Muhammad Asif Raza 2 months ago
Muhammad Asif Raza #education

حکم حاکم اور بابو شاہی کا جادو

Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. The human history has seen development of civilization and cities across the globe and civic services and civil administration is part and parcel of the same. This story in Urdu "'حکم حاکم اور بابو شاہی کا جادو" is about the infamous pitfalls of non merit based actions of civic services and civil administration.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


حکم حاکم اور بابو شاہی کا جادو


دارالحکومت کے سب سے بڑے شفا خانے "دارالشفا" میں ڈاکٹر عثمان کا طوطی بولتا تھا۔ وہ نہ صرف اپنے فن کے ماہر تھے، بلکہ مملکت کے سیاہ و سفید کے مالک، صدرِ مملکت جنرل سکندر اعظم کے معالجِ خاص بھی تھے۔ جنرل سکندر ان کی خدمت سے اس قدر خوش تھے کہ ایک دن جب وہ معائنے کے لیے آئے، تو انہوں نے ڈاکٹر عثمان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا، "ڈاکٹر صاحب! آپ نے کبھی ہم سے اپنے لیے کچھ نہیں مانگا۔ آج مانگیے، جو مانگنا ہے۔ آخر اس سلطنت پر آپ کا بھی تو کچھ حق ہے!"۔

ڈاکٹر عثمان نے ایک سرد آہ بھری، ان کے چہرے پر برسوں کا دبا ہوا ملال ابھر آیا۔ انہوں نے عاجزی مگر دل گرفتگی سے سر جھکایا اور بولے:"عالی جاہ! بس ایک مژدہِ جاں فزا کی حسرت ہے۔ بیسویں گریڈ میں میری ترقی کا معاملہ عرصے سے لٹکا ہوا ہے۔ میں نے رات دن ایک کر کے اس ہسپتال کو خون دیا ہے، مریضوں کی خدمت کی ہے، لیکن ان سرکاری بابوؤں کے شہر میں مقام و مرتبہ حاصل کرنا لوہے کے چنے چبانے جیسا ہے۔ وزارت کہتی ہے کہ اس درجے کی کوئی آسامی ہی خالی نہیں!"۔

جنرل سکندر نے حیرت سے ابرو اٹھائے، "آسامی نہیں ہے؟ کیا مطلب؟ کیا وہ آپ کی قابلیت سے واقف نہیں؟"۔

"عالی جاہ! قابلیت تو ان فائلوں کے نیچے دب کر دم توڑ دیتی ہے،" ڈاکٹر عثمان نے بیوروکریسی کے خلاف اپنا سب سے بڑا شکوہ زبان پر لاتے ہوئے کہا۔ "یہ دفتری بابو خود تو کچھ کرتے نہیں، مگر کسی قابل انسان کو اس کا جائز مقام اور مرتبہ بھی نہیں دیتے۔ یہ جان بوجھ کر دفتری سرخ فیتے اور 'آسامی نہیں ہے' کے بہانے بنا کر میرٹ کا گلا گھونٹتے ہیں۔ اگر سیدھے راستے سے جاؤں تو میری پوری زندگی ان کی میزوں کے چکر کاٹتے کٹ جائے گی، مگر انصاف نہیں ملے گا۔ میں صرف اپنا وہ حق مانگ رہا ہوں جو ان بابوؤں نے روک رکھا ہے"۔۔

ڈاکٹر عثمان سچے دل سے خود کو اس منصب کا اصل حقدار سمجھتے تھے، اور ان کا خیال تھا کہ بیوروکریسی کی یہ رکاوٹیں محض حسد اور روایتی سست روی کا نتیجہ ہیں۔جنرل سکندر نے جلال میں قہقہہ لگایا، "ان بابوؤں کی اتنی مجال کہ ہمارے معالج کا راستہ روکیں؟ آسامی نہیں ہے تو کیا ہوا؟ ہم ابھی آسامی پیدا کیے دیتے ہیں"۔

حکمِ حاکم کے سامنے کون سا دفتری ضابطہ ٹھہر سکتا ہے۔ انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے اپنے سیکرٹری کو زبانی حکم جاری کر دیا کہ ڈاکٹر عثمان کے لیے فوراً پروفیسر کی ایک نئی پوسٹ تخلیق کی جائے۔


اگلے ہی دن شاہی ایوانِ وزارت سے ایک چمکتا ہوا سرکاری خط جاری ہوا۔ اس خط کی پیشانی پر لکھا تھا: "صدرِ مملکت کے حکم اور آئین کے آرٹیکل 99 کے تحت، دارالشفا میں پروفیسر کی ایک نئی آسامی منظور کی جاتی ہے"۔۔

بیوروکریسی کے رولز آف بزنس کے مطابق یہ ایک روایتی قانونی جملہ تھا، کیونکہ حکومت کا ہر چھوٹا بڑا فیصلہ صدر کے نام سے ہی جاری ہوتا ہے۔ یہ کوئی خاص شاہی فرمان یا ڈائریکٹو نہیں تھا، بلکہ ایک عام دفتری ضابطہ تھا۔

پوسٹ تو پیدا ہو گئی، لیکن اصل ڈراما اس وقت شروع ہوا جب ترقی کے لیے "بورڈ آف میرٹ" کا اجلاس ہوا۔

جب دستاویزات کھولی گئیں، تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر عثمان کے پاس پروفیسر بننے کے لیے ضروری اعلیٰ طبی ڈپلومہ اور تدریسی تجربہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ وہ قانوناً اس عہدے کے اہل نہیں تھے۔ بورڈ کے چند دیانت دار ارکان نے ہاتھ کھڑے کر دیے، "قانون کے مطابق ہم ایک نااہل شخص کو پروفیسر کی کرسی پر نہیں بٹھا سکتے"۔

معاملہ سنگین ہو گیا۔ وزارت کے اعلیٰ ترین افسر، جنہیں بیوروکریسی کا 'جادوگر' کہا جاتا تھا، نے مسکرا کر فائل اپنے ہاتھ میں لی۔ انہوں نے اس روایتی سرکاری خط کو غور سے دیکھا اور ایک ایسی حیران کن تشریح پیش کی جس نے سب کو دنگ کر دیا۔

جادوگر افسر نے عینک درست کرتے ہوئے کہا، "حضرات! آپ قانون کی لکیر کے فقیر ہیں۔ غور سے دیکھیے۔ اس خط میں لکھا ہے کہ یہ پوسٹ 'صدرِ مملکت کے حکم' سے پیدا کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی عام آسامی نہیں ہے، بلکہ یہ صدر کا ایک 'مقدس فرمان' ہے۔ جب صدر نے خود یہ پوسٹ خاص ڈاکٹر عثمان کے لیے بنائی ہے، تو کسی ڈپلومے یا قانون کی کیا مجال جو صدر کے حکم کے آڑے آئے؟"۔

اگرچہ سب جانتے تھے کہ یہ تشریح سراسر جھوٹ اور قانون کا مذاق تھی، کیونکہ ہر سرکاری خط پر صدر ہی کا نام ہوتا ہے، لیکن "حکمِ حاکم" کے خوف اور بیوروکریسی کے اس جادوئی منطق کے سامنے سب نے سر جھکا دیا۔

یوں، بغیر کسی تعینِ معیار، ڈپلومے اور اہلیت کے، ڈاکٹر عثمان کے نام کے ساتھ "پروفیسر" کا بڑا سا بورڈ لٹکا دیا گیا، اور دارالشفا کی تاریخ میں یہ قصہ بیوروکریسی کی شہکار عیاری کے طور پر ایک وقتِ معین تک کے لیے دفن ہو گیا۔

ڈاکٹر صاحب پروفیسر تو بن گئے مگر وہ قابلیتِ خداداد جو خاص عطا تھی؛ اس کو بھی دھندلا دیا۔ ڈاکٹر عثمان تو اپنی عالی شان غیر قانونی عہدہ بہ سلطنت کا وقت پورا کر کے ریٹائر ہو گئے، لیکن بویا ہوا بیج اب ایک تناور درخت بن چکا تھا۔

کچھ عرصے بعد ان کے ایک جانشین آئے۔ ان کے پاس بھی پروفیسر بننے کے لیے مطلوبہ تعلیمی قابلیت اور ڈپلوما غائب تھا، مگر ان کے عزائم بلند تھے۔ وہ اس شہر کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ جب پچھلی بار "عدم اہلیت" کو صدر کا فرمان کہہ کر جائز کر دیا گیا تھا، تو اب وہ کیوں محروم رہیں؟

جانشین ڈاکٹر صاحب نے سیدھا ہائی کورٹ کا رخ کیا، اور اس قول کے مطابق اگر وکیل تگڑا ہو تو کام بن جاتا ہے؛ انہوں نے تگڑا سیاسی وکیل ہی کیا تھا؛ اور وہاں سے اپنے حق میں حکم نامہ حاصل کیا اور بات یہیں نہ رکی، انہوں نے تو حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی "کرمنل پیٹیشن" (مجرمانہ درخواست) بھی دائر کر دی۔


عین اسی طوفانی دور میں، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے "جوائنٹ سیکرٹری لٹیگیشن اینڈ ڈسپلن" کی اہم ترین کرسی پر ایک اصول پسند افسر، شکیل، کا تبادلہ ہوا۔ جب شکیل کے سامنے یہ پیچیدہ فائل آئی، تو انہوں نے بیوروکریسی کی روایتی مصلحت پسندی کو بالائے طاق رکھ دیا۔

انہوں نے فائل پر واضح نوٹ لکھا: "ایک غلط نظیر (پری سیڈنٹ) کبھی قانونی مثال نہیں بن سکتی۔ پچھلا فیصلہ آئین اور قانون کی غلط تشریح پر مبنی تھا، اس لیے اس باطل روایت کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا"۔

اس جرات مندانہ انکار پر عدالتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ قابلِ احترام چیف جسٹس صاحب (جسٹس نقرئی کانسی) نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جوائنٹ سیکرٹری شکیل کو ذاتی طور پر طلب کر لیا۔

شکیل عدالت پہنچے تو معزز چیف جسٹس نے انہیں اپنے چیمبر میں بلا لیا۔ چیمبر کا دروازہ بند ہوتے ہی، جج صاحب کا جلال دیکھنے کے قابل تھا۔ انہوں نے عدالتی احکامات کی مبینہ نافرمانی پر شکیل کی خوب سرزنش کی اور سخت الفاظ استعمال کیے۔ شکیل خاموشی اور انتہائی احترام سے سر جھکائے کھڑے رہے۔

جب چیف جسٹس صاحب کا غصہ تھما اور وہ خاموش ہوئے، تو شکیل نے نہایت ادب سے اجازت مانگی، "لارڈ شپ! اگر اجازت ہو تو میں اس کیس کے حوالے سے صرف چار اہم نکات پر بات کرنا چاہتا ہوں"۔۔

جسٹس کاسی صاحب نے گہرا سانس لیا اور ہاتھ کے اشارے سے اجازت دی۔

شکیل نے گنتی کی انگلیوں پر اپنے دلائل شروع کیے:

پہلا پوائنٹ: "مائی لارڈ! پچھلا کیس (ڈاکٹر عثمان کا معاملہ) قانون کی سراسر غلط تشریح کی وجہ سے ہوا تھا، جسے بیوروکریسی نے اپنے فائدے کے لیے مروڑا"۔۔

دوسرا پوائنٹ: "قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ ایک غلط نظیر کبھی بھی مستقل قانون یا آئینی مثال نہیں بن سکتی"۔

تیسرا پوائنٹ: "ان موجودہ ڈاکٹر صاحب کے پاس بھی پروفیسر بننے کی بنیادی اہلیت ہی نہیں ہے، کیونکہ ان کے پاس بھی لازمی ڈپلوما موجود نہیں"۔

چوتھا اور آخری پوائنٹ: شکیل نے چیف جسٹس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا، "لارڈ شپ! اگر ہم نے تعلیمی اور پیشہ ورانہ اہلیت نہ ہونے کے باوجود انہیں پروفیسر بنا کر اتنے بڑے ہسپتال اور تدریسی شعبے کا سربراہ لگا دیا، تو یہ نااہلی ہسپتال میں معصوم مریضوں کی اموات کا باعث بنے گی۔ اس کے گناہ گار ہم سب ہوں گے"۔چیمبر میں گہرا سکوت چھا گیا۔

قابلِ احترام کانسی صاحب نے شکیل کے دلائل کو بہت غور سے سنا تھا۔ جیسے ہی آخری دلیل ان کے کانوں سے ٹکرائی، ان کے چہرے کا جلال غائب ہو گیا اور وہاں ایک صابرانہ مسکراہٹ ابھر آئی۔

وہ کرسی پر پیچھے کو ہوئے اور تعریف آمیز نظروں سے شکیل کو دیکھتے ہوئے کہنے لگے، "میں نے تمہیں چیمبر میں بلاتے ہی اتنا سخت ڈانٹا، دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔۔۔ لیکن شاباش! تم نے آپا نہیں کھویا اور انتہائی اطمینان و بہادری سے اپنی بات پوری کی اور قانون کا حق ادا کر دیا۔"اگلے ہی لمحے، چیف جسٹس صاحب نے شکیل کے خلاف دائر توہینِ عدالت (کنٹمپت آف کورٹ) کا کیس خارج کر دیا۔

اس فیصلے کے بعد، وہ ڈاکٹر صاحب عرصے تک مختلف محفلوں میں شکیل کا گلہ کرتے دکھائی دیتے تھے۔ وہ افسوس سے ہاتھ مل کر کہتے، "بس یار! یہ شکیل بیچ میں نہ آتا تو میرا کام ہو چکا تھا۔ اس سے پہلے بھی تو اسی غلط تشریح پر کسی مائی کے لال نے اعتراض نہیں کیا تھا، اب اسے ہی قانون یاد آنا تھا؟"۔


مگر سسٹم میں شکیل جیسے چند سرپھرے اور اصول پسند افسر اُگ ہی جاتے ہیں، "حکمِ حاکم" اور "غلط نظیریں" ہر وقت اندھیر نگری قائم نہیں کر سکتیں۔

شکیل نے تو اس دن ایک نااہل شخص کا راستہ روک کر قانون کا حق ادا کر دیا تھا، اور وہ توہینِ عدالت کے مقدمے سے بھی سرخرو ہو کر نکلے تھے۔ لیکن دارالشفا کے در و دیوار گواہ تھے کہ میرٹ کا جو قتلِ عام دہائیوں پہلے شروع ہوا تھا، اس کا زہریلا اثر پورے نظام کی رگوں میں سرایت کر چکا تھا۔ شکیل جیسے چند افسر وقتی طور پر بند تو باندھ سکتے تھے، مگر جب پورا ہسپتال ہی سفارش، نااہلی اور من پسند تشریحات کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہو، تو تباہی کا سیلاب زیادہ دور نہیں ہوتا۔

اور پھر، پچھلے ہی ہفتے وہ قیامت خیز دن آن پہنچا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔

دارالشفا کے سب سے حساس شعبے، یعنی اطفال کی نرسری (مدر کئیر وارڈ) میں، جہاں نو مولود بچے زندگی کی پہلی سانسیں لے رہے تھے، اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ نااہل انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور ناقص دیکھ بھال کے باعث ایک پرانے ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹ گیا۔ وارڈ میں موجود آکسیجن کے سلنڈروں نے آگ کو ایندھن فراہم کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری نرسری شعلوں کی لپیٹ میں آ گئی۔

ہر طرف دھواں، چیخ و پکار اور تڑپتے ہوئے والدین کی آہیں تھیں۔ جب امدادی ٹیمیں پہنچیں تو معلوم ہوا کہ ہسپتال کے ہنگامی اخراج کے دروازے مقفل (لاکڈ) تھے، اور حادثے کے وقت کوئی بھی سینئر یا ذمہ دار عملہ ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔ وارڈ میں فائر سیفٹی کا کوئی نظام سرے سے کام ہی نہیں کر رہا تھا۔

اس ہولناک اور اندوہناک آگ نے سیکنڈوں میں چودہ معصوم نوزائیدہ بچوں کو زندہ جھلسا کر راکھ کر دیا۔ وہ مائیں جو چند گھنٹے پہلے اپنے لختِ جگر کو گود میں لینے کی خوشی منا رہی تھیں، اب ان کے کوئلہ بنے ہوئے جسموں کو دیکھ کر پاگل ہو رہی تھیں۔ صرف ایک نرس نے اپنی جان پر کھیل کر ایک بچے کو بحفاظت باہر نکالا، لیکن باقی چودہ معصوم جانیں اس کرپشن زدہ نظام کی بھینٹ چڑھ گئیں۔

جب اس سانحے کی انکوائری رپورٹ سامنے آئی، تو پرانی فائلیں بھی چیخ اٹھیں۔ معلوم ہوا کہ جس نظام میں کبھی ڈگریوں اور ڈپلوموں کے بغیر لوگوں کو صرف "حکمِ حاکم" اور "سفارش" پر پروفیسر اور شعبوں کا سربراہ بنایا جاتا رہا ہو، وہاں ماتحت عملہ، سیفٹی پروٹوکولز اور انسانی جانوں کی قیمت مٹی کے برابر ہی رہ جاتی ہے۔

ڈاکٹر عثمان کی وہ پرانی آسامی، ان کے جانشین کی وہ ضدی عدالت بازی، اور بیوروکریسی کی وہ "حیران کن تشریحات"۔۔۔

آج ان سب کا انجام ان چودہ معصوم بچوں کے جنازوں کی صورت میں نکلا تھا۔


کہانی کا انجام یہ تلخ سبق چھوڑ گیا کہ جب اداروں سے میرٹ اور قانون کی روح کو نکال دیا جائے، تو وہاں عمارتیں تو کھڑی رہتی ہیں، مگر ان کے اندر صرف معصوموں کی لاشیں اور نظام کا جنازہ ہی اٹھتا ہے۔ شکیل کا وہ جملہ جو اس نے سالوں پہلے چیف جسٹس کے چیمبر میں کہا تھا، آج دارالشفا کے جلے ہوئے در و دیوار پر سچ بن کر لکھا جا چکا تھا: "اگر ہم نے تعلیمی اہلیت کے بغیر لوگوں کو یہاں بٹھایا، تو یہ نااہلی مریضوں کی اموات کا باعث بنے گی"۔

0
178
Iberia Airlines Casablanca Office

Iberia Airlines Casablanca Office

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocI5fcKdmhEi8P38-_ctJodLIIM3u8MYzelilrmXjH-IvJxLUw=s96-c
Elisha Parker
45 minutes ago

Bead Wire Price Trend 2026 | Q3 Forecast, Chart, Prices and Index

1787734945.png
Lakshay Choudhary
1 hour ago
Delta Airlines Burbank Office

Delta Airlines Burbank Office

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocL6XDxkproK12rbOD5WaT6RYqpsE1jEU2ShXA8ol70ezG4SdQ=s96-c
Fiora Jasmie
1 hour ago

Shredded Scrap Price Trend 2026 | Q3 Forecast, Chart, Prices and Index

1787734945.png
Lakshay Choudhary
1 hour ago
Polyetheramine Price Trend in India 2026 Price Trends, Forecast, Chart, Prices and Index

Polyetheramine Price Trend in India 2026 Price Trends, Forecast, Chart...

defaultuser.png
Harish sharma
1 hour ago