گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہُوا جہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہُوا
Dr Muhammad Allama Iqbal was the great mystic Poet of the East. Iqbal is the the philosopher of East and national poet of Pakistan. In this poem, the poet is addressing The Holy Prophet Muhammad (PBUHﷺ) and presenting his submission to his beloved prophet and asking for blessings.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہُوا
جہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہُوا
مندرجہ بالا شعر علامہ محمد اقبال کی کتاب بانگِ درا کی نظم "حضورِ رسالت مآب ﷺ میں؛" سے لیا گیا ہے۔ لیکن اس نظم کو پڑھنے سے پہلے ذرا آج کی صورتحال پر غور کرلیں۔
ہماری بصارت میں جو یہ کائنات ہے، زمین وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی بسی ہوئی ہے۔ زندگی کی نیرنگی حیران کن ہے اور اس حیرت کدہ میں ہم انسان بطور اشرف المخلوقات آباد ہیں۔ اے وطنِ عزیز کا لوگو؛ عالمہ محمد اقبالؒ نے ایک صدی قبل غلام ہندوستان کے مسلمان کے لیے "مثنوی پس چه باید" کی نظم " فقر، " میں کہا تھا کہ "اس ملک کا مسلمان اپنے آپ سے نا امید ہے — عمر گذر گئی اس نے کوئی با خدا مرد نہیں دیکھا"۔ مزید کہا ہے کہ " لا محالہ وہ دین کی قوت سے بدظن ہے— وہ خود ہی اپنے کاروان کے لیے رہزن بنا ہوا ہے"۔ حکیم نے بیماری کا سبب بیان کیا کہ " تین سو سال [اب چار سو سال ہوگئے] سے یہ امت زبوں حال ہے — اور بغیر اندرونی سوز و سرور کے دن بسر کر رہی ہے"۔ اور پھر وجہ بھی بتا دی کہ " مسلمان پست فکر ، کم ہمت اور کور ذوق ہو چکا ہے — اس کے تعلیمی ادارے اور علما سب شوق سے محروم ہیں"۔ مزید کہا کہ " اس کی فکر کی خرابی نے اسے ذلیل کر دیا ہے — باہمی اختلافات نے اسے بیزار کر دیا ہے"۔ علامہ اقبالؒ نے یہ بات تو غلام ہندوستان کے لیے کہی تھی مگر ہم آج تقریبا" اسی سال کے بعد بھی اسی حالت غلامی میں مگن مسرور اورمست ہیں۔ کیا کوئی فرق پڑا ہے؟
آب آئیے؛ اقبال کی نظم اس نظم "حضورِ رسالت مآب ﷺ میں؛" کو ذرا غور سے پڑھتے ہیں۔
گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہُوا
جہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہُوا
قیودِ شام و سحَر میں بسر تو کی لیکن
نظامِ کُہنۂ عالم سے آشنا نہ ہُوا
فرشتے بزمِ رسالتؐ میں لے گئے مجھ کو
حضورِ آیۂ رحمتؐ میں لے گئے مجھ کو
کہا حضورؐ نے، اے عندلیبِ باغِ حجاز!
کلی کلی ہے تری گرمیِ نوا سے گُداز
ہمیشہ سرخوشِ جامِ وِلا ہے دل تیرا
فتادگی ہے تری غیرتِ سجودِ نیاز
اُڑا جو پستیِ دنیا سے تُو سُوئے گردُوں
سِکھائی تجھ کو ملائک نے رفعتِ پرواز
نکل کے باغِ جہاں سے برنگِ بُو آیا
ہمارے واسطے کیا تُحفہ لے کے تُو آیا؟
“حضورؐ! دہر میں آسُودگی نہیں مِلتی
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں مِلتی
ہزاروں لالہ و گُل ہیں ریاضِ ہستی میں
وفا کی جس میں ہو بُو، وہ کلی نہیں مِلتی
مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں
جو چیز اس میں ہے، جنّت میں بھی نہیں ملتی
جھلکتی ہے تری اُمّت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہُو اس میں”
یہ مختصر سی نظم اس زمانے میں لکھی گئی تھی، جب اٹلی نے طرابلس پر حملہ کیا تھا۔ ترک، عرب اور مصری مل کر مقابلے میں کھڑے ہو گئے تھے اور انہوں نے غیر معمولی قربانیوں سے کام لے کر اٹلی کی پیش قدمی روک دی تھی ۔ وہ دور بڑا نازک تھا۔ طرابلس جسے آج کل لیبیا کہتے ہیں۔ رسمی طور پر سلطنتِ عثمانیہ کا ایک صوبہ تھا۔ اٹلی کے پاس بحری بیڑہ کوئی نہ تھا۔اس کی فوجیں مصر سے گزر کر طرابلس پہنچ سکتی تھیں، لیکن انگریزوں نے مصر کا راستہ روک لیا۔
نوجوان بہادر ترک بھیس بدل کر مصر کے غیر معروف راستوں سے گزرتے ہوئے طرابلس پہنچے۔ اور عربوں کو منظم کر کے انہوں نے اٹلی کی فوجوں سے لڑایا۔ ان بہادر ترکوں میں انور پاشا شہید، غازی عصمت انونو ، مصطفٰی کمال اور بیسیوں دوسرے جواں مرد قابلِ ذکر ہیں ،جن کے نام تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ زندہ رہیں گے
یورپی طاقتوں پر اٹلی کی نامرادیوں کا راز آشکار ہو گیا تو انہوں نے بلقانی ریاستوں کو شہ دے کر ترکی پر حملہ کرادیا۔ اس طرح ترکوں کے گھر میں جنگ شروع ہو گئی اور بہادر ترک سالاروں کو طرابلس چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔
یہ نظم علامہ اقبال نی شاہی مسجد لاہور میں پڑھی تھی۔ خود بھی روئے تھے اور مسلمانوں کو بھی رلایا تھا۔نظرِثانی میں اس کا یہ شعر قلم زد کر دیا :
ہوا رفیق اجل اشتیاق آزادی
سمندر عمر کو اک اور تازیانہ ہوا
جب زمانہ کا ہنگامہ میرے لئے حد درجہ ناگوار اور ناقابلِ برداشت ہوگیا تو میں نے سفر کا سامان باندھا اور دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اگرچہ میں نے صبح و شام کی قید میں زندگی کے دن کاٹے لیکن اس دنیا کے پرانے نظام سے ربط پیدا نہ کر سکا۔ فرشتے مجھے رسالت ﷺ کی محفل میں لے گئے اور رحمت عالم ﷺ کے حضور پیش کر دیا۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے حجاز کی بلبل! جس کی نغموں کی حرارت سے باغ کی ہر کلی کا دل پگھل رہا ہے۔ تیرا دل ہمیشی ہماری محبت کی شراب کے نشے میں چور رہتا ہے۔ تیری افتاد کا بھی وہی درجہ ہے کہ عجز بھرے سجدوں کو اس پر رشک آئے۔ تو دنیا کی پستی سے اڑ کر آسمان کی طرف آیا۔ فرشتوں نے تجھے اونچا اڑنا سکھا دیا۔ باغ جہاں سے خوشبو کی طرح نکل آیا۔ بھلا یہ تو بتا ہمارے لئے کیا تحفہ لایا ہے؟
میں نے عرض کیا کہ حضور ﷺ! دنیا میں آرام اور امن چین نصیب نہیں۔ وہ زندگی میسر نہیں جس کی سب کو تلاش ہے۔ اگرچہ وہاں کے باغ میں لالے اور گلاب کے ہزاروں پھول ہیں، لیکن وہ کلی دکھائی نہیں دیتی، جس میں وفا کی خوشبو ہو۔ تاہم میں حضور ﷺ کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لئےشیشے کی ایک صراحی لایا ہوں جو چیز اس میں بھری ہوئی ہے بہشت میں بھی نہیں ملتی۔ حضور والا ﷺ اس میں آپ ﷺ کی امت کی آبرو جھلک رہی ہے یعنی طرابلس کے شہیدانِ طرابلس کے خون سے لبریز ہے۔
(از غلام رسول مہر)
اے برادران اسلام و ساکنان وطن پاکستان؛ علامہ محمد اقبالؒ صرف شاعرِ مشرق ہی نہیں تھے بلکہ حکیم الامت بھی تھے؛ تو دیکھیے کہ علامہ اقبال نے اپنی مشہور نظم "عشقِ رسولﷺ میں" حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرکے کیا کہا تھا:-۔
"گرچہ از تو نہ خواہم شکایتے
لیکن اے سیدِ دو عالم، راستے
ما لایقِ تو نہ بودیمے!!"
اگرچہ میں تجھ سے کوئی شکایت نہیں کرتا، لیکن اے تمام جہانوں کے سردار، سچ یہی ہے کہ ہم تیرے لائق نہیں تھے!۔
اے سیدِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
ہم اپنی کوتاہیوں، گناہوں، اور آپ کے مشنِ نبوت کا حق ادا نہ کر سکنے کے باعث، واقعی آپ کے امتی کہلانے کے لائق نہیں۔ لیکن اس کے باوجود، آپ کی بے پایاں رحمت و شفقت آج بھی ہم پر سایہ فگن ہے۔
اتباعِ سنت اور درودِ پاک ہی وہ ذرائع ہیں جو ہمیں آپ کی محبت اور قربت کے قابل بناتے ہیں۔
اسی بابرکت ہستی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر، جس کا حق ماں باپ سے بھی بڑھ کر ہے، اور جس پر ہماری جان، مال اور اولاد سب کچھ قربان ہے— جمعہ کا دن کثرت سے درود بھیجنے کا خصوصی دن ہے۔
اللهم صل على محمد و على آل محمد كما صليت على ابراهيم و على آل ابراهيم انك حميد مجيد 🌹
اللهم بارك على محمد و على آل محمد كما باركت على ابراهيم و على آل ابراهيم انك حميد مجيد 🌹
یہ اللہ سبحان تعالی کا احسان ہے کہ ہمیں آقائے دوجہاں، شافع محشر، امام المرسلین، رحمت اللعالمین محمدﷺ کا امتی بنایا، اور یہ احسان بھی کیا کہ ہمیں آزادی کی نعمت کے ساتھ ریاست اسلام کا شہری پیدا کیا۔ اللہ رب کریم ہمیں آقا محمدﷺ کی کامل غلامی عطا فرمائے۔ اور اس قابل فرمائے کہ کل روز قیامت اللہ تعالی کےحضور آپنے آقا محمدﷺ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین ثم آمین
"بلغ العلےٰ بکمالہٖ "وه پہنچے بلندیوں پر اپنے کمال کے ساتھ
."کشفَ الدُجیٰ بجمالہٖ " آپکے جمال سےتمام اندھیرے دور ھو گۓ
."حسُنت جمیعُ خِصالہٖ " آپکی تمام عادتیں ھی بہت اچھی ھیں .
" صلو عليه وآله" آپ پر اورآپ کی آل پر لاكهوں درود اور سلام
میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا
خاک ناچیز تھا میں، سو مجھے انسان کیا
اس پہ احسان، آقا ﷺ کا مجھے غلام کیا
اور پھر رہنے کو وطن پاکستان دیا