"Happy Birthday" is a sentiment that is traditionally expressed to celebrate a person's birthday and the person can be a relation, a friend, a colleague and simply an acquittance. This is said to facilitate some one making him feel good, elevate and happy. This write up in Urdu "جنم دن کی سالگرہ مبارک؛ شبھ کامنائیں" is the share the love affection feelings on birthday.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
جنم دن کی سالگرہ مبارک؛ شبھ کامنائیں
زندگی ایک راز ہے؛ سربستہ راز کہ آج تک حضرتِ انسان اس راز کو سمجھ نہیں پایا۔ زندگی شاید ایک پہیلی بھی ہے کہ جس کو سمجھنے کے لیے عقل و دانش کے حامل افراد نے خوب تگ و دو بھی کی ہے؛ لیکن پھر کہہ دیتے ہیں کہ "پہیلی ہی تو ہے"۔ اس مضمون کا مقصد اس پہیلی یا راز کو سمجھنا نہیں ہے؛ بلکہ زندگی کے ہمہ جہت پہلوں پر اچٹتی نگاہ ڈال کر زندگی کو جینا سیکھنے کی ترغیب دینا ہے؛ کہ احباب کہتے ہیں کہ "زندگی زندہ دلی کا نام ہے"۔
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
مرزا غالب
ہر ذی روح اس دنیا میں ماں کی کوکھ میں جنم لیتا ہے؛ اور جس دن وہ اس جہان میں آزاد سانس لیتا ہے وہ اس کا جنم دن ہوتا ہے کہ وہ ماں کی کوکھ سے اس کی گود میں آجاتا ہے اور اس کے سینے سے لگ کر حیات پاتا ہے۔ وہ دن بہت سے پہلووں سے خوشی کادن ہوتا ہے کہ وہ جنم لیتا ہے تو اس کا کوئی خاندان ہوتا ہے؛ ددھیال ہوتا ہے؛ ننھیال ہوتا ہےاور سب کے لیے جشن کا باعث ہوتا ہے۔
پیدا ہونے والا ہر انسان چاہے کتنی ہی عمر پائے اپنی زندگی کی کتھا بیان کرے تو عروج و زوال کی داستان لگتی ہے؛ خوشی اور غم کا قصہ لگتا ہے۔ مگر وہ تمام انسان جو اپنی جنم دن کی آشنائی رکھتے ہیں؛ ان کے لیے اپنے یوم پیدائش سے زیادہ اہم دن اور کیا ہو سکتا ہے؛ سو وہ اسے بطور جشن مناتے ہیں۔ یہ دن ہر سال آتا ہے؛ سالگرہ بن کر اور انسان کو گذرے سال کی خوشی اور دکھ سے ملے جلے تجربات سے آشنا کرجاتا ہے۔ ہر سال لوٹ کر آنے والی سالگرہ زندگی کے مختلف ادور میں مختلف کیفیات کو اجاگر کرتا ہے؛ لڑکپن و نوجوانی میں زندگی کے نئے پڑاؤ کی طرف بڑھنے کی خوشی کو ابھارتی ہے اور بعد از جوانی موت سے قریب ہونے کے احساس کو شدید کرتی ہے؛ چنانچہ سالگرہ سے وابستہ کئی ایسے گوشے ہیں کہ ان پر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔
حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہو
تجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو
نامعلوم
خدا کرے کہ یہ دن بار بار آتا رہے
اور اپنے ساتھ خوشی کا خزانہ لاتا رہے
نامعلوم
ہم جس دن جنم لیتے ہیں وہ ایک ساعت ہوتی ہے۔ اس ساعت یا گھڑی میں اس سمے کہیں سورج ہوتا ہے اور کہیں چاند اور آسمان پر بکھرے انگنت ستارے۔ وہ سب اجرامِ فلکی اس انسان کو اپنی لہروں کے محور میں قید کرلیتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ وہ زمین پر اپنی عمر کو اس محور میں لہروں کی مدو جزر کی قید میں گذارتا ہے۔ اس کی زندگی کے سکھ اور غم ان ہی لہروں کی اٹھان اور طوفانوں کی وجہ سے ہوتاہے۔
زندگی بھر یہ آسماں تجھ کو
کسی آفت میں مبتلا نہ کرے
نامعلوم
کچھ اہلِ عقل و دانش کہتے ہیں کہ انسان کہیں آفاق سے پرے زمین پر اترتا ہے تو اپنی تقدیر اپنی مٹھی میں بند کرکے اترتا ہے؛ جو اس کے ہاتھوں کی لکیروں میں پنہا ہوجاتی ہیں۔ پھر انسان اپنے اعمال کے سبب پُن پاتا ہے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی سے سکھ پاتا ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ تقدیر ماتھے کا گہنا ہے اور جو انسان ماتھا اپنے بھگوان کے استھان پر رگڑتا ہے؛ چمک جاتا ہے۔
جائے گی گلشن تلک اس گل کی آمد کی خبر
آئے گی بلبل مرے گھر میں مبارک باد کو
سخی لکھنوی
اگر ہم ذرا دیر کو رک کر غور و فکر سے اس کائنات پر نظر ڈالیں تو کچھ حقیقتیں منکشف ضرور ہوتی ہیں۔ کہ اس سارے گھن چکر کا ایک مقصد ہے۔ یہ سب کچھ بے مقصد اور بلاوجہ نہی ہے۔ انسان اگر تھوڑی سی دیر کو تفکر کرے تو جان لیتا ہے یہ سارا نظام کسی خالق کے بغیر نہیں ممکن نہیں ہے۔ ایک خالق کے بغیر یہ کائنات اور زندگی ممکن نہیں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس دنیا میں ایک مخصوص گروہ؛ جو ابراہیمی مذاہب کے ماننے والے کہلاتے ہیں؛ ایک خالقِ حقیقی کا تصور رکھتا ہے۔ یہ ابراہیمی مذاہب، یہودیت، عیسائیتت اور اسلام کہلاتا ہے۔ اسلام ان میں آخری پیغام ہداہت کا دعویدار ہے۔
اسلام کا پیغام یہ ہے کہ اس کائنات اور زندگی کا خالق و مالک اللہ سبحان تعالی ہے۔ اس نے انسان کوپیدا کیا ہےاور اسے اس زمین پر ایک مخصوص مدت کے لیے بھیجا ہے کہ انسان یہاں دارلامتحان میں رہے اور اپنی زندگی کو ایک مخصوص طریقے سے گذارے۔ اس کے سارے اعمال کا حساب کتاب بعد از حیات ارضی قیامت کا دن قائم ہونے کے بعد ہوگا اور اچھے اعمال والے کامیاب ہونگے تو انکو ہمشہ کی جنت ملے گی۔
تم سلامت رہو قیامت تک
اور قیامت کبھی نہ آئے شادؔ
شاد عارفی
انسان اس دنیا میں جنم لیتا ہے تو ایک بیٹا یا بیٹی ہوتا ہے۔ وہ کسی خاندان کا حصہ ہوتا ہے؛ ماں باپ ہوتے ہیں؛ بھائی بہن ہوتے ہیں؛ والدین کے بھائی بہن اور ان سے متعلق رشتے ہوتے ہیں۔ پھر وہ دوست؛ احباب اور متعلقین میں گھرتا ہے۔ ایک میلہ ہوتا ہے جو خالقِ کُل ہر انسان کے لیے سجاتا ہے۔ بھرے میلے میں انسان کا ہر سال جنم دن آتا ہے تو وہ انسان اپنی سالگرہ کے دن خوب مبارک بادیں سمیٹتا ہے۔ اس دن شبھ کامنائیں اس کا طواف کرتی ہیں۔ سالگرہ کا دن انسان کو جنم دن والی کائناتی لہروں کی توانائی محسوس ہوتی ہے۔
ہماری زندگی پر موت بھی حیران ہے غائرؔ
نہ جانے کس نے یہ تاریخ پیدائش نکالی ہے
کاشف حسین غائر
یوم پیدائش جشن کا وقت ہے۔ ایک لمحہ ہے جو سفرِ حیات میں ایک سال مکمل ہونے کے سنگِ میل کی نشاندہی کرتا ہے؛ سو شکرگذار خوش ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں۔ اور اگلے سال کے لیے حسین اور خوشگوار توقعات کے لیے دعاگو ہوتے ہیں۔ سو سال گرہ کے ان لمحات میں اپنے دوست، احباب، عزیز، رشتہ داروں اور خاندان والوں سے دعائیں سمیٹنے کی خواہش جاگتی ہے۔ سالگرہ کے موقع پر محبت، انس اور دلداری کے جزبات اور کیفیات کے اظہار کرنے کو مناسب الفاظ پر مبنی پیغامات دینے اور موصول کرنے کی رسم اچھی روایت ہے؛ جو ایک دوسرے کے لیے الفت اور سنگت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
میری دعا ہے کہ جیسا بھی تُو ارادہ کرے
تیرا نصیب خدا اُس سے بھی زیادہ کرے
نیا برس تجھے ہر بار ایسے راس آئے
کہ گام گام پہ خوش دامنی اعادہ کرے
نعیم ضرار
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
شکرالحمد اللہ؛ پیغامِ طلوعِ شمسِ امروز؛ آپکے جنم دن کی سالگرہ؛ مبارکباد قبول فرمائیں۔ آپ کو تاعمر مسرتوں کے گلاب و خوشیوں کے نگینے موصول ہوں اور دسترس میں ہوں جائز خواہشات اور ہر خواب مبارک ہو۔
اللہ کریم کے فضل سے آپکی زندگی میں کامیابیوں، کامرانیوں و خوشیوں کی برساتیں ہوں؛ اور آپ اپنے گھر، خاندان، قبیلےاور دوستوں کے سنگ تا دمِ مرگ، چلتے پھرتے، ہنستے مسکراتے، صحت و ایمان کے ساتھ، سکون و اطمینان کے ایسے ہزاروں روشن دن دیکھیں۔ ہر سانس پر لطف، ہر لمحہ پر کیف اور ہر آنے والا دن روزِ عید اور رات شبِ برات ہو۔
پروردگارِ عالم؛ زندگی میں آسانیاں، فراوانیاں و مہربانیاں ایسے قائم دائم رکھے کہ آپکی دنیا و آخرت سنہرا سندر ہو۔ آمین ثم آمین
تمہاری سالگرہ پر دعا ہے یہ میری
کے ایسا روزِ مبارک بار بار آئے
تمہاری ہنستی ہوئی زندگی کی راہوں میں
ہزاروں پھول لٹاتی ہوئی بہار آئے
لیکن زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہوتی۔ اور بہت سے انسان اس خاص دن کو اس خصوصیت کے حاصل نہیں کرپاتے۔ انسانوں کے اپنے اپنے تجربات اور محسوسات ہوتے ہیں۔ شاعروں سے بہتر ان جزبات کو اور کون رنگ دے سکتا ہے؟ سو چلیں کچھ اشعار دیکھ لیتے ہیں؛ جو ذیل میں پیش کی جارہی ہیں۔
" اک برس اور کٹ گیا شارقؔ"
روز سانسوں کی جنگ لڑتے ہوئے
سب کو اپنے خلاف کرتے ہوئے
یار کو بھولنے سے ڈرتے ہوئے
اور سب سے بڑا کمال ہے یہ
سانسیں لینے سے دل نہیں بھرتا
اب بھی مرنے کو جی نہیں کرتا
آسماں کی وسعتوں میں
میری نظریں
ڈھونڈھتی ہیں اس حسیں ماضی کو، جس کی
یاد کے سائے بھی گھلتے جا رہے ہیں اب ہوا میں
اور مری آنکھوں سے اوجھل ہو رہے ہیں لمحہ لمحہ
میں پرانا سا کوئی انسان ہوں، محسوس یہ ہوتا ہے مجھ کو
میں نے ہر ساون میں دھویا ہے بدن کو
اور یہ دھرتی مجھے روز ازل سے جانتی ہے
یاد ہے وہ دن مجھے اچھی طرح سے
کھولتے چنگھاڑتے لاوے کے بے پایاں سمندر سے اچھل کر
ہم اکٹھے ہی گرے تھے
اور صدیوں بعد ہوش آیا، کھلی جب آنکھ میری
میں نے دیکھا
میں تو صدیوں پہلے پیدا ہو چکا تھا
زندگی ایک خواب ہے بھیانک خواب
گھڑیال پر رات کے بارہ بج چکے ہیں
مگر میری کھلی آنکھوں سے دیکھا گیا
بھیانک خواب میری نیند کی
نیند اڑا چکا ہے
میرے ہاتھوں کی کامیابی کی لکیروں نے
میرے ہاتھوں سے ہجرت کر لی ہے
پرندے میرا درد سمجھتے ہیں
لیکن وہ اپنی زبان میں ان
انسانوں کو نہیں سمجھا سکتے
مجھے اب خوابوں سے خوف آتا ہے
ہر رات میرا ایک خواب
میری پانچ راتوں کی نیندوں کی
ہجرت کا سبب بنتا ہے
میری نیند کی خاطر
رات اب پچیسویں گھنٹے کی پیدائش
کے لیے تیار ہو گئی ہے
پرندے میرے جنم دن کی تیاری
میں مصروف ہیں
اور میں اس سوچ میں گم ہوں
کیا زندگی واقعی ایک خواب ہے
ایک بھیانک خواب
لیکن شاید زندگی ایک نظم ہے
جو تکلیفوں کی حویلی ہے
مجھے اس زندگانی نے
سوائے حسرت و کلفت دیا کیا ہے
مجھے اس دہر میں آ کر
بجز احساس محرومی ملا کیا ہے
مجھے اس بزم گیتی نے
سوائے رنج تنہائی دیا کیا ہے
مجھے اس باغ ہستی سے
سوا خار اذیت کے ملا کیا ہے
مجھے جس زندگی نے لطف کا اک پل نہیں بخشا
مجھے اس کی خوشی کیوں ہو
مجھے اپنے جنم دن کی خوشی کیوں ہو؟
ہمیں یہ ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ خوش اخلاقی جیون کا سب سے مہاکار عمل ہے اور ہمیں چاہیے کہ جب ہمیں سالگرہ پر پیغام تہنیت موصول ہوں تو اسکا مناسب جواب بھی دیں۔ آج دنیا قوتِ متخیلہ کی لہروں پر ایک ایسا دور جی رہی ہے جہاں پل بھی میں ایک پیغام متعدد افراد تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ آزاد نیٹ کے ذریعے ہم پیغام تہنیت بھیج اور موصول کئے جاسکتے ہیں۔ ایک جواب یہ بھی لکھا جاسکتا ہے؛ اور جسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کردیں اور اجتماعی طور پرسب کو شامل کرلیں۔
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
عزیزانِ گرامی قدر اَعِزَّہ و اقارب و دوست و احبابِ دل پسند و دل پذیر؛ کل مورخہ 9 اپریل اپُن کا جنم دن تھا اور اس دن کے حوالے سے آپ سب کے پیغام تہنیت کے لیے میں آپ سب کا فردا" فردا" تہہ دل سے مشکور ہوں۔ خاص طور پر سب اکابرین کا کہ انہوں نے محبتوں سے اپنی دعاوں میں یاد رکھا؛ ہم عصروں کا اور دیگرمقربین اصحاب کا بھی شکرگذار ہوں کہ اپنے پُر خلوص جزبات کا اظہار کیا۔
یہ زندگی حسین ہے کہ آپ اس کا حصہ ہیں اور بندہ ناچیز پر اپنی توجہ رکھتے ہیں اور دھیان دیتے ہیں؛ اور ان شاء اللہ کل آخرت میں بھی اللہ کریم ہمیں کامیابی کے ساتھ اکھٹا فرمائیں گے۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو کہ ہماری دنیا و آخرت کو سندر بنادے اور زندگی کی کچھ ساعتیں جو رہ گئیں ہیں وہ خوب اور شاندار ہوں۔ آمین ثم آمین
Few baseball legends are as recognizable as Babe Ruth, and MLB The Show 26 keeps his reput...