This essay in Urdu "جو آباء نہ کر پائے، وہ اب ہم کریں گے" captures the transformative ideological journey of Generation Z from older generation, as they confront the historic mindset of mental and colonial servitude inherited from previous generations. Drawing upon Allama Iqbal’s epic poems Shikwa and Jawab-e-Shikwa, it contrasts past complacency and western infatuation with today's digital and geopolitical equalizer. Ultimately, the essay serves as a clarion call for contemporary Muslim youth to break free from the shackles of material dependency, awaken their Khudi (selfhood), and pioneer a modern intellectual revolution that reaches far beyond the stars.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
جو آباء نہ کر پائے، وہ اب ہم کریں گے
(دورِ غلامی کی نفسیات سے بیداریِ خودی تک کا سفر)
یہ تحریر آج کی نئی نسل یعنی جنریشن زی (جن زی) کے لیے لکھی گئی ہے، جو جب اپنے آباء کی جانب دیکھتی ہے تو علامہ اقبال کی نظم "شکوہ" اور "جوابِ شکوہ" کے تناظر میں یہ کہنا چاہتی ہے کہ اب وقت بدل گیا ہے اور اب اس زمین پر قائم فرسودہ نظام کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ آج کا نوجوان ماضی کے نوحوں میں قید رہنے کے بجائے مستقبل کی تعمیر کا عزم رکھتا ہے۔
تقریباً ڈھائی تین سو سال قبل جب مغربی اقوام، خاص طور پر برطانیہ اور فرانس نے ایشیاء اور افریقہ پر دھاوا بولا، تو مادی طور پر ان کے پاس بارود، بندوق اور گولی کی واضح برتری تھی۔ انہوں نے جب مسلمانوں کی زمینوں پر قبضہ کیا تو وہیں دوسری طرف ان کے ہاں تازہ تازہ صنعتی و سائنسی کمالات کے معجزات نمودار ہونا شروع ہوئے؛ جیسے گاڑیاں، ریل، مشینیں اور بجلی کے بلب۔ ان ظاہری مادی ایجادات کے رعب میں آ کر انہوں نے محکوم مسلمانوں کو یہ باور کرایا کہ "تمہارا نظامِ زندگی جس دین پر قائم ہے وہ دقیانوسی ہے؛ ہم پر بھی ایک تاریک دور (ڈارک ایجز) گزرا تھا، مگر پھر ہم نے زبان، ادب اور سائنس کے ذریعے خوب ترقی کر لی، اور اگر تمہیں بھی یہ سب کچھ حاصل کرنا ہے تو ہمارا طرزِ زندگی اپنانا ہوگا" ۔
مغربی استعمار کے اسی مائنڈ گیم اور نوآبادیاتی تسلط کی گہری تاریخی حقیقت کو امل چترجی نے اپنی مایہ ناز کتاب "پریزنرز آف ایمپائر" میں بے نقاب کیا ہے۔ امل چترجی واضح کرتے ہیں کہ کس طرح یورپی سلطنتوں نے مفتوحہ مسلم اور افریقی ممالک کو صرف مادی طور پر ہی غلام نہیں بنایا، بلکہ وہاں ایسے مضبوط اور مستقل نوآبادیاتی ڈھانچے (کولونیل سٹریکچرز) نافذ کیے—خواہ وہ قانون ہو، تعلیم ہو یا اخلاقیات—جو آزادی کے بعد آج تک اسی طرح نافذ العمل ہیں اور نسلوں کو ذہنی قیدی بنائے ہوئے ہیں ۔
جب اس دور کے مسلمانوں کو پسماندگی کا طعنہ ملا اور ان کی غیرت کو للکارا گیا، تو اقبال کی زبان سے اس درد کا "شکوہ" سنیں جو کائنات کے رب کے سامنے گونجا، جس میں انہوں نے بتایا کہ ہم مسلمان کیسا شاندار اور باوقار ماضی رکھتے تھے اور دنیا کو تہذیب ہم نے سکھائی تھی۔۔
نظم "شکوہ" کے ابتدائی میں شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے مسلمانوں کے ذہنوں میں پائے جانے والے خیالات اور اپنے اسی تاریخی شکوے کو پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں ایسا انسان نہیں بننا چاہتا جو کہ اپنے فائدے سے غافل ہو اور اپنا نقصان خود کرے۔ نہ ہی مجھے ایسا بننا ہے جسے مستقبل کی کوئی پرواہ نہ ہو اور وہ یادِ ماضی میں کھویا رہے اور اپنے آباء و اجداد کے قصوں کو یاد کر کے روتا رہے۔ میں ایک جیتا جاگتا انسان ہوں جو بے حس نہیں ہے۔ جیسا کہ پھول بلبل کی آہ و زاری سن کر خاموش رہتا ہے، مجھے معاشرے کے حالات کا دکھ ہے اور احساس بھی ہے۔ میں مسلمانوں کی بے چینی اور گھبراہٹ پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ اے اللہ! میری اس شکایت کو گستاخی نہ سمجھنا، یہ شکوہ کے چند الفاظ اس لیے کہنے کی جرات کی ہے کیونکہ تو نے مجھے بولنے کی قوت عطا کی ہے، ورنہ میرے منہ میں خاک ہو کہ اپنے رب کے سامنے کوئی گلہ یا شکوہ کروں:۔۔۔
کیوں زیاں کار بنوں، سود فراموش رہوں؟
فکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رہوں؟
سنتا ہے فریادِ بلبل و مائلِ فریاد رہوں؟
ہمدمو! میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں?
جُرأت آموز میری تابِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے، خاکم بدہن ہے مجھ کو!۔۔
نظم شکوہ میں شاعر علامہ اقبال نے مسلمانوں کے اُس سنہری دور کا ذکر کیا ہے جب مسلمان دین پر عمل پیرا تھے۔ اسلامی ترقی کا دور دورہ تھا۔ مسلمانوں کی سلطنت اسپین اور افریقہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ انہوں نے علم و ہنر کے هر میدان میں بے انتہا ترقی کر لی تھی۔ اسی دور میں جب مسلمان فتوحات پر فتوحات کر رہے تھے تو ان کے ساتھ ساتھ غرور و تکبر سے بہت دور اور اسلام کے بتائے ہوئے "اخوت ومساوات" کے اصول پر سختی سے کاربند بھی تھے۔ جنگوں میں لڑائی کے دوران جب بھی نماز کا وقت ہوتا تو پابندیِ نماز باجماعت کی عادت کی وجہ سے وہ صف بندی کرتے ہوئے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے۔ حکمران، امیر و غریب کا فرق ختم کر کے سب دنیاوی عہدے اور مناصب کو بھلا کر ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے تھے۔ مساوات کا عملی نمونہ دیکھنے والوں کو یہ فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ کون امیر ہے کون غریب ہے کون مالک ہے اور کون غلام ہے۔ یہ ایسا مثالی منظر تھا جو اس سے پہلے کبھی کسی مذہب یا قوم میں کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ اقبال نے مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی وکالت کرتے ہوئے آگے یاد دلایا کہ وہ ہم ہی تھے جنہوں نے دنیا سے باطل کا نام مٹایا تھا:۔۔۔
تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں
دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی
کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی!۔۔
یہ سب کچھ ماضی میں ہوا تھا اور کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں نے کئی صدیوں تک دنیا کی رہنمائی کی۔ مگر مسلمہ اصول ہے کہ ہر عروج کو زوال ہوتا ہے۔ جب مسلمانوں نے خالص اسلامی جمہوریت اور شورائیت کا دامن چھوڑ کر عرب ملوکیت کے سائے تلے تن آسانی، عیش کوشی اور دنیا پرستی اختیار کی، تو وہ فکری و مادی زوال کا شکار ہو گئے اور یہی وہ کمزوری تھی جس کا فائدہ اٹھا کر مغرب کی طاقتور قومیں مسلمان علاقوں پر چھا گئیں۔
اس نوآبادیاتی دور کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ عام مسلمان پر یہ ظلم کیا گیا کہ اسے علم کے حقیقی حصول اور اپنی جڑوں سے دور کر دیا گیا اور اس پر انگریزی زبان کو جبراً لازم کر دیا گیا تاکہ وہ اپنی فکری اساس ہی بھول جائے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صد افسوس، اس شاندار ماضی کے بعد مسلمانوں کی رگوں میں غلامی اس حد تک اتر چکی تھی کہ وہ اپنی حاکمیت کا احساس تک کھو چکے تھے۔ اس ذہنی محکومیت کا کمال دیکھیے کہ جب سرسید احمد خان نے ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد کتاب لکھی، تو اس کا عنوان "اسبابِ بغاوتِ ہند" رکھا۔ اپنی ہی دھرتی پر کھڑے ہو کر، اپنی آزادی کی جنگ لڑنے اور غاصب فرنگی تاجِ برطانیہ کے خلاف آواز اٹھانے کو "بغاوت" کا نام دیا گیا؛ یعنی ہندوستان کی آبادی بشمول مسلمان غلامی کی اس حد تک عادی ہو چکی تھی کہ وہ انگریز کو اپنا جائز آقا اور خود کو اس کا باغی رعایا تسلیم کر چکے تھے۔
علامہ اقبال نے اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے اسی گہری ذہنی غلامی سے نجات دلانے کی انقلابی کوشش کی تھی۔ جب انہوں نے "شکوہ" اور پھر اس کا انقلابی ردِعمل "جوابِ شکوہ" لکھی، تو ہندوستان کے مسلمان کو جھنجھوڑنے اور اسے گہری نیند سے جگانے کے لیے یہ تاریخی طعنہ دیا:۔۔۔
تھے تو آباء وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو؟
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!۔
جواب شکوہ
حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شاعری کا بنیادی مقصد مسلم امّہ کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنا اور انہیں ان کے اصل مقام و مرتبہ سے روشناس کرانا ہے۔ ان کا اصل پیغام خودی کا ہے اور اس پیغام کو انہوں نے متعدد تشبیہات اور استعارات کے استعمال سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک خودی سے مراد انسان کی ذات کا عرفان, خود شناسی، اور غیر اللہ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنا ہے۔ اپنے اس آفاقی پیغام کو سمجھانے کے لیے انہوں نے متعدد تشبیہات اور استعارات کا استعمال کیا ہے، جو اس نظم میں بھی نمایاں ہیں:۔۔۔
•شاہین اور چاند ستارے: اقبال جہاں اپنی دوسری شاعری میں نوجوانوں کو 'شاہین' کے استعارے سے بلند پروازی سکھاتے ہیں، وہیں اس نظم میں وہ انسان کو "خاکِ پُر اسرار" اور "زمینی ستارہ" کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ مادی دنیا کے چاند اور تارے تو بے جان قوانینِ قدرت کے پابند ہیں، مگر انسان اپنی خودی کو بیدار کر کے کائنات کا حاکم بن سکتا ہے۔
•خاک بمقابلہ افلاک: مریخ اور زہرہ جیسے ستارے مادی غرور اور ظاهری چمک دمک کا استعارہ ہیں جو انسان کو محض مٹی کا پتلا سمجھ کر اس کی تحقیر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، چاند اور فجر کی اذان اس باطنی اور روحانی روشنی کا استعارہ ہیں جو انسان کی خودی کے بیدار ہوتے ہی افلاک کے تمام ثابت و سیاروں کو گہنا دیتی ہے۔
ان کے مجموعہ کلام "بالِ جبریل" میں شامل مختصر نظم "اذان" بظاہر ستاروں کی ایک علامتی گفتگو ہے، مگر درحقیقت یہ انسان کی عظمت، رات کی بیداری کی اہمیت اور اسلام کے آفاقی نعرے (اذان) کی طاقت کا ایک شاہکار بیان ہے۔ اس نظم کے مفاھیم اور ان کا فکری ارتقا انسان کو مادی پستی سے اٹھا کر خلافتِ الٰہیہ کے اعلٰی منصب پر فائز کرتا ہے۔
نظم کا آغاز آسمانی فضاؤں میں ستاروں کے مابین ایک دلچسپ مکالمے اور تمثیل سے ہوتا ہے۔ صبح کا ستارہ (نجمِ سحر) دوسرے ستاروں سے سوال کرتا ہے کہ کیا انہوں نے مٹی کے پتلے یعنی انسان کو کبھی رات کے وقت بیدار اور مصروفِ عبادت دیکھا ہے؟ اس سوال کے جواب میں مریخ اور زہرہ جیسے ستارے انسان کی کم مایگی اور غفلت کا ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔
اک رات ستاروں سے کہا نجمِ سحَر نے
آدم کو بھی دیکھا ہے کسی نے کبھی بیدار؟
کہنے لگا مرّیخ، ادا فہم ہے تقدیر
ہے نیند ہی اس چھوٹے سے فتنے کو سزاوار
زُہرہ نے کہا، اور کوئی بات نہیں کیا؟
اس کرمکِ شب کور سے کیا ہم کو سروکار!۔۔
یہاں مریخ کہتا ہے کہ تقدیر مصلحت جانتی ہے اور انسان ایک ایسا "چھوٹا سا فتنہ گر" ہے جس کے لیے نیند اور غفلت ہی سب سے بہترین سزا ہے۔ زہرہ حقارت سے اسے "کرمکِ شب کور" (رات کا اندھا کیڑا) کہہ کر کہتی ہے کہ ہمیں اس مادی اور غافل مخلوق سے کیا سروکار۔ یہاں اقبال نے ستاروں کے ذریعے انسان کی اس مادی حالت کا نقشہ کھینچا ہے جب وہ اپنے حقیقی مقصد کو بھول کر غفلت کی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔
ستاروں کی اس شدید تنقید کے بعد، پورا چاند (مہِ کامل) انسان کا دفاع کرتا ہے۔ چاند کہتا ہے کہ انسان کو حقیر نہ سمجھو، وہ زمین کا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے جو دن کے وقت کائنات میں سرگرمِ عمل اور مصروفِ کار رہتا ہے۔ اقبال چاند اور ستاروں کی یہ بحث یوں آگے بڑھاتے ہیں:۔۔۔
بولا مہِ کامل کہ وہ کوکب ہے زمینی
تم شب کو نمودار ہو، وہ دن کو نمودار
واقف ہو اگر لذّتِ بیداریِ شب سے
اُونچی ہے ثُریّا سے بھی یہ خاکِ پُر اسرار
آغوش میں اس کی وہ تجلّی ہے کہ جس میں
کھو جائیں گے افلاک کے سب ثابت و سیّار
اقبال چاند کی زبان سے بتاتے ہیں کہ اگر کائنات کے ان مادی اجسام کو انسان کی "باطنی روشنی اور شب بیداری کی لذت" کا علم ہو جائے، تو انہوں نے معلوم ہو کہ یہ پراسرار خاک بلندی میں ثریا ستارے سے بھی آگے ہے۔ انسان کے اندر خدا نے وہ روحانی تجلی رکھی ہے جس کے سامنے آسمان کے تمام چاند، تارے اور ثابت و سیارے ماند پڑ جاتے ہیں۔
نظم کا نقطۂ عروج (کلائمکس) وہ لمحہ ہے جب ستاروں کی یہ گفتگو جاری ہوتی ہے اور اچانک فضا میں فجر کی بانگِ اذاں گونج اٹھتی ہے۔ اقبال فرماتے ہیں:۔۔
ناگاہ فضا بانگِ اذاں سے ہُوئی لبریز
وہ نعرہ کہ ہِل جاتا ہے جس سے دلِ کُہسار!۔۔
یہ ایک ایسا پرجوش نعرہ اور صدا ہے جس کی ہیبت سے پہاڑوں کے دل بھی دہل جاتے ہیں۔ یہ صرف ایک آواز نہیں ہے، بلکہ کائنات کو جھنجھوڑ دینے والا ایک آفاقی پیغام ہے۔ اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے) کا یہ نعرہ مٹی کے انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کر کے کائنات کا امام بنا دیتا ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ انسان ظاہر میں خاکی ہے، مگر بیداری اور عشقِ الٰہی کے ذریعے کائنات کی ہر مخلوق سے بلند مقام پا سکتا ہے۔
اقبال کی نظم "اذان" میں ستاروں کے سامنے چاند جس "خاکِ پُر اسرار" کی باطنی تجلی کا ذکر کرتا ہے، ان کی دوسری شاہکار نظم "طلوعِ اسلام" کا مقطعی شعر اسی تجلی کو پانے کا عملی راستہ دکھاتا ہے:۔۔۔
تُو رازِ کُن فکاں ہے، اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا!۔
یہاں لفظ "کن فکاں" دراصل قرآنی کلمۂ تخلیق "کُن فیکون" کی طرف اشارہ ہے۔ اقبال انسان کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تُو تخلیق کا اصل راز اور کائنات کا حقیقی مقصود ہے، مگر خود اپنی حقیقت سے بے خبر ہے۔ پہلا قدم یہ ہے کہ انسان اپنی آنکھوں پر عیاں ہو، یعنی اپنی خود شناسی کا سفر شروع کرے۔ اس شعر میں ترتیب بے حد قابلِ غور ہے؛ پہلے خودی کا راز داں بننا ہے اور پھر خدا کا ترجمان۔ یعنی خود شناسی ہی دراصل خدا شناسی کا دروازہ ہے، جو مشہور صوفیانہ قول "مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ" کی شاعرانہ تفسیر ہے۔ خدا کا ترجمان ہونے سے مراد انسان کا وہ اعلٰی منصب ہے جسے قرآن خلافت کہتا ہے، کہ وہ زمین پر اللہ کی مرضی اور اس کے عدل و انصاف کے نظام کو اپنے عمل میں ظاہر کرے۔ "طلوعِ اسلام" امید کی نظم ہے اور یہ شعر اس امید کی بنیاد انسان کی اسی روحانی بیداری کو قرار دیتا ہے۔
اقبال کی اس فکری تحریک، خودی کی بیداری اور مسلمانوں کو ان کا اصل مقام یاد دلانے کا یہ فائدہ ہوا کہ ان کے افکار نے مایوس قوم میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اس فکری انقلاب کے نتیجے میں، مسلمانوں کو ایک مخلص اور دور اندیش قیادت میسر آئی اور برصغیر کے مسلمانوں نے مادی و ذہنی زنجیروں کو توڑنا شروع کیا۔
اقبال کی اسی لازوال فکری تحریک اور خودی کی بیداری کے نتیجے میں مسلمانوں کو جو مخلص اور دور اندیش قیادت میسر آئی تھی، بالآخر قائد اعظم محمد علی جناح کی اسی بے مثل اور ولولہ انگیز قیادت کے زیرِ اثر، برصغیر کے مسلمانوں نے مادی و ذہنی زنجیروں کو مکمل طور پر توڑ کر دنیا کے نقشے پر "پاکستان" کا حصول ممکن بنا لیا، جو اس فکری بیداری کا سب سے بڑا تاریخی معجزہ تھا۔ مگر امل چترجی کی کتاب "پریزنرز آف ایمپائر" کے عین مطابق، ملک تو جغرافیائی طور پر آزاد ہو گیا مگر اس کے بعد ان گدھوں کے ہاتھ آ گیا جو ناریل کی طرح باہر سے تو علاقائی رنگ کے تھے مگر ان کے اندر سے اپنے آقاؤں کی غلامی کا رنگ نکلتا تھا۔ یہ آزاد ریاست کو نوآبادیاتی غلامی کی ریت پر چلاتے رہے۔ جس قوم کو اوجِ ثریا اور ستاروں کی گزرگاہوں سے بھی آگے جانا تھا، اسے "روٹی، کپڑا، مکان" اور وقتی "شارٹ پروگرامز" کے تحت محض سانس لینے پر مجبور کر دیا گیا اور ان کا فکری تخیل مادی محتاجی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔
آج کی نئی نسل (جن زی) اپنے آباء کے اس طویل سفر کو دیکھتی ہے تو وہ سمجھتی ہے کہ جغرافیائی آزادی تو مل گئی، مگر نوآبادیاتی نظام کی چھوڑی ہوئی ذہنی و معاشی غلامی کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ ہمیں اپنے آباء سے کہنا ہے کہ ہمیں خدا سے کوئی شکایت نہیں ہے، کیونکہ خدا نے تو اپنی لازوال کتاب میں صدیوں پہلے یہ واضح اور اٹل قانون بیان کر دیا تھا کہ:۔۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا!۔۔
خوش قسمتی سے، اس دورِ حاضر میں اب مغرب اور مشرقی اقوام کے درمیان وہ فرق نہیں رہا جو دو تین سو سال پہلے پایا جاتا تھا، اور مغربی قوموں کا مادی تسلط اب واضح طور پر کمزور پڑ گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ اب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دور ہے اور اس جدید ٹیکنالوجی کی بدولت پچھلے زمانے کے پسماندہ سمجھے جانے والے "تیسری دنیا کے ممالک" بھی اب بہت آگے نکل گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان اس ذہنی غلامی کا شکار نہیں رہا ہے جس کا شکار اس کے آباء تھے؛ آج کا نوجوان دنیا کے سامنے بالکل برابری کی سطح پر مقابلہ کر سکتا ہے اور اب اسے مغربی دنیا سے کسی قسم کی فکری یا سائنسی کمتری کا طعنہ نہیں دیا جا سکتا۔
جن زی یہ جان کر حیران ہوتی ہے کہ ہمارے آباء کیسے اسلام کے زریں اصولوں کی موجودگی میں انگریزی شعبدہ بازی سے گمراہ ہو گئے۔ ان کو مکھی اور پروانے کی تمثیلی کہانی نے سکھایا کہ ان کے آباء دراصل اپنے نفس کی غلامی میں گرفتار تھے۔ انہوں نے پروانے کے عشق کے اس اعلٰی مقام اور باطل کو جلا دینے والی تڑپ کو اپنانے کے بجائے، ایک مکھی کی طرح گندگی کے ڈھیر پر بیٹھنے اور مادی عیش و عشرت کو ترجیح دی۔ وہ نورِ الٰہی کے گرد طواف کرنے والے پروانے نہ بن سکے، بلکہ فرنگی نظام کے باطل چراغوں کے اسیر ہو گئے۔
آج کا مسلم نوجوان اس تاریخی حقیقت کو پا چکا ہے کہ کائنات کا نظام سائنسی چمک دمک سے مرعوب ہونے یا پر شکوہ ماضی کے شکوے کرنے سے نہیں، بلکہ عمل اور خودی کو بیدار کرنے سے بدلتا ہے۔ جو فکری، سیاسی اور ذہنی مغلوبیت ہمارے بزرگ اپنے دور میں مکمل طور پر ختم نہ کر پائے، وہ طوق اب یہ نئی نسل اتار پھینک چکی ہے۔ یہ نسل جان چکی ہے کہ ماضی کی داستانوں پر فخر کر کے وقت ضائع کرنے کے بجائے، اپنی آنکھوں پر عیاں ہو کر، خودی کے راز داں بنیں گے اور اس زمین پر ایک ایسا علمی اور فکری انقلاب لائیں گے جہاں انسان کا سر صرف اپنے رب کے سامنے جھکے گا، کسی فرنگی نظام یا مادی طاقت کے سامنے نہیں۔ عروجِ آدم خاکی کا اصل سفر اوجِ ثریا اور ستاروں کی گزرگاہوں سے بھی کہیں آگے بلند اور لامتناہی ہے۔