Muhammad Asif Raza 1 month ago
Muhammad Asif Raza #education

حاکمیت اعلی، اشرف المخلوقات، خلافتِ ارضی

Allah is the omnipotent (all-powerful) being, meaning He has absolute control over everything created and can do whatever He wills. Allah, the Creator and Sustainer, has created Man as a special creation and bestowed singular honour as His vicegerent. The world however, reflects an opposite view of the man's role as a true being as told in Holy Scriptures. This write up in Urdu "حاکمیت اعلی، اشرف المخلوقات، خلافتِ ارضی" is about the man's role as vicegerent for every human being and particularly for Muslims.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


حاکمیت اعلی، اشرف المخلوقات، خلافتِ ارضی


اللہ تعالی کے نام سے شروع جو ہمارا خالق ہے، مالک ہے، جس نے ہمیں پیدا کیا اور ہمیں موت دیتا ہے اور روزِ قیامت ہمیں اکھٹا کرے گا؛ تاکہ ہمارے اعمال کا حساب فرمائے۔اور ان گنت درود و سلام حضورِ اکرم محمدﷺ کے لیے جو ہمارے آقاﷺ ہیں اور جن کی رحمت کا فیض جاری و ساری ہے۔

یہ ذی الحجہ کا مہینہ ہے اور ذی الحجہ اسلامی تقویم (قمری سال) کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے۔ اسے "حج والا مہینہ" بھی کہا جاتا ہے؛ اور کل ہی "یومِ عرفہ" گذرا ہے۔

حج کے دوران ۹ ذی الحج کو "یوم عرفہ" کہا جاتا ہے اور "وقوفِ عرفہ" کیا جاتا ہے، جو حج کا سب سے بڑا رکن ہے؛ اور اس دن تمام حاجی میدانِ عرفات میں گذارتے ہیں؛ جہاں مسجدِ نمرہ واقع ہے، جس میں ظہرکے وقت حج کا خطبہ پیش کیا جاتا ہے۔

اس ۹ ذی الحج "یومِ عرفہ" کے دن "رکنِ اعظم" "وقوفِ عرفہ" دوپہر سے لے کر غروبِ آفتاب تک قیام کرنا لازمی ہے؛ اس دن کو ایک لمحے کو تصور کیجیے؛ ایک بڑا میدان ہے؛ اور لاکھوں انسان تپتے صحرا میں جب سورج نصف النہار پر ہے؛ دنیا و مافیہا سے بے پرواہ ایک خدائے مطلق اللہ سبحان تعالی کو حاضر و ناظر مان کر ملتمس دعا ہیں؛ اپنی اور اپنے چاہنے والوں اور دیگر انسانوں کے لیے مغفرت اور بخشش کے طلبگار ہیں۔ روایت میں ہے کہ کل روز قیامت نسل آدم کا روز حساب بھی ایک ایسے ہی میدان میں قائم ہوگا۔

آقا کریم محمدﷺ سے منقول یومِ عرفہ کی مقبول تسبیح ہے " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ "۔

"اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے"۔

اوپر کے کلام کو، اس تسبیح کو سمجھنا بہت ضروری ہے؛ اس کا اول حصہ اللہ کی معبودیت کی اعلی ترین شکل ہے۔ صرف اللہ سبحان تعالی ہی معبود ہے؛ یعنی عبادت اور سجدہ صرف اسی کو کیا جاسکتا ہے۔ معبود وہ ہوتا ہے، جس کے آگے ماتھا ٹیکا جاتا ہے اور دعا کی جاتی ہے۔ اس یقین کے ساتھ کہ مانگے جانے والی، طلب کی جانے والی شے اور خواہش پوری ہوگی۔ کیونکہ ساری دنیا کی ساری طلب اور خواہش کو صرف وہ پورا کرسکتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک اکیلا اور تنہا ہے اور اپنی خدائی حکمت اور اعمال میں وہ یکتا اور یگانہ ہے؛ اس کا کوئی شریک ممکن ہی نہیں ہے۔

یہ قول "وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ" ایک کلمہ نہیں ہے؛ یہ ساری انسانیت میں پھیلے فلسفوں کا تدارک ہے۔ "وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ" (وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں) کا جملہ بنیادی طور پر توحید (ایک اللہ) کا نچوڑ اور اسلامی عقیدے کی اساس ہے، لیکن اگر اس کے فلسفیانہ اور روحانی پہلو پر غور کیا جائے تو یہ واقعی ساری انسانیت میں پھیلا ہوا ایک آفاقی فلسفہ بن جاتا ہے۔

یہ قول "لَهُ الْمُلْكُ" ساری انسانیت میں پھیلا ایک اساسی فلسفہ ہے۔ "لَهُ الْمُلْكُ" (اسی کی بادشاہی ہے) ایک گہرا اور عالمگیر فلسفیانہ و روحانی اصول ہے جو انسانیت کے بنیادی فکری دھاروں میں نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ ایک ایسا اساسی فلسفہ ہے جو انسان کو تکبر، خود غرضی اور مطلق ملکیت کے احساس سے آزاد کراتا ہے۔ اس فلسفے کے انسانی معاشرے اور تاریخ پر گہرے اثرات ہیں۔

یہ نظریہ بتاتا ہے کہ انسان زمین پر کسی بھی چیز (دولت، وسائل، یا اقتدار) کا حقیقی مالک نہیں بلکہ محض ایک "امین" ہے۔ جب حقیقی حاکم اور مالک صرف ایک ذات (خالق) ٹھہرتی ہے، تو انسانوں کے درمیان اونچ نیچ، نسل و رنگ کی بنیاد پر امتیاز کی دیواریں گر جاتی ہیں اور سب انسان برابر ہو جاتے ہیں۔ یہ فلسفہ انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ اس کا اختیار عارضی اور محدود ہے، جس سے معاشرے میں تکبر کی بجائے عاجزی اور ذمہ داری کا احساس پروان چڑھتا ہے۔

چنانچہ یہ حصہ "وَلَهُ الْحَمْدُ" اس کا لازمی نتیجہ ہے؛ وَلَهُ الْحَمْدُ (اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں) کائنات کے خالق اور مالک کی حمد و ثنا کا اظہار ہے؛ یہ قول اسلامی فکر اور توحیدی فلسفے میں یہ اساسی حقیقت بیان کرتا ہے کہ کائنات کی تمام تعریفیں اور اختیار صرف اللہ کی ذات کے لیے مختص ہیں۔ جب اللہ تعالی ہر شے کا اکیلا اور تنہا خالق اور مالک ہے اور صرف وہی حقیقی معبود ہے تو تعریف تو صرف اس ہی کی ہونی چاہیے۔ یہ جان لیں کہ تعریف سے مراد "حمد و ثنا" ہے۔

لیکن اللہ تعالی نے یہ تسبیح عطا کیوں کی ہے؟

انسانیت میں پھیلے فلسفے اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ "توحید اور شکر گزاری" کا باہم اہتمام کیاجائے۔ تمام مذاہب میں انسانوں میں اپنے معبود کی شکر گزاری کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ اوپر کا کلمہ موحد انسان (ایک خدا کا مانے والا) کو سکھاتا ہے کہ ہر اچھائی، کامیابی اور نعمت کا اصل حقدار وہ واحد ذات ہے، جس کے ہاتھ میں کائنات کی بادشاہت ہے۔ چنانچہ تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں؛ اور فلسفہِ حمد کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انسان ماسوائے اللہ تعالی کے کسی اور کو تعریف اور بڑائی کا مرکز سمجھنے کے بجائے، اس کا اصل سرچشمہ خدائے بزرگ و برتر عدیم و قدیم کو تسلیم کرے، جس سے تکبر کا خاتمہ ہوتا ہے۔

یہ جملہ انسانوں کو ذات پات، رنگ و نسل اور جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر ہو کر ایک ہی خالق کی کی بندگی کا درس دیتا ہے۔ جب سب کا مالک ایک ہے، تو ساری انسانیت ایک کنبے کی طرح ہے۔ فلسفے کی رو سے "وحدت" کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا نظام بے ترتیب یا متعدد طاقتوں کے کنٹرول میں نہیں، بلکہ ایک ہی مرکزی طاقت (مطلق سچائی) کے تابع ہے۔ جب انسان ایک اللہ کو اپنا تنہا مالک و مختار مان لیتا ہے، تو وہ دنیا کی دوسری تمام طاقتوں، خوف اور باطل خداؤں کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہ انسان کی خودی اور ضمیر کی آزادی کا سب سے بڑا فلسفہ ہے۔ جب سب انسان ایک ہی خدا کے بندے ہیں، تو کسی کو کسی پر برتری حاصل نہیں۔ یہ فلسفہ مساوات، انصاف اور عاجزی سکھاتا ہے، تکبر اور غرور کا خاتمہ کرتا ہے۔

یہ حصہ "وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" ساری انسانیت کے لیے ساری زندگی کا نظریہ پیش کرتا ہے۔ یہ کلمہ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ( وہ ہر چیز پر قادر ہے)؛ یعنی اللہ سبحان تعالی کل اشیاء؛تمام چیزوں اور تمام معاملات پر قادر ہیں؛ قدرت رکھتے ہیں؛ ہر معاملے میں غالب ہیں اور جیسا چاہتے ہیں کرگزرتے ہیں۔۔

لفظ قَدِيرٌ عربی زبان کا لفظ ہے جو اس کے مادے ق-د-ر (قَ دَ رَ) سے ماخوذ ہے۔ جس کا بنیادی لغوی معنی اندازہ کرنا، پیمائش کرنا اور طاقت یا قدرت رکھنا ہے۔

اس کا مطلب مکمل قدرت والا، صاحبِ اقتدار، طاقت ور اور ہر کام کو اس کی درست مقدار اور حکمت کے ساتھ کرنے والا ہے۔ یہ صفتِ مشبہ کا صیغہ ہے جو مبالغے (زیادہ کرنے) کے معنوں میں آتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق "قَدِيرٌ" اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے جو صرف اسی کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے۔یہ لفظ قرآنِ مجید میں بکثرت استعمال ہوا ہے (عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ) جو اللہ کی لامحدود قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت لامحدود ہے۔ آسمانوں اور زمین میں ایسی کوئی چیز نہیں جو اس کے لیے مشکل ہو اور نہ ہی کوئی ایسی چیز جو اس کی مرضی سے باہر ہو سکے۔ یہ جملہ قرآن میں بار بار آتا ہے (مثلاً، سورۃ الحدید 57:2)، اکثر کائنات پر اس کے غلبہ، زندگی بخشنے، موت کا باعث، اور مردوں کو زندہ کرنے سے منسلک ہے۔ مومن سکون حاصل کرنے کے لیے اس جملے پر غور کرتے ہیں - یہ جانتے ہوئے کہ انہیں جو بھی سامنا ہے، خالق راحت فراہم کرنے، بدلتے ہوئے حالات، اور دعاؤں کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

روحانی اور فلسفیانہ اعتبار سے " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " صرف ایک مذہبی کلمہ نہیں، بلکہ حاکمیت اعلی کا اعلان ہے اور بندہ بشر انسان کا اظہارِ ممنونیت ہے۔ یہ کلمہ بطور تسبیح انسان کو زندگی گزارنے کا وہ اعلیٰ ترین شعور دیتا ہے جس میں سکون، امن اور باہمی احترام پوشیدہ ہے۔ بار بار اس کا ورد انسان کو اپنے خالق و مالک سے قریب کرتا ہے۔

حاکمیت اعلی اور اشرف المخلوقات

اللہ سبحان تعالی نے تمام انبیاء اور تمام الہامی کتابوں اور قرآن الحکیم کے ذریعےبڑی تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ساری کائنات میں صرف اللہ تعالی کا نظام قائم اور دائم ہے۔ پوری کائنات میں صرف اللہ تعالیٰ کی حاکمیت، قدرت اور اسی کا نظامِ قدرت قائم و دائم ہے۔ مادہ اور توانائی پر مشتمل یہ عظیم کائنات اللہ سبحان تعالی کے وضع کردہ قوانین کے تحت چل رہی ہے۔ آسمان و زمین، سورج، چاند، ستارے اور تمام مخلوقات اسی کے حکم کے تابع ہیں۔ اور ہر شے، ہر چیز کا خالق، مالک اور رازق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ چنانچہ کائنات کی ہر چیز اپنے پیدا کرنے والے کے آگے سرِتسلیم خم کیے ہوئے ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقیقی حاکم وہی ہے۔ مختصراً، کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے نظام کا گواہ ہے۔

اللہ سبحان تعالی نے دو جنس انسان اور جن ایسے پیدا کئے ہیں جنہیں کچھ اختیارات دیے گئے ہیں اور عمل کی راہ دکھائی گئی ہے۔ اور کہا گیا کہ اللہ تعالی دیکھے گا کہ دونوں مخلوقات کیا راستہ چنتے ہیں۔ فرمایا ہے کہ " اِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا " (3آیت ) سورۃ الانسان؛

بے شک ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، یا تو وہ شکر گزار ہے اور یا ناشکرا۔

اللہ سبحان تعالی نے قرآن المجید میں بتایا ہے کہ اس نے آدم کو زمین میں خلیفہ مقرر کیا تاکہ اس زمین پر اس کا حکم نافذ کیا جائے۔ قرآن الحکیم میں ارشاد ہوا ہے کہ ” پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو ، جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں"۔ ” انہوں نے عرض کیا ، کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے نظام کو بگاڑ دے اور خونریزیاں کرے گا ؟ آپ کی حمد وثناکے ساتھ ساتھ تسبیح اور آپ کے لئے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں"۔ سورۃ البقرہ آیت ۳۰۔

پھر اللہ سبحان تعالی نےحضرت آدم علیہ السلام کا پتلا بناکر اس میں اپنی روح پھونک دی تو وہ کھنکھناتی مٹی سے بنے پتلے نے جان پکڑ لی اور یوں آدم ایک مخلوق کا وجود قائم ہوگیا۔

اللہ تعالی نے قرآن المجید ہی میں بتایا ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کا تو وہاں موجود مخلوقات کو سجدہ کا حکم دیا تو تمام ملائک نے سجدہ کیا۔ یوں حضرت آدم علیہ السلام مسجود ملائک ٹہرے اور اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہوئے اور ابنِ آدم نے یہ وراثت ارضی ورثے میں پائی۔ لیکن اس دن جب ملائکہ نے حضرت آدم کو سجدہ کیا تو ایک ابلیس تھا جو "جن" تھا اور سجدے سے انکار کرگیا۔ وہاں موجود خلائق میں صرف وہ ہی فیصلے کا اختیار رکھتا تھا اور اس نے باعث فخر؛ تکبر اور نخوت، آدم کی برتری کا تسلیم نہیں کیا اور راندہ درگاہ قرار پایا۔ اور یوں ایک ابدی دشمنی کا اغاز ہوا۔ اللہ سبحان تعالی نے اس کو یوں بیان کیا ہے۔

" اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تمہیں تاکید نہ کردی تھی کہ شیطان کی عبادت (پیروی) نہ کرنا، کیونکہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا، یہ سیدھا راستہ ہے۔ اور البتہ اس نے تم میں سے بہت لوگوں کو گمراہ کیا تھا، کیا پس تم نہیں سمجھتے تھے"۔ سورۃ يٰـسٓ آیت ۶۰-۶۲

حاکمیت صرف اللہ ہی کے لیے ہے؛ کیونکہ"بادشاہ صرف ایک واحد اللہ ہے"۔ اللہ سبحان تعالی جب قیامت قائم کرے گا اور ساری کائنات کو جو ہماری نگاہ میں ہے، کو سمیٹ لیگا تو پوچھے گا "آج کس کی بادشاہی ہے؟" اور اس وقت سب کو موت دے چکا ہوگا تو صرف خاموشی ہوگی؛ تو خود فرمائے گا؛ "لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ" یعنی صرف ایک اللہ، واحد و قہار (زبردست) کی بادشاہی ہے۔۔۔ سورة المؤمن آیت ۱۶

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’(قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ اپنے دائیں دست ِ قدرت سے زمین کو اپنے ہی قبضے میں لے گا اور آسمان کو لپیٹ لے گا، پھرفرمائے گا:حقیقی بادشاہ میں ہوں، آج زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ ( صحیح بخاری الحدیث: ۶۵۱۹)

حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا "اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹ دے گا۔ پھر انہیں اپنے (شایانِ شان معنوں میں) دائیں ہاتھ میں لےگا، پھر ارشادفرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں جابر لوگ؟ کہاں ہیں تکبُّر والے لوگ؟ پھر زمینوں کو اپنے (شایانِ شان معنوں میں بائیںہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھرارشاد فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں جابر لوگ؟ کہاں ہیں تکبُّر و غرور کرنے والے لوگ۔ ( مسلم، الحدیث: ۲۷۸۸)

اے برادران و ہمشیران اسلام؛ اس قول " لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" پر پھر سےغور کیجیے کہ بادشاہی صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔ اور چنانچہ شکر بھی صرف اسکا ہی ادا کیا جانا چاہیے۔ اور شکر بھی ایسا جیسا کہ حق ہے۔ مگر دیکھے کہ کیسا ستم ہے کہ آج ہماری دنیا تقریبا" آٹھ ارب انسانوں پر مشتمل ہے اور ان میں سے دو ارب مسلمان ہیں؛ اور ظلم ہے کہ ان مسلمانوں میں بھی تھوڑے ہی ہیں جو اللہ تعالی کو ایسے ہی پہچانتے ہیں جیسا کہ اسکو جاننے کا حق ہے۔ آج کے انسان کا تو ذکر ہی کیا؛ قوم مسلم بھی اشرف المخلوقات کے درجے سے گری ہوئی اسفل السافیلن کی سطح پر ہے۔

خلافت ارضی اور بارِ آزمائش

سورہ بقرہ کی اوپر کی آیت (إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً؛ سورۃ البقرہ آیت ۳۰) میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین میں خلافت عطا کرنے کا بتایا ہے یعنی اپنا نائب، نمائندہ اور جانشین بنانے کا اعلان فرمایا۔ یہ انسان کے عظیم مقام، زمینی ذمہ داریوں اور اللہ کے احکامات کو زمین پر نافذ کرنے کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ خلیفہ وہ ہوتا ہے جو کسی اللہ تعالی کی طرف سے زمین پر اللہ تعالی کا نمائندہ بن کر ذمہ داری سنبھالے۔ اور زمین پر اللہ کے دین کو قائم کرے اور اللہ تعالی کےاحکامات کو عدل و انصاف کے طریقوں سے نافذ کرے۔ یہ انسان کی اشرف المخلوقات ہونے اور زمین میں اللہ کا نمائندہ ہونے کی دلیل ہے۔

یہ قول " لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " سکھاتا ہے کہ ہماری یہ زمین، آسمانوں اور ان کے درمیان ہر شے کا خالق، مالک اور وارث صرف اللہ ہے۔ خلافت ارضی سب انسانوں کے لیے؛ جس کے کچھ درجات ہوتے ہیں؛ جن میں سے تھوڑے منصہ شہود پر نظر آتے ہیں؛ اور بہت سارے پردے ہی میں رہتے ہیں۔ لیکن گروہِ انسان میں ایک سمندر ایسا ہے جو اپنے نفس کا غلام ہے؛ بندہ بےدام ہے۔ قرآن الحکیم کا فرمان ہے کہ " کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا ہے"؟

سورہ الفرقان کی آیت نمبر 43 اور سورۃ الجاثیہ کی آیت نمبر 23

آئیے دیکھیں کہ ہماری صفوں میں وہ کون کون ہے؛ جو ہرجائز و ناجائز معاملے میں صرف اپنے من کی بات سنتا ہے، اور اپنے ذاتی مفاد یا جذبات کی پیروی کرتا ہے، وہ ایک طرح سے اپنی نفس کا پجاری بن جاتا ہے۔ یہ قرآنی آیات اس ذہنی اور روحانی کیفیت کی نشاندہی کرتی ہیں جہاں انسان اللہ کے احکامات کو پسِ پشت ڈال کر اپنی انا اور خواہشاتِ نفس کے سامنے جھک جاتا ہے۔

ہاں ایسے لوگ جو حکمران بن بیٹھتے ہیں؛ اور یقینا" اللہ تعالی ہی ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے حکمران بناتا ہے اور جس کو چاہتا ہےعزت دیتاہے۔ اس کائنات میں عزت و ذلت اور اقتدار کا اصل مالک وہی ہے۔ انسان کی ظاہری کوششیں اپنی جگہ، لیکن حتمی فیصلہ اور اختیار ہمیشہ اللہ تعالی کے ہی پاس ہے۔

"کہہ دیجیے! اے اللہ! اے بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے، اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائی ہے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے"۔ (سورہ آلِ عمران: 26)


سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے

حکمراں ہے اک وہی، باقی بتانِ آزری

علامہ محمد اقبال نے اپنی کتاب بانگِ درا کی نظم "خضرِ راہ" کے اس شعر میں کس خوبصورتی سے اس مضمون کو سمیٹا ہے؛ یعنی حقیقی بادشاہی، حکمرانی اور سروری (حکمرانی کا حق) صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ بے مثال کے لیے موزوں ہے، جو لاشریک ہے۔ حقیقی حاکم صرف وہی ہے، باقی تمام حکمران، طاقتیں اور بت (دنیاوی طاقتیں) "بتانِ آزری" (جھوٹے معبود / مفاد پرست) کی طرح عارضی اور ناپائیدار ہیں۔

اللہ تعالی جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں [ ابن آدم ] میں سے چن لیتا ہے اور اسے حکمران بنا دیتا ہے۔ [جو عہدہ حکمرانی غصب کرتے ہیں؛ انکا یہاں ذکر نہیِ کہ وہ شیطان کی پیروی کرتے ہیں اور اپنے لیے محض ذلت کا گڑھا گہرا کرتے ہیں]۔ اللہ سبحان تعالی نے قرآن میں بتایا ہے کہ اس نے آدم کو زمین میں خلیفہ مقرر کیا تاکہ اس زمین پر اس کا حکم نافذ کیا جائے۔ اور یہ کہ اس دنیا اور اس کی زندگی محض کھیل تماشہ ہے اور اصل کامیابی تو دارالاخرۃ میں حاصل ہوگی۔ اللہ تعالی نے کامیابی کا معیار مقرر کردیا؛ چنانچہ آقا محمدﷺ کے صحابہ کرام رضوان علیھم کے لیے دنیاوی ہار جیت بے معنی ہو کر رہ گئی تھی۔

اللہ سبحان تعالی نے یہ دنیا امتحان کی لیے بنائی ہے اور تمام مسلمان ہر گھڑی عرصہ آزمائش میں ہیں۔ اس نے کیا عمل کیے اور کیا کیا کوششیں کیں؛ یہ جانچا جائے گا۔ ہار ہوئی کہ جیت ہوئی اس سے کیا مطلب۔ اللہ تعالی نےامام حسین رضی علی تعالی عنہ کو حکومت نہی عطا کیا بلکہ یزید کو تخت کو بٹھا دیا۔ لیکن امام عالی مقام رضی اللہ عنہ سید شباب الجنۃ ہیں۔ یاد رکھیے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلہ کے بعد۔

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موجِ حوادث سے

اگر ہے کچھ تو بس اِک نکہتِ زلفِ پریشاں ہے

اصغر گونڈوی


عزیزانِ گرامی؛ ہم جس دنیا میں زندہ ہیں اور جس حیات کو بسر کرتے ہیں اور ایک دن اپنی قبروں میں جا لیٹتے ہیں؛ وہ سب ایک ہی خالق اور مالک کی عظیم تخلیق ہے تاکہ وہ اپنی مخلوق جنّوں اور انسانوں کی آزمائش کرے اور یومِ الدین [قیامت] کے حساب کتاب سے روزِ جزا اور سزا بناکر فائدہ و نقصان کا فیصلہ کردے۔ ایک مسلمان کو صرف یہ جان کر جینا ہے کہ اللہ کا کیا حکم ہے اور یہ کہ آقائے دوجہان محمد ﷺ نے کیا نصیحت فرمائی ہے۔۔

صحیح ابن حبان میں سیدنا عبداللہ بن مسعو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " یا اللہ میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندے اور بندی کا بیٹا ۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے۔ تیرا ہر حکم مجھ پر نافذ ہونے والا ہے، میرے بارے میں تیرا ہر فیصلہ انصاف و عدل پر مبنی ہے۔ میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں، جسے تو نے خود اپنے لیے پسند کیا ہے یا اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا اپنے علم غیب کے خزانے میں محفوظ کر رکھا ہے، کہ قرآن کو میرے دل کی بہار، آنکھ کا نور اور میرے دکھوں اور غموں کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے"۔

تب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا ہمیں یہ کلمات یاد کرنے چاہئیں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جو سنے وہ بھی یاد کرلے۔


اللہ تعالی کسی بھی قوم اور اس کے فرد کو خلافتِ ارضیکے تحت حکمرانی کے لیے درکار حکمت فراہم کرتا ہے۔ اور بہت کچھ سکھاتا ہے، جو چاہتا ہے۔ اور وہ راستہ علم کا ہوتا ہے اور علم کے ذریعے اسے دوسروں پر افضلیت بخشتا ہے۔ اور اس فرد کے ذریعے اس کی قوم کو نئے رجحانات ؛ نئی ٹیکنولوجی فراہم کرتا ہے؛ جو انہیں دوسروں سے بہتر کردیتی ہے اور وہ اقوامِ عالم کے سردار بنادیے جاتے ہیں۔ اور مقام افضلیت و سرداری کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مقدمات/ جھگڑوں / مسائل کے فیصلے کرتے اور حل تجویز کرتے ہیں۔ اور ایسا کرتے ہوئے انصاف کا دامن تھامے رہتے ہیں۔

انصاف کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ فیصلے کے وقت اور مسائل کے حل تجویز کرتے ہوئے، انسان یا فرد یا گروہ صرف اپنی ذات، اپنے نفس یا اپنی قومکے فائدے کے لیے سوچتا اور فیصلے نہیں کرتا بلکہ انصاف سے دوسرے کا حق بھی پورا دیتا ہے۔ اور انسان یا فرد یا گروہ ہر وقت اللہ تعالی کے حکم اور شریعت کو ملحوظِ خاطر رکھتا ہے۔ اور اگر غلطی کربیٹھے تو رجوع کرلیتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے۔ ایسے انسان یا فرد یا گروہ پھر زمین پر برتری حاصل کرلیتے ہیں؛ یہ اللہ تعالی کی شریعت ہے؛ جس کو وہ بدلتا نہیں ہے۔

اختتامی کلمات

حاکمیت اعلی کا تصور سادہ و آسان ہے؛ اس تصور کے تحت پوری کائنات کا حقیقی مالک اور حاکمِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ ہے۔ انسان اس کے نائب یا خلیفہ کی حیثیت سے حدودِ شریعہ کے اندر رہتے ہوئے اختیارات استعمال کرتے ہیں۔ حقیقی بادشاہی، حکمرانی اور سروری (حکمرانی کا حق) صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ بے مثال کے لیے موزوں ہے، جو لاشریک ہے۔ حقیقی حاکم صرف وہی ہے حضرتِ انسان بطور اشرف المخلوقات صرف خلافت کے رتبے پر ہے؛ محض ایک نمائندہ، ایک بارِ امتحان اور آزمائش ہے جو اس کے کندھوں پر ہے۔

اے برادران اسلام؛ ابنِ آدم کو خلافت ملی اور ہم مسلمان اللہ تعالی کے محبوب حضرت محمدﷺ کی امت ہیں؟ تو کیا ہم آج اشرف المخلوقات کی سطح کے انسان بھی ہیں اور اگر ہیں تو زمانے میں رسوا کیوں ہیں؟

امتی باعث رسوائی پیغمبرﷺ ہیں

بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "خبردار! میری اُمت سورج، چاند اور پتھر کی عبادت تو نہ کرے گی اور نہ بتوں کے آگے سجدہ کرے گی، البتہ اپنے اچھے کام لوگوں کو دکھائے گی۔ اور مخفی خواہشات یہ ہیں کہ ان میں سے کوئی شخص صبح روزہ دار اُٹھے گا، پھر نفسانی خواہشات میں سے کوئی خواہش (کھانا پینایا صحبت ) پیش آجائے گی تو وہ روزہ توڑ دے گا"۔ (مسنداحمد)

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کی قسم! میں تمہارے (تھوڑے سے نہ کہ حد سے زیادہ) فقرو افلاس سے نہیں ڈرتا، بلکہ اس سے ڈرتا ہوں کہ تم پر تم سے پہلے لوگوں کی طرح دنیا کشادہ کردی جائے، پھر تم پہلے لوگوں کی طرح دنیا کی محبت و رغبت میں گرفتار ہوجاؤ گے اور یہ دنیا پھر تم کو پہلے لوگوں کی طرح ہلاک کردے گی۔‘‘ (بخاری، مسلم)

برادرانِ وطن؛ ہم نے یہ زمین ریاستِ اسلام مدینہ ثانی بنانے کے لیے حاصل کی ہے اور جان رکھیے کہ کل روزِ حساب ہم سب نے اس کا جواب دینا ہے۔ یہ حقیقت ذہن سے کبھی معدوم مت ہونے دیں کہ اس جہان میں ہم یا تو اللہ کے بندے ہیں یا ابلیس کے پیروکار۔ جب بھی فیصلے کی گھڑی آئے تو دیکھیں صدا کیا ہے، پیغام کیا ہے، اور مانگ کیا رہا ہے؟ آج بحیثیت مسلمان ہمیں یہ یقین ہونا چاہیے کہ"مسلم کو ہار نہی ہوتی"؛ جیسے ٹیپو سلطان نے کہا تھا "شیر کی ایک دن کی زندگی، گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے" ۔ وہ شہید ہوکرامر ہوا۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیےکہ اللہ سبحان تعالی نے سورۃ البلد کی (آیت 4) میں فرمایا ہے ("تحقیق ہم نے انسان کو مشقت اور محنت میں پیدا کیا ہے")۔ چنانچہ جدوجہد کو لازم کرلیں؛ یہی تقدیرہے۔ اور سورۃ الکہف (آیت ۵۴) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے طرح طرح کی مثالیں بیان کی ہیں، لیکن انسان جھگڑنے میں ہر چیز سے بڑھ کر ہے"۔ چنانچہ ہمیں اللہ تعالی کے احسان پر شکرگذار بننا چاہیے اور اپنے قسمت بطور امت محمدﷺ کو اولیت دینا چاہیے اور باہم جھگڑے اور فساد سے بچنا چاہیے۔

سایہ خدائے ذوالجلال۔۔۔ حاکمیت صرف اللہ کی ہے۔ آئیے دل و جان سے تسبیح کریں اور عمل کریں؛ "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ "۔

اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے"۔

0
111

How a Reliable OEM Resin Figurine Manufacturer Improves Product Qualit...

Selecting a manufacturing partner is more than comparing prices. Product quality, producti...

1773726910.png
Xiamen Rising Chance Co Ltd
4 minutes ago
Why Polyurea Coating Systems are the Best Choice for Driggs, ID Projects?

Why Polyurea Coating Systems are the Best Choice for Driggs, ID Projec...

1777294125.jpg
High Country Solutions
6 minutes ago

Trusted Custom Scale Model Manufacturer for Collectibles, Gifts & Prom...

Xiamen Rising Chance Co., Ltd. is a custom scale model manufacturer established in 2008, p...

1773726910.png
Xiamen Rising Chance Co Ltd
8 minutes ago

Why The Art of Cooking is the Ultimate Guide to Romantic Couple Cookin...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocKfelephgi5WYKKVeY8VegC8rATe1TrPNbNHHZTAQAgmyIifA=s96-c
Angela Martin
8 minutes ago

Online Classes English Olympiad – Build Strong English Skills with SSS...

The English Olympiad is one of the best competitive exams for students who want to improve...

defaultuser.png
Ankit Bhatt
11 minutes ago