روم مینو میں جگہ ملے گی۔

پاکستان نیوی زندہ آباد؛ پاکستان پائندہ باد


0
615

Buy Verified Upwork Accounts With Ssn And Upwork Linked – Ultimate Gui...

Buy Verified Upwork Accounts With Ssn And Upwork Linked – Ultimate Guide Buy verified U...

defaultuser.png
pvaseozone
23 seconds ago

How to Get Upwork Payments Ready Fast (The Safe and Professional Way)

How to Get Upwork Payments Ready Fast (The Safe and Professional Way) Launching an online...

defaultuser.png
pvaseozone
43 seconds ago
b-uy GitHub Account: High-Quality Profiles for Developers & Businesses

b-uy GitHub Account: High-Quality Profiles for Developers & Businesses

1781901237.jfif
Kimberly
1 minute ago
Fast and Safe Way to Set Up Verified Upwork Payments for Your Online Store

Fast and Safe Way to Set Up Verified Upwork Payments for Your Online S...

defaultuser.png
pvaseozone
1 minute ago
in smmpvaio Buy GitHub Account with Repository History – Boost Your Reputation Fast

in smmpvaio Buy GitHub Account with Repository History – Boost Your Re...

1781901237.jfif
Kimberly
1 minute ago